آکٹوپس کی پُراسرار داخلی زندگی

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, مارتھا ہینریکس
- عہدہ, بی بی سی فیچر
آکٹوپس گتھی سلجھانے والے، شرارتی اور فرار شناس ہوتے ہیں۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت سرگرم زندگی چل رہی ہوتی ہے۔ تو پھر آکٹوپس ہونے کا احساس کیسا ہے؟
’اِنکی‘ کے لیے یہ ایک بڑی رات تھی۔ (اِنکی نیوزی لینڈ کے ایک چڑیا گھر کا آکٹوپس ہے جو اپنے شیشے کے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔)
اسے دن کے اوقات میں دیکھنے کے لیے آنے والے اب جا چکے تھے اور اب ایکویریم میں اس کا کمرہ ویران تھا۔ ایک غیر معمولی بھول سے اس کے ٹینک کا ڈھکن نیم کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔
نیوزی لینڈ کا عام آکٹوپس کچھ عرصے سے مادہ آکٹوپس کی صحبت سے محروم تھا۔ اُس کے ساتھ صرف ایک نر آکٹوپس تھا، جس کا نام بلوٹچی تھا۔ دونوں ایک ہی ٹینک میں رہتے تھے۔ نیم کھلے ڈھکن نے 'انکی' کو فرار ہونے کا موقع فراہم کیا۔
آٹھ مضبوط چوسنے والے اعضا اور، ممکنہ طور پر، اپنے ذہن میں کئی معاملات پر غور کرتے ہوئے، انکی ایکویریم کے ڈھیلے ڈھکن کے نیچے سے خود کو پانی سے باہر نکال کر فرش پر آگرا۔
وہ تقریباً 13 فٹ (4 میٹر) دور تک بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تو اُسے کوئی اور چیز ملی، یہ اُس کی کوئی مادہ دوست نہ تھی۔ جب اسے کوئی اور چیز نہ ملی تو اُسے ایک نالہ نظر آیا جو بحر الکاہل میں اترتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انکی اس سمندر میں غائب ہوگیا۔
(بلوٹچی کے علاوہ کوئی بھی اس عظیم فرار کا مشاہدہ کرنے کے لیے وہاں موجود نہیں تھا۔ لیکن گیلی پگڈنڈی اور کچھ مخصوص نشانات کی مدد سے انکی کی حرکات کو بعد میں نیپئر شہر میں نیوزی لینڈ کے نیشنل ایکویریم کے عملے نے جوڑ کر غور کیا تو یہ سب اُس کے فرار کے شواہد ثابت ہوئے۔)
جیسا کہ انکی نے اپنے مشہور فرار میں دکھایا، آکٹوپس مسائل کو حل کرنے میں ماہر جانوروں میں شمار ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ انتہائی ذہین، نئے کاموں کو سیکھنے اور اپنے ماحول میں خود کو ڈھالنے کے قابل ہیں۔ اس بات پر بھی اتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ آکٹوپس زیادہ تر حساس اور جذباتی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ لوگ جو آکٹوپس کے ساتھ کام کرتے ہیں یا جو ان کی صحبت میں بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ اس احساس کو بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کسی آکٹوپس کو دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے میں بہت کچھ نظر آتا ہے۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی میں تاریخ اور فلسفہ سائنس کے پروفیسر پیٹر گاڈفرے-سمتھ کہتے ہیں کہ 'جب آپ کسی ایسے آکٹوپس کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو کسی چیز کے بارے میں دھیان سے متجسس ہو، تو یہ تصور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا ہے۔' پیٹر گاڈر فرے-سمتھ ایک کتاب کے مصنف ہیں جس کا نام ہے: ’دیگر اذہان: آکٹوپس اور ذہین زندگی کا ارتقا' (Other Minds: The Octopus and the Evolution of Intelligent Life)۔ ’یہ ایک طرح سے کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تاثر بنتا ہے۔'
