بنگلہ دیش کے بلند ہوتے سمندروں کے خلاف کھڑے غیر معمولی محافظ

،تصویر کا ذریعہM. Shah Nawaz Chowdhury
- مصنف, عائشہ امتیاز
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
کچھ بھی محمد شاہ نواز چودھری کو جزیرہ کٹوبدیا کی سنگین حقیقت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا تھا۔ بنگلہ دیش کی جنوبی ساحلی پٹی پر موجود یہ جزیرہ مسلسل تیزی سے سمندر برد ہو رہا ہے اور زمینی اور سمندری حیات دونوں کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔
یہاں بسنے والے بہت سے افراد اپنا بوریا بسترا اٹھا کر چلے گئے ہیں اور جو نہیں جا سکتے تھے وہ کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ وہ کئی نسلوں سے جس جزیرہ کو اپنا گھر مانتے آئے ہیں وہ تبدیل ہو رہا ہے۔
محمد شاہ نواز چودھری کہتے ہیں کہ ' وہ سب وہ گھرانے تھے جنھیں میں جانتا ہو، عزت اور اعتبار کرتا ہوں۔ یہ مجھے روزانہ رلا دیتے ہیں۔' چودھری شاہ نواز ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہجرت کرتے افراد کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے جزیرے کے ارد گرد سمندر کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سنہ 2050 تک تقریباً ایک کروڑ 33 لاکھ افراد ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، کٹوبدیا جزیرے کے ساحل سے بالکل دور، لہروں کے درمیان امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے۔
پانی سے باہر نکلی ہوئی، سیپ سے بنی چٹانیں دھوپ میں چمکتی ہیں۔ یہ سیپ کی چٹانیں سمندری حیات کا شاندار مسکن ہیں اور مقامی افراد کے لیے معاش کا ایک ممکنہ ذریعہ۔ چودھری کو امید ہے کہ یہ سیپ کی چٹانیں کٹوبدیا جزیرہ کو سمندر کی بلند ہوتی سطح سے محفوظ رکھیں گی۔
کٹوبدیا جزیرے کے سیپ کی چٹانوں کا خیال سب سے پہلے سنہ 2012 میں آیا تھا جب چودھری شاہ نواز چٹاگونگ یونیورسٹی کے ادارہ برائے سمندری حیات میں ریسرچ ایسوسی ایٹ تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کی منطق سادہ سی ہے اور وہ یہ کہ سیپ کی چٹانیں ساحلی کٹاؤ کے خلاف دفاعی طریقہ کار کے طور پر سمندر کی لہروں کو ساحل تک پہنچنے سے پہلے پرسکون کر سکتی ہیں۔ اس نظریے پر پہلے نیدرلینڈ میں بھی کام کیا گیا تھا اور اس کے امریکہ کی ریاست لوزیانہ میں بھی مثبت نتائج سامنے آئے تھے۔ اب محقیقن وجیننگ یونیورسٹی میں چودھری اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کٹوبدیا جزیرہ کے حالت بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اس تمام کام میں مشکل یہ ہے کہ بنگلہ دیش، نیدرلینڈز اور درحقیقت لوزیانا، ہزاروں میل کے فاصلے پر ہیں اور ان کے ماحولیاتی سیاق و سباق بالکل مختلف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چودھری شاہ نواز کا کہنا ہے کہ 'ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا تھا جیسے کہ دریا کا بہاؤ، طوفان کے اضافے اور دیگر مون سون اثرات کی وجہ سے قدرتی تلچھٹ جو ہمارے ساحل کو اتنا متحرک بناتی ہے۔ میں اس بارے میں شک و شبہات نہیں رکھتا لیکن ہمیں بہت سی منصوبہ سازی کرنا پڑی۔'
اس کا امکان تھا کہ یہ امیدوں کو خاک میں ملا دے۔ کیا سیپیوں کے ذریعے ماحولیاتی انجینئرنگ چودھری کی سرزمین کی متحرک ساحلی پٹی کو بچا سکتی ہے؟ انھوں نے یہ جاننے کے لیے اگلے چھ سال گزارے، جس میں 600 سے زیادہ دن کٹوبدیا جزیرے پر رہنے والے 27 طلبا کے ساتھ گزارے۔ مسلسل طوفان، سمندری ہوائیں اور بلند ہوتی سمندر کی سطح یہ وہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے بنگلہ دیش کے ساحل بہت سی موسمیاتی تبدیلیوں کے دباؤ کا شکار ہیں۔
کٹوبدیا جزیرہ اپنی تیزی سے کم ہوتی ساحلی پٹی کے بدولت ان تمام مشکلات میں سے ایک معمولی معاملہ ہے جو شدید ترین سطح پر ہیں۔
چودھری شاہ نواز کا کہنا ہے کہ 'ممکنہ طور پر، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 تک، ہر سات میں سے ایک بنگلہ دیشی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بے گھر ہو جائے گا۔ ہم گلوبل وارمنگ اور گرم پانیوں کی وجہ سے مزید خوفناک لہروں کا سامنا کر رہے ہیں۔'
روایتی سٹریکچرل مداخلتیں، جیسے کنکریٹ کے پشتے یا ڈائکس، ساحل کی حفاظت کے لیے ایک عام طریقہ کار رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی غیر سرکاری تنظیم کوسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رضا الکریم چودھری کے مطابق، ملک کا 60 فیصد ساحل پشتوں سے محفوظ ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کنکریٹ سے بنے ہوئے دفاع کے بجائے جانداروں یعنی سیپیوں سے تعمیر کردہ دفاع زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہM. Shah Nawaz Chowdhury
سیپیوں کے پشتے
ماحولیاتی انجینئرنگ، یا ایکو انجینئرنگ میں قدرتی اور انسانی قدر دونوں کے ساتھ پائیدار ماحولیاتی نظام کو ڈیزائن کرنا شامل ہے۔
سیپیاں قدرتی طور پر سخت، ڈوبی ہوئی سطحوں پر جھرمٹ کے ذریعے اور چٹان کے ڈھانچے بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے ماحول کو سازگار کرتی ہیں۔ پانی میں غذائی اجزا کو فلٹر کرنے اور اسے برقرار رکھنے، مچھلیوں کے لیے اسپوننگ اور پناہ گاہ فراہم کرنے، اور اس طرح حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے میں ان کا کردار اچھی طرح سے تسلیم شدہ ہے۔
سیپ کی چٹانیں دیگر جانوروں کا بھی مسکن ہونے کے ساتھ ساتھ یہ پانی کے معیار کو بہتر بناتی ہیں اور سمندری گھاس اگانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ مگر شاہ نواز چودھری اور ان کے ساتھی نیدرلینڈز میں ان کے قدرتی پشتوں کے کردار میں دلچسپی لے رہے تھے۔ سیپ کی چٹانیں ساحل کو مسلسل طاقتور سمندری لہروں کے ٹکرانے سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔اگرچہ ان کا صرف یہ ہی فائدہ نہیں ہے۔
کٹوبدیا جزیرے کے منصوبے پر ویگننگن یونیورسٹی میں تحقیق کرنے والے پیٹرا ڈینکرز، سینئر کنسلٹنٹ برائے مورفولوجی اور ایکو انجینئرنگ کا کہنا ہے کہ 'آپ جو چاہتے ہیں وہ چٹان کے ڈھانچے کے پیچھے تلچھٹ ہے جو سیپ قدرتی طور پر بناتے ہیں۔ چٹانیں آپ کو زیادہ وسیع ساحل اور (نتیجتاً) پرسکون پانی فراہم کرتی ہیں۔
اس طرح کی روانی فطرت کے نقطہ نظر کے ساتھ عمارت کی پہچان ہے۔ اور اسے ایک دھچکے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، یہ منصوبہ کا حصہ بن جاتا ہے۔ ویگننگن یونیورسٹی میں شیل فش کلچر کے پروفیسر آڈ سمال کہتے ہیں کہ 'یہ ایک متحرک عمل ہے، یہ سخت ٹھوس ڈھانچہ نہیں ہے۔ اور یہ ہمارے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے قدرتی قوتوں کو استعمال کرنے کی نئی سمجھ ہے۔'
کٹوبدیا کو قدرتی طور پر بچانے والے قدرتی ڈھانچوں کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ، دنیا بھر میں بہت سے سیپ کی چٹانوں کے منصوبوں کے برعکس (مثال کے طور پر خلیج میکسیکو میں)، یہ زوال پذیر چٹان کی بحالی نہیں تھی۔ یہ انجینئرنگ ڈھانچے کے طور پر نئی چٹانوں کو متعارف کروانا تھا۔ شاہ نواز چودھری نے اس حوالے سے کیے گئے اپنے ابتدائی سروے میں پایا کہ خوش قسمتی سے اس خطے نے سیپ کی چٹانوں کے لیے بہت سے مثالی حالات پیش کیے۔یہاں پانی کا درجہ حرارت بھی مناسب تھا، پانی کابہاؤ اور رفتار بھی ٹھیک تھی، پانی میں نمکیات کا تناسب اور آکسیجن کی مقدار بھی مناسب تھی۔ پانی میں آبی حیات کے زندگی کے تمام آثار موجود تھے اور یہاں سیپیوں کی افزائش ممکن تھی۔

،تصویر کا ذریعہM. Shah Nawaz Chowdhury
اگلی چیز جو انھیں دیکھنی تھی وہ یہ تھی کہ خلیج بنگال کے پانیوں میں سیپ کے انڈے موجود ہیں یا نہیں۔ آڈ سمال کا کہنا ہے کہ 'یہ ایسے نہیں تھا کہ آپ پانی میں کچھ ڈالے اور اس کے مثبت کام کرنے کی امید کر لیں۔' وہ بتاتے ہیں کہ یہاں وہ سمندری سطح بھی موجود تھی جہاں سمندری حیات اور سیپ کے انڈے موجود تھے۔' وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تھا کہ سیپ کے پانی میں بہتے انڈے یہاں بس سکتے تھے اور تیز سمندری لہروں کے باوجود وہ یہاں سے ہل نہیں سکتے تھے۔
درحقیقت کٹوبدیا جزیرے پر سیپ بڑی تعداد پر سیمنٹ کے پتھروں کے گرد قدرتی طور پر افزائش حاصل کر رہے تھے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کنکریٹ کے ڈھانچے سیپیوں کی قدرتی افزائش کے لیے ایک اچھا متبادل ہیں۔ لہذا سیپ کی چٹانیں بنانے کے لیے چودھری اور ان کے ساتھیوں کو مزید کنکریٹ کی ضرورت تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہم ان چیزوں کا استعمال کرنا چاہتے تھے جو مقامی طور پر دستیاب ہو اور سستا ہو۔ یہ ڈھانچہ بھی مرضی کا یعنی گول دائرے میں بنائے گئے ستون جو مقامی باشندے اپنے بیت الخلا بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔یہ فوری دستیاب نہیں ہو سکتے تھے لیکن یہ مون سون کے سخت موسم کے دوران کھڑے رہ سکتے تھے۔
بحیثیت ماہر کے علم
لیکن جب کہ سیپ کچھ حالات میں کنکریٹ پر کثرت سے افزائش کر سکتے ہیں، وہ اپنے مسکن کی دیگر خصوصیات کے بارے میں انتہائی خاص ہیں۔ چودھری کہتے ہیں کہ 'سیپ کی افزائش کے لیے اس کی ایک مخصوص ترجیح ہے وہ 20 فیصد سے زیادہ وقت تک ہوا یا سورج کے سامنے نہیں آسکتے ہیں۔' چودھری کا کہنا ہے کہ مصنوعی چٹان کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے میں مدد کرنے والے بہترین لوگ مقامی ساحلی برادری تھی، جو پہلے ہی موسموں میں لہر کے عروج و زوال کی تال سے ہم آہنگ تھے۔
2014 میں ایک تجرباتی مقام پر 300 کلوگرام کنکریٹ کے چھلے کی شکل کے ڈھانچے پانی میں پھینکے جانے سے قبل کوستورا (سیپیوں کے لیے مقامی لفظ) کے بارے میں مقامی جزیرے والوں کا علم اس کے اور اس کے تحقیقی ساتھیوں کے لیے انمول ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہM. Shah Nawaz Chowdhury
