اکونومیاکی: ایٹم بم حملے کے بعد ہیروشیما کی پہچان بننے والا جاپانی پکوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سٹیو جان پاول، اینجیلز میرن کبیلو
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ میں اور میری بیوی ہیروشیما کے ٹینما دریا کے ساتھ بہار کی ٹھنڈی ہوا میں چہل قدمی کر رہے تھے اور کسی کھانے کی جگہ کی تلاش میں تھے۔ پورے دن کی سیر کے بعد ہم سردی سے ٹھٹھر رہے تھے اور سخت بھوک لگ رہی تھی۔
ہم نے سوچا کوئی ایسی گرم چیز کھائیں جو لذیذ بھی ہو، جس سے پیٹ بھی بھر جائے اور مہنگی بھی نہ ہو۔ ابھی ہمیں جاپان آئے کچھ ہی دن ہوئے تھے اور کھانے کی تلاش ایسی ہی تھی جیسے کسی خرگوش کے بل میں گھس کر کچھ ڈھونڈنا پڑے۔
ہمیں ایک دکان کے باہر گہرے نیلے رنگ کا پردہ ٹنگا نظر آیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ دکان کھلی ہوئی ہے اور ہم فوراً اندر داخل ہو گئے۔
اندر چھوٹی سی جگہ میں چھ کے قریب میزیں لگی ہوئی تھیں اور چار خالی بار سٹول تھے۔ دکان کی مالک ایک خوش مزاج خاتون تھیں جنھوں نے ہمیں اپنی زبان میں خوش آمدید کہا اور ’بار‘ کے قریب بیٹھنے کے لیے کہا جو بنیادی طور پر ایک چوکور گرم توا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمیں جاپانی زبان کچھ زیادہ نہیں آتی تھی سو اُس کی ہر بات پر بس ہاں یہ ناں اور شکریہ، مہربانی کہتے رہے اور امید کی کہ جو ملے وہ اچھا ہی ہو۔
اُس نے ڈوئی بھر کر دو بار توے پر گھی ڈالا اور اس سے دو بڑے دائرے بنائے۔ پھر ان کے اوپر بند گوبھی کا پہاڑ سا لگا دیا۔
اس کے اوپر مٹھی بھر کر پھلیاں اور سور کے گوشت کے کچھ ٹکڑے ڈالے۔ توے پر ایک طرف یہ سبزیاں پک رہی تھیں تو دوسری جانب اس نے رامن نوڈل کے دو بڑے گچھے رکھے۔
کچھ منٹ بعد اس نے جو پک رہا تھا اُسے پلٹا اور اس پین کیک نما سبزی گوشت وغیرہ کو نوڈل کے دونوں گچھوں پر رکھا۔ یہ ایک فن پارے کی طرح لگ رہے تھے۔ ایک ایسا فن پارہ جو کھایا جا سکے۔
یہ کھانا لگ بھی لذید رہا تھا اور اس سے بہت اچھی خوشبو آ رہی تھی مگر اس کا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے گرل پر دو انڈے توڑ کر ڈالے اور انھیں گردش دے کر اتنا ہی بڑا بنایا جتنا سبزی اور نوڈل کا پین کیک تھا۔
پھر نوڈل اور سبزی کو اٹھا کر انڈے کے اوپر رکھا اور اس پر کٹی ہوئی ہری پیاز، مچھلی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور سمند میں اگنے والے پودے نوری سی ویڈ رکھ کر سجایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر ہمیں میونیز اور بہت ہی اچھی خوشبو والی خاکی رنگ کی چٹنی پکڑائی اور اشارہ کیا کہ ہم اسے کھائیں۔
ہم نے توے پر ہی پڑے کھانے پر چٹنی ڈالی اور چپٹے سے چمچ سے کھانا شروع کر دیا۔ ہماری خواہش کے مطابق یہ کھانا لذیذ بھی تھا اور گرم بھی اور ہم نے پیٹ بھر کر کھایا اور ہاں یہ سستا بھی تھا۔
یہ ہمارا ہیروشیما کی مشہور اکونومیاکی کا پہلا تجربہ تھا۔ ایسا تجربہ جو ہم نے ہیروشیما کو اپنا گھر بنانے کے بعد بھی کئی سالوں تک دہرایا۔
اسے جاپانی پیزا یا جاپانی پین کیک بھی کہتے ہیں مگر اس ڈش کا جو مزا ہے یہ اُس کی صحیح عکاسی نہیں کرتا۔ لندن میں بام مچھلی کی جیلی جیسی ڈش، ویلینسیا میں پائیایا، نیو اورلینز میں گمبو اور ہیروشیما میں اکونومیاکی ایسی ڈش ہیں جو شہر کی پہچان بن گئی ہیں۔
اکونومیاکی پورے جاپان میں مقبول ہے مگر اسے اوساکا، کیوٹو اور کوبے پر مشتمل کانسائی نامی خطے اور اوساکا سے 300 کلومیٹر دور واقع ہیروشیما میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔
ہیروشیما میں اسے خاص مقام حاصل ہے اور یہاں باقی سب جگہوں کے مقابلے میں فی کس اکونومیاکی کے سب سے زیادہ یعنی دو ہزار ریستوران ہیں۔
