مستقبل کی خوراک اور توانائی کا ذریعہ، سی ویڈ

سی ویڈ فارمنگ

،تصویر کا ذریعہAdrienne Murray

،تصویر کا کیپشنڈنمارک کے سمندر کے ٹھنڈے پانی میں سی ویڈ کی کاشت کی جا رہی ہے
    • مصنف, آندرے مرے
    • عہدہ, ٹیکنالوی اور بزنس رپورٹر، فیرو آئی لینڈز

بحرِ اوقیانوس میں ڈنمارک کے ایک دور آفتادہ جزیرے فیرو آئی لینڈز کے ساحل کے قریب ایک چٹانی کھاڑی سے موٹر بوٹ گزر رہی تھی جب سورج بادلوں میں چھپ گیا اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔

جلد ہی ہم ایک ایسے محفوظ مقام پر پہنچ گئے جہاں عمودی چٹانیں سمندر کی سطح سے بلند ہو رہی تھیں۔ سمندر کی لہروں پر سرخ رنگ کے گولے ہچکولے لے رہے تھے۔

سمندری نباتات کے پروفیسر اور 'اوشن رین فارسٹ' کے ڈائریکٹر اولاور گریگارسن نے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ گولے متوازی انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ ایک میٹر کے فاصلے سے ایک دوسرے سے متوازی ان کے نیچے رسے لٹک رہے تھے جن پر سمندری گھاس پھونس یا سی ویڈ اگائی جاتی ہے۔

سمندر کے اندر پودے کاشت کرنے کے لیے سمندر کی تہہ میں لنگر لگا کر ان کو پچاس ہزار میٹر لمبی رسیوں کی مدد سے مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ کہیں وہ تیز سمندری لہروں سے ٹوٹ نہ جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا اصل ڈھانچہ سمندر کی سطح سے دو میٹر نیچے ہے اور اس طرح ہم نے سمندر کی بڑی لہروں سے اسے محفوظ بنایا ہے۔

گریگارسن نے بتایا کہ شمالی بحر اوقیانوس میں ڈنمارک کی حدود میں آنےوالا یہ دور دراز کا حصہ، جہاں سمندر کا درجہ حرارت چھ ڈگری اور گیارہ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے، غذائی اجزا سے بھرپور ہے اور سمندری پودوں کی کاشت کے لیے بہت موزوں ہے۔

سی ویڈ فارمنگ

،تصویر کا ذریعہAdrienne Murray

،تصویر کا کیپشناوشن رین فارسٹ اپنی پیداوار کو دگنا کرنا چاہتی ہے

ان کی کمپنی یورپ اور شمالی امریکہ کی ان بے شمار کمپنیوں میں شامل ہے جو خوارک اور دیگر صنعتوں میں بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر سی ویڈ کی فارمنگ کے لیے حال ہی میں بنائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ ’بائیو ماس‘ دستیاب ہے جو کہ انسانی اور پالتو جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ اس سے دوسری اشیا جن میں پلاسٹک اور پیکنگ میں کام آنے والے میٹریل شامل ہیں بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

سی ویڈ تیزی سے بڑھنے والے ایلگی یا ان بغیر جڑوں والے خود رو سمندری پودوں میں شامل ہیں جو چٹانوں یا سمندر کی تہ میں اگتے ہیں۔ وہ سورج کی شعاعوں سےتوانائی حاصل کرتے ہیں اور غذائی اجزا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمندری کے پانی سے لیتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ’سی ویڈ‘ کلائمیٹ چینج کو روکنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کے مضر اثرات کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اوشن رین فارسٹ کو حال ہی میں امریکہ میں توانائی کے ادارے سے بھاری رقم دی گئی ہے تاکہ وہ کیلی فورنیا میں اس قسم کا نظام بنائے جہاں صنعتی سطح پر ’سی ویڈ` کی کاشت شروع کی جا سکے اور مستقل میں اسے بائیو فیول یا حیاتی ایندھن بنانے میں استعمال کیا جا سکے۔

