پانی پر تیرتے ہوئے باغات کا قدیم فرانسیسی شہر

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, نورمان ملر
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
فرانس کے شمالی شہر 'ایمیئنز' میں دریائے سوم کے درمیانی دلدلی علاقے میں ایک سو دس مربع کلو میٹر خطے پر پھیلی ہوئی خم دار پتلی نہروں کے ایک جال پر 'اوختیوناژ' (فردوسِ بریں) کہلانے والے پانی میں تیرتے ہوئے پھولوں کے باغات کی وجہ سے اسے شمال کا وینس قرار دیا جاتا ہے۔
ہم پتلی پتلی خم دار نہروں میں نقش و نگار سے سجی ہوئی کشتی میں بیٹھے سفر کر رہے تھے، ان نہروں کے اوپر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے محراب نما پُل بنے ہوئے تھے۔ پانی میں تیرتی ہوئی مرغابی نے ہماری کشتی کے ارد گرد غوطہ لگایا۔ یہاں پائے جانے والے پرندوں کی 100 سے زیادہ ایسی انواع ہیں جو جنگلی حیات میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
میرا گائیڈ ایلیکسی لُوخفےور ہمیں 65 کلومیٹر سے زیادہ طویل ان نہروں کے جال میں سیر کرا رہا تھا، جسے فرانسیسی زبان میں 'رییو' کہا جاتا ہے۔ ایک خاموش سی الیکٹرک انجن سے چلنے والی کشتی ہمیں سفید سوسن کے پھولوں کی ہلکی سی تہہ سے ڈھکے ہوئے پانی پر اس طرح لے جا رہی تھی کہ اس کے پرسکون ماحول میں کم سے کم خلل پڑے۔
ہم شمالی فرانس میں ایمیئنز کے 'اوختیوناژ' نامی خـطے میں تھے، یہ ایک منفرد شہری دلدلی زمین ہے جسے لُوخفےور نے محض 'جنّت نظیر شہر' کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہاں دریائے سوم کا یہ نہروں کا جال شہر کے مقامی موسم کو ہوا سے کہیں زیادہ خوشگوار بناتا ہے۔
قرون وسطیٰ کے زمانے سے دریا کے دلدلی اندرونی خطّے کو شہر کے باشندوں نے 300 ہیکٹر پر مشتمل پانی کی سلطنت بنانے کے لیے آہستہ آہستہ تیار کیا اور ڈھالا۔
اوختیوناژ یا جسے ہم باغات کی جنت کہہ سکتے ہیں، اس وقت وجود میں آئی جب مقامی لوگوں نے ایندھن کے طور پر جلانے کے لیے دلدلی زمین سے کوئلہ کھودنا شروع کیا۔
صدیوں کے دوران خندقوں کا پیچیدہ جال جو انھوں نے کھودا تھا وہ دریائے سوم کے مسلسل بہاؤ سے پانی سے بھرتا گیا جس میں پانی کے بہاؤ کا ایک ایسا سلسلہ بن گیا جو دیکھنے میں نقش و نگاری کا حسین نمونہ لگتا تھا اور اسی کی وجہ سے ایمیئنز کو 'شمال کا وینس' کہا جانے لگا۔
اس دلدلی علاقے میں آبی گزرگاہوں نے سینکڑوں چھوٹے، زرخیز جزیرے یا 'تیرتے ہوئے باغات کی جنت' بھی تشکیل دی جنھیں مقامی لوگ آٹھ صدیوں سے کاشتکاری اور تفریح کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان جزیروں پر کاشتکاروں نے 'اوختیُوں' کے نام سے جانے والے کھیتی باڑی کا انداز بھی اپنایا اور وہ اسی نام سے موسوم ہوئے، جو ہر چھوٹے، کاشت شدہ زمینی ٹکڑے کے لیے ایک قدیم لفظ بھی ہے اور لاطینی لفظ 'ہورٹیلس' سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے 'چھوٹا باغ'۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
