کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ضلع نوشکی میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی

    صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی کی انتظامیہ نے تاحکم ثانی تبلیغی جماعت کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نوشکی نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے ہدایت جاری کی ہے کہ کوئی بھی تبلیغی جماعت مسجد کے اندر یا اس کے باہر اجتماع منعقد نہیں کر سکتی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق اگر کوئی تبلیغی جماعت نوشکی کی کسی مسجد میں موجود ہے تو وہ تاحکم ثانی اسی مسجد کے اندر ہی رہے گی اور کسی قسم کا اجتماع منعقد نہیں کرے گی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نوشکی

    ،تصویر کا ذریعہOffice Deputy Commissioner Noshki

  2. خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 37 نئے متاثرین، ایک ہلاکت

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے 37 نئے متاثرین سامنے آنے کے صوبے میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 311 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایک نئی ہلاکت کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد نو ہو چکی ہے۔

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق نئے متاثرین میں سے 17 کا تعلق پشاور، پانچ کا لوئر دیر، دو کا اپر دیر اور چھ کا کوہاٹ سے ہے جبکہ ایبٹ آباد، بونیر، ہنگو، کرک، مانسہرہ، نوشہرہ اور صوابی میں ایک، ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    30 مریض وائرس سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. شہری گھروں میں نماز جمعہ ادا کریں: محکمہ اوقاف

    محکمہ اوقاف نے ملک میں کورونا کی صورتحال کے پیش نظر نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے لیے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔

    ایڈوائزری کے مطابق مساجد میں صرف تین سے پانچ افراد باجماعت نمازیں اور نماز جمعہ کی ادائیگی کر سکیں گے جبکہ شہریوں کو اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAuqaf Department

  4. سندھ: جمعہ کو دوپہر 12 سے 3 بجے تک تمام سرگرمیوں پر پابندی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ داخلہ سندھ نے وبائی امراض ایکٹ کے تحت صوبے بھر میں پابندیوں کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت جمعہ (کل) کے روز تمام کاروبار اور عوامی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق جمعے کے روز دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک ہر قسم کی کاروباری اور عوامی سرگرمی پر مکمل پابندی ہو گی۔

    مساجد میں تین سے پانچ افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے جبکہ دیگر تمام افراد گھروں پر نماز ادا کریں گے۔

    نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہو گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران نماز جنازہ اور تدفین کے لیے علاقہ ایس ایچ او کو آگاہ کرنا ہو گا جبکہ اس موقع پر بھی شرکا کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہوں گی۔ تجہیز و تکفین میں صرف خاندان کے افراد شریک ہوں گے۔

    سندھ میں تمام انٹر سٹی، انٹرا سٹی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت مکمل ممنوع ہو گی۔ کلب، ہوٹل، الیکٹرانکس مارکیٹ، مزارات، سینما گھر، تفریحی مقامات اور شورومز بدستور 14اپریل تک بند رہیں گے۔

  5. سندھ میں صحت یاب ہونے والے متاثرین کی تعداد 65

    صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ نو مزید متاثرین کی صحت یابی کی تصدیق کی ہے۔

    اس طرح صوبہ سندھ میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے متاثرین کی مجموعی تعداد 65 ہو گئی ہے۔

    صحت یاب ہونے والوں میں سات افراد کا تعلق کراچی جبکہ دو کا سکھر قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین سے ہے۔ مجموعی طور پر اب تک کورونا سے متاثرہ 25 افراد سکھر میں، 39 کراچی میں جبکہ ایک حیدرآباد سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

  6. اسلام آباد: مشہور سیاحتی مقامات سنسان

    وفاقی دارالحکومت کے مشہور سیاحتی مقامات جو عام دنوں میں سیاحوں سے بھرے ہوتے تھے کورونا وبا کے باعث آج کل بالکل سنسان ہیں۔

    زیر نظر تصاویر فیصل مسجد، دربار بری امام اور لیک ویو پارک کی ہیں۔

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بری امام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فیصل مسجد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لیک ویو پوائنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. بریکنگ, کراچی میں ایک اور ہلاکت کی تصدیق, سندھ میں اموات کی تعداد 11

    صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک اور مریض کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

    صوبائی وزیر کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والا 86 سالہ شخص بذریعہ سماجی رابطہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد یکم اپریل کو ہسپتال میں داخل ہوا۔

    وزیر صحت کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور انھیں بلند فشار خون جیسے مسائل کا بھی سامنا تھا۔

  8. بریکنگ, سندھ میں 20 نئے مریض، پاکستان میں تعداد 2391 ہو گئی, 33 ہلاکتیں، 107 صحت یاب

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے آج صوبے بھر میں کورونا کے 20 نئے متاثرین سامنے آنے کی تصدیق کی ہے جس کے بعد سندھ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 761 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد بھی نو سے بڑھ کر دس ہو گئی ہے۔

    وزیر صحت کے مطابق آج کراچی میں 12 جبکہ سکھر میں آٹھ نیے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاڑکانہ قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین میں سے سات افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    سندھ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 336، حیدرآباد میں 137، سکھر میں 273، شہید بینظیرآباد میں چھ، لاڑکانہ میں سات، جبکہ دادو اور جیکب آباد میں متاثرین کی تعداد ایک، ایک ہے۔

