ماؤنٹ ایٹنا: زمین کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاں کے سائے تلے زندگی کیسی ہے؟

ماؤنٹ ایٹنا

،تصویر کا ذریعہBlueplace/Getty Images

    • مصنف, سائمن پلیٹس
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

سِسیلی کے ساحلی شہر کٹانیا میں قائم سائنسی تحقیقی مرکز، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیوگرافی اینڈ وولکینولوجی (آئی این جی وی) کے اندر خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔

ایک کشادہ دیوار پر نصب سکرینوں پر اعداد شمار، نقشے، چارٹس اور براہ راست ویڈیوز ابھرنے لگیں۔ مگر ایک خاص سکرین ایسی تھی جس نے تمام سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

آتش فشاں کے علوم کے ماہر، وولکینولوجسٹ بورِس بینکی نے ایک لکیر، جو اب الجھی ہوئی گُتھی میں تبدیل ہو چکی تھی، کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'ایٹنا کے جنوبی حصے میں زلزلہ آیا ہے۔' بینکی جانتے تھے کہ سکرین پر اس طرح کی گتھی کا ایٹنا کے دامن میں رہنے والوں کے لیے کیا مطلب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بینکی کے مطابق یہ کرۂ ارض پر سب سے زیادہ فعال آتش فشاں ہے۔ شہر سے 30 کلومیٹر دور ہونے کے باوجود اس کے پھٹنے کا خطرہ شہریوں کے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ مگر شہر کو اصل خطرہ زلزلے سے رہتا ہے۔

ایٹنا سے 20 کلو میٹر دور نِکولوسی کا قصبہ واقع ہے۔ کیتھولِک مسیحی ملک ہونے کی وجہ سے یہاں عبادت پر بڑا زور ہے۔ یہاں کے گرجا گھروں میں اس آتش فشاں کی بڑی بڑی پینٹنگز آویزاں ہیں۔

قصبے کے باہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک یادگار اس مقام پر تعمیر کی گئی ہے جہاں سنہ 1776 میں لاوا بہہ آیا تھا اور لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایک مسیحی راہب نے اپنا چوغہ بچھا کر لاوے کو روک دیا تھا۔

ماؤنٹ ایٹنا

،تصویر کا ذریعہAlexander Nikiforov/Getty Images

مریسا مزاگلیا عبادت گزار مسیحی ہیں۔ سنہ 2001 میں ان کا عقیدہ اس وقت اور زیادہ مضبوط ہو گیا جب آتش فشاں سے بہتے لاوے کو روکنے کے لیے گرجا گھر سے مذکورہ راہب کی ہڈیاں لائی گئیں تو نِکولوسی کے دوسرے باسیوں کے ساتھ مریسا بھی خاموشی سے وہاں کھڑی تھیں۔

سب لوگوں کو کسی معجزے کی توقع تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'زمین کے اس ٹکڑے پر آپ قدرت کی طاقت کو سب سے زیادہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ہم ان مظاہرِ فطرت کے عادی ہوگئے ہیں مگر کبھی ہمیں اس عظیم، بہت ہی عظیم ہستی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔'

سنہ 1983 میں ایٹنا کی چوٹی کے جنوبی طرف لاوے کی ایک ندی سی بہہ نکلی تھی جس سے راستے میں آنے والا ایک ریستوران مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

اس عمارت کو دو سال بعد پھر تعمیر کر لیا گیا۔ ریستوان کے شریک مالک الفیو کیرون کہتے ہیں کہ ریستوان کی تعمیر گرم لاوے کے اوپر ہی شروع کر دی گئی تھی۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس جگہ کا انتخاب عقلمندی نہیں ہے، مگر کیرون کا کہنا ہے، 'ہمیں اس آتش فشاں سے اس لیے ڈر نہیں لگتا کیونکہ اس کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ہم اس کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔'

ماؤنٹ ایٹنا

،تصویر کا ذریعہaasky/Getty Images

آئی این جی وی کے ہیڈ آفس میں الارم بجنے کے بعد بینکی نے نیکولوسی میں فرانسسکو اِمپیلیزی کو ایک ای میل بھیجی جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام معلومات کو متعلقہ حکام تک پہنچائیں تاکہ لاوے کے ممکنہ اخراج سے پہلے حفاظتی بندوبست کیا جا سکے۔

اِمپیلیزی سائنسی معلومات کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ انھیں کسی کرامت یا معجزے کی توقع نہیں ہے۔ مگر ان کے آفس ٹیبل اور کمرے میں مذہبی علامتیں رکھی ہوئی ہیں۔

ایٹنا کے سائے میں زندگی پیچیدگی اور جذبات کا مرکب ہے۔

۔