کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگ کیا ذخیرہ کر رہے ہیں؟

مغربی امریکہ میں جہاں لوگوں کو خود کو تنہائی میں رکھنے کے لیے کہا جا رہا ہے وہاں بھی لوگوں نے بنیادی ضرورت کی اشیا کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمغربی امریکہ میں جہاں لوگوں کو خود کو تنہائی میں رکھنے کے لیے کہا جا رہا ہے وہاں بھی لوگوں نے بنیادی ضرورت کی اشیا کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے

دنیا کے تقریباً 190 سے زیادہ ممالک میں اب تک ساتتینچار لاکھ سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اور اب جب وائرس دنیا بھر میں اپنی جگہ بنا چکا ہے تو وبا نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ سیلف آئسولیشن یا خود ساختہ تنہائی کے پیشِ نظر بڑی تعداد میں چیزیں خرید رہے ہیں۔

مگر خریدار آخر کن چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں اور کون کون سی مصنوعات کی پہلے ہی قلت پیدا ہوچکی ہے، ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

چہرے کے ماسک

کئی ممالک میں چہرے کے ماسکس کی قلت پیدا ہوگئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکئی ممالک میں ماسک کی قلت پیدا ہوگئی ہے

بھلے ہی یہ محدود تحفظ فراہم کرتے ہیں مگر وبا کی شروعات سے ہی ماسکس کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور یہ میڈیکل سٹورز، دکانوں اور یہاں تک کہ ایمازون پر بھی ختم ہوچکے ہیں۔

ماسک تیار کرنے والی ایک برازیلی کمپنی کے سی ای او میگوئیل لوئز گریچینو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’لوگ ماسکس کے پیچھے ایسے جا رہے ہیں جیسے یہ سونا ہوں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے طلب پوری کرنے کے لیے پیداوار دگنی کردی ہے۔

کورونا بینر
لائن

اس معمولی سے طبی سامان کی اس وقت اتنی طلب ہے کہ کئی ممالک کو یہ یقینی بنانا پڑ رہا ہے کہ طبی عملے کے لیے ماسک باقی بچ جائیں جو زیادہ خطرے کی زد میں ہیں کیونکہ انھیں کورونا متاثرین کا علاج کرنا ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ طبی عملے کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے تقریباً آٹھ کروڑ 90 لاکھ ماسکس، سات کروڑ 60 لاکھ طبی دستانوں اور 16 لاکھ گوگلز کی ضرورت پڑے گی۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے خبردار کیا ہے کہ ’قلت کی وجہ سے ڈاکٹر، نرسیں اور صفِ اول کے دیگر طبی اہلکار خطرناک حد تک بے سر و سامان رہ جائیں گے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی عملے کے لیے آٹھ کروڑ 90 لاکھ ماسک درکار ہوں گے تاکہ وہ وبا کا مقابلہ کر سکیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی عملے کے لیے آٹھ کروڑ 90 لاکھ ماسک درکار ہوں گے تاکہ وہ وبا کا مقابلہ کر سکیں

جنوبی کوریا جہاں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے، وہاں حکومت نے کہا کہ اس نے ماسکس کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے، پیداوار کو بڑھا دیا ہے اور ایک ہفتے میں فی شخص صرف دو ماسکس خریدنے کی اجازت ہوگی۔

صدر مون جے اِن نے ماسکس کی قلت پر معذرت کی ہے اور فیکٹریوں کو بتا دیا ہے کہ حکومت انھیں ایک اہم شے کے طور پر ذخیرہ کرے گی تاکہ کمپنیاں اضافی پیداوار کی فکر کیے بغیر پیداوار میں اضافہ کرتی جائیں۔

تھائی لینڈ میں بھی ماسکس کی قلت پر عوام میں غم و غصہ پایا گیا، جس کے بعد حکومت نے یہ پتا لگانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں کہ کہیں ماسک غیر قانونی طور پر برآمد یا مارکیٹ میں بلیک میں تو فروخت نہیں کیے جا رہے۔

فرانسیسی صدر عمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت چہرے کے ماسکس کے تمام سٹاک خریدے گی اور انھیں طبی عملے اور وائرس سے متاثرہ افراد میں تقسیم کرے گی۔

ہینڈ سینیٹائزر

وائرس کی روک تھام کے لیے ہینڈ سینیٹائزرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوائرس کی روک تھام کے لیے ہینڈ سینیٹائزرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے

فرانس میں ماسکس اور ہینڈ سینیٹائزرز کی قیمتوں میں دو گنا اور تین گنا تک اضافہ ہوچکا ہے اور حکومت اس ابھرتی ہوئی بلیک مارکیٹ سے لڑنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