اکونومیمورا جس کا مطلب ہے اکونومی گاؤں ہیروشیما کے وسط میں چار منزلہ عمارت کا نام ہے جس میں اکونومیاکی کے 25 ریستوران ہیں اور ہر ایک ریستوران کا اسے پکانے کا اپنا انداز ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسے پکانے کے مختلف انداز ہی اس کی مقبولیت کی وجہ ہیں۔ آپ سے مقامی طور پر پکڑی گئی کستورا مچھلی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔
اگر سبزی خور ہیں تو اسے سویابین سے بنے گوشت کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ یہاں سے کشتی پر دس منٹ کے سفر کے بعد میاجیما جزیرہ آتا ہے اور وہاں اکونومیاکی کو بام مچھلی کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔
اکونومیاکی میں جو دل چاہے ڈال سکتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ گھر پر بنانے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ گھر میں جو کچھ بھی بچا کھچا ہو اُسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہم ایک دن کسی دوست کے گھر گئے ہوئے تھے۔ اس دن اس کے والد تازہ سکوئڈ پکڑ کر لائے اور اس کی اکونومیاکی بنا لی۔
کنسائی اور ہیروشیما میں اس بات پر مقابلہ ہوتا رہتا ہے کہ کون سے خطے میں اسے بہتر بنایا جاتا ہے۔ دونوں طریقے ہی زبردست ہیں فرق صرف یہ ہے کہ کنسائی میں سب کچھ ایک ساتھ ملا دیا جاتا ہے جبکہ ہیروشیما میں اجزا کی پکاتے وقت تہیں لگائی جاتی ہیں۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ کنسائی میں بننے والی اکونومیاکی میں نوڈل نہیں ڈالے جاتے۔ اسی لیے ہیروشیما والے کہتے ہیں کہ کنسائی میں بننے والی ڈش ہلکی پھلکی کھانے کی چیز ہے۔
مختلف خطوں میں اسے پکانے کی مختلف ترکیبیں ضرور ہیں مگر ہیروشیما کے شہریوں کو اس ڈش پر بڑا فخر ہے۔ اس ڈش نے ایٹم بم گرنے کے بعد شہر والوں کے پیٹ بھرے۔
ہیروشیما میں یہ ڈش اپنی پہلی شکل میں دوسری جنگ عظیم سے پہلے نظر آئی۔ اس وقت اسے آسین یوشوکو کہا جاتا تھا یعنی مغربی دنیا میں ملنے والی ایک پینی کی ڈش۔
یہ بنیادی طور پر ایک پتلا سا پین کیک تھا جس پر ہرے پیاز اور سوکھی ہوئی مچلی کے ٹکڑے ہوتے تھے اور یہ بچوں میں بہت مقبول تھی۔
چھ اگست 1945 کو ہیروشیما پر جب ایٹم بم گرایا گیا تو ایک لمحے میں پورا شہر چل کر بھسم ہو گیا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد بچ جانے والوں کو کھانے کی قلت کا سامنا تھا۔
انھیں جو کچھ میسر ہوتا اس پر گزارا کرنا پڑتا تھا۔ کچھ افراد نے قوت اختراع کا استعمال کیا اور ملبے میں سے لوہے کے ٹکڑے نکال کر انھیں توے کے طور پر استعمال کیا اور ان پر آسین یوشوکو بنایا جو دوسری جنگ عظیم سے پہلے ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔ اس میں آٹا اور جو کچھ ان کے ہاتھ لگتا تھا ڈال کر کھانا بناتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے جیسے شہر کے تعمیر نو کے کام میں تیزی آئی ہر طرف سستے کھانوں کے کھوکھے کھلنے لگے جن میں آسین یوشوکو بکتا تھا۔
بہت سے ٹھیلے اندرون شہرشنٹینچی کے علاقے میں تھے جہاں آج اکونومیمورا کمپلکس موجود ہے۔ شروع میں جو اجزا بھی ملتے تھے جن میں بند گوبھی، انڈے، رامن یا سوبا نوڈل اور مقامی طور پر پکڑی گئی مچھلی شامل تھی ان سے آسین یوشوکو نامی ڈش بنتی تھی۔
یہ تعمیر نو کے دوران مقامی لوگوں کی بھوک مٹانے کا اچھا ذریعہ تھی۔
اس نئے طرز پر یعنی جو اجزاء ملیں اُن سے یہ ڈش بنانے کی ترکیب کی وجہ سے اس کا نام اکونومیاکی پڑا یعنی جو کچھ ملے اُسے گرل کریں۔ سنہ 1950 کے اواخر تک یہ ہر عمر اور طبقے میں مقبول ہوئی اور مقامی لوگوں کی ہمت کی علامت بنی۔
