ورلڈ آکٹوپس ڈے: بازوؤں کے ذریعے افزائش نسل کرنے والے شرارتی جانور کے بارے میں دس دلچسپ حقائق

Common octopus (Octopus vulgaris)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آکٹوپس کے پورے جسم میں اس کے ذہن کے خلیے پائے جاتے ہیں۔ آکٹوپس ایک شرارتی اور تجسس میں رہنے والا جانور ہے جس کو حاصل صلاحیتیں شاید آپ کو حیران کر دیں۔

فلسفی اور سکوبا ڈائیور پیٹر جفری سمتھ نے اپنی آڈیو بُک میں اس سمندری جانور کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیا ہے۔

مندرجہ ذیل وہ چند چیزیں ہیں جو ہم ان شاندار جانداروں کے بارے میں اب تک جان سکے ہیں۔

1۔ وہ چالاک ہیں مگر ان کا زیادہ تر دماغ ان کے بازوؤں میں ہوتا ہے

Close-up of an octopus and its suckers

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آکٹوپس کا عصبی نظام یعنی نروس سسٹم بہت بڑا ہوتا ہے اور ایک عام آکٹوپس میں تقریباً 500 ملین نیورون یعنی برین سیلز پائے جاتے ہیں۔

یعنی ان کے دماغ کا کل حجم چھوٹے جانوروں جیسا کہ کتے جتنا بڑا ہوتا ہے۔

مگر کتوں، انسانوں اور دیگر جانوروں کے برعکس ان کے زیادہ دماغی خلیے ان کے دماغ کے نظام کے بجائے اُن کے بازوؤں میں پائے جاتے ہیں۔

آٹھ بازوؤں والے آکٹوپس کے ایک بازو میں اوسطاً دس ہزار نیوروز ہوتے ہیں تاکہ وہ ذائقہ چکھ سکیں اور لمس محسوس کر سکیں۔

2۔ آکٹوپس کو یادداشت قائم رکھنے کی تربیت دی جا سکتی ہے

A two-month-old octopus (Octopus Vulgaris) tries to unscrew the lid of a jar to get hold of a crab inside

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ 70 سالوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس کو عام اور سادہ سا کام کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

ایک مخصوص تجربے میں ان کو یہ سیکھایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک لیور دبائیں تاکہ انھیں کوئی انعام دیا جائے۔

آکٹوپس کے بینائی کے ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں جس میں وہ کوئی سادہ سا کام یاد رکھتے ہیں اور اس کے لیے پہلے ان کی ایک آنکھ بند کی جاتی ہے اور پھر دوسری۔

یہ ایک طویل تجربہ تھا مگر اس میں آکٹوپس کی پرفارمنس دیگر اور جانوروں سے بہتر رہی جیسا کہ کبوتر وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیے

3۔ یہ انتہائی شرارتی ہوتے ہیں

An octopus in SEA LIFE Melbourne Aquarium, Australia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مندرجہ بالا لیور والے تجربے میں تین آکٹوپس شامل کیے گئے تھے۔ ان کے نام ایلبرٹ، برٹریم اور چارلس رکھے گئے تھے۔ ایلبرٹ اور برٹریم متواتر کامیاب ہوتے رہے مگر چارلس کبھی کبھی اپنے ہدف کو نہیں پہنچاتا تھا اور ایک موقع پر اُس نے لیور توڑ دیا تھا۔

اس کے علاوہ جو بھی شخص اس دن یہ تجربہ کر رہا ہوتا تھا چارلس اس پر پانی کی دھاریں بھی مارتا تھا۔

کئی ایکوئیرئرمز میں آکٹوپس کی شرارتوں کی شکایات موجود ہیں جیسا کہ کمرے میں لائٹ بند کرنے کے لیے بلبوں پر پانی کی دھاریں مارنا، یا پانی کے ذریعے شارت سرکٹ کروا دینا۔

نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو میں یہ اس قدر مہنگا پڑ رہا تھا کہ ایک آکٹوپس کو واپس سمندر میں چھوڑنا پڑ گیا۔