2016 میں جب کنکریٹ کے ان ڈھانچوں کو ان کی آخری منزل پر منتقل کیا گیا تو مقامی لوگوں نے دو سال بعد کنکریٹ کے ڈھانچوں کے لیے بہترین جگہوں کا انتخاب کرنے میں بھی مدد کی۔ چودھری کہتے ہیں 'میں ہمیشہ مقامی علم کا احترام کرتا ہوں۔' ایک مرتبہ جب صحیح جگہ اور ساز گار حالات کا انتخاب ہو جائے تو یہ چٹانیں سمندر کی سطح کے ساتھ ساتھ اوپر کی جانب بڑھنا شروع کر سکتی ہیں۔
ان چٹانوں کو قدرتی طور پر پہنچے والا معمولی نقصان خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ سیپیوں کی نئی آبادی بن جاتی ہیں اور ان کی جگہ لے لیتی ہیں جو وہاں سے غائب ہو گئی تھی۔ محققین نے امید ظاہر کی کہ سیپ مقامی برادری کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک اور شکار کے بھرپور مواقع بھی بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ کسی حد تک مقامی ذوق کے خلاف چلا گیا۔
سمال کہتے ہیں کہ 'اگرچہ سیپ تکنیکی طور پر حلال ہیں (اسلام میں حلال)، بنگلہ دیش میں اب تک اس کے استعمال کی زیادہ عادت نہیں ہے۔' 'ہمارے تمام لوگ سیپوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔' چودھری اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں انھیں بڑے پیمانے پر نہیں کھایا جاتا۔ 'کچھ لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ سیپ کیا ہے۔'
لیکن کیونکہ انھوں نے سیپوں کو براہ راست نہیں کھایا، تجربہ کار کٹوبدیا ماہی گیر زرخیز رہائش گاہ اور ماہی گیری کے بہت سے میدانوں سے بخوبی واقف تھے جو سیپ کی چٹانیں فراہم کرتی ہیں۔ چودھری کہتے ہیں، 'ہم نے ان ڈھانچوں میں مٹی کے کیکڑوں کو تلاش کرنا شروع کیا، جو چٹان سے کھینچے گئے تھے۔مٹی کے کیکڑوں کی بہت زیادہ برآمدی قیمت ہوتی ہے۔ایک کلو دس ڈالر میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ دو سے تین خاندان ایک چھوٹی سی سیپ کی چٹان میں جال ڈال کر آسانی سے روزی روٹی کما سکتے ہیں۔'
تحقیقی ٹیم نے جو دوسری انواع دریافت کیں ان میں بارنیکلز، سمندری انیمونز، گیسٹرو پوڈز اور پولی چیٹس (سمندری کیڑے) شامل تھے۔ یہ سب مچھلیوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔
جزیرے پر اپنی زندگی گزارنے والے 55 سالہ ماہی گیر عثمان علی کا کہنا ہے کہ چٹانیں بڑھنے کے بعد انھیں روزی کمانے کے لیے کئی کئی گھنٹے کام کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کستورا کے قریب کیکڑے، جھینگے اور مچھلیاں بڑی تعداد میں مل جاتی ہیں۔
حالانکہ ابھی یہ چٹانیں صرف سو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں اور علی اس بات سے متفق ہے کہ 'اگر بڑی چٹانیں بنائی جاتی تو یہاں زیادہ مچھلی ملنے کا امکان تھا۔' چودھری کہتے ہیں کہ 'میں نے مچھیروں کو ایک شراکت داری کی پیشکش کی تھی کہ اگر آپ ان چٹانوں کا خیال رکھیں گے تو یہ آپ کا خیال رکھیں گیں۔'
ریپل ایفیکٹ
جب مچھلیوں کا استقبال کیا گیا، یہ چٹان کے پیچھے تلچھٹ کا مجمع تھا جس نے فرق ڈالنا شروع کیا۔ ڈینکرز کہتی ہیں کہ 'یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کس ماحول میں ہیں، تلچھٹ آہستہ آہستہ نچلی طرف جمع ہو جاتی ہے۔' وہ کہتی ہیں کہ نیدرلینڈز میں ہم نے ایک سے پانچ سیٹی میٹر سالانہ دیکھی جبکہ بنگلہ دیش میں ہم نے 30 سینٹی میٹر تک دیکھی تھی۔ ساحلی ڈیلٹا میں ہمالیائی گاد کی بڑی مقدار اس طرح کے نمایاں فرق کی وجہ تھی۔
