کورونا وائرس: ترکی کی وہ روایتی خوشبو جو ہینڈ سینیٹائزر کا کام دے رہی ہے

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, جینا سکاٹینا
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

امریکہ اور یورپ میں چونکہ تجارتی ہینڈ سینیٹائزر ختم ہو رہے ہیں ایسے میں ترکی میں لوگ روایتی خوشبو ’کولونیا‘ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جس نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ایک بالکل نئی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

کولونیا کا مطلب کولون ہے جسے سنگھاڑا بھی کہتے ہیں اور یہ سلطنت عثمانیہ کے زمانے سے ترک مہمان نوازی اور صحت کی ایک اہم علامت رہی ہے اور اسے اکثر ترکی کی قومی خوشبو کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

روایتی طور پر اس اچھی خوشبو والی مہک کو انجیر کے پھول، یاسمین، گلاب یا لیموں کے اجزا کے ساتھ ملا کر مہمانوں کے ہاتھوں پر گھروں، ہوٹلوں اور ہسپتالوں میں داخل ہوتے وقت چھڑکے جاتا تھا۔

جب وہ ریستورانوں میں کھانا کھا لیتے تو ان کا ہاتھ دھلوایا جاتے یا پھر دینی مجالس میں شرکت کرنے والوں پر ان کا چھڑکاؤ کیا جاتا۔

تاہم دیگر قدرتی خوشبوؤں کے برعکس یہ الکوحل کی زیادہ مقدار والا ایتھنول پر مبنی محلول 80 فیصد سے زیادہ جراثیم کا خاتمہ کر سکتا ہے اور ایک مؤثر جراثیم کش کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔

چنانچہ جب ترکی کے وزیر صحت نے 11 مارچ کو کولونیا کی وائرس سے لڑنے کی صلاحیت کا ذکر کیا تو انھوں نے نہ صرف کولون کی کووڈ-19 سے لڑنے کی طاقتوں کے بارے میں بتایا بلکہ میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور دکانوں پر اس کے لیے 100 میٹر لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتوپاکلی نے یہ بھی بتایا کہ کمرشل جراثیم کش ہینڈ سینیٹائزرز ترکی میں اتنے عام نہیں ہیں جتنے کہ دوسرے ممالک میں ہیں

در حقیقت مارچ کے وسط میں جب ترکی میں پہلے کورونا وائرس کے معاملے کی تصدیق ہوئی تھی اس کے بعد سے کولونیا بنانے والے والے بڑے تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کی فروخت میں کم از کم پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

استنبول کی ایک فیملی فیزیشین ڈاکٹر حطیرہ توپاکلی کا کہنا ہے کہ ’کولونیا کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کرنے میں اس لیے مؤثر ہے کیونکہ اس میں کم از کم 60 فیصد الکوحل ہوتا ہے جو کہ وائرس کی سخت شیل کو توڑ دیتا ہے۔‘انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کولونیا سے بننے والی مصنوعات میں 80 فیصد تک الکوحل ہوتا ہے۔

توپاکلی نے یہ بھی بتایا کہ کمرشل جراثیم کش ہینڈ سینیٹائزرز ترکی میں اتنے عام نہیں ہیں جتنے کہ دوسرے ممالک میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ اضافی طور پر اس لیے بھی موثر ہے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جو بہت سے لوگوں کے پاس ہے اور وہ روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور انھیں اس وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا کوئی نیا طریقہ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

کورونا
کورونا

اس خوشبو کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے 13 مارچ کو ترکی کی حکومت نے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے کولونیا اور دیگر گھریلو جراثیم کش مصنوعات کی پیداوار میں اضافے کے لیے پیٹرول کو درکار ایتھنول کی فراہمی بند کر دی۔

ترکی کے سب سے قدیم اور مشہور کمرشل کولونیا برانڈز میں سے ایٹلیئر روبل بنانے والی کمپنی رُبل ہولڈنگز کے چیف ایگزیکٹو افسر کیریم مدثروغلو کا کہنا ہے کہ کولونیا کی پیداوار آسان ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسے خالص ایتھنول خمیر شدہ جو، انگور، گڑ یا آلو سے بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی ڈسٹلڈ واٹر کے ساتھ آمیزش کی جاتی ہے۔

’اس کے بعد اس میں میگنولیا یعنی چمپا، لیموں یا روزمیری کی قدرتی خوشبو شامل کی جاتی ہے اور بوتل بند کرنے سے پہلے تین ہفتوں تک اسے تیار ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘

مہمان نوازی اور اچھی صحت کی علامت کی پرانی روایت کے ساتھ کولونیا عملی طور پر جراثیم کش سے زیادہ ثابت ہوئی ہے اور یہ اس غیر یقینی صورتحال کے وقت میں بہت سارے ترک دوستوں کے لیے راحت کا باعث ہے۔

میں نے استنبول میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے قیام کے دوران بے شمار ریستورانوں، دکانوں اور گھروں میں اسے اپنی ہتھیلی پر ملا ہے۔ اور اب جبکہ بہت سے لوگ خود ساختہ تنہائی میں اسے اپنے ہاتھوں پر لگاتے ہیں تو اس سے پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور رفاقت کا ایک احساس بیدار ہوتا ہے۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب عثمانی سلطان عبد الحمید کا پہلی بار اس سے سابقہ پڑا تو انھوں نے غیر ملکی شراب پر مبنی خوشبو کے ساتھ اپنے روایتی گلاب کے پانی کو ملا دیا جس سے کولونیا تیار ہو گیا

کولونیا سے بہت پہلے گلاب کا پانی ہوتا تھا۔ نویں صدی کے آغاز سے جزیرہ نما عرب کی مختلف ثقافتوں نے گلاب کی پنکھڑیوں سے بنی مصنوعات کا اس سے پیدا ہونے والی خوشبو کے ساتھ ساتھ کھانے کو خوشبودار بنانے، خوبصورتی میں نکھار لانے، مذہبی مواقعوں کو معطر بنانے اور ادویہ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ فارس کے لوگ، مصری اور عثمانیوں نے بھی اس کو خود کو پاک و صاف کرنے اور مہمانوں کے استقبال کے لیے استعمال کیا۔

19 ویں صدی تک ییو ڈی کولون (قدرتی طور پر خوشبو فراہم کرنے والی ایک خوشبو جسے آج 'کولون' کہا جاتا ہے) نے جرمنی کے شہر کولون سے تجارتی راستوں کے ذریعے سلطنت عثمانیہ تک اپنا راستہ بنایا۔

جب عثمانی سلطان عبد الحمید کا پہلی بار اس سے سابقہ پڑا تو انھوں نے غیر ملکی شراب پر مبنی خوشبو کے ساتھ اپنے روایتی گلاب کے پانی کو ملا دیا جس سے کولونیا تیار ہو گیا۔

اجزا کے لحاظ سے ییو ڈی کولون اور ترکی کے کولونیا میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں تقریباً ایک ہی مقدار میں ایتھنول اور ضروری تیل کا متناسب استعمال ہوتا ہے اور ان میں اکثر نارنجی اور لیموں جیسے ترش اجزا شامل ہوتے ہیں۔ تاہم کولونیا کو جو چیز ممتاز بناتی ہے وہ اس کا عملی اور روایتی استعمال ہے۔

20 ویں صدی کے اوائل میں کولونیا کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اور اس کا سہرا اختراع پسند کیمیا دانوں کے سر جاتا ہے۔

ایک نوجوان فرانسیسی کیمسٹ ژاں سیزر ریبول نے سنہ 1895 میں استنبول میں ترکی کی پہلی فارمیسی (دواخانہ) قائم کی اور ان کی نگرانی میں (کریم کے دادا) کمال مدثروغلو نے ایٹالیر ریبول میں ترکی کی سب سے مشہور کولونیا ڈسٹلر قائم کی۔

آج بھی ایٹالیر ریبول اپنے مخصوص ریبول لوینڈر فروخت کرتا ہے جو اصل میں ریبول کے باغ میں اگائے گئے لیوینڈر کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ کریم کا اندازہ ہے کہ وبائی امراض شروع ہونے کے بعد سے ان کی کولونیا کی فروخت میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

کریم نے وضاحت کی کہ یہ ایک اینٹی سیپٹک ہے جس میں ایک خوبصورتی کی خوشبو کا مفید اضافہ کیا گیا ہے۔‘

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہAtelier Rebul

،تصویر کا کیپشنبحیرہ اسود کے قریب برادریوں نے تمباکو آمیز کولونیا تیار کیا اور دوسری جگہوں پر انجیر کے پھول، پستے، یاسمین اور میگنولیا سے کولونیا بنایا گیا

دریں اثنا ازمیر شہر کے ’بحر ایجیئن کے ساحل پر سلطنت عثمانیہ کے سب سے کم عمر کیمسٹ سلیمان فیرت بے نے سنہ 1920 کی دہائی میں فرانسیسی خوشبو بنانے کی تکنیک سیکھنے کے لیے فرانس کے شہر گریس کا سفر کیا اور وہاں سے واپسی پر انھوں نے ’گولڈن ڈراپ‘ نامی ایک مشہور کولونیا تیار کیا جو ازمیر کی علامت بن گیا۔