یہ لاطینی لفظ سے لیا گیا نام ہمیں ایمیئنز کی قدیم تاریخ بھی بتاتا ہے۔ رومن سے پہلے کے زمانے میں یہ خطہ 'ساماروبریوا' کے نام سے جانا جاتا تھا، اسے یعنی ایمیئنز کو رومن حکمرانی کے دوران 'امبیانم' کا نام دیا گیا، جب یہ فرانس میں رومی سلطنت کا ایک کلیدی مرکز تھا (یا 'گال' کہلانے والے خطے کا جو اس وقت مغربی یورپ کا عمومی نام تھا) اور اس کی آبادی آج کے پیرس سے جو 120 کلومیٹر جنوب کی جانب ہے، کم از کم دوگنا زیادہ تھی۔
اس شہر کی عظمت رفتہ کی عکاسی فرانس کے سب سے بڑے کیتھیڈرل کی موجودگی سے ظاہر ہوتی ہے، جو 13ویں صدی کے گوتھک طرزِ تعمیر کے تاریخی نشان ہیں، اور اس کیتیھڈرل کے سامنے کا حصہ 1,000 سے زیادہ اولیا اور تاجروں سے لے کر گناہوں کی عکاسی تک کے مجسموں اور نقش و نگار سے سجا ہوا ہے۔
ایمیئنز کی دونوں عظمتوں کو یکجا کرنے کے ایک صاف ستھرے عمل میں، روایتی کہانی یہ بتاتی ہے کہ اس عظیم الشان کیتھیڈرل کو کنگر فرشوف کے کھیت پر تعمیر کیا گیا تھا جسے قرون وسطیٰ کے سینکڑوں کسانوں نے مل کر عطیہ کیا تھا جو اوختیوناژ کی زرخیز مٹی کاشت کرتے تھے۔
افسانوی روایت یہ مشہور ہے کہ زمین فراہم کرنے کے اس خیراتی کام کے بدلے، کیتھیڈرل بنانے والوں نے اس کے سامنے کے حصے پر کنگر فرشوف اُگانے والے ایک کسان کا مجسمہ تعمیر کیا۔
جب کہ پچھلی صدیوں نے یہاں کئی سو اوختیوں کو باقاعدہ حالت میں اپنی سبزیاں اور پھل فروخت کرتے دیکھا۔ جدید سہولتوں کی آمد جیسے کہ سنہ 1950 کی دہائی سے سپر مارکیٹوں کی وجہ سے ان کی تعداد میں زبردست کمی واقعہ ہوئی، اور اب وہاں صرف 10 یا اس سے زیادہ کل وقتی باغبان منڈی میں فروخت کرنے کے لیے اپنے کھیتوں میں کاشت کر رہے ہیں۔
تاہم اوختیوناژ میں جو باقی رہ گئے ہیں وہ اب بھی ہر ہفتہ کو اپنے پلاٹوں سے تازہ سبزیوں اور پھولوں کے پرکشش ٹوکروں کو ایمیئنز کے قلب میں 'پلیس پارمینٹیئر' میں دریا کے کنارے پر ایک فوڈ مارکیٹ میں فروخت کے لیے لاتے ہیں۔
ماضی میں اوختیون اپنی پیداوار کو روایتی کشتیوں میں منڈی میں لے جاتے تھے جن کو مقامی لوگ 'بارغ آ کوخنے' ( سینگ والی کشتیاں) کہتے تھے، یہ لمبی کشتیاں جن کے اوپر نوک دار سرے ہوتے ہیں، جن کے اتلی ڈرافٹ اور چوڑے فلیٹ پیندوں کو اوختیوناژ کے آبی رستوں پر چلانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
آج ان میں سے بہت سی حیرت انگیز کشتیوں کو اس خطے کی آبی بُھول بُھلیّوں میں سیاحوں کو سیر کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNorman Miller
خوراک اُگانے کے لیے دیے گئے زمین کے ٹکڑوں اور سیاحت کے علاوہ چھوٹے جزیروں کے وسیع خـطّے میں اب دلکش آرٹ کے تعمیر کیے گئے نمونوں کے ساتھ ساتھ بیابانوں کے علاقے بھی موجود ہیں جو نہ صرف آرام کے لیے قدرتی ماحول فراہم کرتے ہیں، بلکہ یہاں تعلیم اور سماجی بہبود کے پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