فرانس کے تحفظِ صارفین کے ادارے نے قیمتوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے اور وزیرِ خزانہ نے ٹوئٹر پر خبردار کیا ہے کہ ’اگر بڑی تعداد میں قیمتوں کا استحصال کیا گیا تو وہ حکمنامے کے ذریعے ماسکس اور سینیٹائزرز کی قیمتیں منضبط کریں گے۔‘

پاکستان میں حکومت نے دکانداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دواؤں اور حفاظتی سامان کی بڑھتی طلب کے باعث ناجائز منافع خوری سے باز رہیں۔

ایران کے وزیرِ صحت سعید نمکی نے کہا ہے کہ چند کاروباری ذخیرہ اندوزی کر کے انتہائی بلند قیمت پر چیزیں فروخت کر رہے ہیں۔

اور روس کے بزنس امور سے متعلق اخبار ویدوموستی کے مطابق ہینڈ جیل، صابن اور گیلے ٹشوز کی طلب میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

ٹوائلٹ رولز

ٹوائلٹ پیپر خریدنے کی دوڑ میں لوگوں نے مارکیٹس خالی کر دی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنٹوائلٹ پیپر خریدنے کی دوڑ میں لوگوں نے مارکیٹس خالی کر دی ہیں

خود ساختہ تنہائی، گھر سے کام کرنے اور سکول کی کلاسیں منسوخ ہونے جیسے اقدامات کے عام ہونے پر لوگ ٹوائلٹ پیپر جیسی بنیادی اشیا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

سنگاپور، جاپان اور ہانگ کانگ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں تو ہیں ہی لیکن وہاں اب ٹوائلٹ پیپر کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

آسٹریلیا میں سپرمارکیٹس لمحوں کے اندر خالی ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے ایک سپرمارکیٹ چین نے فی گاہک چار پیکٹ کی حد عائد کر دی ہے۔

ٹوائلٹ پیپر وہ واحد آئٹم نہیں ہے جو سٹورز کے شیلفس سے غائب ہو رہا ہے، بلکہ بچوں کے وائپس، ڈائپرز اور طویل عرصے تک چلنے والے دودھ کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

روز مرّہ کی اشیا

برطانیہ میں خوراک کی کمی نہیں ہے لیکن انھیں اپنے گھر ڈیلیور کروانا مشکل ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں خوراک کی کمی نہیں ہے لیکن انھیں اپنے گھر ڈیلیور کروانا مشکل ہو رہا ہے

گذشتہ سال برطانیہ میں 45 فیصد صارفین نے کہا کہ انھوں نے کھانا آن لائن خریدا اور سپرمارکیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں خریداری کی جا رہی ہے۔

کھانوں کی ڈیلیوری کو کئی دن ایڈوانس میں بُک کرنا پڑ رہا ہے مگر سٹورز کا کہنا ہے کہ جہاں ڈیلیوری کے اوقات اب کم ہوچکے ہیں مگر خوراک کی کمی نہیں ہے۔

جینیرک دوائیں

دنیا کی 20 فیصد جینیرک دوائیں انڈیا برآمد کرتا ہے اور اس کے لیے یہ چین سے درآمد شدہ کیمیکلز پر منحصر ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندنیا کی 20 فیصد جینیرک دوائیں انڈیا برآمد کرتا ہے اور اس کے لیے یہ چین سے درآمد شدہ کیمیکلز پر منحصر ہے

کچھ خریداروں کو یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ وہ نسخوں کے مطابق اپنی دوائیں پیشگی خرید لیں کیونکہ دواؤں کی رسد عالمی طور پر متاثر ہونے کی وجہ جینیرک دواؤں کی دنیا بھر میں دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

دنیا کی جینیرک دواؤں کا 20 فیصد انڈیا برآمد کرتا ہے مگر اب اس نے 20 دواؤں بشمول پیراسیٹامول کی برآمد محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ انڈیا ان دواؤں کی تیاری کے تقریباً دو تہائی کیمیکلز کے حصول کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔

مگر انڈین حکومت نے لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین ماہ کے لیے ذخائر موجود ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق دواؤں کی قلت پر کینیا اور نائیجیریا میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

کینیا کے اخبار ڈیلی نیشن کے مطابق انڈیا کے اعلان کے بعد دواؤں کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔

نائیجیریا کے ڈیلی ٹرسٹ اخبار نے کہا ہے کہ انڈیا کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں دواؤں کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