تقریباً اسی دوران انقرہ میں ایوبب صبری تنجر نامی ایک تاجر نے ساحلی قصبے سیزمے سے لیموں کا استعمال کرتے ہوئے کولونیا تیار کی جو آج ترکی بھر میں سب سے جانا پہنچانا کولونیا ہے۔ اور اس نام کا برانڈ ابھی تک ملک کا سب سے بڑا بننے والا برانڈ ہے۔

استنبول میں مقیم ایک ٹور گائیڈ الزابیتھ کروملو کا کہنا ہے کہ چھوٹے شہروں نے کولونیا کو اپنانا شروع کیا اور اس میں اپنے منفرد اجزا اور ذوق کے ساتھ ردوبدل کرنا شروع کیا اور اسپرٹا نے شیریں گلاب کی خوشبو والا کولونیا تیار کیا۔

بحیرہ اسود کے قریب برادریوں نے تمباکو آمیز کولونیا تیار کیا اور دوسری جگہوں پر انجیر کے پھول، پستے، یاسمین اور میگنولیا سے کولونیا بنایا گیا۔

مختلف قسم کی شراب کے ناموں کی طرح کولونیا کے نام بھی ان کے مالکان کے خاندان پر رکھے گئے تاکہ اس سے ان کے مرتبے میں اضافہ ظاہر ہو۔

کروملو کے مطابق کسی کنبے کے نام پر موجود کولونیا برانڈ فخر اور حیثیت کی علامت بن گیا۔ اس کے اظہار کے لیے کولونیا کی بوتلیں اکثر استنبول میں شیشے کی فیکٹری میں منفرد انداز میں ڈیزائن کی گئیں۔

آج ایسی ہی کچھ آرائشی بوتلیں نوادرات میں شامل ہیں اور انھیں زخیرہ کیا جاتا ہے۔ عثمانی دور کی نایاب بوتلیں 5000 ترکی لیرا (لگ بھگ 600 ڈالر) میں فروخت ہوتی ہیں۔ استنبول میں موجود گیلری بیرزامنلر میں اورلینڈو کارلو کالامینو کلیکشن اور آرکائیو نے ان بوتلوں کی ایک نمائش لگائی تھی۔

20 ویں صدی کے وسط تک عوام کے لیے کولونیا کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا جانے لکگا اور آج یہ ترکی کے ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہGaleri Birzamanlar Orlando Carlo Calumeno Collecti

،تصویر کا کیپشن20 ویں صدی کے وسط تک عوام کے لیے کولونیا کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا جانے لکگا اور آج یہ ترکی کے ہر گھر میں پایا جاتا ہے

کریملو نے کہا کہ 'کسی گھر میں کولونیا کا ہونا اتنا ہی عام ہے جیسے فریج میں کھانے کا ہونا۔ عام طور پر لوگ بیڈ روم، باتھ روم اور لونگ روم میں اس کی ایک ایک بوتل رکھتے ہیں لہذا یہ کبھی بھی ان کی پہنچ سے باہر نہیں ہوتا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'یہ کم عمری میں مہمان نوازی کی تعلیم دینے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گیا۔ جب میں بچہ تھا تو میرا فرض تھا کہ مہمان کو خوش آمدید کہوں اور اس بات کو یقینی بناؤں کہ ان کے پاس ترک روایت کی تین چیزیں: کولونیا، کینڈی اور سگریٹ ہوں۔'

کولونیا ہمیشہ سے ہی بڑے اجتماعات کا ایک اہم جز رہا ہے اور یہ رمضان جیسی مذہبی تعطیلات کے زمانے میں بہت مروج رہا ہے۔ ڈاکٹر توپاکلی نے کہا: 'عام طور پر بہت سے لوگ جگہ جگہ سے اکٹھے ہو رہے ہوتے ہیں تو لوگ کولونیا کو خیرمقدم کے تحفے کے طور پر استعمال کرتے ہیں بلکہ ہر ایک کو صحتمند رکھنے کے لیے بھی اس کا استعمال کر تے ہیں۔۔۔ 'اپنے مہمانوں کی صحت کا خیال بھی مہمان نوازی کی ایک قسم ہے۔'

ترکی میں سیاحوں کو ممکنہ طور پر اپنے ہوٹل، اور اعلیٰ و عمدہ ریستورانوں کے باتھ رومز میں کولونیا کی بوتل کا سامنا ہوا ہوگا یا انھیں طویل بس کے سفر کے اختتام پر انھیں پیش کیا گیا ہوگا۔

اس کی حفظان صحت کی خصوصیات کے علاوہ کولونیا کو صحت کے دیگر فوائد کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شوگر کیوب پر اس کے چند قطرے چھڑکنے سے ہاضمے میں مدد ملتی ہے اور یہ کنپٹیوں پر ملنے سے سر درد کو دور کرتا ہے۔

کریملو کا کہنا ہے کہ 'جب بھی ہم ہسپتال میں کسی مریضوں سے ملنے جاتے ہیں تو ہم ان کے لیے کولونیا یا سنترے کا ایک بیگ لے جاتے۔'

کورونا وائرس سے پہلے بھی کولونیا کی صنعت ترقی پر تھی۔ روایتی طور پر یہ خوشبو کیمسٹوں، گروسری سٹوروں اور دکانوں پر فروخت ہوتی ہیں لیکن پچھلی دہائی میں ترکی کے اعلیٰ برانڈز نے اپنی بوتیک کھولنی شروع کیں۔

ایٹیلیئر ریبول نے سنہ 2013 میں اپنی پہلی دکان کھولی تھی اور اب اس کی ترکی میں 22 دکانیں ہیں۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہnejdetduzen/Getty Images

انھوں نے یورپ، مشرق وسطی میں تقسیم کرنے اور پچھلے سال ایک جاپانی دوا ساز کمپنی کے ساتھ شراکت میں بین الاقوامی سطح پر اپنے کاروبار کو پھیلانا بھی شروع کردیا ہے۔

کریم کا کہنا ہے کہ وہ کووڈ۔19 کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک نئی فیکٹری کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’آپ کو ترکی سے باہر شاید ہی کولونیا ملے گا لیکن شاید اب اس میں جلد ہی تبدیلی آ سکتی ہے۔‘

جدید بوٹیکس کے علاوہ کولونیا ابھی بھی پورے ترکی میں وسیع پیمانے پر دستیاب ہے لیکن جب اس کی مانگ زیادہ ہے اور فراہم کرنے والوں پر اس کے لیے دباؤ ہے ایسی صورت میں لوگ اس کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے نئے نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔

کروملو نے وضاحت کی ہے کہ کولونیا کی بنیاد ایتھنول ہے اور لوگ اس کا استعمال روایتی گھریلو چیری لیکر بنانے کے لیے بھی کرتے ہیں لہٰذا ان کے پاس اس کی ایک بوتل ہوتی ہے۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہAtelier Rebul

انھوں نے کہا: ’کورونا وائرس کے پیش نظر کچھ لوگ اسے معمول کی چیری شراب بنانے کے بجائے اپنا کولونیا بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ سب ایک دوسرے کو فون کر رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ کے گھر میں وافر کولونیا ہے؟‘

استنبول میں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ دوسرے لوگوں کی طرح میری زندگی بھی اس وقت اپنے اپارٹمنٹ تک ہی محدود ہے۔ گھر میں قیام کے حکم کے نفاذ کے ساتھ تقریباً روزانہ نئے قسم کی پابندیاں عائد ہونے کے دوران میں اپنی چار دیواروں سے باہر کی یادوں میں بھٹکتا رہتا ہوں۔

اس نئی حقیقت کے دوران میرے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ کولونیا کی سب سے طاقت ور خصوصیات میں صرف جراثیم کو مارنا ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس کی خوشبو کے ایک ایک جھونکے کے ساتھ ایک نئی یاد روشن ہوتی ہے۔

لیوینڈر کولونیا مجھے گذشتہ موسم گرما میں قریبی دوستوں کے ساتھ اسپرٹا کے لیوینڈر کے کھیتوں میں لے جاتی ہے۔ میرے ذہن میں باسفورس پر دھویں سے بھری میہانے سرائے میں رات کے کھانے کے بعد دیر رات کا منظر ابھرتا ہے۔

سینیٹائزر

،تصویر کا ذریعہAtelier Rebul

،تصویر کا کیپشنہوسکتا ہے کہ میں یہاں پردیسی ہوں لیکن کولونیا جلدی ہی میری روز مرہ اور معاشرتی زندگی کا حصہ بن گیا

ہوسکتا ہے کہ میں یہاں پردیسی ہوں لیکن کولونیا جلدی ہی میری روز مرہ اور معاشرتی زندگی کا حصہ بن گیا۔

اب ہر بار جب میں اس کا استعمال کرتا ہوں، جو دن میں بہت بار ہی کرتا ہوں، تو اس کی یادداشت کو ابھارنے والی صلاحیت یا جذبہ یا پھر خیالی پلاؤ پکانے کی صلاحیت تنہائی میں میری پریشانی کو کم کرتی ہے اور مجھے اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہم سب جلد ہی نئی یادیں بُن رہے ہوں گے۔