اس خطے کے مختلف استعمال میں سے ایک سیاحوں یا مقامی لوگوں کے لیے کسی ایک جگہ پر اکٹھے ہونا بھی ہے جیسے 'لُو ژاغداں ورچُو' (ریاض الصالحین -- نیک لوگوں کا باغ)۔ یہ 15 سال سے قبل تخلیق کیا گیا تھا، اور اب بھی 'پاسکل گوژوں' (جسے عام طور پر مقامی لوگ صرف پیکو کے نام سے جانتے ہیں) کی نگرانی میں ہے۔
اوختیوناژ کے مشرقی حصے میں جنگلی علاقہ جس کی کوئی دیکھ بھال نہیں کرتا تھا اور جہاں گھنے درخت اُگ آئے تھے، اس کو ایک عجیب و غریب 'فردوسِ بریں' میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو تخلیقی صلاحیت کی بدولت ماحولیات تحفظ اور خوراک کا ایک زبردست ذریعہ بن گیا ہے۔
اس علاقے کے ماضی کے جنگلی پن کے احساس کو سبزیوں کے پلاٹوں اور دیو ہیکل فن پاروں کی وجہ سے برقرار رکھا گیا ہے جو کہ گوژوں 'سبزیوں کے مواد سے بنے مجسموں' کی صورت میں نظر آتے ہیں - جو مقامی مواد جیسے وِلو کے درخت کی لکڑی کے ساتھ مقامی فنکاروں نے سکول کے بچوں کے ساتھ مل کر تراشے۔
گوژوں اور اس کے مددگاروں کی چھوٹی ٹیم، جن میں ایک میرا گائیڈ لوفےور بھی شامل ہے، بچوں کو کشتی رانی کے سفر پر لے جاتے ہیں تاکہ اوختیوناژ کے قدرتی حُسن کا مزا لیا جا سکے اور اسے مزید دریافت کیا جا سکے- ایک ماحولیاتی نظام جو بین الاقوامی اہمیت کے حامل دلدلی خطّوں کو ان کے تحفظ کے لیے 'رامسر' کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کافی مخصوص سمجھا جاتا ہے۔ ('رامسر کنونشنز' سنہ 1971 میں ایران کے ایک شہر کے نام پر دلدلی خطوں کی حفاظت کے لیے تشکیل دی گئی تھیں۔)
یہ بھی پڑھیے
جب میں گوژوں پہنچا تو وہاں اگائی جانے والی فصلوں کی ایک زبردست فہرست نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا: پھلیاں، آلو، کورجیٹ (توری نما سبزی)، مولی، ٹماٹر، خربوزہ، مکئی، بیر، سیب، ناشپاتی اور بیر۔ گوژوں کے رہنے والوں نے بتایا کہ 'یہاں کی زمین بہت زرخیز ہے - ہم ایک سال میں تین فصلیں لے سکتے ہیں۔‘
غیر معمولی نئی فصلوں کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جیسا کہ 'گُل پر' (جڑی بوٹی انجیلیکا)۔ 'ہم اسے پرفیوم بنانے کے لیے استعمال کرنے جا رہے ہیں۔‘ گوژوں کے لوگوں نے مجھے پرتعیش خوشبوؤں میں کستوری کی خوشبو دار اشیا کے طور پر اپنے دیرینہ تاریخی کردار کے بارے میں بتایا۔
وسطی ایمیئنز سے چند میل کے فاصلے پر 'ریوری' کے قریبی گاؤں میں، میں نے ایک اور کشتی میں سفر شروع کیا تاکہ اوختیوناژ کا ایک بالکل مختلف رخ دریافت کیا جا سکے، زمین کی تزئین میں فنکارانہ تعمیرات کی ایک قابل ذکر 'گیلری'، جو قدرتی مواد سے تیار کی گئی ہے۔ یہ عموماً 'زمینی فن' کے نام کے لیے جانی جاتی ہیں، یہ تخلیقات اوختیوناژ کے شمالی حصے سے شہر کے مرکز کی طرف پھیلی ہوئی ہیں۔