’سی ویڈ‘ کاشت کرنے والی کشتی کے کپتان ایک مشینی ہاتھ کے ذریعے سمندر سے ان رسیوں کو اوپر اٹھاتے ہیں۔ ان پر اگی سی ویڈز کو کاٹ کر ایک کنٹینر میں بھرا جاتا ہے۔ یہ کام تیزی سے ہو جاتا ہے لیکن اس سے کافی گند پھیل جاتا ہے۔ ان رسیوں کو دوبارہ سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس سال دو سو ٹن سی ویڈ کی کاشت ہوئی ہے۔

Seaweed farming Faroe Islands

،تصویر کا ذریعہAdrienne Murray

،تصویر کا کیپشناوشن رین فارسٹ کو حال ہیں میں امریکی حکومت نے سرمایہ فراہم کیا ہے

کمپنی اپنی پیداوار کو بڑھا رہی ہے اور اگلے سال اس کو دگنا کرنا چاہتی ہے۔ گارگیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کو ابھی کوئی منافع نہیں ہو رہا لیکن اسے توقع ہے کہ جلد اسے منافع حاصل ہونا شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح اس کام میں مشینوں کا استعمال بڑھایا جا سکتا ہے اور کسی طرح اس کو وسیع پیمانے پر زیادہ موثر طریقے سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کمپنیاں زیادہ نہیں ہیں جو اس کاروبار کو منافع بخش طریقے سے کر رہی ہوں۔

اوشن رین فارسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اولاور گریگارسن

،تصویر کا ذریعہAdrienne Murray

،تصویر کا کیپشناوشن رین فارسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اولاور گریگارسن

ادویات اور کاسمیٹکس

سی ویڈ کو تیزی سے پراسس کرنا پڑتا ہے۔ فاروسی کے چھوٹے سے گاؤں کالڈبک میں لگے ایک چھوٹے سے پلانٹ پر کاشت کردہ سی ویڈ کو صاف کیا جاتا ہے۔ کچھ کو خشک کر کے خوراک بنانے والی کمپنیوں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ سی ویڈ کو چارے کے طور پر استعمال میں لانے کے لیے جانوروں کی فیڈ بنانے والی کمپنیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔

سی ویڈ کی زیادہ تر کاشت خوراک کے کام آتی ہے لیکن اس نکلنے والے اجزا کو مختلف مصنوعات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چاہے یہ ٹوتھ پیسٹ ہو، کاسمیٹکس ہوں، ادویات ہوں یا پالتو جانوروں کی خوراک۔ ان سب میں ہائڈروکلورائڈز ہوتے ہیں جو سی ویڈ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ان میں 'جیلنگ' اور کثیف ہونے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

اس سے کئی اور مصنوعات بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ کئی کمپنیاں اس سے ٹیکسٹائل اور پلاسٹک کے متبادل حاصل کرنے پر کام کر رہی ہیں جن میں پیکنگ میں استعمال ہونے والا ایسا میٹریل بھی شامل ہے جو 'بائیو ڈگریڈایبل' ہو یعنی قدرتی طور پر گل سڑ کر ختم ہو سکے۔

سی ویڈ کی پیداوار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2005 اور 2015 کے درمیان اس کا حجم دگنا ہو گیا ہے۔ اس کی مجموعی پیداوار سالانہ تین کروڑ ٹن سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کے فراہم کردہ ہیں۔ عالمی سطح پر یہ کاروبار چھ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا ہے۔

Seaweed processing

،تصویر کا ذریعہAdrienne Murray

،تصویر کا کیپشنسی ویڈ کے بے شمار استعمال ہو سکتے ہیں

دنیا کے دوسرے حصوں میں اس کی کاشت نہ ہونے کے برابر ہے کیوں اس میں سخت محنت لگتی ہے۔

