کورونا وائرس: کیا آپ کو اب بھی سینیٹائزر دستیاب نہیں ہیں؟ جانیے ایسا کیوں ہے

Two women try to buy sanitiser in a shop in Milan
    • مصنف, سٹیفنی ہیگارٹی
    • عہدہ, بی بی سی

ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے ہاتھ دھوئیں اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں لیکن کووڈ -19 کے پھیلنے کے کئی ماہ بعد بھی بہت سے لوگ سینیٹائزر کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پوری دنیا میں دکانوں کے شیلف خالی ہیں، آن لائن بھی کم ہی دستیاب ہیں اور جو فروخت کنندہ ہیں وہ بھی من مانی قیمت مانگ رہے ہیں تو کیا دنیا کو عالمی سطح پر سینیٹائزر کی کمی کا سامنا ہے؟

اگر دنیا میں ہر ایک کے پاس سینیٹائزر کی ایک چھوٹی بوتل ہو تو ہمیں 3850 لاکھ لیٹر سینیٹائزر کی ضرورت ہوگی۔

ایریزٹن ایڈوائزری اینڈ انٹلیجنس کے تجزیہ کاروں کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے قبل دنیا میں صرف تین لاکھ لیٹر سینیٹائزر ہی تیار کیے جاتے تھے اور وہ بھی صرف ذاتی استعمال کے لیے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عملے ہی کو مہینے بھر میں 29 لاکھ لیٹر سینیٹائزر چاہیے۔

سینیٹائزر کی نئی فیکٹریاں

برطانیہ کے تیسرے امیر ترین شخص نے کہا ہے کہ وہ جرمنی میں ہینڈ سینییٹائزر کی تیاری کا ایک کارخانہ لگا رہے ہیں جبکہ اس کے علاوہ وہ ایک کارخانہ برطانیہ میں لگائیں گے اور این ایچ ایس کو مفت فراہم کریں گے۔

ایبسولیوٹ ووڈکا بنانے والی مشروبات کی کمپنی پرنوڈ ریکارڈ اور جانی واکر وھسکی بنانے والی ڈیاگو جیسی کمپنیاں سینیٹائزر بنا رہی ہیں اور وہ اسے دنیا بھر میں پھیلے صحت کے نظام کو فراہم کرا رہی ہیں۔

لگژری برانڈ ایل وی ایم ایچ اپنے پرفیوم یعنی عطر بنانے والی یونٹ کو اسی کام پر ڈال رہی ہے۔

A man shares hand sanitiser with a woman at a wedding service in Cambodia

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندنیا میں اب ہر قسم کی تقریبات میں بھی سینیٹائزر ایک لازمی چیز بن گئی ہے

یہاں صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ سینیٹائزر بنانے والی کمپنیاں مانگ کو پورا نہیں کر سکتیں بلکہ یہ بات بھی ہے کیونکہ ان کے پاس وہ چیز یعنی الکوحل دستیاب نہیں جو مذکورہ کمپنیوں کے پاس ہیں اور جو سینیٹائزر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

ایمیزون پر الکوحل پر مبنی عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ سینیٹائزر کی تلاش کریں تو آپ پائیں گے کہ تمام اچھے برانڈز فروخت ہو چکے ہیں۔

کچھ ہی دن پہلے برطانیہ میں صرف ایک دکاندار کے پاس کچھ سٹاک دستیاب تھا۔ ایک 500 ملی لیٹر کی بوتل کی قیمت 30 پاؤنڈ رکھی گئی تھی جو کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے اس کی دس گنا کم قیمت میں دستیاب تھی۔

کورونا بینر
لائن

قیمتوں کا تعین

اس قسم کے فروخت کنندگان پر الزام لگانا آسان ہے اور بہت سارے لوگوں نے ایسا ہی کیا ہے تاہم اسے فروخت کرنے والی کمپنی ہرٹس ٹولز کا کہنا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

کمپنی سے رابطہ کرنے پر ایک دوستانہ مزاج کے شخص نے فون پر کہا: 'ہم لوگوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ بہت سے ایسے لوگ ہییں جو کہتے ہیں کہ ہم منافع لے رہے ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں۔'

واضح طور پر یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اس نے اس طرح کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔

یہ کمپنی عام طور پر تعمیراتی صنعت کے لیے سامان فروخت کرتی تھیں اور انھیں کرایے پر دیتی تھیں اور وہ اب صرف سینیٹائزر فروخت کر رہی ہے کیونکہ صارفین اس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم اس پوزیشن میں ہیں جہاں ہم خود کو زندہ رکھنے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر سے کافی منافع کما رہے ہیں۔'

Police spray hand sanitiser on the hands of passers-by on a street in South Africa

،تصویر کا ذریعہMARCO LONGARI

،تصویر کا کیپشنسینیٹائزر کی طلب اب طبی اداروں اور عملے تک محدود نہیں رہی ہے

لیکن انھیں سینیٹائزر کا سٹاک حاصل کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے جبکہ اس کی قیمت ہر دن بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اس بات کی بھی ضمانت نہیں دے سکتے کہ آج اس کے لیے جو قیمت چکائی ہے کل بھی اس قیمت میں وہ ملیں گے۔'

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بنیادی جزو یعنی الکوحل کی قیمت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

ہرٹس ٹولز جو سینیٹائزر فروخت کررہا ہے اسے زیڈاک لیبارٹریز نام کی ایک کمپنی تیار کرتی ہے۔ یہ کمپنی برطانیہ کی ہے اور وہ جلد کی دیکھ بھال والی دوسری مصنوعات بناتی ہیں۔

A gin distiller using his facilities to make hand sanitiser

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنہینڈ واش کے موثر ہونے کے لیے اس میں کم از کم 70 فیصد ایتھنول ہونا چاہیے

زیڈاک کمپنی ایک دن میں ہیںڈ سینیٹائزر کی ڈیڑھ لاکھ بوتلیں تیار کر سکتی ہے لیکن اس کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔ کمپنی کو ایتھنول نہیں مل رہا ہے جو الکوحل کا ایک جزو ہے اور ہینڈ واش کے موثر ہونے کے لیے اس میں کم از کم 70 فیصد ایتھنول ہونا چاہیے۔

وہ سپلائی کرنے والوں کے نیٹ ورک سے اپنا ایتھنول حاصل کر تی ہے ایک ٹن ایتھنول کے لیے اسے تقریبا آٹھ سو امریکی ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں اور اس سے 32 ہزار بوتلیں تیار ہوتی ہیں۔ رواں ہفتے انھیں دگنی قیمت پر یہ چیزیں دستیاب ہونے والی ہیں لیکن انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ بھیجی جاتی بھی ہیں یا نہیں

دس گنا قیمت

پچھلے ہفتے ایک نئے سپلائر نے اس کمپنی کو ایک ٹن ایتھنول کے لیے دس ہزار پاؤنڈ کی رقم بتائی تھی جو کہ عام قیمت سے دس گنا زیادہ ہے۔ اس کمپنی نے شائستگی سے انکار کر دیا۔

ویسبارتھ پورے یورپ اور مشرق وسطی کی فارمیسیوں کو سامان فراہم کرتے ہیں۔ اب ان کے گاہک سٹاک کے لیے اس قدر بےچین ہیں کہ وہ ان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انھیں ایتھنول فراہم کرانے میں بھی مدد کریں۔

بی بی سی نے برطانیہ میں سینیٹائزر میں استعمال ہونے والی شراب کے کئی ڈسٹری بیوٹرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ایک خاتون جس نے فون کا جواب دیا وہ تقریباً رونے والی تھی کیونکہ جس کمپنی کے لیے وہ کام کرتی ہیں وہ سٹاک کی کمی کی وجہ سے بند ہو رہی تھی۔