جیسے ہی ہم دریائے کے قریب رییو میں گھوم رہے تھے، میں نے سائمن آوگیڈ کے سنہ 2019 کے ایک فن پارے کی تعریف کی جسے 'اُداسی' کہا جاتا ہے۔ یہ ایک جزیرے کے کنارے سے نکل کر ایک چھوٹی جھیل کے پانیوں میں 'اُٹانگ ڈی کلرمونٹ' کہلاتا ہے، اور اس میں پتلی جھلسی ہوئی لکڑی کی ایک خاص زاویے سے ابھرتی ہوئی لکیر دکھائی دیتی ہے جو ایک پیلے ستون کو تھامے ہوئے ہے - یہ انسان کا تعمیر شدہ ہزاروں سال کے لیے بنایا گیا ڈھانچہ نازک فطرت کا ایک استعارہ بنتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNorman Miller
اوختیوناژ کی سرزمین پر یہ کام ایک 'بین الاقوامی گارڈن فیسٹیول' کا ثمر ہیں، جس کا افتتاح سنہ 2010 میں فنکاروں اور زمین کی تزئین کے ڈیزائنرز کے لیے ایک ہلچل مچانے والا کینوس فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ 'مارش سکیپ' (دلدلی خطوں کی تزئین) کے لیے مخصوص کام تخلیق کیے جا سکیں۔
اس کے درجن بھر سالوں میں 180 سے زیادہ نمونے دکھائے گئے ہیں، حالانکہ زیادہ تر کو ہر سال ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ ان کی جگہ نئے نمونوں کی تعمیر کی جا سکے۔ صرف 50 سے کم فن پاروں کو زیادہ طویل مدتی نمائش کے طور پر رکھا گیا ہے۔ تاہم اس سال کی نمائش میں ایک درجن کے قریب نئے فن پارے شامل کیے گئے ہیں۔
ناہِل وہبی نے کہا کہ 'یہ میلہ نوجوان تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کرنے کے بارے میں ہے۔' ناہِل وہبی بین الاقوامی میلے کے فن پاروں کی دیکھ بھال کے لیے کشتیوں کے دورے کی نگرانی کرتے ہیں۔ جیسے ہی اس نے ہماری کشتی آگے بڑھی، اس نے مجھے فنکاروں کے متنوع پس منظر کے بارے میں بتایا۔ 'اس سال ہمارے پاس ٹوگو، جاپان، بیلجیئم، امریکہ اور تائیوان کے فنکار ہیں، بلکہ ایمیئنز کے مقامی آرٹ کے طلباء بھی ہیں۔'
اس آرٹ فیسٹیول میں سماجی فوائد بھی شامل ہیں۔ وہبی نے کہا کہ ہمارے پاس کافی عرصے سے بے روزگار لوگ کام کرنے آتے ہیں جو آس پاس کے باغات کی دیکھ بھال میں مدد کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کو جو نیچر کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس کی بہتری کے لیے کوئی کام کرسکتے ہیں ان کے لیے اچھا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں واقعی اچھے نتائج نظر آتے ہیں'
چھوٹی جھیلوں کے ذریعے وقفے وقفے سے گزرتے ہوئے، ہم مختلف خیالات کو بھڑکانے والے کاموں کے قریب جانے کے لیے مختلف مقامات پر کشتی سے باہر زمین پر بھی گئے۔ مثال کے طور پر آرٹسٹ 'ایٹیلیغ فابر' کا فن پارہ 'روک'، ایک مربع ڈھانچہ ہے جو سنہ 2020 کے میلے کے لیے دوبارہ قابل استعمال بنائی گئی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، جو 20 مربع میٹر کے سائز کا ہے - جس کی وضاحت وہبی نے یہ بتا کر کی ہے کہ فرانس میں ہر سیکنڈ میں زرعی زمین ضائع ہو رہی ہے۔
