دنیا میں اگر ایک مرد اور ایک عورت زندہ بچیں تو کیا وہ اسے دوبارہ آباد کر سکیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زاریہ گورویٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر کے لیے
کشتی پر سوار ایک عجیب و غریب مخلوق ایک جگہ پہنچی اور دو برس کے اندر اندر اس نے مقامی آبادی کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا۔
یہ واقعہ ہے بالز پیرامِڈ نامی ایک چھوٹے سے جزیرے کا جو آسٹریلیا سے چھ سو کلومیٹر دور بحرالکاحل میں واقع ہے اور دیکھنے میں یہ ننھا جزیرہ ایسے لگتا ہے جیسے سمندر کے نیلگوں پانی سے شیشے کی اونچی چٹان ابھر آئی ہو۔
جس مقامی مخلوق کا ہم ذکر کر رہیں وہ اسی اونچی چٹان کے نصف پہ رہا کرتی تھی، ایک جھاڑی کے نیچے۔ اس مخلوق کے صرف دو 'افراد' زندہ بچے، لیکن پھر برسوں بعد اس مخلوق کی تعداد نو ہزار ہو گئی، یعنی ان دونوں کے بچے، نواسے نواسیاں، پوتے پوتیاں، پڑ پوتے، پڑ پوتیاں، تمام کی تعداد ہزاروں میں ہو چکی تھی۔
یہ تقریباً مکمل معدوم ہو جانے والی لوبسٹر کی ایک قسم تھی جس کا سائنسی نام 'ڈرائیکوسیلس آسٹریلئس' ہے۔ انسانی ہتھیلی جنتے بڑے یہ لوبٹسر درختوں پر رہتے ہیں۔
جس بیرونی مخلوق نے ان لوبسٹرز پر سنہ 1918 میں جان لیوا حملہ کیا تھا وہ چوہوں کی ایک قسم تھی۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ان لوبسٹرز کی نسل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی، لیکن 83 برس بعد دو زندہ بچ جانے والے لوبسٹرز اور ان کی آئندہ نسلوں کے اختلاط سے بالز پیرامِڈ پر لوبسٹرز کی تعداد نو ہزار ہو چکی تھی۔
اس نسل کی یوں معجزانہ دریافت اور اس کے بچاؤ کا سہرا سائنسدانوں کی اس ٹیم کو جاتا ہے جو سنہ 2003 میں ایک کھٹن سفر کے بعد ہزار فٹ اونچی چٹان کے نصف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اس ٹیم کو وہاں صرف ایک نر اور ایک مادہ لوبٹسر ملی تھی جنھیں انھوں نے ’ڈرائیکوسیلس آسٹریلئس‘ نسل کے ’آدم اور حوا‘ کا نام دیا تھا۔ ٹیم اس جوڑے کو چٹان سے اتار کر لے آئی اور انھیں افزائش نسل کے لیے میلبرن کے چڑیا گھر میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لوبسٹرز کی اس نسل کی بحالی کی سمجھ آتی ہے کیونکہ مادہ لوبسٹر ہر دس دن بعد انڈے دیتی ہے اور اس میں ’پارتھینو جینیسِس‘ کی صلاحیت پائی جاتی ہے، یعنی اسے اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے کسی مرد لوبسٹر کی ضرورت نہیں پڑتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انسانوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اسی لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر زمین پر کوئی ایسی تباہی آ جائے کہ صرف ایک مرد اور ایک عورت زندہ بچیں تو کیا وہ دونوں نسلِ انسانی کو معدوم ہونے سے بچا سکیں گے؟ اور اس میں کتنا عرصہ لگے گا؟
یہ بھی پڑھیے
یہ کوئی ایسا سوال نہیں جس پر محض دو دوست کسی چائے خانے میں بیٹھے بات کرتے ہیں، بلکہ اس پر بڑے بڑے ادارے اور ماہرین بھی بات کر رہے ہیں۔
مثلاً امریکی خلائی ادارے ناسا کو ہی لے لیجیے جس کے ماہرین اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اگر ہم کسی دوسرے سیارے پر جا کر بسنا چاہیں تو وہاں کم از کم کتنے مردوں اور عورتوں کا جانا ضروری ہو گا جو اس سیارے پر انسانی آبادی کے مستقبل کو یقینی بنا سکیں۔
اسی طرح عالمی سطح پر سائنسدان معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ ان کو بچانے کے لیے ہمارے پاس کسی بھی نسل کے کم از کم کتنے ایسے نر اور مادہ جانور موجود ہونا ضروری ہیں جو اتنے بچے پیدا کر سکیں کہ یہ نسل معدومیت سے بچ سکے۔
چلیں ایک سو برس آگے کا تصور کرتے ہیں، جہاں ہم انسانوں سے کوئی اتنی بڑی غلطی ہو جاتی ہے کہ کوئی مشینی مخلوق زمین سے ہمارا نام و نشان مٹا دیتی ہے، جس کی پیشگوئی سنہ 2014 میں معروف برطانوی سائنسندان سٹیفن ہاکِنگ نے کی تھی۔
اس تباہی میں صرف ایک جوان مرد اور عورت زندہ بچتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان دونوں سے پیدا ہونے والے تمام بچے آپس میں بہن بھائی ہوں گے۔
مشہورِ زمانہ ماہر نفسیات سِگمنڈ فرائڈ کے مطابق اپنے والدین کو قتل کرنے کے علاوہ صرف ایک اور چیز ایسی ہی جسے دنیا کی تمام تہذیبوں میں برا سمجھا گیا ہے اور وہ ہے بہن بھائی کے درمیان جنسی تعلق۔ یہ سوچ کر نہ صرف گھن آتی ہے، بلکہ یہ چیز بہت خطرناک بھی ہے۔
مثلاً ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ چیکو سلواکیا میں سنہ 1933 اور 1970 کے دمیانی عرصے میں پیدا ہونے والے ایسے بچے جن کے والدین نہایت قریبی رشتہ دار تھے ان میں سے تقریباً 40 فیصد بچے شدید معذور پیدا ہوئے تھے۔ ان میں 14 فیصد کم عمری میں انتقال کر گئے تھے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ انتہائی قریبی رشتوں میں جنسی تعلق کیوں اتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ہمیں جینیات (جنیٹِکس) کے علم کی کچھ بنیادی اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔
موروثی امراض کا خطرہ یا ریسیسِو رِسک
ہمارے جسم میں والدین کی طرف سے ملنے والے ہر مورثے یا جین کے دو ننمونے یا کاپیاں موجود ہوتی ہیں، ایک والد کی طرف سے اور ایک والدہ کی طرف سے۔ لیکن کچھ جینز ایسی ہوتی ہیں جو اس وقت تک کسی بیماری کا سبب نہیں بنتیں جب تک والد اور والدہ کی طرف سے ملنے والی دونوں جِینز ایک جیسی نہ ہوں۔
اکثر موروثی امراض ان 'ریسیسِو' جینز کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو اپنے طور پر تو خطرناک نہیں ہوتیں لیکن دونوں جینز مل کر خطرناک ہو جاتی ہیں۔ اوسطاً ہر انسان میں ایک یا دو ایسی جینز ضرور ہوتی ہیں جن کا ملاپ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
جب دونوں والدین کے درمیان رشتہ بہت قریب کا ہوتا ہے تو اس قسم کی خطرناک جینز جلد یا بدیر اپنا اثر دکھا دیتی ہیں۔ ایکرومیٹوپسیا کے مرض کی مثال لے لیجیے۔
یہ مرض بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کلر بلائینڈ ہو جاتا ہے، یعنی اس کی آنکھ رنگوں میں تمیز نہیں کر سکتی۔
امریکہ میں ہر 33 ہزار افراد میں ایک فرد اس کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر ایک سو میں سے ایک فرد میں یہ جِین موجود ہوتی ہے۔ اگر دنیا کی آبادی ختم ہو جاتی ہے اور بچ جانے والے مرد یا عورت میں سے کسی ایک میں بھی یہ جِین موجود ہو تو ان کے بچوں میں اس جِین کی موجودگی کے امکانات چار میں سے ایک کے ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک تو کوئی خطرہ نہیں۔
تاہم بہن بھائی سے پیدا ہونے والی پہلی نسل کے بچوں کی آپس میں شادی کے بعد یہ خطرہ انتہائی زیادہ ہو جائے گا اور اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہو جائیں گے کہ ہر چار میں سے ایک بچے میں اس خطرناک جِین کے دونوں نمونے یا کاپیاں پیدا ہو جآئیں گی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کے تباہی کے بعد زندہ بچ جانے والے مرد اور عورت کے پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کے کلر بلائینڈ ہونے کے امکانات 16 گنا زیادہ ہو جائیں گے۔
مغربی بحرالکاہل میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے، پِنگلیپ کے مکینوں کی قسمت میں یہی لکھا تھا۔ یہاں کی تمام موجودہ آبادی اصل میں 20 افراد سے شروع ہوئی جو 18ویں صدی میں جزیرے پر طاعون کی وبا میں زندہ بچ گئے تھے۔
ان 20 افراد میں ایک مرد یا عورت ایسی بھی تھی جس میں کلر بلائنڈ والی جِین موجود تھی۔ چونکہ زندہ بچ جانے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی اور پھر ان کی اور ان کے بچوں کی آپس میں ہی شادیاں ہوتی رہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اس جزیرے کی چھوٹی سے آبادی میں ہر 10واں مرد یا عورت مکمل کلر بلائینڈ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر اس جزیرے پر اس بیماری کا خطرہ نہ بھی ہوتا اور زندہ بچ جانے والے افراد کے ہاں کافی زیادہ بچے ہوتے تو کم از کم یہ امید ہوتی کہ ان میں سے زیادہ تر صحت مند ہوں گے۔ لیکن اگر کسی گروہ یا قبیلے کی آبادی بہت ہی کم ہو جاتی ہے اور زندہ بچ جانے والے افراد اور ان کی نسلوں کی شادیاں سیکڑوں سال تک آپس میں ہی ہوتی رہتی ہیں، تو کیا ہوگا؟
یہ جاننے کے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم یورپی شاہی خاندانوں کی تاریخ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً ماضی میں دو سو برس تک سپین کے شاہی خاندان کے افراد آپس میں ہی شادیاں کرتے رہے اور ہاسبرگ نامی یہ خاندان مختلف موروثی امراض کا شکار ہو گیا۔
اس کی سب سے بڑی مثال چارلس دوئم تھے۔ وہ کئی جسمانی اور ذہنی امراض کا شکار ہوئے اور وہ آٹھ برس کی عمر تک چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہو سکے تھے۔
پھر جب وہ بالغ ہو گئے تو معلوم ہوا کہ وہ بچے پیدا نہیں کر سکتے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ شاہی خاندان آہستہ آہستہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
اس خاندان کا یہ انجام کیسے ہوا، اس بارے میں ہسپانوی ماہرین نے ایک تحقیق سنہ 2009 میں شائع کی تھی۔ ان ماہرین کے مطابق شاہ چارلس دوئم کے آبا و اجداد کی آپس میں شادیاں اس قدر زیادہ گڈمڈ ہو چکی تھیں کہ اس خاندان کا آپس میں شادیوں کا اعشاریہ 'اِنبریڈِنگ کوایفیشینٹ' بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ یوں خاندان میں پیدا ہونے والے ہر نئے بچے کو ماں اور باپ کی طرف سے بالکل ایک جیسی جِینز ملنے لگی تھیں۔
اتنی زیادہ مشترکہ جینز تو بھائی بہنوں کی آپس میں شادیوں کے نتیجے میں بھی نہیں پیدا ہوتیں اور ان کا اِنبریڈِنگ کوایفیشینٹ بھی اس خاندان سے کم ہو سکتا ہے۔
اِنبریڈِنگ کوایفیشینٹ ہی وہ معیار ہے جس سے ماہرینِ ماحولیات کسی جانور کے معدوم ہونے کے امکانات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس حوالے سے اوٹاگو یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر بروس روبرٹسن کہتے ہیں کہ 'اگر کسی جانور کی نسل میں بہت کمی ہو جاتی ہے تو جلد یا بدیر اس نسل کے تمام جانور ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہو جاتے ہیں، ایسے میں انبریڈِنگ کے اثرات کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر بروس نیوزی لینڈ میں پائے جانے والے بڑے طوطوں کی ایک نسل پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس نسل کو ککاپو کہتے ہیں اور پوری دنیا میں اس نسل کے صرف 125 طوطے زندہ رہ گئے ہیں۔
اس نسل میں مسلسل اِنبریڈِنگ کا ایک بڑا اثر یہ ہوا ہے کہ ان طوطوں کے نطفے یا سپرم کا معیار بہت خراب ہو گیا جس وجہ سے ان کے انڈوں سے بچے نہ پیدا ہونے کے امکانات 10 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 40 فیصد ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر بروس کے مطابق اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی جانور کی تعداد بہت کم ہو جائے تو اس میں بیماری یا کمزوری پیدا کرنے والے جینز زیادہ ہو جاتے ہیں جو کہ انبریڈنگ ڈیپریشن کی علامت ہے۔
اسی لیے ڈاکٹر بروس کو خدشہ ہے کہ ککاپو نسل کے طوطوں کو بچانے کے تمام اقدامات کے باوجود، یہ نسل ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
امیون مِکس
معدومیت کے خطروں میں گھری ہوئی نسل کے جانوروں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ اس نسل کے جانوروں نے خوِد کو اپنے ارد گرد کے قدرتی ماحول سے ہم آہنگ کر لیا ہو، لیکن کسی بھی نسل میں ورائٹی یا تنوع موجود ہو تو اس میں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
اس حوالے سے اس نسل کی قوتِ مدافعت سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ڈرہم یونیورسٹی کے ڈاکٹر فلپ سٹیفنز کہتے ہیں کہ ’جانوروں کی زیادہ تر نسلوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی نسل میں تنوع پیدا کریں، اور انسان بھی یہی کوشش کرتے ہیں۔‘
اسی لیے ہم قریبی لوگوں سے باہر شادی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے بچوں میں ممکنہ موروثی امراض کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہو جائے۔
اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی بعید میں ہمارے ارتقائی سفر کے دوران جب ہمارا ملاپ 'نیئنڈر تھال' نسل کے ساتھ ہوا تو ہماری جِینز میں انقلاب آ گیا۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی نسل کو کتنا تنوع درکار ہوتا ہے؟
ڈاکٹر سٹیفنز کے مطابق یہ بحث ہمیں سنہ 1980 کی دہائی میں لیجاتی ہے جب ایک آسٹریلوری سائنسدان نے ایک اصول وضع کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ' کسی بھی نسل کو انبریڈنگ ڈیپرشن سے بچنے کے لیے کم ازکم 50 ایسے جانوروں کی ضرورت ہوتی ہے جو بچے پیدا کر سکیں اور اس نسل میں تنوع پیدا کرنے کے لیے 500 جانور ہونا ضروری ہیں۔'
سائنسندان آج بھی اس اصول کو مانتے ہیں، تاہم جنگلی حیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی تعداد پانچ سو اور پانچ ہزار کے درمیان ہو تو بہت اچھا ہے۔
لیکن ہماری اپنی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ اصول انسانوں پر اتنا صادق بھی نہیں آتا۔ ماہرینِ آثار قدیمہ بتاتے ہیں کہ آج سے دس لاکھ سال پہلے زمین پر انسانوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔ اور پھر تقریباً 50 ہزار سے ایک لاکھ سال کے درمیانی عرصے میں ہماری نسل کو ایک اور برے دور کا سامنا کرنا پڑا جب ہمارے آبا واجداد افریقہ سے نکل دنیا کے مختلف علاقوں میں جا بسے۔
اس کے بعد ہمارے اندر جینیاتی تنوع بہت کم ہو گیا۔ مثلاً سنہ 2012 کی ایک تحقیق کے مطابق چمپینزیز کے ایک گروہ میں اتنا زیادہ جینیاتی تنوع دیکھا گیا ہے جو آج دنیا میں پائے جانے والے سات ارب انسانوں میں بھی دکھائی نہیں دیتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو کیا واقعی اگر دنیا میں صرف ایک مرد اور ایک عورت زندہ بچ جاتے ہیں تو دونوں اس سیارے کو دوبارہ آباد کر پائیں گے۔
اگرچہ ڈاکٹر سٹیفنز پرُ امید ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔'ایک محدود مدت میں جینیاتی تنوع میں کمی کے برے اثرات کے شواہد تو موجود ہیں، لیکن اس قسم کی قیاس آرائی امکانات کی دنیا کی باتیں ہیں۔ تاریخ میں ایسی بہت سی کہانیاں موجود ہیں جب انسان معدومیت کے دہانے پر کھڑا تھا اور وہاں سے واپس آ گیا۔ اس لیے کچھ بھی ممکن ہے۔'
اگر دنیا میں کوئی بہت بڑی تباہی آ جاتی ہے لیکن ہماری جدید تہذیب کی بنیادیں تباہ نہیں ہوتیں، تو انسان حیران کن تیزی سے واپس آ جائے گا۔ اس کی ایک مثال شمالی امریکہ کے ہٹرائٹ قبیلے کی ہے۔
20ویں صدی کے ابتدائی عرصے سے اس قبیلے کے لوگوں کی تعداد ہر 17 برس میں دوگنی ہو رہی ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر باقی دنیا ختم بھی ہو جائے اور اس قبیلے کی ہر خاتون آٹھ بچوں کو جنم دے تو اگلے 556 برسوں میں دنیا میں انسانوں کی آبادی ایک مرتبہ پھر سات ارب ہو جائے گی۔