ایک نقطہ آغاز کے طور پر اس تاثر کو دیکھتے ہوئے آپ اپنے آپ کے علاوہ کسی جانور کے شعور کو کیسے سمجھنا شروع کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی بات کا آغاز کرنے کے لیے ہم کہیں گے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے یہ جاننا چاہیں گے کہ فلسفیوں اور سائنسدانوں کے ذہن میں 'شعور' سے کیا مراد ہے؟ گاڈفرے-سمتھ (Godfrey-Smith) اس کے معنی کے طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ یہ 'کوئی ایسی چیز ہے جو اس جانور کی طرح ہے۔‘
ایک مشہور مضمون میں، فلسفی ٹامس ناگل پوچھتا ہے 'چمگادڑ ہونا کیسا لگے گا؟' ٹامس ناگل نے اس مسئلے کو بیان کیا کہ چمگادڑ کے اندرونی تجربے کا تصور کرنا اگرچہ ناممکن نہیں، تاہم بہت مشکل ہے، جب کہ آپ کا حوالہ انسانی جسم اور آپ کا اپنا انسانی ذہن ہے۔
اسی طرح ایک آکٹوپس کی اندرونی زندگی کا تصور کرنا ہمارے انسانی نقطہ نظر سے ایک مشکل کام ہے۔ ایک لمحے کے لیے کوشش کیجیے - تصور کریں کہ سمندر کی تہہ میں نیچے کی ٹھنڈی نیلی گودھولی میں معلق ہونا کیسا لگتا ہے، شاید سمندری اندرونی لہروں کا ہلکا سا زور آپ کو اس طرف کھینچ رہا ہے اور آپ کے آٹھ بازو آپ کے گرد ہلکے ہلکے لہرا رہے ہیں۔
جب آپ اپنے چوسنے والے اعضا کی حرکت کی تصویر بناتے ہیں، تو آپ تصور کرتے ہیں کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟ کیا یہ شاید آپ کی انسانی انگلیوں اور انگوٹھوں کو ہلانے جیسا کچھ ہے؟
اب اس تصور میں یہ بھی شامل کریں کہ ایک آکٹوپس بغیر ریڑھ کی ہڈی کا جانور (invertebrate) ہے، جس کا کوئی ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ٹانگوں میں فیمر، ٹبیا یا فیبولا نامی ہڈیاں نہیں ہوتی ہیں، نہ پاؤں اور نہ ہی ہلنے والی انگلیاں ہوتی ہیں۔
اس کے بجائے آکٹوپس میں ایک ہائیڈروسٹیٹک ڈھانچہ ہوتا ہے، جس میں پٹھوں اور پانی کی مزاحمت کو کمپریشن کے لیے ملا کر حرکت پیدا ہوتی ہے۔ یہ آپ کے اپنے اعضا کو حرکت دینے کے تجربے سے بہت مختلف ہے - جب ہم اپنی زبان کو حرکت دیتے ہیں تو یہ اس سے تھوڑا قریب ہو سکتا ہے، جس میں ہائیڈرو سٹیٹک پریشر کا بھی استعمال ہوتا ہے۔
درحقیقت، آکٹوپس کے اعضا چوسنے والے سینسرز سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ یہ چھونے والی ہر چیز کو چکھتے ہیں۔
گاڈفرے-سمتھ کہتے ہیں کہ 'کچھ لحاظ سے آکٹوپس ہاتھوں سے زیادہ ہونٹوں یا زبانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب یہ جانور کچھ بھی کرتا ہے تو اس کے اعضا ذائقہ پر مبنی شکل کی حسی معلومات حاصل کر رہے ہوتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ اس تک پہنچتی ہے۔ یہ ہماری صورتحال سے بہت مختلف ہے۔‘