یہ مقامی خوراک کی پیداوار کی اہمیت کی ایک سادہ لیکن زبردست یاد دہانی تھی، جس کی سٹی کونسل فعال طور پر حمایت کرتی ہے، جیسا کہ وہبی نے وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ 'شہر اب اوختیُوں کی مدد کے لیے مفت میں جزیرے دے رہا ہے۔ اور ہمارے پاس ہائی سکولوں میں سبزیوں کے باغات لگانے کے بہت سارے منصوبے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہVisit Amiens
ایک اور جزیرے پر 'دائرے والا رقص 3 کلو میٹر' کے عنوان سے ایک فن پارہ نصب ہے جو اوختیوناژ کے حیاتیاتی تنوع کو اجاگر کرتا ہے، جس میں مکھی مختلف پھولوں کے زر (پولن) سے اپنے لیے شہد کا مواد جمع کرنے کے لیے روزانہ سفر کے اوسط فاصلے کا حوالہ دیتا ہے۔ وہبی مزید کہتا ہے کہ 'اور ہم جزیرے سے جمع شدہ شہد ایک مقامی ایسوسی ایشن کو دیتے ہیں جو ان لوگوں کی مدد کرتی ہے جن کے پاس خوراک نہیں ہوتی ہے۔'
ریوری میں کشتی کے سوار ہونے کے مقام کے قریب، اوختیوناژ کے میوزیم کے دلدل کا منظر نامہ انسانی محنت کے بارے میں بھی آگاہی دیتا ہے، جس میں روایتی اشیا کی خاصیت ہوتی ہے جو ایمیئنز کے بازار کے باغبانوں کی کام کرنے والی زندگیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کو دو موجودہ اوختیُوں، تھریس اور رینی نواک نے جمع کیا ہے۔
تھریس نے کہا کہ 'میوزیم بنانے میں میری حوصلہ افزائی اس بات نے کی تھی کہ میں اپنے کام کو تصویروں اور دیگر ٹولز کے ساتھ اوختیوناژ کی تصاویر ایک خاص وقت تک تیار کر کے پیش کروں۔ لیکن مجھے فخر ہے کہ میں اس کے باوجود بھی فروخت کے لیے اچھی مقامی فصل اُگاتا ہوں۔'
جب ان سے ان کی پسندیدہ چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ان کی فہرست میں کئی اشیا بتانے کے علاوہ ایک روایتی سینگ والی کشتی کا بھی خاص طور پر ذکر کیا۔ 'لیکن روزمرہ کے اوزار - جیسے مٹی کے لیے اوزار - بھی اتنے ہی اہم ہیں۔'
اپنی آخری سہ پہر کو میں نے پیدل ہی اوختیوناژ کی سیر کی، مرکزی دریا کے کنارے ایک گیٹ سے ایک جگہ میں داخل ہوا جِسے 'الے آکس فیگو' کہا جاتا ہے۔ اگرچہ باغات کا یہ داخلی راستہ وسطی ایمیئنز سے صرف 15 منٹ کے پیدل سفر پر تھا، لیکن میں اس میں داخل ہونے کے چند منٹوں بعد ہی ایک پُر سکون اور خاموش دنیا میں چلا گیا۔
میں نے گھنے جنگل میں پگڈنڈیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے چند جزیروں کو عبور کیا اور ایک ایسے راستے پر جا پہنچا جس میں پیٹریس ڈیون کا 'پین' نامی فن پارہ نصب تھا۔ فوٹو گرافی کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس نے فیبرک پر سورج کی روشنی میں خشک پتوں کا ایک دیو ہیکل تصویری عکس تیار کیا ہوا تھا۔ اس نے فطرت، تاریخ، سکون اور تخلیقی صلاحیتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا ہوا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے اوختیوناژ۔