آکٹوپس مختلف انسانوں کو پہچانتے ہیں

Not the octopus in question but a one-year-old Octopus Oktavius

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیوزی لینڈ میں اسی لیب میں ایک آکٹوپس کو لیب کے عملے میں سے ایک مخصوص شخص پسند نہیں تھا۔ بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

جب بھی وہ شخص ان کے پاس سے گزرتا وہ تقریباً نصف گیلن پانی کی دھار اس شخص کی کمر پر پھینکتا تھا۔

آکٹوپس کو کھیلنے کا شوق ہے

Octopus Paul II, successor to the tentacled tipster that wowed the world with his uncanny knack of correctly predicting World Cup football games

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کی شرارتی طبعیت کے پیشِ نظر یہ بالکل حیران کن نہیں کہ انھیں کھیلنے کا شوق بھی ہوتا ہے۔

کچھ آکٹوپس اپنے ٹینک میں خالی بوتلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینکتے اور ایک دوسرے کی طرف پھیکنتے بھی دیکھتے گئے ہیں۔

6۔ بچے پیدا کرنے کے لیے وہ ایک دوسرے سے بازو ملاتے ہیں

Mating of Common Octopus, Octopus Vulgaris

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آپ آکٹوپس کے نر یا مادہ ہونے کا پتہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے تیسرے بازوں کے نیچے گرووز (نالی نما شے) ہیں یا نہیں۔

نر آکٹوپس مادہ آکٹوپس کی جانب یہ بازو بڑھاتے ہیں اور اگر وہ تسلیم کر لے تو نر آکٹوپس مادہ کے بازو میں سپرم کا ایک پیکٹ رکھ دیا جاتا ہے۔

مادہ آکٹپس اکثر اپنے انڈوں تک سپرم پہنچانے سے پہلے کچھ عرصے تک سپرم اپنے پاس رکھتی ہیں۔

7۔ وہ ہاتھ مار کی ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں

One octopus reaches out to another

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب آکٹوپس کہیں جا رہے ہوتے ہیں تو وہ اکثر اپنے بلوں میں بیٹھے سمندری کیکڑوں کی جانب بازو ہلا کر ہیلو بول رہے ہوتے ہیں۔

پروفیسر سٹیون لنکوئسٹ جو آکٹوپس کے رویے پر تحقیق کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک طریقہ ہے جس سے سمندری کیکڑے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

آکٹوپس کے متعدد دل ہوتے ہیں

Day Octopus (Octopus Cyanea)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں۔ ان کا خون نیلے ہرے رنگ کا ہوتا ہے۔

ان کے خون میں تانبے کے مالیکیول آکسیجن لے کر جاتے ہیں جیسے کہ ہمارے خون میں یہ کام آئرن کے مالیکیول کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا خون لال ہوتا ہے۔

9۔ وہ خوفناک بھی ہو سکتے ہیں

An octopus swims inside a tank

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آکٹوپس اپنا رنگ اور اپنی شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔

جب کوئی نر آکٹوپس کسی اور آکٹوپس پر حملہ کرنے والا ہوتا ہے وہ تو اپنا رنگ گہرا کر لیتا ہے اور اپنے بازو ایسے پھیلاتا ہے جس سے اس کا حجم زیادہ معلوم ہو۔

10۔ ڈھانچہ نہ ہونے کا فائدہ بھی ہوتا ہے

Close-Up of an octopus swimming in the sea

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آکٹوپس اپنی شکل اس قدر تبدیل کر سکتے ہیں کہ وہ ایک آنکھ جتنے بڑے سوراخ سے گزر جائیں۔

کوئی ڈھانچہ یا کوئی شیل نہ ہونا اتنے پیچیدہ جانور میں عام بات نہیں ہے۔

یہ خصوصیت انھیں اپنا تحفظ کرنے میں مشکل تو پیدا کرتی ہے مگر ان کے لیے قرار اور چھپنے میں بھی مدد کرتی ہے۔