آکٹوپس کے اعصابی نظام کو قریب سے دیکھیں تو کئی اور چیزیں اور بھی زیادہ اجنبی لگتی ہیں۔ آکٹوپس کے بازو ہمارے انسانی بازوؤں اور ٹانگوں سے زیادہ خود مختاری رکھتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا چھوٹا دماغ ہوتا ہے جو اسے جانور کے مرکزی دماغ سے کافی زیادہ آزادی دیتا ہے۔ تاہم ہمارا انسانی اعصابی نظام انتہائی مرکزیت رکھتا ہے۔ محسوس کرنے کے نظام کا انضمام، جذبات، تحریک شروع کرنے، رویے اور دیگر اعمال کے لیے دماغ ایک مرکزی نشست کی حثیت رکھتا ہے۔
گاڈفرے-سمتھ کہتے ہیں کہ 'ہمارے پاس حقیقی چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کم مرکزی اور کم مربوط قسم کے مختلف نظاموں کا تجربہ کیسا ہو سکتا ہے۔ آکٹوپس کے معاملے میں لوگ بعض اوقات پوچھتے ہیں کہ کیا اس میں ایک سے زیادہ سیلفز (شخصیات) موجود ہو سکتی ہیں۔ میرے خیال میں ہر آکٹوپس صرف ایک سیلف (شخصیت) ہوتی ہے، لیکن اس میں ایک قسم کا جزوی ٹکڑا ہو سکتا ہے، یا وہاں صرف ایک طرح کا کمزور مرکزی دماغ ہو سکتا ہے۔'
آپ آکٹوپس کے جسم اور اعصابی نظام کو جتنا قریب سے دیکھیں گے اسے سمجھنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ آکٹوپس بننا کیسا ہو گا۔ بہر حال ہمارے اور آکٹوپس کے آخری مشترکہ اجداد، 60 کروڑ سال پہلے رہتے تھے (ایک غیر متاثر کن نظر آنے والا جانور جو کہ برابر سے بچھے ہوئے یا ایک فلیٹ کیڑے کی طرح تھا)۔
گاڈفرے-سمتھ کا کہنا ہے کہ یہ کرنا چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، یہ سمجھنے کی کوشش کرنے کے قابل ہے کہ آیا آکٹوپس میں شعور ہوتا ہے، اور اگر وہ شعور رکھتے ہیں تو یہ کیسا ہوتا ہے۔ 'ہمیں صرف اس کے بارے میں سوچنا ہے، اس کے ذریعے کام کرنا ہے اور ایک تصویر بنانے کی کوشش کرنی ہے۔'
یہ ایک ایسا سوال ہے جو زیادہ ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ملٹی نیشنل سی فوڈ فرم 'نُووا پیسکانووا' (Nueva Pescanova) فی الحال مغربی افریقہ کے کینری جزائر میں دنیا کا پہلا تجارتی آکٹوپس فارم کھولنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس اعلان پر جانوروں کی فلاح و بہبود کے کارکنوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ ایسے ذہین اور ممکنہ طور پر حساس جانوروں کو پالنا اخلاقی نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک مضمون یہ کہتا ہے کہ 'جب حیوانی شعور کا سوال زیر غور ہے تو بطور تہذیب ہمارے جرم یا بے گناہی کا فیصلہ اس عظیم ظلم کی بنا پر طے ہوگا۔‘
نُوا پیسکانووا نے بی بی سی فیوچر کو بتایا کہ فرم 'آکٹوپس کے علمی اور نیورو فزیولوجیکل میکانزم' پر تحقیق کر رہی ہے اور اس کی آبی فارمنگ کے حالات فرم کو'آکٹوپس کی فلاح و بہبود کو معروضی طور پر بہتر بنانے' کی اجازت دیتے ہیں۔ نُوا پیسکانووا کا کہنا ہے کہ اس کی آبی فارمنگ کے حالات جنگل میں آکٹوپس کے قدرتی رہائش گاہ کی نقل کریں گے۔ فرم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'یہ ایک نیا نظام ہے جو نمونوں کی نشوونما، بقا اور بھلائی کے لحاظ سے بہترین نتائج دے رہا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسا کہ لندن سکول آف اکنامکس میں جانوروں کے جذبات اور فلاح و بہبود میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق، ہیدر براؤننگ نے ایک مضمون میں دلیل دی ہے کہ 'ایک آکٹوپس کا دماغ ہمارے ذہن سے بہت مختلف ہو سکتا ہے۔ صرف دنیا کو اُن کے نقطہِ نگاہ سے دیکھ کر ہم یہ معلوم کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ ان کے لیے کیا اچھا ہے اور اس لیے ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔‘
براؤننگ، جو لندن سکول آف اکنامکس میں جانوروں کے جذبات کی بنیادوں پر ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے، اس ٹیم کا حصہ تھیں جس کی ایک بااثر رپورٹ نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی کہ آیا آکٹوپس شعور رکھتے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے لیے کیس سٹڈی کے ساتھ شروعات کی جائے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ احساسات رکھتا ہے، جیسا کہ انسان۔ براؤننگ کا کہنا ہے کہ 'اگر ہم واقعی اس سطح کی بات کرتے ہیں تو ہم فرض کرتے ہیں کہ ہم خود حساس ہیں، اور ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ دوسرے انسان بھی ہمارے جیسے ہیں، جو میرے خیال میں واقعی معقول بات ہے۔ اس سطح سے آپ ان خصوصیات کو دیکھنا شروع کر سکتے ہیں جو دوسرے جانوروں میں ہمارے ساتھ مشترک ہو سکتی ہیں۔'
مثال کے طور پر درد محسوس کرنے کی صلاحیت کو لے لیجیے - سیفالوپوڈ مولسکس انواع (جس میں آکٹوپس، کٹل فش اور سکویڈ شامل ہیں) اور ڈیکاپوڈ کرسٹیشینز انواع (جس میں کیکڑے، کری فش، لابسٹر اور جھینگے شامل ہیں) جو ایل ایس ای (LSE) کی ٹیم کی رپورٹ کا موضوع ہے۔ براؤننگ اور اس کے ساتھیوں نے 300 سے زیادہ سائنسی مقالوں کا جائزہ لیا جس میں آٹھ معیارات کا پتہ لگایا گیا ہے کہ جانور درد محسوس کر سکتا ہے:
- 'حِسُّ الالم' (nociceptors) کا حامل ہونا (وہ احساسات جو نقصان دہ محرکات کا پتہ لگاتے ہیں - جیسے کہ جلنے کے لیے کافی گرم درجہ حرارت، یا کٹائی)
- دماغ کے ان حصوں کا حامل ہونا جو حسی معلومات کو مربوط کرتے ہیں
- 'حِسُّ الالم' اور ان احساسات کو مربوط کرنے والے دماغی خطوں کے درمیان روابط
- مقامی اینستھیٹکس یا اینالجیسک سے متاثر ہونے والے ردعمل
- مختلف نقصان دہ اور سود مند مواقع کے درمیان تمیز کرنے کا توازن
- چوٹ اور خطرے کے جواب میں لچکدار خود حفاظتی طرز عمل
- ایسوسی ایٹیو لرننگ جو عادت اور حساسیت سے بالاتر ہے
- وہ رویہ جو جانوروں کو زخمی ہونے پر مقامی اینستھیٹکس یا اینالجیسک کو اہمیت دیتا ہے
ایک جانور اعلیٰ، درمیانی یا کم سطح کے اعتماد کے ساتھ کسی معیار پر پورا اتر سکتا ہے، اس کا اس بات پر انحصار ہے کہ تحقیق کتنی حتمی یا غیر نتیجہ خیز ہے۔ اگر کوئی جانور سات یا اس سے زیادہ معیارات پر پورا اترتا ہے تو براؤننگ اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس بات کا 'بہت مضبوط' ثبوت موجود ہے کہ جانور حساس ہے۔
اگر یہ اعلیٰ سطح کے اعتماد کے ساتھ پانچ یا پانچ سے زیادہ سے ملتا ہے، تو جذبات کا 'مضبوط ثبوت' ہے، وغیرہ۔ اس پیمائش کا استعمال کرتے ہوئے براؤننگ اور اس کے ساتھیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آکٹوپس درد محسوس کر سکتے ہیں، اور اس لیے وہ حساس ہیں۔
آکٹوپس اعلیٰ یا بہت زیادہ اعتماد کے ساتھ معیار میں سے اور ایک درمیانے اعتماد کے ساتھ، ایک کو چھوڑ کر باقی سب پر پورا اترے۔ آکٹوپس نے مطالعہ کی جانے والی مخلوقات میں سے سب سے زیادہ سکور کیا - حتیٰ کہ ان کے کزن کٹل فش سے بھی زیادہ، جنھیں زیادہ ذہین سمجھا جاتا ہے۔ (براؤننگ نوٹ کرتی ہے کہ اگرچہ، کٹل فش اور آکٹوپس کے علاوہ دیگر سیفالوپڈس پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے، جو ان کے سکور کو متاثر کرتی ہے۔)
رپورٹ کو ثبوت کے طور پر برطانیہ کے اینیمل ویلفیئر (Sentience) بل میں ترمیم کو مطلع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ یہ تسلیم کیا جا سکے کہ سیفالوپڈ مولسکس اور ڈیکاپڈ کرسٹیشین احساسات رکھتے ہیں۔
گاڈفرے-سمتھ کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں یہ ایک اچھی بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں آکٹوپس اور کرسٹیشین کو بھی جانوروں کے حقوق میں ایک نئی قسم کی پہچان مل رہی ہے۔'
درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت شعور کے بہت سے پہلوؤں میں سے صرف ایک ہے - خوشی محسوس کرنے، بور یا دلچسپی محسوس کرنے، صحبت کا تجربہ کرنے کی صلاحیت، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ مزید تحقیق کے ساتھ سائنسدان جانوروں میں شعور کے ان مختلف پہلوؤں کی پیمائش کرنے کے لیے اسی طرح کے پیمانے وضع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ بھی شواہد کا ایک ذخیرہ ہے، یہ بھی تلاش کرنا کہ انسانی تجربے سے اس کا کیا تعلق ہے۔ یعنی شعور کے حیاتیاتی کردار پر غور کرنا اور اس کا ارتقا کیوں ہوا۔ براؤننگ کا کہنا ہے کہ 'یہ وہ چیز ہے جس پر ابھی لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کیا ہے۔'
ایک امکان یہ ہے کہ شعور پیچیدہ قسم کے سیکھنے، فیصلہ سازی اور ترغیباتی لین دین کرنے جیسے طرز عمل کے ساتھ ساتھ تیار ہوا (کیا آپ اپنی پناہ گاہ کے نیچے سے گزرتے ہوئے اپنی خوراک کے ایک لقمے کو پکڑنے کا خطرہ مول لیتے ہیں، جبکہ آپ نے کچھ دیر پہلے وہاں سے ایک شکاری درندے کو گزرتے دیکھا تھا؟)۔ یہ اس طرح کے پیچیدہ حالات ہیں جو تجربے کے احساس کو جنم دے سکتے ہیں۔
گاڈفرے-سمتھ کہتے ہیں کہ 'کچھ چیزیں ایسی ہیں جو لوگ سوچتے ہیں، کم از کم انسانی معاملے میں، آپ لاشعوری طور پر نہیں کر سکتے۔ ان میں نیاپن کا ذہین انداز میں جواب دینا شامل ہے۔'
بعض اوقات جب ایک نیاپن پیش کیا جاتا ہے، جیسے کہ آکٹوپس کے ٹینک میں ایک کنڈی کے لیور کا ہونا، تو آکٹوپس اپنی تمام تر آسانی کے ساتھ اس سوال کاجواب دیتے ہیں۔ تجربہ کاروں کے لیے یہ حقیقت قدرے مایوس کن ہو سکتی ہے۔
سنہ 1959 کے ایک تجربے میں ایک ماہر نفسیات، پیٹر ڈیوس نے تین آکٹوپس کو تربیت دی - جن کا نام اس نے البرٹ، برٹرم اور چارلز رکھا - اپنے ٹینک میں ایک لیور کھینچنے کے لیے، جس سے ایک بلب روشن ہوا اور مچھلی کا ایک چھوٹا ٹکڑا نکلا۔
البرٹ اور برٹرم نے بغیر کسی مشکل کے یہ سیکھا۔ تاہم چارلز زیادہ ضدی تھا۔ ڈیوز نے لکھا کہ 'چارلز نے ٹینک کے اطراف اور لیور کے اردگرد اپنی کئی ٹانگوں کو نصب کیا اور زبردست طاقت کا استعمال کیا۔ لیور کئی بار جھک گیا، اور 11ویں دن ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے تجربہ قبل از وقت ختم ہو گیا۔'