ہیروشیما میں میٹھی خوشبو والی اکونومیاکی چٹنی بنانے والی کمپنی اوٹافوکو کے شعبہ تعلقات عامہ کے افسر شیزوکا کوبارا کے مطابق ہیروشیما نے اکونومیاکی کے ساتھ ترقی کی۔ یہ شہریوں کی زندگی کا حصہ بنی اور ان کی پسندیدہ ڈش بھی۔ یہ ڈش ہیروشیما کے رہائشیوں کی روح ہے۔
اگر آپ کبھی ہیروشیما گئے ہوں تو آپ اکونومیاکی کی خوشبو سے ضرور واقف ہوں گے چاہے آپ نے اسے کھایا نہ بھی ہو۔
یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ اس شہر کی گلیوں سے گزرے ہوں اور اس کی بھینی سی خوشبو آپ کو خوش آمدید نہ کہے۔
اس کی ہلکی سی مہک بھی پریشانی دور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ہماری دوست یاسوکو جہاں بھی جاتی ہے اس کی چٹنی کی ایک بوتل اپنے ساتھ لے کر جاتی ہے تاکہ جب گھر کی یاد ستائے تو اسے استعمال کر کے تسلی ملے۔
اس جادوئی چٹنی میں کیا ڈلتا ہے؟ شیزوکا کوبارا کے مطابق اس میں کئی پھل اور سبزیاں پڑتی ہیں جن میں ٹماٹر، کھجور، پیاز اور سیب شامل ہیں اس کے علاوہ اس میں بیس اقسام کے مصالحے ڈالے جاتے ہیں۔
آج کل اتنے سارے ریستوران ہیں کہ ان کو صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
ہیروشیما میں اکونومیاکی کی مارکیٹ تیزی سے بدل رہی ہے اور ریستوران کے مالکان نت نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ غیر ملکی افراد کی توجہ حاصل کر سکیں اور اکونومیاکی کو ان تک پہنچائیں۔
سنہ 2008 میں اوٹافوکو نے ووڈ ایگ اکونومیاکی میوزیم کھولا تاکہ یہاں آنے والے ان کی فیکٹری اور میوزیم دیکھیں اور اکونومیاکی بنانا سیکھیں۔ سنہ 2018 میں کمپنی نے ہیروشیما سٹیشن کے ساتھ اکوسٹا اکونومی ایکسپیریئنس کے نام سے اکونومیاکی پکانا کی تربیت دینے والا ادارہ قائم کیا۔
ان کا نعرہ ہے کہ ایسی خوشی جس کی کوئی سرحد نہیں اور یہ ہر قومیت اور رنگ و نسل کے افراد کو اپنی مرضی کی اکونومیاکی ڈش بنانے کی تربیت دیتے ہیں۔
ابتدائی سال میں ہی دو لاکھ افراد یہاں آئے جس میں سے 20 فیصد غیر ملکی تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمارا پسندیدہ اکونومیاکی ریستوران ہیروشیما کے ہیساکا ڈسٹرکٹ میں ٹوکوگاوا ریستوران ہے۔ اس ریستوران میں کھانے کے علاوہ صرف اس کی عمارت دیکھنے کے لیے بھی جانا چاہیے۔
یہ لکڑی سے بنی ایک تاریخی عمارت ہے جو 140 سال پرانی ہے۔ جب اس کے چھوٹے سے باغیچے سے گزر کر دروازہ کھول کر اندر ہال میں داخل ہوں تو یوں لگتا ہے کہ اچانک پچھلی صدی میں قدم رکھا ہے۔
بیرا اجزا لے کر آپ کے پاس آتا ہے اور توے کو جلاتا ہے ، توا ہی آپ کی ٹیبل ہوتی ہے اور پھر آپ اس پر اپنا اکونومیاکی خود بناتے ہیں۔
اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو مدد کے لیے ایک بٹن لگا ہوتا ہے جسے دبانے پر ریستوران کے کارکنان فوری آپ کی مدد کے لیے آ جاتے ہیں۔
اگر آپ توے سے سیدھا اٹھا کر کھانا نہیں چاہتے تو چاپسٹکس اور پلیٹ مانگ لیں یا کانٹا اور چھری۔ آپ جس کا بھی انتخاب کریں اس طرح کھانا پکانا بہت ہی مزے کا چیلنج ہے۔
شیزوکا کوبارا کہتے ہیں کہ اس طرح میز کے گرد بیٹھ کر ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے ہوئے خوشی سے کھانا پکانا اور پھر اسے کھانا بہت ہی اچھا تجربہ ہوتا ہے۔
اکونومیاکی ریستوران اب بارسولونا سے لے کر برسبین تک ہر جگہ کھل رہے ہیں اور ہیروشیما کی علامتی ڈش اب سوشی، ٹوفو اور رامن کی طرح جاپان کی ایک اور پسندیدہ ڈش بن گئی ہے جو بیرون ملک بھی مقبول ہو رہی ہے۔
اگر آپ کو ہیروشیما آنے کا موقع ملے تو اصلی اکونومیاکی ضرور چکھیں اور اس میں جو اجزا ڈلوانا چاہیں ڈلوائیں اور یوں ہیروشیما کی اس خوش کر دینے والی ڈش کے دل بھر کر مزے لیں۔
یہ ضرور یاد رکھیں کہ آپ صرف یہ ڈش نہیں کھا رہے یہ ڈش اس شہر کی روح بھی ہے اور آپ اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔









