موت کب اور کیسے ہو گی، اگر یہ پتا چل جائے تو انسان کیا کرے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریچل نوور
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
اگر ہمارے کمپیوٹر کی سکرین کے سامنے محض 42.8 ملی سیکنڈ کے لیے لفظ ’موت‘ گزرے تو ہمارا رویہ کچھ بدل سا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے جاننے والے ہر شخص سمیت ایک دن سب نے مرنا ہے۔ بعض ماہرین نفسیات کے مطابق یہ بے سکونی پھیلانے والا سچ مسلسل ہمارے ذہن میں رہتا ہے اور ہمارے ہر کام کو متاثر کرتا ہے، چاہے ہم عبادت گاہ جائیں، سزیاں کھائیں، جم جا کر ورزش کریں، بچے پیدا کرنے کے بارے میں سوچیں یا کتاب لکھیں اور کمپنیاں قائم کریں۔
صحتمند لوگوں کے ذہن میں اکثر موت کا خیال رہتا ہے اور نیم شعوری کی حالت میں یہ خیال اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے۔
یونیورسٹی آف پنسلوینیا اور فلاڈیلفیا چلڈرنز ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر اور ماہرِ اخلاقیات کرس فیوڈنر کہتے ہیں کہ ’اکثر اوقات ہم موت کے بارے میں سوچے بغیر دن گزار دیتے ہیں۔ ہم اکثر ان چیزوں پر دھیان دیتے ہیں جو ہمارے سامنے ہو رہی ہوں۔‘
مگر کیا ہو اگر موت کے متعلق ہمارا ابہام ختم ہو جائے؟ یعنی اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ ہماری موت کس تاریخ کو اور کس طرح ہو گی۔ ظاہر ہے یہ ممکن تو نہیں لیکن مفروضے پر مبنی واقعات کی مدد سے ہم انفرادی و اجتماعی طور پر ان محرکات کا تعین کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا میں اپنا محدود وقت بہترین انداز میں کیسے گزارا جا سکتا ہے۔
پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ حقیقی دنیا میں موت کے تصورات ہمارے رویوں کو کیسے ڈھالتے ہیں۔ سنہ 1980 کی دہائی میں ماہرین نفسیات کی دلچسپی اس طرف مبذول ہوئی کہ ہم موت سے متعلق ممکنہ پریشانی سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ نیویارک سکڈمور کالج میں نفسیات کے پرویفر شیلڈن سلومن کے مطابق سائنسدانوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ ہم ’سانس لینے اور رفع حاجت کے لیے جانے والے گوشت کے ٹکڑے ہیں جو کسی بھی وقت مر سکتے ہیں۔‘
سلومن اور ان کے ساتھیوں نے اپنے نتائج کو ’ٹیرر مینجمنٹ تھیوری‘ کا نام دیا اور بتایا کہ انسان تہذیب کے بنائے گئے عقائد پر یقین کرتے ہیں یعنی دنیا کا کوئی مطلب ہے۔ مثلاً انسان سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی کی کوئی قدر ہے۔ ایسا کر کے وہ اپنے وجود کے خوف پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک ہزار سے زیادہ مصدقہ تجربات میں محققین کو معلوم ہوا کہ جب ہمیں بتایا جائے کہ ہم مر سکتے ہیں تو ہم اپنی تہذیب کے عقائد پر مزید ایمان لے آتے ہیں اور معاشرے میں اپنی قدر بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے عقائد کا مزید دفاع کرتے ہیں اور عقائد پر سوال اٹھانے پر اشتعال میں آجاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موت کے منظر پر ایک نگاہ پڑنا بھی ہمارے رویے کو تبدیل کر سکتا ہے، جیسے 42.8 سیکنڈ کے لیے کمپیوٹر سکرین پر لفظ ’موت‘ کو دیکھنا۔ کسی کی آخری رسومات کے موقع پر بات چیت کے دوران ہمارا رویہ اچانک بدل سا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تبدیلیاں کیسی دکھائی دیتی ہیں؟ جب ہمیں موت یاد دلائی جاتی ہے تو ہم اپنے جیسوں کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں جو ہمارے جیسے سیاسی خیالات، علاقیائی تعلق و مذہبی عقائد رکھتے ہوں۔ جو ان سے مخالفت رکھتا ہو ہم ان کے خلاف نفرت انگیز اور پُرتشدد رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر ہمارا رومانوی پارٹنر ہمارے جیسے خیالات رکھتا ہو تو ہم ان سے تعلق گہرا کر لیتے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ہم تمام مذہبی و اخلاقی عقائد مسترد کرنے لگ جائیں اور یہ کہیں کہ زندگی بے معنی ہے۔ ہم اس پریشانی میں سگریٹ و شراب نوشی بڑھا دیں اور شاپنگ کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ کھانا کھانے لگیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم سرے سے ماحول کی حفاظت کی فکر چھوڑ دیں۔
اگر سب کو معلوم ہو جائے کہ ان کی موت کا وقت اور وجہ کیا ہو گی تو شاید معاشرے میں نسل پرستی اور تعصب بڑھ جائے اور پُرتشدد و جنگی سرگرمیاں بڑھ جائیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ خود کو اور ماحول کو نقصان پہنچانے لگیں، اس سے زیادہ جتنا وہ ابھی پہنچا رہے ہیں۔
تاہم سلومن کا خیال ہے کہ موت سے متعلق پریشانی کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی سے ہم ان کے خلاف اقدام کر سکتے ہیں۔
محققین اس طرز کے خالات کی جانچ بھی کر رہے ہیں جنھیں ڈیتھ رفلیکشن یا موت کا عکس کہتے ہیں۔ ان میں لوگ صرف مجموعی طور پر موت کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ وہ کیسے مر سکتے ہیں اور موت سے ان کے خاندان پر کیا اثر پڑے گا۔ اس سے محققین کو دلچسپ ردعمل سننے کو ملتا ہے۔
ایسے ماحول میں لوگ بے غرض اور بے لوث ہو جاتے ہیں۔ مثلاً معاشرے میں ضرورت دیکھے بغیر خون کا عطیہ کرنا۔ لوگوں میں یہ خیالات بھی پنپنے لگتے ہیں کہ مثبت اور منفی واقعات سے ان کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
ان نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے موت کی تاریخ ملنے سے ہم زندگی کے مقاصد کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں اور اچانک ردعمل کے بجائے سماجی رشتوں کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی آف سالزبرگ میں نفسیات کی پروفیسر ایوا جونس سمجھتی ہیں کہ یہ ممکن ہے ’اگر ہم موت کو زندگی کا حصہ تسلیم کرنے کی حکمت عملی کو فروغ دیں اور روزمرہ کے انتخاب اور رویوں میں اس پر عمل کریں۔‘
’محدود زندگی کی آگاہی سے ہم ممکن ہے ہم زندگی کی قدر جان لیں اور یہ خیال اپنا لیں کہ ’ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں‘۔ ہم اس سے تحمل اور احترام جیسے جذبات کو فروغ دیں گے اور دفاعی ردعمل کم کر دیں گے۔‘
موت کی خبر ملنے پر عدم اطمینان یا کوئی فکر نہیں؟
اس بات سے قطع نظر کہ سماج اس سے برائی یا اچھائی کی طرف جا سکتا ہے، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ انفرادی سطح پر موت کی خبر جان کر ہماری شخصیت میں کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف نوٹنگھم میں نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر لارا بلیکی کہتی ہیں کہ ’آپ جتنے پریشان اور بے صبرے ہوں گے تو یہ ممکن ہے کہ آپ موت کے بارے میں اتنا ہی سوچتے رہیں اور زندگی کے واقعات کی اہمیت پر توجہ دینا چھوڑ دیں۔‘
’دوسری طرف اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ آپ کی موت 90 سال کی عمر میں سوتے ہوئے ہو گی تو شاید آپ اس پر زیادہ توجہ نہ دیں اور کہیں ’ٹھیک ہے، پھر میں زندگی جاری رکھتا ہوں۔‘
زندگی 13 سال کی عمر میں ختم ہوتی ہے یا 113 سال پر، جان لیوا بیماریوں میں مبتلا افراد پر تحقیقات موت سے متعلق ردعمل پر روشنی ڈال سکتی ہیں۔
فوڈنر کہتے ہیں کہ کینسر یا دل کے دورے جیسی بیماریوں میں مبتلا مریض اکثر سوچنے کے دو مراحل سے گزرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اپنی بیماری کی تشخیص پر سوال اٹھاتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں کہ آیا موت سے جان چھڑانا واقع ناممکن ہے یا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس سے لڑائی ممکن ہے۔ اس کے بعد وہ سوچتے ہیں کہ ان کے پاس کتنا وقت بچا ہے۔
ایسے مریضوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وہ پوری کوشش اور توجہ اس بات پر دیتے ہیں کہ بیماری اور موت کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے یا پھر وہ اپنی زندگی پر ایک دوسری نظر ڈالتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنے لگتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں کہ جس سے انھیں خوشی ملے۔

،تصویر کا ذریعہNappy.co
یہی عمل ممکنہ طور پر فرضی موت کی تاریخ کی صورت میں اپنایا جائے گا۔ فوڈنر کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو پتا ہو کہ آپ کے پاس زندگی کے مزید 60 سال ہیں تو زندگی کا یہ عرصہ چند برسوں، مہینوں اور دنوں میں جانچا جائے گا اور جب گھڑی کی سوئیاں انسان کو اس ضمن میں پرسکون کر دیں گی تو مجھے لگتا ہے کہ ہم لوگوں ک دو مختلف سمتوں میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھیں گے۔
جو لوگ اپنی موت سے بچنے کی کی کوشش کرتے ہیں وہ اس کے جنون میں مبتلا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر زندگی کی مہلت ختم ہونے کا علم ہونے پر اگر کوئی شخص جانتا ہے کہ اس کی موت ڈوبنے سے ہو گی تو وہ مسلسل تیراکی کی مشق کر سکتا ہے تاکہ اسے زندہ رہنے کے لیے لڑنے کا موقع مل سکے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ ٹریفک حادثے میں مر جائے گا تو وہ ہر قیمت پر گاڑیوں سے بچنے کا انتخاب کر سکتا ہے۔
البتہ کچھ لوگ اس کے بالکل برعکس راستہ اختیار کر سکتے ہیں اور وہ اپنی متوقع موت کو دھوکہ دینے کی کوشش میں اپنے زندگی کا خاتمہ اپنی شرائط پر کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ طریقہ انھیں اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ اس طریقہ کار پر اپنا اختیار حاصل کر لیں۔
مثال کے طور پر جوناس اور ان کی ساتھیوں نے پایا کہ جب انھوں نے لوگوں سے یہ تصور کرنے کو کہا کہ وہ کسی بیماری سے دردناک اور آہستہ آہستہ موت کا شکار ہوں گے، تو جن لوگوں کو خود موت کے طریقہ کار کے انتخاب کا موقع دیا گیا تھا انھوں نے اس میں خود کو زیادہ کنٹرول میں محسوس کیا اور موت کے خوف سے متعلق کم دفاعی تعصبات کا مظاہرہ کیا۔
جو لوگ اپنی موت کو قبول کرنے کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں وہ بھی مختلف طریقوں سے ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے پاس موجود وقت کو بہترین طریقے اور بھرپور جوش سے جینے کا انتخاب کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کے باقی ماندہ وقت میں وہ تخلیقی، سماجی، سائنسی اور کاروباری کامیابیوں کی بلندیوں تک پہنچنا ممکن بنا سکتے ہیں۔
سولومون کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں ہماری موت کی تاریخ کو جاننا ہمارے اندر کے بہترین انسان کو سامنے لائے گا اور یہ ہمیں اپنے لیے، اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے لیے مزید کچھ کرنے کے قابل ہونے کے لیے سوچ و شعور فراہم کرے گا۔‘
’درحقیقت، کسی بھی حادثے یا صدمے سے زندہ بچ جانے والوں کے واضح شواہد موجود ہیں کہ جس میں وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں زندگی نے جو دوبارہ ایک موقع دیا ہے یا جو محدود وقت ہمارے پاس ہے ہم اس میں خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‘ البتہ ایسے افراد کی سوچ میں تبدیلی کی وجوہات کا ڈیٹا اکٹھا کرنا مشکل ہوتا ہے مگر بہت سوں کا اصرار ہے کہ ان کی سوچ اور رویے میں گہری مثبت تبدیلی آ جاتی ہے۔
بلیکی کہتے ہیں کہ ’ایسے افراد کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ مضبوط، زیادہ روحانی، مثبت ممکنات کو پہچاننے والے اور زندگی کی زیادہ قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی مختصر ہے، ہمیں ایک دن مرنا ہے اور اس وقت تک ہمیں زندگی سے بہترین حاصل کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم لازمی نہیں کہ ہر کوئی اپنی زندگی سے بہترین حاصل کر سکے یا بہتربن ذات میں ڈھال سکے۔ اس کی بجائے، بہت سے لوگ شاید زندگی سے باہر نکلنے کا انتخاب کریں گے اور معاشرے میں معنی خیز کردار ادا کرنا چھوڑ دیں گے، اس میں ضروری نہیں کہ وہ سست ہوں بلکہ اس لیے کہ وہ زندگی میں بے مقصدیت کے احساس سے مغلوب ہو گئے ہیں۔
جیسا کہ کیٹلن ڈوٹی، جو کفن دفن کا بندوبست کرنے والے، مصنف اور ’آرڈر آف دی گڈ ڈیتھ‘ کے بانی ہیں، کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ اگلے جون میں مرنے والے ہیں تو کیا آپ یہ کالم لکھیں گے؟ شاید نہیں۔‘
زندگی میں بے مقصدیت کا احساس بھی بہت سے لوگوں کو صحت مند طرز زندگی کی کسی بھی عادت کو ترک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈوٹی کہتے ہیں کہ اگر مجھے علم ہو کہ موت ایک خاص وقت پر پہلے سے طے ہے تو ’میں اچھی یا قدرتی خوراک کھانے کی زحمت نہیں کروں گا، میں ڈائٹ کوک کی جگہ ریگولر کوک پیوؤں گا یا شاید میں منشیات کا استعمال بھی کروں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے معاشرے اور ثقافت کا زیادہ تر حصہ موت کو روکنے اور موت سے بچنے کے لیے امن و امان کو برقرار رکھنے کے گرد بنایا گیا ہے۔‘
سولومان کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے افراد کی اکثریت انتہائی متحرک و پرجوش یا غیر مہذب و غیر حقیقی ہونے کے درمیان پھنس جائے اور ایسے افراد ایک ہفتہ گھر بیٹھ کر بسکٹس پر چیز لگا کر کھائیں اور نیٹ فلکس پر کوئی سیزن دیکھیں، تو دوسرے ہفتے میں وہ لنگر خانوں میں جا کر رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں۔
لیکن اس بات سے قطع نظر کہ اس تمام صورتحال میں ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے سب سے زیادہ روشن خیال اور پڑھے لکھے افراد بھی جب اپنی موت کی تاریخ کے قریب پہنچتے ہیں تو کبھی کبھار ’ایک لرزتا کھنڈر‘ بن جاتے ہیں۔
فوڈنر اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’تبدیلی ذہنی تناؤ دیتی ہے اور ہم یہاں کسی بھی شخص کی زندگی میں رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں یعنی زندگی سے موت تک کے سفر کی بات۔‘
یہ بھی پڑھیے
مذہبی عقائد کو تباہ کرنا
عملی طور پر، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم دنیا میں کہاں رہتے ہیں لیکن بنیادی طور پر ہماری روزمرہ کی زندگی یہ جاننے کے نتیجے میں بدل جائے گی کہ ہمیں کب اور کیسے مرنا ہے۔
اگر ہمیں اپنی موت کے وقت اور حالات کا علم ہو جائے تو بہت سے لوگ ایسی تھراپی شروع کر سکتے ہیں، جو انھیں موت سے متعلق خصوصی ذیلی باتوں کے متعلق تیار کرے۔ معاشرے میں نئی سماجی رسومات جنم لے سکتی ہیں جن میں موت کی تاریخیں شاید سالگرہ کی طرح منائی جائیں لیکن ان میں الٹی گنتی کی جائے گی۔
اس سے دنیا میں موجود مذاہب اپنی بنیاد سے ہل سکتے ہیں اور اس کے بعد جنم لینے والی روحانی بیداری کے نتیجہ میں فرقے بن سکتے ہیں۔ ڈوٹی کہتے ہیں کہ ’کیا ہم اس نظاہم کی عبادت کرنا شروع کر دیں گے جو ہمیں یہ بتائے گا کہ ہم نے مرنا کب ہے؟ کیا ہم اس نظام کو نذرانے اور قربانیاں پیش کریں گے؟ اپنی کنواری بیٹیاں اس نظام کو دے گے۔ یہ نظام مذہبی عقائد کو مکمل طور پر جھنجھوڑ دے گا۔ اس کو تباہ کر دے گا۔‘
اگر ایسے ہوتا ہے تو ہمارے رشتے اور تعلقات بھی یقینی طور پر متاثر ہوں گے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ لازمی بن جائے گا کہ وہ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جس کی موت کی تاریخ ان کی اپنی موت کے قریب ہو اور ڈیٹنگ ایپس جو کسی کے ساتھی کے لیے فلٹر کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، اس کام کو آسان بنا دیں گی۔
ڈوٹی کہتے ہیں کہ ’ایک چیز جو اکثر لوگوں کو اپنی موت سے بھی زیادہ خوفزدہ کرتی ہے وہ ان لوگوں کو کھونا ہے جن سے وہ پیار کرتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے میں، میں کسی ایسے شخص کے ساتھ کیوں رہنا چاہوں گا جو 40 سال کی عمر میں مرنے والا ہے جبکہ میں 89 سال کی عمر میں مروں گا؟‘
اسی طرح، اگر انسان کے بائیولوجیکل نمونے سے موت کی تاریخ کا تعین کرنا ممکن ہوتا تو کچھ والدین اپنے بچے کو کھونے کی تکلیف و دکھ سے بچنے کے لیے ماں کی کوکھ میں ایسے بچوں کے اسقاط حمل کا فیصلہ کر سکتے ہیں جو جوانی میں مر جائے گے۔
جبکہ دیگر یہ جانتے ہوئے کہ وہ خود ایک خاص عمر کے بعد زندہ نہیں رہیں گے بالکل بھی بچے پیدا نہ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، یا اس کے برعکس جتنی جلدی ممکن ہو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمیں نئے قوانین اور روایات بھی لانا ہوں گی۔ فلاش فارورڈ نامی پوڈکاسٹ سے منسلک روز ایولیتھ کے مطابق موت کی تاریخ کی رازداری کے حوالے سے نئی قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ کمپنی اور ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک ختم ہو سکے۔ معروف شخصیات کو اپنی موت کی تاریخ دینی چاہیے جیسے اگر وہ انتحاب میں حصہ لیتے ہیں (یعنی اگر وہ ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ان پر تنقید ہو)۔
’اگر ایک صدارتی امیدوار جیتنے کے تین روز کے اندر مرنے والا ہے تو اس سے فرق پڑتا ہے۔‘
اگر قانونی طور پر اس کی ضرورت نہ بھی ہو تو بعض افراد اپنی موت کی تاریخ کا بازو پر ٹیٹو بنوا سکتے ہیں تاکہ حادثے کی صورت میں امدادی کارکنان کو معلوم ہو کہ ان کی صحتیابی کی کوششیں کیسے کرنی ہیں۔
موت کے بعد آخری رسومات کی صنعت بھی اس سے متاثر ہو گی۔ اس طرح وہ متاثرہ خاندان کے بجائے زندہ لوگوں کو اپنی خدمات دے سکیں گی۔ ایولیتھ کے مطابق ’کفن دفن کا بندوبست کرنے والے پھر لوگوں کے دُکھ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے زیادہ سے زیادہ پیسے وصول نہیں کر پائیں گے۔ اس سے صارفین کے ہاتھ میں طاقت ہو گی جو کہ اچھی چیز ہے۔‘
اس روز بعض لوگ بڑی دعوتیں رکھوا سکیں گے، جیسا کہ کسی جان لیوا مرض میں مبتلا افراد اپنی مرضی سے بلا درد خودکشی کے موقع پر کرتے ہیں۔ کسی خاص طریقے سے مرنے والے لوگ جو دوسروں کو نقصان میں ڈال سکتے ہیں، وہ خود کو اخلاقی و جذبانی طور پر تنہا کر سکتے ہیں۔
ایولیتھ کا خیال ہے کہ کچھ لوگ اپنی موت کو فن اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے، جیسے کسی تھیٹر میں حصہ لینا جس میں آخر میں سب حقیقت میں مر جائیں یا کسی خاص مقصد کی خاطر اپنی جان قربان کر دینا۔
اگر ہمیں اپنی موت کا وقت اور وجہ معلوم ہو جائے تو ہماری زندگی بدل جائے گی۔ ڈوٹی کہتے ہیں کہ ’انسانی تہذیب موت اور موت کے تصور کے گرد قائم ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ہماری زندگی کا نظام پوری طرح تبدیل ہو جائے گا۔‘
یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر گذشتہ برس جون میں شائع کی گئی تھی، جسے آج قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا گیا۔












