وہ عادات اور رسومات، جو بغیر کسی وجہ ہمیں سکون دیتی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب مشہور ماہرِ بشریات، برونسلا میلیاؤنسکی 20وی صدی کے اوائل میں پاپوا نیوگنی کے جزائر میں رہنے والے قدیم قبائل پر تحقیق کر رہے تھے تو انھوں نے بڑی تفیصل سے بتایا تھا کہ یہاں کے قدیمی باشندے جب مچھلی پکڑنے سمندر میں اترتے تھے تو اس سے پہلے بہت سی رسومات ادا کرتے تھے۔
مچھیرے اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیوں کو بڑی احتیاط سے سیاہ، سرخ اور سفید رنگ میں رنگتے ہیں اور اس دوران مسلسل کچھ کلمات دھراتے رہتے۔ سمندر میں اتارنے سے پہلے کشتی پر خاص انداز میں چھڑی ماری جاتی، مچھیروں کے کندھوں پر لگی کمانوں کے سرے پر سرخ رنگ لگایا جاتا اور کشتی پر سوار تمام لوگوں کے بازوؤں پر رنگ برنگ کی سیپیاں اور گھونگھے باندھے جاتے۔
میلیناؤسکی کے مطابق یہ قدیم قبائل صرف یہی ٹونے ٹوٹکے نہیں کرتے تھے بلکہ گہرے پانیوں میں جانے سے پہلے بہت سی دیگر رسومات بھی ادا کرتے تھے لیکن اس کے برعکس جب یہی مچھیرے اپنی بستی کے قریب ہی واقع ایک پرسکون جھیل میں مچھلی پکڑنے جاتے تو اس قسم کی کوئی رسم ادا نہیں کرتے تھے۔
اس سے میلیناؤسکی نے نتیجہ نکالا کہ مچھیرے یہ رسومات گہرے سمندر میں پیش آنے والے غیر متوقع اور خطرناک واقعات سے محفوظ رہنے کے لیے کرتے تھے۔
میلیناؤسکی کے بعد کئی دیگر ماہرینِ بشریات نے دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے مچھیروں کے ہاں بھی مختلف رسومات کا مشاہدہ کیا۔
ریاست ٹیکساس کے ساحلی علاقوں کے علاوہ برطانیہ میں ایسٹ اینگلیا کی ساحلی پٹی پر رہنے والے مچھیرے بھی ساحل سے دور گہرے سمندر میں جانے سے پہلے مختلف قسم کی رسومات ادا کرتے ہیں۔
لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اس قسم کی رسومات کی تاریخ بیسویں صدی سے پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم رسومات کی پہلی مثالوں میں سے ایک جنوبی افریقی ملک بوٹسوانا میں دیکھی گئی تھی جو 70 ہزار برس پرانی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں لوگ صدیوں سے ایک رسم منایا کرتے تھے جس میں نوک دار پتھروں سے بنے ہوئے تیروں کو ایک غار میں رکھ کر جلایا جاتا تھا۔ ان پتھروں میں سرخ رنگ کے وہ نوک دار پتھر بھی شامل ہوتے تھے جو ہزاروں میل دور سے یہاں لائے جاتے تھے۔ جن ماہرین آثار قدیمہ نے قدیم غاروں پر تحقیق کی ہے ان کا خیال ہے کہ اس رسم میں قدیم قبائل غاروں میں رہنے والے شیش ناگ کو چڑھاوے چڑھاتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی رسومات اتنے طویل عرصے تک کیوں منائی جاتی رہیں؟
ماہرین نفسیات کی اصطلاح میں رسم ایک ایسا علامتی عمل ہوتا ہے جس کا بظاہر کوئی مقصد نظر نہیں آتا لیکن اس عمل کے خاص آداب ہوتے ہیں اور اکثر یہ عمل بار بار دھرایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی رسم کے تین عناصر یا جزو ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ رسم ایک خاص ترتیب میں ادا کی جاتی ہے یعنی ہر رسم میں اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کیا کیا جائے اور پھر اس کے بعد تمام مراحل ایک خاص ترتیب سے ہوں گے۔
دوسرا، رسم میں شامل ہر مرحلے کا کوئی خاص علامتی مطلب ہو گا اور تیسرا یہ کہ عموماً رسومات کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔
قدیم روایات سے قطع نظر، آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی رسومات ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ ہماری رسومات کی بنیاد ہماری اخلاقیات یا مذہب پر ہوتی ہے۔
تاہم رسومات نہ صرف ہمیں اپنی روز مرہ زندگی کو کسی مذہب یا اخلاقیات کے تابع رکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ رسومات ہماری بے چینی کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
رسمیں ہمیں مستقبل کے اندیشوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ مختلف رسوم ادا کرنے سے ہمارا دماغ قائل ہو جاتا ہے وہ مستقبل کے بارے میں درست پیشگوئی کر سکتا ہے اور یوں انسان کے دماغ میں غیر یقینی صورتحال اور پریشانی سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف رسومات ہمیں شدید ذہنی دباؤ والی تقریباً ہر مشکل کا مقابلہ کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں اور ہماری پریشانی کو کم کر سکتی ہیں۔
اس حوالے سے ماہرین نے ایک دلچسپ تجربہ کیا اور تجربے میں حصہ لینے والے افراد کو اجنبی لوگوں کے سامنے بلند آواز میں مشہور راک بینڈ جرنی کا گانا ’ڈونٹ سٹاپ بیلیوِنگ اِن یو‘ (اپنی ذات پر یقین نہ چھوڑو) گانے کو کہا۔
شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک گروہ کو گانے سے پہلے ایک رسم بھی ادا کرنے کو کہا گیا جبکہ دوسرے گروہ کو صرف کچھ ہدایات دیکر کہہ دیا کہ وہ خاموشی سے بیٹھ جائیں۔
پھر جب تمام افراد گانا گا رہے تھے تو ان کے دل کی دھڑکن، بے چینی کی علامات اور ان کی گائیکی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہا۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات فرانچسکا جینو کے مطابق ’وہ شرکا جنھوں نے گانے سے پہلے خاص رسومات میں حصہ لیا تھا ان کے دل دھڑکنے کی رفتار واضح طور پر کم رہی اور دوسرے گروہ کے مقابلے میں یہ افراد زیادہ اطمینان سے گاتے رہے اور کم گھبرائے۔‘
اسی طرح موریشس میں 75 ہندو خواتین پر بھی ایک تجربہ کیا گیا جس میں انھیں بہترین تقریریں تیار کرنے کو کہا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ اس تقریری مقابلے کا فیصلہ ماہرین کی ایک ٹیم کرے گی۔
تمام شرکا کے جسم کے ساتھ دل کی دھڑکن کی پیمائش کرنے والے مانیٹر لگا دیے گئے اور ان سے تجربے کے شروع اور آخر میں کچھ سوالوں کے جواب دینے کو کہا گیا۔ مقابلے سے پہلے کچھ خواتین کو ایک مقامی مندر میں کچھ مذہبی رسومات میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا جبکہ باقی خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھی رہیں۔
تجربے کے شروع میں کیے جانے والے جائزے میں دیکھا گیا کہ تمام شرکا میں ایک جیسی ہی گھبراہٹ تھی لیکن دوسرے جائزے میں ان خواتین میں گھبراہٹ کے آثار کم تھے جنھوں نے مندر جا کر رسومات ادا کی تھیں۔
دونوں گروہوں کی دل کی دھڑکنوں کے جائزے سے بھی یہی معلوم ہوا کہ مندر جانے والی خواتین کی دل کی دھڑکن اتنی تیز نہیں تھی جتنی دوسری خواتین کی تھی۔
کھلاڑیوں کی نفسیات کے ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ جو کھلاڑی مقابلے سے پہلے کوئی رسم ادا کرتے ہیں ان میں اعتماد زیادہ ہو جاتا ہے، کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے اور انھیں گھبراہٹ بھی کم ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کہتے ہیں کہ بے چینی میں کمی کا تعلق اس بات سے نہیں کہ آپ کس قسم کی رسم ادا کر رہے ہیں۔
جینو کہتی ہیں کہ ‘کئی سادہ ترین رسومات بھی (گھبراہٹ کم کرنے میں) مفید ہو سکتی ہیں۔‘
یہ بات بھی سچ ہے کہ ایسی رسومات جن میں افراد کو شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بھی کچھ افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً دہکتے کوئلوں پر چلنے والے یا آگ سے گزرنے والے بعض افراد کو اس رسم کے بعد خوشی کا احساس ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ کچھ رسومات ہمیں زندگی کے مشکل ترین دور کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب ہم کسی پیارے کی موت پر بہت غمزدہ ہوں۔
کسی شخص کی آخری رسومات کی ادائیگی کے ذریعے مرنے والے اور اس کے لواحقین کے درمیان تعلق زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے سنہ 2014 کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ ان لواحقین میں غم کا احساس کم تھا جنھوں نے مرنے والے عزیز کے کام اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے، مثلاً مرنے والے کی گاڑی کو ہر ہفتے باقاعدگی سے دھونا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جب ہمارا کوئی ذاتی نقصان ہو جاتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ اب چیزیں ہمارے قابو میں نہیں رہیں۔ ایسے میں کچھ خاص رسومات سے ہمیں لگتا ہے کہ چیزیں اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ رسومات کا فائدہ انفرادی نہیں ہوتا بلکہ کچھ رسومات کی ادائیگی سے لوگ اجتماعی طور پر بھی مستفید ہوتے ہیں۔
برطانیہ کی کاوینٹری یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے منسلک ماہر، ویلری وین ملیوکوم کے مطابق ’یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر آپ کسی خاص گروپ کا حصہ ہوتے ہیں، اس سے آپ کی زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ساتھ مل بیٹھنے جیسی رسومات لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں خاص طور پر بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔‘
‘اجمتاعی رسومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروپ میں شامل افراد کسی خاص چیز کے ماننے والے ہیں۔ اس سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً کسی خاص فٹبال کلب کے حامی جب اس کلب کے نعرے لگاتے ہیں یا گیت گاتے ہیں تو انھیں ایک دوسرے سے گہرے تعلق کا احساس ہوتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف ویلنگٹن سے منسلک محقق، جوہانس کارل کہتے ہیں کہ ایک تجربے میں حصہ لینے والے افراد نے ایک اجتماعی رسم کے بعد بتایا کہ آپس میں ان کا تعلق زیادہ گہرا ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے بھی خود کو اس گروپ کا حصہ سمجھا جو دور بیٹھے دیکھ رہے تھے۔
برازیل اور برطانیہ میں مذہبی رسومات پر تحقیق کرنے والے ویلری وین ملیوکوم کا کہنا تھا کہ ان رسومات میں حصہ لینے والے افراد میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ دیکھا گیا اور گروپ کے لوگوں میں تعلق مزید گہرا ہوا تاہم ’ہمیں معلوم ہوا کہ مذہبی اور غیر مذہبی رسومات، دونوں ہی لوگوں کے باہمی تعلق کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔‘
رسومات کے کئی فوائد کے باوجود ان کے نقصانات بھی ہیں۔
شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک خاص قسم کی رسومات میں حصہ لینے والے گروہ کے افراد بلاوجہ ایک دوسرے کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔
مثلاً ایک تحقیق میں بچوں کے مختلف گروہوں کو ہار بنانے کا سامان دیا گیا اور ان میں سے کچھ بچوں کو ایک اجتماعی رسم میں شامل کیا گیا اور کچھ کو باہر رکھا گیا۔ تجربے کے اختتام پر دیکھا گیا کہ بچے اپنا کام صرف ان بچوں کو دکھا رہے تھے جنھوں نے ان کے ساتھ اجتماعی رسم میں حصہ لیا تھا اور باقی بچوں کو نظر انداز کر رہے تھے۔
رسومات کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق کے مجموعی جائزے سے لگتا ہے کوئی رسم انفرادی ہو یا اجتماعی، غیر مذہبی ہو یا مذہبی، رسومات کے ہماری ذہنی صحت پر اچھے اثرات ہو سکتے ہیں۔
اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ رسومات میں حصہ لینے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، مِس جینو کا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں ’اپنی ذاتی زندگی کے مشکل دور میں رسومات میں حصہ لینا چاہیے۔ مثلاً کوئی پریزنٹیشن دینے سے پہلے، امتحان سے پہلے، یا کسی مشکل گفتگو سے پہلے۔ ‘
ہو سکتا ہے کہ قدیم قبائل کے مچھیروں کی طرح، رسومات ہماری زندگی کے سمندر میں آئندہ آنے والے طوفانوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں۔