'خاص طور پر خوش مزاج' ہونے کے ساتھ ساتھ، جیسا کہ گاڈفرے-سمتھ نے کہا ہے (چارلز کو پانی کی دھاروں کو اس کے ٹینک کے قریب آنے والے ہر شخص پر پھینکنے کی عادت پڑ گئی تھی)، کہ آکٹوپس نے لائٹ بلب میں خاصی دلچسپی ظاہر کی، جسے البرٹ اور برٹرم نے بڑی حد تک نظر انداز کیا، تاہم چارلز نے روشنی کو اپنی ٹانگوں سے گھیر لیا اور اسے اپنے ٹینک میں لے گیا۔
گاڈفرے-سمتھ کے مطابق، توجہ طلب تجسس کی ایسی مثالیں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'جانوروں میں شعور کیا ہے اس کے کچھ سرکردہ نظریات اس بات پر متفق ہیں کہ چیزوں کی طرف ایک قسم کی توجہ کا رجحان ایسی قسم نہیں ہے جو ہم میں لاشعوری طور پر واقع ہو سکتی ہے، یا ایسا لگتا ہے کہ دوسرے جانوروں میں ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ تجربے کا انتہائی غور طلب اشارہ ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آکٹوپس واقعی احساسات و جذبات رکھتے ہیں تو یہ اب بھی ایک بڑا سوال پیدا کرتا ہے آکٹوپس بننا کیسا ہے؟ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور فلسفہ سائنس کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر مارٹا ہالینا کہتی ہیں کہ اس کا جواب دینا بہت مشکل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سائنس موضوعی تجربے کا اندازہ لگانے کے لیے مفید شکل میں نتائج فراہم نہیں کرتی ہے۔
ہالینا کہتی ہیں کہ 'اس جاندار کے اپنے نقطہ نظر سے جاندار بننا کیسا ہے - ہمیں اس تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ سائنس نظاموں کا مطالعہ کرتے ہوئے کسی اور فرد کا نقطہ نظر لیتی ہے - اور یہی ایک مسئلہ ہے۔'
معروضیت سے موضوعیت تک اس چھلانگ کو 'شعور کا مشکل مسئلہ' کہا جانے لگا ہے۔
شعور کا مشکل مسئلہ
یہ مسئلہ، جیسا کہ فلسفی ڈیوڈ چامرز کہتے ہیں، یہ ہے کہ: دماغ میں جسمانی عمل کس طرح ذہن کے موضوعی تجربے کو جنم دیتے ہیں؟
نیند، بیداری، ادراک اور مسائل کو حل کرنے جیسے مظاہر کے بارے میں اعصابی سائنس کی دہائیوں کی تحقیق کے باوجود، شعور کا مشکل مسئلہ برقرار ہے۔ جیسا کہ چامرز کا استدلال ہے کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ ہم دنیا کی کسی بھی ذی شعور مخلوق کے اپنے موضوعی تجربہ کرنے کا احساس کیے بغیر، تجربے کی ضرورت کے انسانی رویوں کے ایک وسیع ذخیرے کی اعصابی سائنسی بنیادوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
چامرز کا خیال ہے کہ مشکل مسئلہ بالآخر سائنسدانوں کے لیے جواب دینے کے لیے ایک سوال ہے - حالانکہ ہمارے موجودہ سائنسی طریقے ایسا کرنے کے ہنر اور اوزار سے لیس ہیں یا نہیں، یہ فی الحال دیکھنا باقی ہے۔
مشکل مسئلے کا ابھی تک کوئی صاف اور واضح حل نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے اردگرد ایک یا دو عملی طریقے موجود ہیں۔ ایک شعور کے 'رویے کے ارتباط' یا 'اعصابی ارتباط' کو دیکھنا ہے - دوسرے لفظوں میں طرز عمل اور اعصابی نظام جن پر ہمیں شبہ ہے کہ ان کا شعوری حالتوں سے گہرا تعلق ہے۔
ہالینا کہتی ہیں کہ 'ہم ان کو شعور کی سطح کے نشانات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ (یہ وہی خیال ہے جو ایل ایس ای میں براؤننگ اور اس کے ساتھیوں نے دیا، مارکروں کا استعمال کرتے ہوئے جیسے حِسُّ الالم (nociceptors) کی موجودگی۔)
تاہم ایک خطرہ ہے کہ ہم اپنے انسانی نقطہ نظر میں پھنس جائیں۔ ہالینا کہتی ہیں کہ 'ہم انسانی شعور کے بارے میں سب سے زیادہ یقین رکھتے ہیں اور اکثر اعصابی ارتباط اور رویے سے متعلق ارتباط جن پر ہم انحصار کر رہے ہیں، یہ انسانی معاملے میں ایک بنیاد بنتے ہیں۔
’جس قدر ہم ساخت، رویے اور کام کے لحاظ سے انسانوں سے دور ہوتے جائیں گے، اتنا ہی ہمارا یقین کم ہوتا جاتا ہے کہ آیا ہم حقیقت میں شعور کو تلاش کر رہے ہیں۔'
مثال کے طور پر اگر آپ پھل کی مکھی جیسے جاندار کو دیکھتے ہیں اور درد کو محسوس کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے انسان جیسا اعصابی نظام تلاش کرتے ہیں لیکن اسے نہیں ملتا ہے تو اس سے انکار نہیں ہوتا کہ پھل کی مکھی درد محسوس کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ ہالینا کہتی ہیں کہ 'اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اسے (درد کو) تھوڑا مختلف طریقے سے کر سکتی ہیں۔'
یہی وجہ ہے کہ آکٹوپس ایک دلچسپ معاملہ ہے - اسے 'عجیب و غریب شعور' کی شکل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یا شعور کی ایک مثال ہمارے اپنے سے بالکل برعکس، جیسا کہ ہالینا اس موضوع پر ایک مضمون میں لکھتی ہیں۔ آکٹوپس ہم سے کافی مختلف ہیں کہ ان کے بارے میں ہمارے بہت سے مفروضوں پر سوال اٹھانا پڑتا ہے - اور یہاں تک کہ اپنے بارے میں ہمارے مفروضوں پر بھی۔
ہالینا کہتی ہیں کہ 'یہ پوچھ کر کہ آیا آکٹوپس ہماری طرح ہوش میں ہیں، ہم ایک ایسا سوال پوچھ رہے ہوں گے جو زیادہ معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہم پوری طرح سے نہیں جانتے کہ ہوش میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔'
وہ شعور کے محقق سوسن بلیک مور سے مستعار ایک تکنیک کی مثال استعمال کرتی ہے، جس میں وہ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنے کا کام طے کرتی ہے کہ 'کیا میں اب ہوش میں ہوں؟' دن بھر، جب بھی میں آپ کے ساتھ ہوتی ہوں - نیند شروع کرتے وقت، ناشتہ کرتے ہوئے، یا بات چیت کے دوران۔
ہالینا کہتی ہیں کہ 'آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کو یہ کبھی یقینی طور نہیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کب شعور کی حالت میں ہیں۔'
آکٹوپس کی تجارتی فارمنگ کے منصوبے کی روشنی میں اپنی فلاح و بہبود کے لیے آکٹوپس کے شعور کے بارے میں مزید جاننے کے ساتھ ساتھ، ان کا ذہن بھی ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتا سکتا ہے۔
ہالینا کہتی ہیں کہ 'اس بات پر غور کرنا قابل قدر ہے کہ آکٹوپس بننا کیسا ہے کیونکہ اس سے ہمیں یہ اندازہ کرنے میں نئے سرے سے مدد ملے گی کہ انسان ہونا کیسا ہے۔ اور شاید اس بات پر غور کرنا کہ ہم اس بارے میں کتنا کم جانتے ہیں کہ انسان بننا کیسا ہے، یہ احساس ہمیں آکٹوپس بننا کیسا لگتا ہے جیسے سوال پر غور کرنے کے لیے زیادہ کشادہ ذہن بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔'