    سندھ میں اب تک 7,504 افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے جبکہ صوبے میں مقامی طور پر وائرس منتقلی کے کیسز کی تعداد 416 ہے۔

    وائرس کے باعث کراچی میں نو جبکہ حیدرآباد میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ اب تک 56 متاثرین صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    ملک کے دیگر صوبوں میں متاثرین کی تعداد کچھ یوں ہے:

    پنجاب: 922

    خیبرپختونخوا: 276

    بلوچستان: 169

    گلگت بلتستان: 192

    اسلام آباد: 62

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: 9

  9. مرنے والوں کے لیے ’شہید یا جاں بحق‘ کا لفظ استعمال کیا جائے

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے مرنے ہونے والے افراد کے لیے شہید یا جاں بحق کا لفظ استعمال کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ میں قریبی رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت ہونی چاہیے اور تدفین کرتے ہوئے احترام انسانیت کا خیال رکھا جائے۔

    وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کل نماز جمعہ گھروں میں ہی ادا کی جائے۔

    ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کو اپنانا لازمی ہے مگر ایسا کرتے ہوئے خوف اور ڈر کا ماحول نہ بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وبا کے اس دور میں حکومت کو مساجد کو کمیونٹی سینٹرز قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

  10. ’ڈریپ نے کورونا تشخیصی کِٹ کی منظوری دے دی‘

    کٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تیار کردہ کورونا وائرس کی تشخیصی کٹ کی منظوری پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دے دی ہے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق جمعہ (کل) سے ان کٹس کا ٹرائل شروع ہو جائے گا، یونیورسٹی حکومت کو ڈیڑھ لاکھ کٹس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ وہ کام ہیں جو کسی یونیورسٹی سے امید کیے جا سکتے ہیں، سپرے ڈرونز، خودکار گاڑیاں، سینیٹائزرز، ٹیسٹنگ کٹ، وینٹیلیٹرز اور وائرس کی ساخت پر تحقیق کا کام۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کام مکمل کر کے متعلقہ اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں اور امید ہے کہ قانونی اور سرکاری معاملات جلد مکمل ہوں گے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان انجینیئرنگ کونسل کے تیار کردہ وینٹیلیٹرز کے دو ڈیزائن آج ڈریپ کو بھیج دیے جائیں گے جبکہ ان کی وزارت کی جانب سے تیار کردہ وینٹیلیٹرز تین سے چار دن میں ہسپتالوں کو فراہم کر دیے جائیں گے۔

  11. بلوچستان: یونیورسٹیاں 31 مئی تک بند رہیں گی

    حکومت بلوچستان نے کورونا کی وبا کے پیشِ نظر صوبہ بھر میں تمام یونیورسٹیوں کو 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر طلبا کے لیے آن لائن کلاسوں کا سلسلہ شروع کریں۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGovernor Secretariat Baluchistan

  12. وبا پر کیسے قابو پایا جائے؟ عوام سے ’آئیڈیاز‘ طلب

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اگر ان کے پاس کورونا کی وبا پر قابو پانے اور اس کے حل کے حوالے سے نئے قابل عمل اور نئے آئیڈیاز ہیں تو وہ حکومت کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔

    معاونِ خصوصی کے مطابق یہ آئیڈیاز 12 اپریل تک nicpakistan.pk/hackathon ویب سائٹ پر بھیجے جا سکتے ہیں جبکہ موصول ہونے والے آئیڈیاز کی چھان بین کے بعد منتخت شدہ آئیڈیاز کا اعلان 15 اپریل کو کر دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ منتخب شدہ آئیڈیاز کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس شعبے کے ماہر افراد کو آئیڈیا پیش کرنے والے سے بات چیت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

    اگر کسی منتخب شدہ آئیڈیا پر عملدرآمد کے لیے ٹیکنالوجی یا معاشی مدد کی ضرورت ہوئی تو وہ حکومت فراہم کرے گی۔

  13. پنجاب: میونسپل اداروں کو عارضی ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لیے جانے والے اقدامات کے تحت حکومتِ پنجاب نے صوبے کی تمام میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیوں اور ٹاؤن کمیٹیوں کو عارضی بنیادوں پر صفائی کا عملہ بھرتی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    تاہم تمام کارپوریشنز اور کمیٹیاں اس عملے کو صرف 30 روز کے لیے روزانہ اجرت کی بنیاد پر بھرتی کر سکیں گی اور اس حوالے سے ہونے والے اخراجات بشمول عارضی عملے کی تنخواہیں کارپوریشنز اور کمیٹیوں کو ہی ادا کرنے ہوں گے۔

    صفائی کے اس عملے میں صرف سینیٹری ورکر اور گٹر صاف کرنے والے اہلکار شامل ہیں۔

    اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن زیادہ سے زیادہ 150 افراد کو صرف 30 ایام کے لیے بھرتی کر سکے گی، میونسپل کارپوریشن 120، میونسپل کمیٹی 100 جبکہ ٹاؤن کمیٹی زیادہ سے زیادہ 50 افراد پر مشتمل صفائی کے عملے کو بھرتی کر سکے گی۔

    نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں میونسپل ادارے اس وبا سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم عملے کی کمی کے باعث انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔

  14. ’ٹائیگرز فورس‘ میں تین لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں: وزیر اعظم آفس

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ’ریلیف ٹائیگرز فورس‘ میں لگ بھگ تین لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں۔

    اس فورس کے قیام کا اعلان حال ہی میں وزیر اعظم نے قوم سے کیے گئے اپنے ایک خطاب میں کیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس فورس کا مقصد ملک میں کورونا کا پھیلاؤ روکنا اور متاثرین کی مدد کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی عثمان ڈار نے آج (جمعرات) اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا ہے۔

    معاونِ خصوصی کے مطابق محض 48 گھنٹوں میں تین لاکھ نوجوان اس فورس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس فورس کے لیے رجسٹریشن کا عمل 10 اپریل تک جاری رہے گا۔

    اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان مشکل حالات میں نوجوانوں کا یہ جذبہ نہایت حوصلہ افزا اور لائق تحسین ہے۔

  15. چین سے حفاظتی سامان اسلام آباد پہنچ گیا، این ڈی ایم اے

    نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا ہے کہ آج صبح ایک بوئنگ 777 طیارہ چین سے 14 ٹن سامان لے کر پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

    سامان میں 100 تھرمل سکینر، تقریباً نو لاکھ ماسک، 60 ہزار حفاظتی عینکیں، اور 3300 سے زائد حفاظتی سوٹ شامل ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, گلگت بلتستان میں مزید ایک ہلاکت، متاثرین 192 ہو گئے, پاکستان میں کل متاثرین 2365، ہلاکتیں 33

    گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق علاقے میں اب مریضوں کی تعداد 192 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 300 سے زائد لوگوں کے نتائج کا انتظار ہے۔

    ترجمان کے مطابق جمعرات کو مزید ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے جس کے بعد گلگت بلتستان میں ہلاک شدگان کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمعرات ہی کے روز مزید دو مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔

  17. ’فصل کھڑی ہے کاٹنے والا کوئی نہیں‘

  18. بلوچستان: طبی، امدادی کارکن لاک ڈاؤن سے مستثنی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بریکنگ, پنجاب میں مریض 900 سے بڑھ گئے، پاکستان میں تعداد 2360 ہو گئی, 31 ہلاکتیں، 107 صحت یاب

    کووڈ

    سندھ، اسلام آباد، بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعد جمعرات کو پنجاب میں بھی کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آئے ہیں اور ملک میں 119 نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2360 تک پہنچ گئی ہے۔

    جمعرات کی صبح جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 69، اسلام آباد میں آٹھ، بلوچستان میں پانچ جبکہ کشمیر میں تین نئے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔

    پنجاب 914 مریضوں کے ساتھ اب بھی ملک کا سب سے متاثرہ صوبہ ہے اور ان میں سے 199 مریض دارالحکومت لاہور میں ہیں۔

    قرنطینہ میں موجود افراد میں سے 213 ڈیرہ غازی خان، 91 ملتان، 142 رائیونڈ جبکہ پانچ فیصل آباد میں رکھے گئے ہیں۔

    گجرات میں مریضوں کی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے جبکہ راولپنڈی میں 53، جہلم میں 28، گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤالدین میں 14، 14، ننکانہ صاحب میں 13، سرگودھا میں 10، فیصل آباد میں نو، ڈیرہ غازی خان اور حافظ آباد میں پانچ، پانچ، میانوالی، بہاولنگر، رحیم یار خان میں تین، تین، نارروال، ملتان، وہاڑی، لودھراں میں دو، دو اور سیالکوٹ، قصور، اٹک، خوشاب، بہاولپور اور لیہ میں ایک ایک مریض ہے۔

    جمعرات کو ہونے والے اضافے کے بعد اسلام آباد میں اب 62، بلوچستان میں 169 جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو متاثرین موجود ہیں۔

    اس سے قبل سندھ میں بھی جمعرات کو 34 نئے مریض سامنے آئے تھے جس کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 743 تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں کراچی سب سے متاثرہ شہر ہے جہاں تین سو سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔

    اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 276، گلگت بلتستان میں اب تک 184افراد میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    ہلاکتوں کی بات کی جائے تو ملک میں اب تک اس وائرس سے 31 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پنجاب میں اب تک 11 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سندھ میں نو، خیبر پختونخوا میں آٹھ، گلگت بلتستان میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

    صحت یاب

    پاکستان میں جیسے جیسے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں وہیں اس بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور جمعرات کی صبح تک 107 مریض صحت یاب ہو چکے تھے۔

    صحت یاب ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد سندھ سے ہے جہاں 58 افراد اب تک شفایاب ہوئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 19، بلوچستان میں 17، پنجاب میں چھ، گلگت بلتستان میں چار جبکہ اسلام آباد میں تین مریضوں میں اب یہ بیماری موجود نہیں۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters