دنیا کا سب سے صاف آب و ہوا والا شہر

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہAnna Filipova

جب بھی میں سانس لیتا ہوں، میرے آس پاس کی ہوا برف کے مہین ذرات جیسی دھول سے ٹکرا جاتی ہے۔

اس پہاڑ کے دامن میں جو بنیادی طور پر قطبِ شمالی (آرکٹک) میں ایک صحرا کے وسط میں ہے، ہوا ٹھنڈی ہے لیکن اس کا ماحول نہایت صاف ہے۔ بہت خشک اور منجمد ہوا ہمارے منہ اور ناک سے خارج ہونے والی نمی کو چھوٹے اور چمکدار برف کے ذرات میں بدل دیتی ہے۔

میں ناروے میں زپیلین فیل چوٹی ( 556 میٹر اونچا پہاڑ) کے بالکل نیچے کھڑا ہوں، جو بحیرہِ آرکٹک میں جزیرہ نما سوالبارڈ کے سپٹسبرجن میں جزیرہ نما برگرہلویا پر واقعہ ہے۔

جبکہ اسی پہاڑ کے دامن میں نیو آل سُند نامی چھوٹا خطہ ہے جہاں ایک چھوٹی سی بستی ہے جس کی آبادی سردیوں میں 45 اور گرمیوں میں 150 افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔

یہ دنیا کے شمال میں ایک مستقل بستی ہے جو قطب شمالی سے تقریباً 765 میل (1231 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ جگہ ایک پہاڑ کے درمیان کے ناقابل یقین حد تک خوبصورت جگہ ہے اور شاید دنیا میں سانس لینے کے لیے بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

یہ آرکٹک میں آلودگی سے بہت دور ایک مقام ہے جہاں کی ہوا دنیا کی صاف ترین فضاؤں میں سے ایک ہے۔

اس بستی کے زیادہ تر باشندے سائنسدان ہیں جو یہاں تحقیقی مقصد کے لیے آتے ہیں۔ سنہ 1989 میں ایک تحقیقی سہولت، زپیلین آبزرویٹری، 472 میٹر کی بلندی پر زپیلین کے اطراف میں بنائی گئی تھی تاکہ محققین کو ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی میں مدد مل سکے۔

حال ہی میں زپیلین آبزرویٹری موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کی سطح کی پیمائش کے لیے ایک اہم جگہ بن گئی ہے۔

لیکن ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس علاقے میں ہوا کا معیار بدل رہا ہے۔

ماحولیاتی ہوائیں کبھی کبھار یورپ اور شمالی امریکہ سے ہوا کو سوالبارڈ کے اس حصے میں لاتی ہیں اور ان علاقوں کی آلودگی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔

محققین نے کچھ آلودگیوں کی سطح میں اضافہ دیکھا ہے، اور ہوا میں آلودگی کی نئی اقسام کے آثار بھی نظر آئے ہیں، جس نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہ Anna Filipova

زپیلین آبزرویٹری اور نارویجن انسٹی ٹیوٹ فار ایئر ریسرچ کے سینئر سائنس دان اوو ہرمنسن کہتے ہیں، ’زیپلین آبزرویٹری ایک دور دراز مقام پر واقع ہے جو آلودگی کے اہم ذرائع سے بہت دور ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک اچھی جگہ ہے۔‘

نیو اولسن میں یہ تحقیقی مرکز ماحول پر انسانی اثرات کا نقشہ بنانے کی بین الاقوامی کوشش کا ایک اہم حصہ ہے۔

ہرمنسن بتاتے ہیں کہ پیمائش سے ’آلودگی کی بنیاد کی نشاندہی کرنے اور وقت کے ساتھ ساتھ عالمی رجحان کا حساب لگانے‘ میں مدد ملے گی۔

ہفتے میں پانچ دن، نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ کا ایک ملازم کیبل کار کے ذریعے آبزرویٹری پر چڑھتا ہے اور دیکھ بھال کرتا ہے، ہوا کے نمونے لیتا ہے اور آلات کے فلٹر تبدیل کرتا ہے۔

دور دراز اور ایک بلند مقام پر واقع زپیلین آبزرویٹری ایسا مرکز ہے جو شہر میں پیدا ہونے والی مقامی آلودگی کی تھوڑی سی مقدار کو جذب کر سکتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر، زمین کے ماحول میں کیا ہو رہا ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے یہ ایک بہترین جگہ ہے۔

آبزرویٹری کے سینسرز گرین ہاؤس گیسوں اور کلورین شدہ گیسوں جیسے سی ایف سی، ہوا میں بھاری دھاتیں، آرگن فاسفیٹ آلودگی، جیسے کیڑے مار ادویات اور عام طور پر جلایا جانے والا ایندھن جیسے نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور پارٹکیولیٹ مادے جیسے جلنے سے وابستہ آلودگیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔

اس کے بعد جمع کردہ ڈیٹا کو دیگر مقامات پر سٹیشنوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کی طرف سے کی گئی پیمائش میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ فضا میں موجود گیسوں، ایروسولز، اور ذرات کا عالمی ’منظرنامہ‘ بنایا جا سکے، جس سے آلودگی کی پیمائش کا معیار بنتا ہے۔ ہرمنسن دو دہائیوں سے زپیلین آبزرویٹری میں کام کر رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس آبزرویٹری میں بہت سے چیزوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ماحول میں موجود زہریلے مادے اپنے حیاتیاتی اثرات اور آرکٹک کی ماحولیاتی حیثیت کی وجہ سے دلچسپی کے حامل ہیں۔

گرین ہاؤس گیسوں اور ایروسول کی پیمائش خاص طور پر عالمی تناظر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر ان کے اثرات کی وجہ سے اہم ہے۔ لیکن زپیلین آبزرویٹری فضا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں ابتدائی انتباہات بھی فراہم کر سکتی ہے۔

حال ہی میں، محققین نے آرکٹک کے دور دراز علاقوں میں برف کے نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی سطح کا مشاہدہ کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شاید یہ اس جگہ ہوا کے ذریعے منتقل ہوئے ہوں۔ مثال کے طور پر، زپیلین کے ارد گرد ہوا میں میتھین کی سطح سنہ 2005 کے لگ بھگ کی سطح سے بڑھی اور سنہ 2019 میں بے مثال مقدار تک پہنچ گئی۔

اب یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے میتھین کے اخراج کی سطح گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کی کوششوں کو خطرہ بنائے گی۔

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہ Anna Filipova

سنہ 2011 میں فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حادثے کے دس دن بعد پلانٹ کے فِشن ری ایکٹر سے تیار کردہ تابکار آئسوٹوپس زپیلین کی فضا میں پائے گئے۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ تابکار ذرات صرف چند دنوں میں ہزاروں میل کی دوری پر پہنچ گئے۔

مثال کے طور پر جیسے ہی ماحول میں کاربن کے ذرات کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں اس فصا میں کیمیائی عمل شروع ہوجاتا ہے جو ان ذرات کو زیادہ فعال بناتا ہے اور فضا زیادہ زہریلی ہوتی ہے۔ روس کے جزیرہ نما خطے کولا میں صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے مخلتف دھاتوں، مثلاً نِکل، تانبہ، زنک، اور کوبلٹ کے عناصر کی فضا میں مقدار میں اضافہ نظر آتا ہے۔

انھوں نے ایسے ’ماضی میں اخراج شدہ‘ ذرات کے انتہائی زیادہ مقدار کی نشاندہی بھی کی ہے، جو یورپ اور ایشیا سے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث یہاں پہنچے ہیں۔

لیکن یہ ہمیشہ بری خبر نہیں ہوتی۔ انہوں نے سیسہ اور پارے جیسی بھاری دھاتوں کی سطح میں بھی کمی دیکھی ہے، جس کی بڑی وجہ فضلہ اور صنعت کو جلانے کے قوانین کو سخت کرنا اور ان کا نفاذ کو موثر کرنا ہے۔

آرگن فاسفیٹ کیڑے مار ادویات کے استعمال کو کم کرنے کی کوششیں - جو کھیتوں پر چھڑکنے پر ہوا میں داخل ہوسکتی ہیں - نے آرکٹک کے آس پاس کی فضا میں پائے جانے والے ان کیمیکلز کی مقدار میں بھی بتدریج کمی نظر آئی ہے۔

ابھی حال ہی میں، محققین نے آرکٹک کے دور دراز علاقوں میں برف کے نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی سطح کو دیکھا ہے، جس سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ شاید انہیں وہاں سے ہوا کے ذریعے منتقل کیا گیا ہو۔ اس نے زپیلین کے محققین کو مائیکرو پلاسٹکس کے لیے ماحول اور وہاں گرنے والی برف کی نگرانی کرنے کی قیادت کی ہے۔

ناروے کے انسٹی ٹیوٹ فار ایئر ریسرچ کے ایک سینئر محقق ڈورٹے ہرزکے کہتے ہیں، ’بہت چھوٹے مائیکرو پلاسٹک کے ذرات ہوا کے ذریعے کافی فاصلہ طے کر سکتے ہیں، جیسا کہ دوسرے ذرات کو ہم پہلے ہی زیپلین میں ماپتے ہیں۔‘’مائیکرو پلاسٹک کے لیے جو چیز مختلف ہے وہ یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر انسان کے بنائے ہوئے ہیں، بہت پائیدار پولیمر پر مشتمل ہیں اور ان میں کیمیکلز کا ایک وسیع مرکب ہوتا ہے، جن میں سے بہت سے زہریلے ہیں۔ یہ وہاں پہنچ کر ممکنہ طور پر نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہ Anna Filipova

اگرچہ پھر بھی دنیا کے دوسرے حصوں سے یہ آلودگی کی مداخلت کبھی کبھار آرکٹک کے اس کونے میں ہوا کو داغدار کرنے کے لیے آتی ہے، لیکن یہ اب بھی انسانوں کی فضا میں چھوڑنے والی بدترین آلودگی سے بہت دور ہے۔

ہوا کے ساتھ دوسری جگہیں بھی ہیں جو صاف ستھرا ہوسکتی ہیں - سنہ 2020 میں محققین نے آسٹریلیا کے جنوب میں جنوبی سمندر کے اوپر ہوا کی ایک انتہائی قدیم تہہ دریافت کی۔ تاہم، نیو آل سُند ان چند ایسی جگہوں میں سے ایک ہے جہاں لوگ حقیقت میں جا سکتے ہیں اور ایک وقت کے لیے رہ بھی سکتے ہیں، چاہے موجودہ رسائی بنیادی طور پر تحقیقات کرنے والے سائنسدانوں تک ہی محدود ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے اتنا صاف نہیں تھا۔ سنہ 1916 اور سنہ 1962 کے درمیان، یہ کوئلے کی کان کنی کا شہر تھا، یہاں ایک دھماکے میں 21 کان کن ہلاک ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں قصبے کو خالی کر دیا گیا اور کان کو بند کر دیا گیا تھا۔ تب سے یہ علاقہ ایک ایسی جگہ میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں کوئلے کے بجائے ماحول سے ماحول کا ڈیٹا نکالا جاتا ہے۔

نیو آل سُند بیس کے ریسرچ ایڈوائزر، ہانی کیرِن ٹالن، جو کہ کنگز بے اے ایس نامی ناروے کی وزارت آب و ہوا اور ماحولیات کی ملکیت والی کمپنی چلاتی ہے، کہتی ہیں کہ ’سنہ 1960 کی دہائی سے جب بارودی سرنگیں استعمال کرنے کا سلسلہ بند ہوا، صفائی کا کام باقاعدگی سے کیا جاتا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے اب بھی کان کنی کے علاقے اور شہر دونوں میں کچھ آلودگی باقی ہے۔‘

نیو آل سُند کی یہ کمپنی پوری بستی کو بجلی سپلائی کرتی ہے، اس نے 2019 - 2022 کے عرصے میں زمین میں آلودگی کا نقشہ بنانے کے لیے ماحولیاتی سروے کیے ہیں تاکہ اس کی حد کو آشکار کیا جا سکے اور صفائی کے مزید اقدامات کی بنیاد کے طور پر تمام کوڑا کرکٹ، فضلہ اور آلودہ مٹی مین لینڈ ناروے پر منظور شدہ جگہوں پر منتقل کی جا سکے۔‘

لیکن جب نیو آل سُند میں کام کرنے والے اپنا زیادہ وقت یہ دیکھنے میں صرف کرتے ہیں کہ ان کے سر کے اوپر ہوا میں کیا ہے، قصبے میں زمین پر زندگی غیر معمولی ہے۔ یہاں کے باشندے فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، ناروے، جاپان، جنوبی کوریا اور چین سمیت دنیا بھر سے آتے ہیں۔

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہ Anna Filipova

سوالبارڈ کے ائیرپورٹ، لانگیئربائین، سے اس قصبے کے لیے صرف ہفتہ وار دو پروازیں اڑتی ہیں، جو پورے جسم کو بے انتہا جھٹکے دینے والے پنکھوں سے چلنے والے طیاروں پر مشتنل ہوتی ہیں۔

یہ قصبہ تقریباً 30 کیبن نما عمارتوں پر مشتمل ہے جن کا نام بڑے عالمی شہری مراکز کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مثلاً چند ایک نام ایسے ہیں: ایمسٹرڈیم، لندن، میکسیکو، اٹلی۔ وہ ہلچل سے بھرے ہجوم سے دور اس جگہ پر سفارتی تعلقات کی ضرورت کی یاد دہانی کا کام بھی کرتے ہیں۔

تاہم، کنیکٹی ویٹی کی دوسری شکلیں فوری طور پر کم دستیاب ہیں - تمام موبائل فونز اور وائی فائی کو آف کرنا ضروری ہے۔ یہ قصبہ ایک ریڈیو فری زون ہے جس کی کوشش ہے کہ اس علاقے میں ہوائی لہروں کو ہر ممکن حد تک پرسکون رکھا جائے، اور ان محققین کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے جو ریڈیو ٹرانسمیشن کا استعمال کرنے والے کسی بھی آلے کو چلانا چاہتے ہیں۔

صاف آسمان اور ریڈیو فری ماحول سے فائدہ اٹھانے والوں میں نارویجن میپنگ اتھارٹی بھی شامل ہے، جس نے زمین کی حرکات اور کشش ثقل کے میدان کی نگرانی میں مدد کے لیے وہاں 20 میٹر سائز کی ریڈیو آبزرویٹری بنائی ہے۔

شدید طوفان اکثر قصبے کے کیبن کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، اور رات کے وقت ہوا ان کے مکینوں کی گرمی ان طوفانوں سے ضائع ہو جاتی ہے۔ قصبے کے دورے کے دوران، زیادہ تر وہاں کی شاموں کو میں اپنے تمام باہر کے کپڑے - مہم جیکٹ، ٹراؤزر، بیس لیئر اور درمیانی تہہ، کمبل کے ساتھ پہنتا تھا - یہاں تک کہ جب کیبن کے اندر بھی ہوتا تھا تب بھی اسی طرح محفوظ رہتا تھا۔

انتہائی موسم ان تمام لوگوں کے لیے خطرہ ہے جو یہاں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ درجہ حرارت اکثر انجماد سے نیچے رہتا ہے اور سردیوں میں اب تک کا سب سے زیادہ سردی منفی 37.2 سیلسیس ریکارڈ کی گئی۔ اس سال مارچ میں - میرے اپنے نیو آل سُند کے دورے کے دوران - درجہ حرارت 5.5 سیلسی پر اس مہینے کے لیے ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پچھلا ریکارڈ سنہ 1976 سے 5.0 سیلسیس پر تھا۔

میں اس سائنس سٹیشن پر سال کے سخت ترین وقت، تاریک قطبی رات کے موسم میں تھا، جب مہینوں تک 24 گھنٹے اندھیرا ہوتا ہے۔

گھومنے پھرنے کا مطلب ہیڈ ٹارچ اور بجلی کا استعمال تھا۔ ایک نوجوان اطالوی پی ایچ ڈی کی طالبہ جس سے میں ملا تھا وہ اس تاریک ماحول میں جہاں صرف 2-3 میٹر دیکھا نہیں جا سکتا ہے اور وہ اس مرئیت کے ساتھ چہل قدمی کرتی تھی، اُسے تیز ہواؤں اور برف کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاکہ وہ کچھ آلات پر فلٹر تبدیل کر سکے۔

لیکن یہ اندھیرا شہر کے اوپر آسمان پر جِن بھوت کی طرح حرکت کرنے والی ناردرن لائٹس کے شاندار نظارے بھی پیش کرتا ہے۔

