یارسان: ایران کا وہ قدیم مذہب جس میں مونچھیں مقدس علامت سمجھی جاتی ہیں

Yarsani Soltan

،تصویر کا ذریعہBehnaz Hosseini

یارسان مذہب مشرقِ وسطیٰ کے سب سے قدیمی مذہبی عقیدوں میں سے ایک ہے جس کے ماننے والوں کو’اہلِ حق‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایران میں اس عقیدے کے پیروکاروں کی تعداد 10 سے 30 لاکھ کے درمیان ہے جن میں سے زیادہ تر لوگ مغربی ایران میں رہتے ہیں جو کُرد اکثریتی علاقہ ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

اس فرقے کے ایک سے ڈیڑھ لاکھ ماننے والے افراد عراق میں بھی رہتے ہیں جہاں ان کو ’کاکائی‘ کہا جاتا ہے۔

محقق بہناز حسینی نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایران اور عراق کی مذہبی اقلیتوں کے بارے میں تعلیم حاصل کی ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

انھوں نے حال ہی میں یرسانی فرقے کے پیروکاروں کے ساتھ تین دن گزارے ہیں، جن میں وہ روزے رکھتے ہیں۔

یارسانی ہر ماہ اپنی عبادت گاہوں میں جمع ہوتے ہیں جنھیں ’جام خانہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس اجتماع کو ’جام‘ کہا جاتا ہے۔ عبادت گاہوں میں انھیں کئی طرح کے ضابطوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے جس میں سر کو ایک مخصوص ٹوپی سے ڈھانپنا بھی شامل ہے۔

وہ دائرے میں ’پردیوار‘ کے رخ بیٹھتے ہیں۔ پردیوار جام خانے کا سب سے مقدس مقام ہوتا ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

یارسان فرقے کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ سلطان ساہک خدا کی سات نشانیوں میں سے ایک ہے۔

وہ تناسخ روح کے قائل ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ روح 1001 اوتار بدلنے کے بعد طہارت حاصل کر لیتی ہے۔

یارسانی ایک مقدس آلہ موسیقی بجاتے ہیں جسے ’طنبور‘ کہا جاتا ہے اور مقدس ’کلام‘ پڑھتے ہیں۔

یارسان

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

یارسانی اکتوبر اور نومبر میں تین روزے بھی رکھتے ہیں۔

روزوں کے تین ایام کے دوران یارسانی کمیونٹی کے لوگ ہر رات اپنے اپنے علاقوں میں اجتماع (جام) کرتے ہیں اور سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کیا جاتا ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

روزہ افطار کرنے کے لیے خاص طرح کی روٹیاں بنائی جاتی ہیں۔

یارسانی انار کو مقدس پھل مانتے ہیں اور کئی مذہبی تقریبات میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

یارسان فرقے کے ماننے والوں کے لیے مونچھیں ایک مقدس علامت ہیں۔ روایتی طور پر یارسانی مرد حضرات اپنی مونچھوں کو بڑھاتے ہیں اور کبھی نہیں کاٹتے۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

مسیحیوں، یہودیوں اور زرتشت اقلیتوں کے برعکس ایران کا آئین یارسانیوں کو مذہبی اقلیت تسلیم نہیں کرتا۔

حکومت انھیں ایسے شیعہ مسلمان تصور کرتی ہے جو صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں۔ ایران میں کئی شیعہ رہنما یارسانیوں کو ’منحرف عقیدہ‘ گردانتے ہیں۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

اس فرقے کے پیروکاروں نے سنہ 2018 میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کو بتایا تھا کہ وہ پیدائش کے وقت اپنے بچوں کا مذہب یارسانی نہیں لکھوا سکتے، انھیں عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، وہ اپنے مذہبی رسومات کے تحت جنازے نہیں کر سکتے اور اپنی مقدس کتاب کو چھاپ نہیں سکتے کیونکہ ایسا کرتے ہوئے انھیں خدشہ ہے کہ ان پر توہین مذہب کا الزام لگ سکتا ہے۔

اس فرقے کے چند پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ فوجی سروس کے دوران ان کی مونچھوں کو زبردستی شیو کر دیا گیا۔

ایران

،تصویر کا ذریعہBEHNAZ HOSSEINI

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