مانگ سے مغلوب

دوسرے اتنے مصروف تھے اور ان کا عملہ اتنا مغلوب تھا کہ وہ بات نہیں کرسکتے تھے۔ ایک ویب سائٹ نے کہا کہ آرڈرز کی درخواستیں ایک دن میں 300 سے بڑھ کر 6000 سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ کوئی بھی نئے آرڈرز نہیں لے رہا ہے۔

سپلائی بڑھانا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ہسپتالوں، کیئر ہومز اور دوسرے ضروری کاروبار کو اس سامان کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ان میں سے زیادہ تر سینیٹائزر ایتھنول یا آئسوپروپائل الکوحل سے بنائے جاتے ہیں اور انھیں آئی پی اے بھی کہا جاتا ہے۔

وائرس کو مارنے کے لیے سینیٹائزر میں کم از کم 70 فیصد الکوحل کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو صنعتی پیمانے پر اس قسم کا الکوحل تیار کرتی ہیں۔

اس کے سب سے بڑے پیداوار ممالک میں چین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور امریکہ سر فہرست ہیں لیکن جن ممالک کے پاس اپنی پیداوار یا کھیپ اور فراہمی نہیں ہے انھیں اس چیز کو حاصل کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

فرانس میں حکومت نے ملک میں بننے والی تمام آئی پی اے مصنوعات کو ملک میں ہی رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد دوسرے ممالک بھی بہ آسانی اس کی پیروی کرسکتے ہیں۔

نیدرلینڈز میں کیمیائی مادے فراہم کرانے والی کمپنی ڈچ 2 کے اسٹیون ویلکس کا کہنا ہے کہ 'یورپ میں جہاں ہم سب کو ایک رہنا چاہیے وہاں یہ بہت ہی انتہا پسندانہ قدم ہے۔'

Close up of a man applying hand sanitiser

،تصویر کا ذریعہKOEN VAN WEEL

،تصویر کا کیپشنزیادہ تر سینیٹائزر ایتھنول یا آئسوپروپائل الکوحل سے بنائے جاتے ہیں اور انھیں آئی پی اے بھی کہا جاتا ہے

ان کا خیال ہے کہ کوئی بھی ملک جس کے پاس اس قسم کے الکوحل کی اپنی فراہمی نہیں ہے وہاں بہت جلد سینیٹائزر ختم ہو سکتے ہیں اور اسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آخر لندن سے نیویارک اور نیویارک سے منیلا تک تمام شراب کشید کرنے والی کمپنیاں شراب کے لیے حاصل شدہ ایتھنول کو سینیٹائزر میں کیوں استعمال کر رہی ہیں۔

ہندوستانی حکومت نے الکوحل پر مبنی مشروبات بنانے والی صنعت کو واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سینیٹائزر بنانے والی کمپنیوں کو ایتھنول فراہم کرے۔

امریکہ میں چپپا ویلی ایتھنول کمپنی کے چاڈ فریس کا کہنا ہے کہ وہاں کافی مقدار میں الکوحل موجود ہے اور وہ اس کا مختلف صنعتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

'دیگر وعدے'

ان کی فیکٹری ابھی اپنی پوری صلاحیت پر کام کر رہی ہے وہ جہاں تک ممکن ہے زیادہ سے زیادہ ایتھنول سینیٹائزر انڈسٹری کو بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے اپنے بھی وعدے ہیں۔

انھوں نے کہا: ' میرے خیال سے پیداوار تو بہت ہے لیکن وہ ابھی صحیح چینلز میں نہیں جا رہی ہے۔ کسی الکوحل پیدا کرنے والے نے ڈیاگو جیسی کمپنی سے عہد کر رکھا ہے اور اسی کے لیے الکوحل تیار کر رہی ہے اس لیے وہ اسی کو الکوحل بھیج رہی ہے نہ کہ ان کمپنیوں کو جو کہ ہینڈ سینیٹائزر بنا رہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: 'یہاں بات صرف اتنی ہے کہ صحیح آدمی کے پاس اس کی کھیپ پہنچنی چاہیے۔