صاف آب و ہوا والا شہر

،تصویر کا ذریعہRoger Goodwin/Alamy

سال کے اس وقت باہر نکلنے والے محققین کے لیے اندھیرے اور سردی کے علاوہ اور بھی خطرات ہیں۔ سوالبارڈ قطبی ریچھ کا قدرتی مسکن ہے اور یہاں تک کہ اس ریچھ کو بستی کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہاں کی کمیونٹی کا ایک اصول ہے کہ بستی کے اندر ریچھ کے ظاہر ہونے اور پناہ کی فوری ضرورت ہونے کی صورت میں کوئی بھی عمارت کے دروازے کو بند نہیں کر سکتا۔

نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ کے لیے زیپلین آبزرویٹری میں کام کرنے والے محققین میں سے ایک کرسٹیل گیسنن کہتی ہیں کہ ’آپ کو قطبی ریچھوں کے ارد گرد رہنے کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسی میں کام کرنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہے۔ ریچھ دریا کا پیچھا کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ اکثر نیو آل سُند کی بستی اور زیبلین آبزرویٹری کے درمیان سڑک پر جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم آبزرویٹری پر ہوتے ہیں اور ایک قطبی ریچھ وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ پھر ہم ریچھ کے آنے تک انتظار کرتے ہیں اور پھر اس کے وہاں سے چلے جانے کا انتظاہر کرتے ہیں۔‘

ساڑھے چار بجے کے بعد، کام کے دن کے اختتام پر، چھوٹی کمیونٹی گھروں کے اندر سمٹ جاتی ہے۔ فوری مواصلات اور موبائل رابطے سے محروم ہونے کا مطلب ہے کہ کسی بھی سماجی رابطے کے لیے پہلے دن کیے گئے انتظامات پر انحصار کرنا۔

قصبے کی کینٹین واحد جگہ ہے جہاں لوگ دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے اوقات میں کھل کر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، ناردرن لائٹس اور جنگلی حیات کے بارے میں کہانیوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ان میں سے بہت سی کہانیاں مشترکہ طور پر اس دور دراز آرکٹک ماحولیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی گواہی دیتی ہیں۔ لیف آریلڈ ہاجم، جس نے نیو آل سُند میں نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ کے انجینئر کے طور پر کئی سال کام کیا ہے، نے مجھے بتایا کہ وہ سنہ 1984 سے اس علاقے میں ہیں اور ارد گرد کے منظر نامے میں ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔

’اس وقت بستی کے ساتھ والی پہاڑی کے جانب والی کھاڑی کو منجمد کر دیا گیا تھا، آپ سنو موبائل پر بیٹھ کر جا سکتے تھے لیکن سال 2006/7 سے اب اسے منجمد نہیں کیا گیا۔ یہ بستی بہت سے گلیشیئرز سے گھری ہوئی ہے جو سب زیادہ تر درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے اب سکڑتے جا رہے ہیں۔‘ نیو آل سُند میں نارویجن پولر انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ رُون جنسن نے کچھ افسوس کے ساتھ مزید کہا کہ لیکن جیسا کہ گلیشیئر آخری بار پیچھے ہٹ گیا ہے، سنہ 1980 کی دہائی میں نیو آل سُند کے قریب بلامسترینڈہملین کے نام سے جانا جانے والا ایک علاقہ اب بھی ایک جزیرہ نما سمجھا جاتا تھا۔ دہائی یا اس سے زیادہ پہلے، یہ سرزمین سے کٹ کر ایک جزیرہ بن گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آج ہم کئی علاقوں میں گرم آرکٹک کے اثرات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، گرم بحر اوقیانوس کے پانی کی بڑھتی ہوئی آمد جو کہ نیو آل سُند کے بالکل باہر پہاڑی کھاڑی میں پورے ماحولیاتی نظام کو بدل دیتی ہے۔ یہ قطبی ریچھوں کو بھی متاثر کرتی ہے، جو اپنی خوراک کو تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ اب ہم قطبی ریچھوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھ رہے ہیں جو سمندری پرندوں کے گھونسلوں سے انڈوں کی تلاش کرتے ہیں اور زمین سے سیلیں پکڑ رہے ہیں۔‘

آسمان اور زمین کی تزئین میں نیو آل سُند کے باشندے ہماری بدلتی ہوئی دنیا کی خصوصیات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی کے لیے، وہ اب بھی اس علم کے ساتھ کہ وہ جس ہوا میں گہری سانس لے رہے ہیں وہ ایک نادر اور قیمتی ماحول ہے۔