’دل والوں کی دلی‘: وہ شہر جو خوشبو کی طرح ہر کسی کا دل موہ لیتا ہے

دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, لنڈسے گالووے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی والے دلی شہر کو اگر انڈیا کا وہ شہر کہا جائے جو اپنے اندر ایک مکمل نئی دنیا آباد کیے ہوئے ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا کیوں کہ یہ پورے ملک کی ثقافتوں، مذاہب اور روایات کا عکاس ہے۔

گذشتہ کئی صدیوں پر محیط عالمی تجارت، فتوحات اور نوآبادیاتی نظام کی تاریخ نے دلی کو واقعی ایک کثیر الثقافتی رنگ دیا ہے۔ ہر لمحہ بدلتی ثقافت کے شہر میں رہنے والے خود کو ’دلی والا‘ کہنے میں حق بجانب ہیں جس کی بنیاد وہ جملہ ہے کہ ’دل والوں کی دلی‘۔

دلی کا یہی ثقافتی تنوع کسی بھر فرد کو یہاں اپنائیت تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔

نئی دہلی کی رہائشی نشال دعا کے مطابق دلی کی کیفیت کو ایک اچھے چائے خانے سے اٹھنے والی خوشبوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے جہاں داخل ہوتے ہی ایک ساتھ مختلف طرح کی خوشبوؤں سے آپ اپنی پسند سے جو چاہیں چُن سکتے ہیں۔

نئی دہلی میں گذشتہ چھ برس سے رہائش پذیر انجھولا مایا سنگھ کے مطابق انڈیا کے سیاسی اور فیشن والے دارالحکومت کا ماحول کچھ اس طرح کا ہے کہ جیسے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کا امتزاج ہو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انڈیا کے دیگر شہروں کے مقابلے میں دلی میں بس جانا ایک مشل کام ہے۔

انجھولا مایا سنگھ کے مطابق دلی میں دیکھا جاتا ہے کہ آپ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کون سی گاڑی چلاتے ہیں اس لیے یہاں گھلنا ملنا ایک وقت طلب مرحلہ ہوتا ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہAlamy

دلی کا ثقاتی تنوع تو اپنی جگہ لیکن یہاں پر بسنے والے نوجوان ہوں یا بزرگ، سب میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ایک اچھی پارٹی (تقریب) سے لگاؤ۔ یہاں ایک شادی پانچ سے دس دنوں تک جاری رہتی ہے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مہمان صرف ایک شادی سے جڑی رسومات اور پارٹیز کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ویسے تو پورے انڈیا میں ہی شادی کی رسم کئی دنوں تک جاری رہتی ہے لیکن دلی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر مبارک سمجھی جانے والی تاریخ پر ایک دن میں 60 ہزار شادیاں بھی ہو چکی ہیں۔ دلی کی شادیوں اور ان پر ہونے والے خرچوں کے اتنے چرچے ہو چکے ہیں کہ انڈیا میں کئی اراکین اسمبلی شادیوں میں فضول خرچی کے خلاف بل متعارف کروا چکے ہیں۔

نشال دعا کے مطابق کسی شادی میں دلہے کو ہیلی کاپٹر سے اترتے دیکھنا ایک عام سی بات لگتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات مذاق نہیں کیوں کہ ان کے والد ایک پائلٹ ہیں اسی لیے وہ جانتی ہیں کہ ایسا ہونا کچھ انہونی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دلی میں جہاں سالانہ دس لاکھ شادیوں کی پارٹیز اور روایتی رسومات کا چرچا ہوتا ہے وہیں یہاں کے باسیوں نے کلبز اور ریستوران کے ذریعے ایک مغربی پارٹی کلچر بھی اپنی زندگیوں کا حصہ بنا رکھا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دلی کے کھانے کی بات نہ کی جائے تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ دلی کا کھانا ناصرف شہر کی طرح کثیر الثقافتی ہے بلکہ نت نئی کھانے کی جگہیں کھلنا روزانہ کا معمول ہے۔ ’حوض خاص ولیج‘ میں دی سوشل کیفے بار ہو یا خان مارکیٹ میں یورپی طرز کا سول ہاؤس ریستوران، دلی میں مقامی اور غیر مقامی افراد کے لیے ہر طرح کی جگہ ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہAlamy

دلی میں کہاں رہنا چاہیے؟

زیادہ تر غیر ملکی دلی کے جنوب مغرب میں تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع شہر گڑگاؤں میں رہنا پسند کرتے ہیں، جہاں زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔

جنوبی دلی بھی ایک پسندیدہ رہائشی ضلع ہے۔ غیر ملکی سفارت خانے ’وسنت وہار‘ کے علاقے میں پائے جاتے ہیں جبکہ دلی گالف کلب سے متصل گالف لنکس اور لودھی روڈ بھی دلی کے نسبتاً متمول علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے سفارتکار لِن بیک کا مشورہ ہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ دفتر سے قریب ہی رہائش اختیار کی جائے کیونکہ وہ خود گڑگاؤں میں رہائش پزیر ہیں جہاں سے دفتر پہنچنے میں ٹریفک کے باعث پندرہ سے تیس منٹ یا زیادہ بھی لگ جاتے ہیں۔ لِن بیک کے مطابق کبھی کبھار اختتام ہفتہ پر پارٹیز میں جاتے ہوئے انھیں ایک ایک گھنٹہ ٹریفک میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندلی سے ہٹ کر بات کریں تو تین سو کلومیٹر جنوب مغرب میں راجھستان کی ریاست ہے جہاں کا پنک سٹی شہر جے پور اور ادے پور اپنے عالی شان محلات اور فن تعمیر کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں

دلی میں کن مقامات کی سیر کرنی چاہیے؟

ایک وسیع و عریض شہر ہونے کے ناطے دلی اپنے اندر ایک دنیا ہے۔ پرانی دلی کا علاقہ بھی تاریخی اعتبار سے اب تک بہت سے نقوش محفوظ رکھے ہوئے ہے جیسا کہ ساڑھے تین سو سال پرانا چاندنی چوک۔

دلی کی رہائشی اور لوکل گائیڈ کومل دریرا کے مطابق شہر کے پرانے علاقوں میں موجود بازاروں، مساجد اور مندروں کو پیدل چلتے ہوئے دیکھیں تو سو سال پرانا دلی نظروں کے سامنے محسوس ہوتا ہے۔

تاج محل تو دلی سے 240 کلومیٹر دور ہے لیکن ویسا ہی فن تعمیر دیکھنا ہو تو دلی کے لال قلعہ کو دیکھ لیں۔

شہر میں خوبصورت پارکس اور مندروں کی بھی کمی نہیں۔ نوے ایکڑ پر پھیلا لودھی گارڈن ہو یا پھر سو ایکڑ پر محیط اکشا دھرم کمپلیکس جس کے وسط میں ہندو مندر موجود ہے، دیکھنے والوں کے لیے دلی میں بہت کچھ ہے۔

مزید پڑھیے

دلی سے ہٹ کر بات کریں تو تین سو کلومیٹر جنوب مغرب میں راجھستان کی ریاست ہے جہاں کا پنک سٹی شہر جے پور اور ادے پور اپنے عالی شان محلات اور فن تعمیر کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ہماچل پردیش کی ریاست جسے ہمالیہ کا دروازہ سمجھا جاتا ہے دلی کے شمال میں 300 کلومیٹر دور ہے۔

یہاں منالی کا پہاڑی پر فضا شہر خاص شہرت رکھتا ہے۔ دلی سے ممبئی جانا ہو یا پھر سمندری ساحل کا مزہ لینے کے لیے گوا پہنچنا ہو، ہوائی سفر ناصرف موزوں ہے بلکہ بین الاقوامی موازنے میں قدرے سستا بھی ہے۔

انڈیا سے ایشیا کے دیگر ممالک بھی قریب تر ہو جاتے ہیں۔ سویڈن کے سفارت کار لِن بیک کے مطابق سویڈن سے ایشیا بہت دور لگتا ہے لیکن یہاں پہنچ کر دبئی، ہانگ کانگ اور کوالالمپور جانا ایسے ہے کہ چھٹی والے دن بھی جایا جا سکتا ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا دلی ایک سستا شہر ہے؟

عالمی جریدے اکانومسٹ کے مطابق دلی کو دنیا بھر کے 133 شہروں کی فہرست میں 124 واں نمبر دیا گیا ہے۔ یعنی دلی دنیا کے کئی دیگر شہروں کی نسبت کافی سستا ہے، جہاں رہائش نیو یارک کے مقابلے میں اسی فیصد سستی ہے جب کہ ٹرانسپورٹ اور تفریح پر ستر فیصد کم خرچہ ہوتا ہے۔

اگر یہی موازنہ انڈیا کے باقی شہروں سے کیا جائے تو معاملہ الٹ ہو جاتا ہے کیوںکہ کلکتہ کی نسبت دلی میں رہائش پچاس فیصد مہنگی ہے۔

اب کون کتنا خرچ کرتا ہے اس بات کا دار و مدار تو رہن سہن پر ہے۔

دلی کے غیر ملکی رہائشی مقامی افراد کے مقابلے میں کم از کم دو گنا خرچ کرتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ گھریلو ملازمین ہوتے ہیں۔

دلی میں سولہ سال سے رہائش پزیر ٹریول ایجنسی کے جنرل منیجر پراوین تمانگ کے مطابق دلی میں کھانا بہت سستا ہے، چاہے باہر ہی کیوں نہ کھائیں۔ ان کے مطابق دلی ایک ایسا شہر ہے جو ہر باسی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور فراہم کرتا ہے وہ کھانا ہو، فیشن ہو یا پھر رہن سہن کا سٹائل۔