برہنہ قوم: جرمن شہری سرعام ننگے ہونا کیوں پسند کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کرسٹن آرنسن
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
’عریانی کی ثقافت‘ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ آج جرمن لوگ برہنہ ورزش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ننگے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔
برلن میں چار سال رہنے کے بعد، میں نے جرمنی میں عریانی کی ثقافت کو قبول کرنا سیکھا، جو امریکی مِڈویسٹ سے مختلف تھی جہاں میں پلا بڑھا تھا۔
امریکی ثقافت میں عریانی کا تعلق جنسی تعلقات سے ہے جبکہ جرمنی میں روزمرہ کے کچھ حالات میں ایسا ہونا غیر معمومی بات نہیں۔
مجھے بھاپ کے غسل کے دوران برہنہ ہونے، تیراکی کے دوران بے لباس ہونے کا تجربہ تھا اور یہاں تک کہ میں ایک بار مساج کے لیے بھی گیا اور میں نے فوراً ہی اپنا تولیہ اتارا اور برہنہ ہو گیا، مساج کرنے والے نے مجھے یاد دلایا کہ عام طور پر اسے امریکیوں کو بے لباس ہونے کے لیے کہنا پڑتا ہے۔
لیکن جیسا کہ کہاوت ہے کہ عوامی مقام پر عریانی کے ساتھ پیش آنے کے پہلے تجربے کو آپ کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔ میں نے اپنے پہلے تجربے میں نیو کولون کے علاقے برلن کے جنوب میں واقع ہوسنہائڈ پارک میں دوپہر کے وقت روشن سورج کے نیچے بے لباس لوگوں کا ایک گروپ دیکھا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوستوں سے بات کرنے اور گوگل پر چھان بین کے بعد میں نے پایا کہ برلن میں پارک یا ساحل سمندر پر ننگے لوگوں کے ایسے گروہوں کو دیکھنا ایک معمول ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ننگے افراد کے جن اجتماعات کا میں نے مشاہدہ کیا اس کا شہوانی، شہوت انگیز لذتوں میں ملوث ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ عریانی کی ثقافت کی ایک مثال تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فری باڈی کلچر یا مختصر طور پر ایف کے کے، جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک(سابقہ مشرقی جرمنی) میں زندگی کا اہم حصہ تھا لیکن عوامی مشق کے طور پر ’نیوڈزم‘ یا عریانی انیسویں صدی کے آخر میں اپنائی گئی۔ مثال کے طور پر سپین کے ساحل پر عریانی کے برعکس، جرمنی میں عریانی کا کلچر حوصلہ افزائی کرنے والے مقاصد کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتا ہے۔ ماضی میں، فطرت میں مکمل طور پر برہنہ ہو جانا مزاحمت اور دباؤ سے آزادی کا اظہار تھا۔
برلن کی فیری یونیورسٹی میں عصری تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر آرینڈ بورکیمبر کا کہنا ہے کہ ’جرمنی میں عریانی ایک پرانی روایت ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام پر آرگینک کھانوں، جنسی آزادی، متبادل ادویات اور فطرت کے قریب ایک سادہ زندگی کو فروغ دینے والی زندگی میں اصلاحی فلسفہ مقبول ہوا۔‘
بائرکمبر کہتے ہیں ’عریانی اس وسیع تحریک کا حصہ تھی جو صنعتی جدیدیت کے ردعمل کے طور پر ابھرا اور جدید معاشرے کے خلاف تھا جو انیسویں صدی کے آخر میں نئی تبدیلیوں کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا۔‘
پوٹسڈیم میں لبنز سینٹر برائے عصری تاریخ کے ایک مورخ ہنو ہاکموت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحی تحریک برلن جیسے بڑے شہروں میں مقبول تھی حالانکہ اس نے سادہ دیہی زندگی کی خوبیوں کو فروغ دیا۔
اور جمہوریہ ویمار کے دور میں 1918 سے 1929 تک بورژوازی اقلیت کے لوگ برہنہ جسمانی ثقافت اپنائے ساحلوں پر دکھائی دیے۔
باؤرکمبر کے مطابق اس وقت ایک آزادی کا احساس تھا جو 1878 سے 1918 تک آمریت پسند معاشرے اور جرمن سلطنت کی قدامت پسند اقدار کے بعد انھیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہImageBroker/Alamy
1926 میں الفریڈ کوچ نے مخلوط صنف کی عریانی کے رواج کی حوصلہ افزائی کے لئے برلن میں نیوڈازم سکول کی بنیاد رکھی، اس خیال میں کہ بیرونی عریانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی لانے اور صحت سے متعلق فوائد لانے میں مددگار ہے۔
جبکہ نازیوں نے ابتدا میں جسمانی برہنہ ثقافت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقیات اور بے حیائی سے تعبیر کیا۔ ہکوموت کا کہنا ہے کہ 1942 تک نازی جرمنی نے آہستہ آہستہ عوام میں عریانی پر پابندیوں میں نرمی کر دی لیکن یقیناً یہ رعایت یہودیوں اور کمیونسٹ جیسے مظلوم گروہوں کے لیے نہیں تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی مشرقی اور مغربی جرمنی میں تقسیم، خاص طور پر مشرقی جرمنی میں دہائیوں تک عریانی کی ثقافت نہیں پھیلی، اگرچہ عوامی مقامات پر عریانی اب صرف بورژوا طبقے کے ممبروں تک ہی محدود نہیں تھی۔
مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ میں سفر، ذاتی آزادیوں اور صارفین کے سامان کی فروخت پر عائد پابندیوں کی روشنی میں برہنہ جسم کی ثقافت حفاظت کا ذریعہ بن چکی ہے یعنی ریاست کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کے تناؤ اور دباؤ کی روک تھام کا راستہ اور کچھ ’تحریک آزادی‘ فراہم کرنے کا ذریعہ۔

،تصویر کا ذریعہAgeofstock/Alamy
ان برسوں میں مشرقی جرمن میں باغی پولیس کے گشتوں پر نگاہ رکھتے ہوئے ساحل پر ننگے بیٹھے رہے، جب تک کہ 1971 میں، جب ایرک ہنکر برسر اقتدار آئے، تو پھر سے سرکاری طور پر عریانی کی اجازت دی گئی۔ بیرکمپفر کے مطابق ہنکر دور کے دوران، مشرقی جرمنی نے ملکی اور خارجہ امور میں کھلی پالیسیاں اپنانے کا عمل شروع کیا، جو خود کو بیرونی دنیا کے لئے زیادہ قابل قبول بنانے کا ایک طریقہ تھا۔
مشرقی جرمنی کے باشندے ابتدائی برسوں میں جرمن پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی میں چپکے چپکے برہنہ غسل لیتے رہے تاہم 1971 میں ایرک ہنکر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد باضابطہ طور پر برہنہ ہونے کی ثقافت کی اجازت دے دی۔
باؤرکمبر کا کہنا ہے کہ جمہوریہ مشرقی جرمنی نے ہنکر کے دور میں نیوڈزم کے لیے عالمی منظوری حاصل کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کھلی پالیسیاں اپنانا شروع کیں۔

،تصویر کا ذریعہImageBroker/Alamy
باؤر کمبر کا کہنا ہے کہ ’جمہوری مشرقی جرمنی نے ایک لبرل معاشرے کی حیثیت سے اس کے لیے ایک قسم کے پروپیگنڈے کے طور پر عریانی کی حوصلہ افزائی کی۔‘
لیکن 1990 میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد نیوڈازم کی ثقافت آہستہ آہستہ کم ہو گئی اور سابقہ کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں، کیمپ، ساحل اور پارکس سینکڑوں ننگے افراد سے بھرے ہوئے تھے۔
2019 میں جرمن ایسوسی ایشن فار فری باڈی کلچر کے مطابق ان کے ممبروں کی تعداد 30،000 کے قریب تھی اور ان میں سے بیشتر کی عمریں 50 سے 60 کے لگ بھگ تھیں۔
برہنہ جسم کی ثقافت اب بھی جرمن ثقافت کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر سابقہ مشرقی جرمنی میں اور بعض اوقات اس کے ممبروں کی خبریں سرخیاں بن جاتی ہیں۔ اس سال اخبارات میں برلن کی ایک جھیل میں ایک برہنہ شخص کی خبر شائع ہوئی تھی، جو اپنا لیپ ٹاپ بیگ لے کر بھاگنے والے جنگلی سؤر کا پیچھا کرنے پر مجبور ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہKuttig/Alamy
درحقیقت ایف کے کے اور جرمنی میں نیوڈزم کی طویل روایت نے ملک بھر میں برہنہ ہونے کے مقامات کے لیے رواداری پیدا کی اور عوامی مقام پر بے لباسی کو صحت کی ایک قسم قرار دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایف کے کے مقامات تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوتی اور انھیں صحت کے مقاصد سے وابستہ قرار دیا جاتا ہے۔
کچھ جگہوں پر جرمنی کے ایسے ساحل اور پارکوں کی ایک فہرست موجود ہے جہاں لوگ برہنہ ناچتے، سوتے اور دھوپ سینک سکتے ہیں یا جنگلات میں ننگے پہاڑ چڑھ سکتے ہیں۔ یہ لوگ برلن کے ایڈولف کوچ سپورٹس کلب میں جا سکتے ہیں اور برہنہ یوگا، والی بال، بیڈ منٹن اور ٹیبل ٹینس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
بہت سے طریقوں سے عریانیت کی ثقافت کی وراثت مسافروں کو ان اقدار کی بصیرت فراہم کرتی ہے جو مشرقی جرمنوں کو متحد کرتی ہیں۔
سلوا سٹرنکوف بچپن سے ہی مشرقی جرمنی میں نیوڈ ساحلوں پر لگاتار آ رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انھوں نے اس ثقافت سے کچھ اقدار حاصل کیں جو وہ اپنے بچوں کو منتقل کرتی ہیں ’خاص طور پر جرمنی میں کسی بھی جسمانی کمی کے باوجود جسم کو قبول کرنے کی آمادگی۔‘
’میرے خیال میں اس ثقافت کی جڑیں مشرقی جرمنی میں میری نسل کے شعور میں موجود ہوئی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں اسے اپنے بچوں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ وہ اپنے جسم کو قبول کریں اور اسے ظاہر کرنے یا عوامی طور پر برہنہ ہونے پر شرمندہ نہ ہوں۔‘
سٹرنکوف کا خیال ہے کہ ’ننگے جسموں کو اس طریقے سے دیکھنا خواہشات کو جنم نہیں دیتا بلکہ لوگوں کے باطن میں جھانکنے اور سیکھنے میں مدد دیتا ہے نہ کہ ظاہری شکل کو۔ اپنے کپڑے اتارنے پر، آپ کو صرف جسم ہی نہیں فرد نظر آتا ہے۔‘
’اگر آپ لوگوں کو برہنہ دیکھنے کی عادت ڈالتے ہیں تو آپ ان کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں کم ہی سوچیں گے۔ میرے خیال میں یہ ثقافت مشرقی جرمنی میں مزید پھیل گئی ہے۔ ہم لوگوں کو ان کی ظاہری شکل سے نہیں پرکھتے بلکہ ہم ہمیشہ اندر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘











