دیوار چین کا دور دراز اور خطرناک ترین حصہ، جیان کاؤ

    • مصنف, اماندہ روگری
    • عہدہ, صحافی

چین کے شمال میں واقع 21 ہزار کلومیٹر طویل عظیم دیوار (دیوارِ چین) انسانیت کی سب سے معروف تخلیق ہے۔ یہ تاج محل اور قدیم رومیوں کے سب سے بڑے تھیٹر ’کولوژیم‘ سمیت دنیا کے سات بڑے عجوبوں میں شامل ہے۔ دیوارِ چین کو سنہ 1987 میں یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔

دنیا بھر سے جب سیاح بیجنگ پہنچتے ہیں تو وہاں سے بسیں بھر بھر کر وہ طویل دیوارِ چین کے مختلف اہم مقامات کا رُخ کرتے میں۔ سیاحوں میں سے چند عظیم دیوار کے اِس مقام پر بھی آتے ہیں جسے ’جیان کاؤ‘ کہا جاتا ہے۔

دیوارِچین کا ’جیان کاؤ‘ نامی حصہ سبز پہاڑیوں کے اُوپر ایک کنگری دار خط کی طرح 20 کلومیٹر طویل علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ نیچے وادی سے یہ پہاڑ کی ہر چوٹی پر ایک سجاوٹی خط کی طرح نظر آتی ہے۔

یہ بیجنگ کے شمال میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ لیکن یہ اپنے معروف ہمسایہ علاقوں، بڈالنگ اور میوٹیانیو، سے بالکل مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس علاقے میں نہ کوئی سووینیئر فروخت کرنے کی دکان ہے اور نہ ہی کافی کی مشہور دکان سٹاربکس ہے اور نہ ہی کوئی کیبل کار۔ نہ یہاں کوئی اس جگہ کی سیاحت کے لیے ٹکٹیں فروخت کرتا ہوا نظر آئے گا اور نہ ہی دیوار کے اِس حصے تک لے جانے والا کوئی ٹور گائیڈ۔

دیوارِ چین کے اس حصے تک جانے کے لیے آپ کو 45 منٹ تک پہاڑ پر چڑھنا ہو گا۔

اور ابھی کچھ عرصے پہلے تک وہاں اس دیوار کی حالت کو بہتر کرنے کا کام جاری تھا۔ پندرھویں اور سولہویں صدی میں تعمیر ہونے والے دیوار کے اس حصے پر صدیوں تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔

اس حصے سے منسلک سات کلومیٹر لمبی دیوار کافی خستہ حال ہو گئی تھی۔ طویل وقت گزرنے کی وجہ سے اس کے کئی مینار اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیر اور کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے جبکہ دیوار کے کچھ حصے تو اس طرح منہدم ہو گئے یہ باقی بچ جانے والی دیوار پر بمشکل ایک شخص ہی چل سکتا تھا۔

درخت اور جھاڑیاں اس طرح اُگ آئیں تھیں کہ یہ دیوار فصیل کی بجائے ایک جنگل دکھائی دینے لگی تھی۔ اگرچہ یہ نظارہ بھی اچھا لگتا تھا لیکن یہ قدیم دیوار بہت خطرناک ہو چکی تھی۔

ٹینیسیٹ چیریٹی فاؤنڈیشن، جس نے دیوارِ چین کے اس حصے کی بحالی کے کام کو سرانجام دیا ہے، کے پراجیکٹ مینیجر ما یاؤ کہتے ہیں کہ ’ہر برس ایک یا دو سیاح دیوار کے اس حصے پر چلتے ہوئے گر کر ہلاک ہوتے تھے۔ کچھ لوگ تو ہائیکنگ کرتے ہوئے گرتے اور ہلاک ہو جاتے۔ اور کچھ بجلی گرنے سے ہلاک ہوتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے ہمیں ممکنہ حد تک اس دیوار کی روایتی حالت بحال کرنے میں مدد دی۔

مزید حادثات کو روکنے کے لیے اور جیان کاؤ حصے کی دیوار کو مزید خستہ حال ہونے سے روکنے کے لیے اس کی بحالی کا کام سنہ 2015 میں شروع ہوا۔ یہ کٹھن کام، جو 750 کلومیٹر طویل دیوار کے اس حصے پر پھیلا ہوا تھا، سنہ 2019 میں مکمل ہوا۔

جب یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ رہا تھا تو اس وقت موسم بہار کے ایک روشن دن میں ما کے ساتھ اس دیوار کے کام پر بات چیت کرنے لیے نشست کا موقع ملا۔

ہماری جہاں تک بھی نظر جا رہی تھی ہمارے ارد گرد فصیل نما دیواریں ہمیں گھیرے ہوئے تھیں۔ ما نے مجھے بتایا کہ ’آپ یہاں ان پہاڑوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ یہاں بھاری بھاری مشینیں نہیں لائی جا سکتی ہیں۔ ہمیں یہاں انسانوں سے کام لینا پڑا۔ لیکن ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال انسانوں سے یہ کام زیادہ بہتر کروانے کے لیے کرنا چاہیے۔‘

سنہ 2019 میں اس منصوبے پر جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی اس میں خطے کی سہ جہتی (تھری ڈائی مینشنل) نقشہ بندی اور کمپیوٹر کا ایک ایلگورِدھم شامل تھا جو انجینیئروں کو یہ بتاتا تھا کہ انھیں کسی شگاف کی مرمت کے لیے وہاں اُگے ہوئے درخت کو نکالنا ہے یا صرف اس شگاف کو بھر دینا ہے یا اس حصے کو محفوظ طریقے سے بغیر کچھ کیے چھوڑ دینا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرے کہ کبھی ان دیواروں پر جنگلی نباتات اُگ آئی تھیں۔

ما نے بتایا کہ ’ٹیکنالوجی نے ہمیں ممکنہ حد تک اس دیوار کی روایتی حالت بحال کرنے میں مدد دی۔‘

چین کے شمالی خطے سے لے کر صحرائے گوبی سے زرد سمندر تک سانپ کی طرح پھیلی ہوئی دیوارِ چین ایک بہت بڑی تعمیر ہے۔ اس کی تاریخ بھی اسی کی طرح عظیم ہے۔ اس کی تعمیر میں دو ہزار برس لگے، تیسری صدی قبل مسیح سے لے کر سترھویں صدی عیسوی تک، اسے سولہ مختلف شاہی خاندانوں نے تعمیر کیا۔

اس دیوار کی تعمیر کے سب سے لمبے اور سب سے زیادہ مشہور حصے کی تعمیر مِنگ خاندان کے زمانے میں ہوئی جنھوں نے دیوار کی تعمیر (یا تعمیرِ نو) سنہ 1368 سے لے کر سنہ 1644 کے درمیان کے عرصے میں کی جس میں جیان کاؤ نامی حصہ بھی شامل ہے۔

حکومت کے آثارِ قدیمہ کے ایک ادارے ’سٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف کلچرل ہیریٹیج اینڈ سٹیٹ بیورو آف سروے اینڈ میپنگ‘ نے بتایا کہ مِنگ دور کی دیوار 8851 کلومیٹر بشمول 6259 کلومیٹر طویل دیوار اور 359 لمبی خندقیں، 2232 کلومیٹر لمبی قدرتی رکاوٹیں اور 25 ہزار حفاظتی ٹاور اسی شاہی خاندان کے زمانے میں تعمیر ہوئے تھے۔

اس تعمیر میں ایک مقام سے لے کر دوسرے مقام بی تک صرف ایک دیوار کی تعمیر ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ اس میں سیڑھیاں، دوہری دیواریں، متوازی دیواریں اور دیواروں کی مہمیزیں بھی شامل تھیں۔

آج مِنگ خاندان کی جانب سے تعمیر کردہ ایک تہائی فصیل کی تعمیر مٹ چکی ہے۔ اس میں سے صرف آٹھ فیصد اب تک مناسب طریقے سے محفوظ ہے۔ ان میں خطرے کئی قسم کے ہیں، ہواؤں اور بارشوں سے قدرتی طور پر ان کا کٹاؤ، قریبی علاقوں میں انسانی تعمیرات کی وجہ سے ان دیواروں کی تباہی، اور یہاں کی اینٹوں کی فروخت، اور ظاہر ہے کہ تودے گرنے کی وجہ سے زمین کا کھسکنا۔ یہ خاص کر جیان کاؤ کے لیے کافی صحیح بات ہے جہاں آج بھی بڈالنگ جیسے حصے میں سب سے کم سیاح آتے ہیں۔

مورخ اور ماحولیات کو محفوظ بنانے والے ایک ماہر ویلیم لنسے بیجنگ شہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ان پہاڑوں کے دامن میں دو کروڑ افراد آباد ہیں۔ اس لیے یہ نصیحت کہ اس کے دامن میں سوائے قدموں کے نشانوں کے کچھ مت چھوڑو، اصل میں اس دیوار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘

لنسے نے اپنی پوری زندگی اس دیوار کو محفوظ بنانے کے لیے تحقیق اور تصنیف میں صرف کر دی ہے۔

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے لنسے نے سنہ 1967 میں اپنے زمانہِ طالب علمی میں اس دیوار کو ایک نقشے میں دیکھا تھا، انھوں نے اس کے بارے میں تحقیق کرنے کا تہیہ کر لیا۔ سنہ 1987 میں، برطانیہ میں رومیوں کے دور کی قدیم دیوار ’ہیڈرین‘ پر دوڑنے کے تین برس بعد، ان کے بچپن کا تجسس دوبارہ سے جاگا اور انھوں نے دیوارِ چین کی پہاڑیوں کے دامن میں پیدل سفر کیا۔

وہ پہلے غیر ملکی تھے جس نے مِنگ خاندان کی دیوار کا شروع سے لے کر آخر تک پیدل سفر کیا۔ انھوں نے یہی سفر سنہ 2016 میں دوبارہ ایک مرتبہ جیپ پر کیا۔ اُنھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ’یہ اب اتنا خوبصورت منظر نہیں تھا۔ مجھے پولیس نے نو مرتبہ روکا، آپ اسے حراست میں لینا کہہ سکتے ہیں، پھر مجھ پر بار بار حد عبور کرنے کا الزام لگایا اور ملک بدر کر دیا گیا۔‘

’پھر میں وہاں سے ہانگ کانگ گیا (اس کے بعد میں پھر واپس آیا)۔ میرے لیے یہ ایک جسمانی مہم تھی، ایک سیاسی مہم تھی اور اس کے علاوہ میں نے ایک ہی لڑکی کو تین مرتبہ شادی کی پیشکش کی، اس لیے یہ ایک رومانوی مہم بھی تھی۔‘

میں نے پوچھا ’پھر اس کا کیا بنا؟‘

وہ ہنسے اور کہا ’بہت اچھا۔ ہم نے کچھ دن پہلے ہی اپنی شادی کی 33ویں سالگرہ منائی ہے۔‘

اُنھیں جیان کاؤ کی دیوار سے بھی عشق ہو گیا تھا جو کہ (ہیڈرین دیوار) سیاہ مائل دیوار سے بالکل مختلف (دیوارِ چین) سبز دیوار تھی، اس کی دیواروں کی اینٹوں میں سے درخت اُگ رہے تھے۔

وہ سنہ 1997 میں جیان کاؤ کے دامن میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہنے لگ گئے اور جیان کاؤ جیسی جگہ اور بڈالنگ کے علاقے کی تعمیر شدہ دیوار کے درمیان فرق کو بیان کرنے کے لیے ’جنگلی دیوار‘ کی اصطلاح متعارف کی۔ اس قسم کے ہزاروں کلو میٹر کے علاقے ہیں، اسے اوپن ایئر میں دنیا کا سب سے بڑا میوزیم کہا جا سکتا ہے۔

لنسے کی لائیبریری کی دیوار پر جگہ جگہ ان کے لمبے پیدل سفر کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ دیوار میں ہر جگہ کتابوں کے لیے خانے بنے ہوئے ہیں، ان میں سے کئی کتابیں ان کی اپنی لکھی ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے گذشتہ برسوں میں جو خزانہ وہاں سے جمع کیا وہ مجھے دکھایا۔ سولہویں صدی کا ایک پتھر کا بم، جس میں بارود ڈالنے کے لیے سوراخ کیا گیا تھا، ایک چمکتی ہوئی آڑی کمان جو کہ اس زمانے میں دیوار سے تیر چلانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی، یہ اُس کی ایک نقل تھی۔

بیس برس سے زیادہ عرصے میں جب سے وہ اس خطے میں منتقل ہوئے انھوں نے جیان کاؤ کے حصے کی دیوار میں دیکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے تو میں اس حصے کو محفوظ سمجھتا تھا، اب ایسا نہیں ہے۔ جہاں دیوار کی بنیادیں مضبوط نظر آتی تھیں اب وہاں گڑھے پڑ گئے ہیں۔ ٹاور گرنا شروع ہو گئے ہیں، اب دیوار پر چڑھنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔

لنسے کہتے ہیں کہ ’آپ عظیم دیوار کو شجرِ ممنوعہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اس کی تعمیرِ نو کرے اور اس کو محفوظ بنائے اور اسے مستحکم کرے۔‘

وہ بات کرتے ہوئے رکے اور پھر بولے ’مجھے یہ جنگلی دیوار بہت پسند ہے، لیکن جب سیاحوں کی تعداد ایک حد سے زیادہ ہو جاتی ہے، تو پھر کام خراب ہوتا ہے۔ پھر ایک المیہ جنم لیتا ہے۔‘

دیوار تک پہنچنے کا پیدل راستہ ایک باغ سے گزرتا ہے، پھر جنگل آتا ہے۔ اس راستے میں ایسی کئی جگہیں آتی ہیں جو تقاضہ کرتی ہیں ان کو محفوظ بنایا جائے۔ ایک سیاح نے کہا کہ ’چینی تہذیب ایک عالمی ورثہ ہے اور ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ دیوار کو محفوظ کرے۔‘

ایک اور نے کہا کہ ’یہاں تصویریں لیں اور کچھ نہیں، یہاں قدموں کے نشانوں کے علاوہ سب کچھ واپس لے جائیں۔ میں ہر روز چار دن تک اس جگہ اوپر جانے اور پھر واپس آنے کا پیدل سفر کیا اور صرف ایک مرتبہ مجھے جنگل میں دیگر سیاح نظر آئے، دو عورتیں جن کے بارے میں میں نے دیکھنے سے پہلے کافی کچھ سن رکھا تھا۔‘

ان میں سے ایک لوک گیت گا رہی تھی۔ جب انھوں نے مجھے دیکھا تو انھوں نے میرے ساتھ سیلفی بنانے پر اصرار کیا۔ ان علاقوں میں زیادہ امریکی سیاح نظر نہیں آتے ہیں۔

چوٹی پر پہنچنے پر دیوار کے نظر آنے سے پہلے، تعمیرِ نو کا کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ میرے سامنے ہی وہاں مرمت کے لیے ایک مچان باندھی گئی تھی۔ کئی مہینوں کے بعد اس منصوبے کا آخری مرحلہ مکمل ہونے کے قریب تھا۔

اسے محفوظ بنانے کے منصوبے کے سربراہ ژاؤ پینگ کہتے ہیں کہ ’دیوار ہم سب کے لیے ایک ثقافتی خزانہ اور ایک ورثہ ہے۔ اس کی مرمت اور اسے محفوظ بنانے کے لیے ہم صرف آمادہ ہی نہیں ہیں بلکہ ہم اسے واقعی محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔‘

لیکن دیوار کی مرمت سے یہ غیر محفوظ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ایک جگہ کی بار بار تعمیرِ نو ہو تو یہ اصل شکل و صورت جیسی نہیں رہتی ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ بڈالنگ کا یہی انجام ہوتا نظر آ رہا ہے، جو کہ اس دیوار کا سب سے زیادہ معروف حصہ ہے۔

سنہ 1950 سے شروع ہونے والے اس کی تعمیرِ نو کے کام کے دوران اس میں نئی اینٹیں لگائی گئیں جنھیں جدید سیمنٹ سے جوڑا گیا۔

ان میں کئی جگہوں پر مختلف تحریریں لکھی ہوئی ہیں جو اس کی خوبصورتی کو خراب کرتی ہیں۔ اسے ’ڈِزنیفیکیشن‘ کہہ کر اس کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے، ’ڈِزنیفیکیشن‘ سے مراد ہے کہ ماضی کی کسی شے کا جدید دور میں تخیل کرنا۔

جیان کاؤ کے حصے کی تعمیرِ نو میں اس غلطی سے گریز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اب میں سکلیفولڈنگ کے قریب خچروں کے ایک گروہ کو انتظار کرتے دیکھ رہی تھی۔ یہ بھی اسی رستے سے یہاں پہنچے تھے جس سے میں آئی تھی۔ ان خچروں پر سفید چونے کے تھیلے لاد کر یہاں پہنچائے گئے تھے۔

کام کرنے والوں میں سے ایک شخص اس سفید چونے کو سفید صابن میں ملا رہا تھا۔ اس منصوبے میں جدید قسم کی کنکریٹ استعمال نہیں ہونا تھی۔

باقی مزدور اس مسالے کو ایک تولیے سے اینٹوں پر لگا رہے تھے۔ وہ ان اینٹوں کو بہت احتیاط کے ساتھ دیوار میں لگا رہے تھے۔ اس جگہ جہاں کام ہو رہا تھا وہ 750 میٹر چوڑی جگہ تھی۔

یہ میرے سامنے سامنے بنی۔ کچھ درخت بھی ان اینٹوں میں اُگ آئے۔ جیان کاؤ کی جانب جانے والے اس جنگلی راستے کی جو پہلے حالت تھی یہ اس سے کافی مختلف شکل تھی۔ لیکن پھر بھی جنگلی طرز کو اس تعمیرِ نو میں محفوظ کیا گیا تھا۔

میں جب اس پہاڑی راستے پر چڑھی تو یہ کئی جگہ سے بہت تیزی سے عمودی چڑھائی چڑھتا تھا اور وہاں بہت پھسلن تھی اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ میرے پاس جو ہائیکنگ کے پیشہ وارانہ جوتے تھے ان کے باوجود کیکڑے کی طرح اکڑ اکڑ کر چلتی تھی تاکہ کہیں گر نہ جاؤں۔

ایک اور جگہ دیوار کی ایک سائیڈ مکمل طور پر کھسک گئی تھی۔ اور اس کے آخری حصے پر دیوار رک گئی تھی۔

اور یہ ایک ایسے تنگ رستے میں بدل گیا تھا کہ جس نے پہاڑ کو اس طرح کھڑا کر دیا تھا کہ آپ بغیر رسی کی مدد کے عمودی ڈھلوانی جگہ پر چڑھ ہی نہیں سکتے تھے اور نہ زندہ بچ سکتے تھے۔

کم سے کم مداخلت کا مطلب یہ نہیں ہے کوئی مداخلت نہ کی جائے۔

ژاؤ نے کئی ایک کاموں کی جانب اشارہ کیا جو دیوار کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے تاریخی طرز تعمیر میں مداخلت تھی۔

لنسے کی پہاڑ کے دامن پر سرکنے کے بارے میں تشویش کے باوجود، جیان کاؤ کے حصے والی دیوار میں کٹاؤ کا سب سے بڑا سبب پانی کا بہاؤ تھا۔

طویل عرصے کے لیے دیوار کو محفوظ بنانے کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی کے بہاؤ کے راستے کو تبدیل کیا جائے۔ اس ٹیم نے اس میں پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کے لیے سوراخ اور رستے بنائے تاک پانی اسے نقصان پہنچائے بغیر نکل جائے۔

تاہم اور حصوں میں جہاں پانی کے جمع ہو جانے کے امکانات تھے، وہاں انھوں نے نئی اینٹیں استعمال کیں جو کہ بہت ٹھوس تھیں اور بالکل سیدھی تھیں تاکہ پانی ان میں جذب نہ ہو پائے اور سیدھا بہہ جائے۔

نئی اینٹیں پرانی اینٹوں سے واضح طور پر بہت مختلف نظر آتی تھیں، ایک لحاظ سے مستقبل کی نسلوں کو یہ بتانے کا ایک طریقہ تھا کہ اصل دیوار اور اس کی تعمیرِ نو میں فرق کیا تھا۔

ژاؤ کہتے ہیں کہ ’ہمارا ایک اصول ہے، وہ ہے کم سے کم مداخلت کا اصول۔ لیکن کم سے کم مداخلت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مداخلت ہی نہ کی جائے۔‘

اس منصوبے میں مداخلت کو کم سے کم کرنے کا ایک طریقہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تھا۔

ژاؤ نے اس کی وضاحت یوں بیان کی کہ عموماً ڈیزائنرز دیوار کا مکمل اور جامع معائنہ کریں گے، جائزہ لیں گے، نہ کہ اس کی کمزوریوں کا۔

لیکن اپنے سٹوڈیو میں وہ اس پر کام کریں گے کہ وہ کس طرح اپنی دیوار کو مستقبل کے لیے محفوظ بنانے کے لیے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔

اس مرتبہ وہ ایک نئی بات سے استفادہ کر رہے تھے۔ بیجنگ میں ’پیکنگ سکول آف آرکیالوجی اینڈ میزیولوجی‘ کے ایک انجینیئر شانگ جِنیو مجھے اس عمل کو سمجھانے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔

ان کی ٹیم نے دیوار کے اس حصے پر ڈرون کی پرواز کروائی اور آدھے دن میں 800 کے قریب مختلف تصویریں بنائیں۔

ان تصویروں کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے دیوار کی ایک ایک اینٹ اور ایک ایک کریک تک کا ایک سہ جہتی (تھری ڈی) ماڈل تیار کیا۔ اس کی بحالی کی ایک مکمل تصویر بنانے کے لیے، انھوں نے اس عمل کو درمیان سے اور اس کے آخری مرحلے کے حصے سے دہرایا۔

شانگ جنیو کہتے ہیں کہ ’ہم چین کی کئی ایک ورثے والی جگہوں کی سہ جہتی اور پینورامک تصویریں بنا چکے ہیں۔ لیکن یہ پہلا منصوبہ ہے جس میں ہم نے اس سسٹم کو ایک ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے استعمال کیا ہے۔‘

سہ جہتی تصویروں سے ملنے والے ڈیٹا نے انجینیئروں کی یہ مدد کی کہ وہ اس دیوار کی بحالی کا کام کم سے کم مداخلت کے ساتھ کس طرح کر سکتے ہیں۔

ایک مثال اس کے ٹاوروں پر کریک کی ہے۔ ژاؤ کہتے ہیں کہ ’اس کریک کو عام طریقے سے دیکھنا ناممکن تھا۔ ڈرون کی پرواز سے، اس سے تصویریں لینے سے اور پھر انھیں ڈیجاٹائیز کرنے سے جو ڈیٹا حاصل ہوا، ہم اس کی وجہ سے اس قابل ہوئے کے ایک کریک کے سائز کا اندازہ لگا سکیں، اور یہ کہ دیوار کتنی جُھکی ہوئی ہے۔ اور پھر ہم فیصلہ کرتے کہ دیوار کو کیسے مستحکم کیا جائے۔‘

یہ ڈیٹا اس دیوار کی بحالی کے کام کے ہر مرحلے کے ریکارڈ کو بھی پیش کرتا ہے۔ ما کہتے ہیں کہ ’سہ جہتی تصویروں کا اصل مقصد مرمت کے عمل کا معائنہ کرتے رہنا ہے۔‘

اس کی ایک مثال ٹاوروں کی ہے۔ اکثر کی چھتیں درختوں اور جھاڑیوں سے چُھپی ہوئی تھی۔ ٹاوروں کو محفوظ بنانے کے لیے درختوں کو وہاں سے اکھاڑا گیا۔ ان درختوں کو ہٹانے میں انجینیئروں کو اینٹیں بھی ہٹانا پڑی تھیں۔

ماضی میں یہ بہت مشکل کام تھا کہ اینٹوں کو ہٹانے کے بعد دوبارہ سے واپس انھی کی اصل جگہ پر بغیر کسی غلطی کے لگایا جائے۔ اب وہ ایک اینٹ کی اصل جگہ کی نقل بہت آسانی کے ساتھ جان سکتے ہیں۔

ما کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ٹاوروںر کی چھتوں کی مرمت کر دی لیکن اس کے باوجود وہ ایسے ہی نظر آتے ہیں جیسے کوئی عمارت ہزاروں برس سے ویسے ہی کھڑی ہوئی ہے جیسا کہ وہ تھی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آئیڈیا صرف پیکنگ یونیورسٹی کی ٹیم کے پاس ہی نہیں تھا۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا دیوقامت ادارہ ’انٹیل‘ اپنی سطح کی ایک سہ جہتی ماڈلنگ کر چکا تھا۔ ان کے ڈرون نے دس ہزار تصویریں بنائی تھیں اور انھیں چین کے ثقافتی تحفظ کے ادارے کو دیں تھیں جو خود بھی ایسی قدیم عمارتوں کی بحالی کے منصوبوں میں شامل تھا۔

دونوں منصوبے بنیادی طور ایک ہی خیال کے بارے میں تھے۔ ان کے ڈیٹا کو شروع شروع میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور جب کیا تو اتنا نہیں جتنا کہ شامل کیا جا سکتا تھا۔

تاحال ان ٹیموں نے تعمیراتی کام کرنے والے انجینیئروں کی ٹیم کو اتنی معلومات دیں کہ وہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کم سے کم مداخلت کے ساتھ ان کی کس طرح مدد کر سکے گی۔