محنت طلب کام

ڈنمارک میں آرہس یونیورسٹی میں سنیئر سائنسدان اینٹی بروہن نے واضح کیا کہ یورپ میں مزدوروں کی اجرتیں بہت زیادہ ہیں جو کہ ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں مشینوں کا استعمال بڑھانے اور اس کی کاشت کو جدید بنانے پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کو منافع بخش بنانے کے لیے اس کی کاشت پر آنے والے اخرجات کو کم کرنا ہو گا اور اس کی پیداوار کو بڑھانے ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فارمنگ کے ایک طریقے کو دوسری جگہ آسانی سے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ مختلف علاقوں میں مختلف حالات ہیں جس سے اس میں تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کوئی واحد حل یا طریقہ نہیں ہے جو ہر جگہ استعمال ہو سکے۔ تاہم انہیں امید ہے اور وہ کہتی ہیں کہ بہت سے شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے اور اس کا بھی حل نکال لیا جائے گا۔

ناروے میں سائنسی تحقیق کا ایک گروہ سنٹیف نئی ٹیکنالوجی بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ سی ویڈ کی فارمنگ کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

تحقیق کرنے والے سائنسدان سلجی فوربورڈ نے کہا کہ 'اس وقت سی ویڈ زیادہ تر انسانی خوراک میں استعمال ہو رہی ہے لیکن مستقبل میں ہم چاہتے ہیں کہ یہ مچھلیوں کی خوراک، کھاد اور بائیو گیس کے لیے بھی استعمال کی جا سکیں گی۔ ہمیں کم وقت میں زیادہ پیداوار کی ضرورت ہے۔'

خشک لیبارٹری

Seaweed farming Portugal

،تصویر کا ذریعہAlgaPlus

،تصویر کا کیپشنایلگا پلس پرتگال میں اعلی معیار کی چھوٹی سی ویڈ کی فارمنگ کرتی ہے

تجرباتی مشین جیسا کہ 'سی ویڈ سپنر' ہے خودکار طریقے سے پنیری ان رسوں پر لپیٹ دیتی ہے جنہیں سمندر میں ڈالا جا سکتا ہے۔

ایک اور تجرباتی خیال 'ایس پوک' کا ہے جس میں سی ویڈ کی کاشت کے لیے ایسے گول رسے بنائے جائیں جن پر باہر کی جانب سی ویڈ اگیں اور ان کو ایسے ڈیزائن کیا جائے کہ ان پر روبوٹ اوپر سے نیچے حرکت کر کے ان پر بیج لگاسکے اور سی ویڈ کو کاشت کر سکے۔

سلجی فوربورڈ نے کہا کہ انہوں نے پہلا حصہ بنا لیا ہے جس پر روبوٹ اوپر نیچے حرکت کر سکتا ہے اور اس کا تجربہ خشک لیباٹری میں کر لیا گیا ہے لیکن اس کے لیے مزید سرمائے کی ضرورت ہے۔

پرتگال کے شمالی حصے میں ’ایلگا پلس‘ نامی کمپنی سی ویڈ کی کاشت تلابوں اور پانی کے ٹیکنوں میں کر رہی ہے۔

کمپنی کی ڈائریکٹر ہیلینا ایبرو کا کہنا ہے کہ سمندر میں کاشت کرنے کے بجائے پانی کے تلابوں میں کاشت کرنے کے زیادہ فوائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانی کے ٹینکوں میں درجہ حرارت کو زیادہ بہتر طور پر کنٹرول کر سکتے ہیں اور آپ سارا سال پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔

سمندری حیات پر پانچ سال تحقیق کرنے کے بعد ایبرو نے کسی کے اشتراک کے ساتھ یہ کمپنی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی چھوٹے سی ویڈ خوراک بنانے والی کمپنیوں، کاسمٹک بنانے والوں اور مہنگے ترین ہوٹلوں کے لیے پیدا کیے جاتی ہیں۔

جدّت

سمندری پانی ساحلی جھیلوں سے مچھلیوں کی افزائش کے تلابوں میں لایا جاتا ہے۔ جہاں سے اس کو ان ٹینکوں میں پمپ کر دیا جاتا ہے جن میں سی ویڈ کاشت کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی پنیری بنانے کے لیے ہیچری بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ انھوں نے سب کچھ خود بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پانی میں نائٹروجن گیس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے ایلگی اگانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انھیں کھاد یا کچھ اور استعمال نہیں کرنا پڑتا اور صرف مچھلی کے تلابوں سے پانی لے کر سی ویڈ اگاتے ہیں۔