اب یہ ٹیمیں اس علم کو اگلی سطح تک لے جا رہی ہیں یعنی اس دیوار کے ایک اور حصے کی بحالی کا کام۔ ما کہتے ہیں کہ ’یہ جیان کاؤ سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود زیفنگ کاؤ ہے۔ یہ حصہ 900 میٹر لمبی دیوار پر مشتمل ہے۔ اور اس کا کچھ حصہ زیرِ آب ہے۔‘

’جیان کاؤ کی طرح ہم سہ جہتی ماڈلنگ کا طریقہ استعمال کریں گے اور جیان کاؤ میں مرمت کے تجربے کی بنیاد پر اور ماڈلنگ کی وجہ سے ٹیم نے بحالی کے نئے منصوبوں کو بہتر بنانے کے لیے اس میں تبدیلی کی۔‘

جیان کاؤ دیوار میں آخری دن میرا دوپہر کے کھانے کا وقت تھا۔ بدصورت چیونٹیاں پتھروں میں مارچ کر رہی تھیں۔ ایک نرم نرم سی شہد کی مکھی جو کہ انگوٹھے جتنی بڑی ہو گی، ہمارے پاس سے گزری۔ ایسا لگتا تھا کہ اس جگہ ہر چیز بڑے سائز کی تھی جیسا کے یہ دیوار ہے۔

دیوار کے ان ٹاوروں کے سائے میں مزدور آرام کرتے تھے۔ ان کے دن کا آغاز صبح صبح پہاڑ پر لمبی چڑھائی سے ہوتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ سہ جہتی تصویروں کی مدد سے بننے والی ماڈلنگ سے انھیں کوئی فائدہ پہنچتا ہو، لیکن یہ ان کے ہتھوڑے اور چھینی سے کیے جانے والی محنت کی جگہ نہیں لے سکا۔

ماحول کی خاموشی ان دو عورتوں کے لوک گیتوں کے اشعار کی وجہ سے ٹوٹی۔ ان عورتوں نے سورج کی تمازت سے بچنے کے لیے اپنے جسم سے لے کر اپنی آنکھوں تک ایک کپڑا باندھا ہوا تھا۔

انھوں نے مجھے کہا کہ ’یہاں سے دور نہ جاؤ، یہ بہت زیادہ عمودی گہری جگہ ہے۔‘ وہ ایک قریبی حصے کی جانب اشارہ کر رہی تھیں۔

اس جگہ کا ایک حصہ گر گیا تھا جس کی وجہ سے ایک گہرا گڑھا بن گیا تھا۔ اگر آپ یہاں کے مزدور کی طرح پہاڑ پر چڑھنے کے ماہر نہیں ہیں تب تو ایک جانے کا ایک دوسرا راستہ بھی ہے جو گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔

وہاں کوئی بھی سیاح دو بورڈوں پر درج احکامات کو نہیں سمجھ رہا تھا جو کہ میانڈرنگ زبان میں کہہ رہے تھے کہ ’سیاحوں کا داخلہ ممنوع ہے۔‘

تکنیکی لحاظ سے اس دیوار کو دیکھنے کے لیے آنے والے عام افراد کے لیے اس کا باقاعدہ افتتاح نہیں ہوا ہے۔

تاہم کوئی بھی ان حکمناموں کی وضاحت نہیں کر سکتا ہے کہ ان کے معنی کیا ہیں۔ یا یہ کہ سیاحوں کے لیے دیگر نشانات جو کہ سیاحوں کو پیدل چلنے کے راستوں کے بارے میں ہیں۔

بحالی کے کام کے اختتام سے امکان ہے کہ موجودہ سکوت ٹوٹ جائے گا۔ اور شاید ’سیاحوں کا آنا ممنوع ہے‘ والا بورڈ بھی ہٹ جائے۔

اس جنگلی دیوار کا خوف کم ہو گا۔ صرف نڈر ہی نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں عام لوگ یہاں آئیں گے۔

یہ دیوار پہلے کی طرح اب لاوارث نظر نہیں آئے گی اور نہ خطرناک ہو گی۔ لیکن یہ دیوار نہ صرف چین کی بلکہ دنیا بھر کی قلعہ بندی کی تشکیل کی صدیوں پرانی تاریخی کی ایک شاندار یادگار ہے۔ اور اس کی روح میں، اگر ایک دیوار کی روح ہو سکتی ہے تو، جنگلی حیات کی سرگوشی ہے۔