چودھری کا کہنا ہے کہ 'ہم وسائل کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے پانی میں تلچھٹ کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارے وسیع پیمانے پر بھرما پترا، میگھنا اور گنگا دریاؤں کے نیٹ ورک سے اربوں ٹن تلچھٹ بہہ رہی ہے۔ اگر ہم اسے اپنی ساحلی پٹی میں آباد کرنے کا راستہ تلاش کر لیں تو ہم ایک نیا ملک بنا سکتے ہیں۔ چودھری کو علم ہوا کہ چٹان نے اپنے پیچھے 30 میٹر تک تلچھٹ کو جمع کرنے میں مدد کی، اور مون سون کے موسم میں بھی گاد کو مستحکم کیا۔ اس نے شدید موسم میں بھی کام کیا اور سمندری طوفان راونو کے دوران بھی 70-110 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے چلنے والی ہوا کا مقابلہ کیا۔ آس پاس کے پودوں نے بھی خوب افزائش کی۔
یہ نباتات ساحل کو بحال کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ یہ ملک کے دیگر حصوں میں ہوتا ہے۔ چودھری کہتے ہیں کہ 'سندربن کے علاقے کے قریب، آپ کو کٹاؤ نظر نہیں آتا ہے کیونکہ مینگروو کے جنگلات ایک بایوشیلڈ کا کام کرتے ہیں'
عالمی بینک میں ماحولیاتی ماہر معاشیات سسمیتا داس گپتا بھی اس تحقیق سے متفق ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ مینگرووز سمندر طوفانوں کو روکنے کا ایک موثر ذریعے ہیں۔ مینگرووز جڑوں، تنوں اور پتوں سے پانی کے بہاؤ کو روکتے ہیں اور پانی کی رفتار کو 29 سے 92 فیصد تک کم کر دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہM. Shah Nawaz Chowdhury
ڈینکرز کہتی ہیں کہ 'آپ پہلے سیپ کی چٹان بنا سکتے ہیں اور اس کے پیچھے مینگرووز۔' وہ کہتی ہیں کہ دنیا کے بہت سے ساحلوں پر مینگروو کے جنگلات ہوتے تھے، لیکن پچھلی صدی میں بہت کچھ کھو گیا ہے۔ 'اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا مینگروو سسٹم کتنا وسیع ہے - مثال کے طور پر، یہ چند کلومیٹر پر محیط ہو سکتا ہے - آپ کو ڈائک یا دیوار کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے یا نہیں۔'
لیکن سیپ صرف ایک خاص حد تک مدد کر سکتے ہیں۔ ڈینکرز خبردار کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش جیسے نشیبی ساحلی ممالک کے لیے ایک غیر تسلی بخش تشویش لاحق ہے: تیزی سے ڈوبتی ہوئی مٹی۔
بنگلہ دیش ایک سال میں پانچ سے بیس سینٹی میٹر کی شرح سے ڈوب رہا ہے، ڈینکرز کا اندازہ ہے، جس سے سطح سمندر میں اضافے کے خلاف لڑائی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، اور ترقی (اور آبادی) میں اضافے کے ساتھ صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے۔ حالیہ تحقیقوں سے پتہ چلتا ہے کہ قدرتی طور پر مٹی کی کمی کی سب سے بڑی وجوہات اکثر انسانوں کی پیدا کردہ ہوتی ہے جس میں زیر زمین پانی نکالنا، تیل اور گیس نکالنا، اور کان کنی شامل ہیں۔
اور یہ مسئلہ صرف گنجان آبادی والے علاقوں اور ساحلی شہروں میں ہی بڑھتا ہے جس میں مقامی، اونچائی کی طرف سے سیلاب کی حفاظت ہوتی ہے جو تلچھٹ کی فراہمی کو محدود کرتی ہے۔ ڈینکرز کہتے ہیں کہ زیر زمین پانی نکالنا دنیا کے بہت سے ممالک میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور اگر کہیں نہیں ہے تو اگر مناسب قانون سازی نہ کی گئی تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔
'بنگلہ دیش کے لیے یہ ہی وقت ہے کہ وہ اس پر قانون سازی کریں ورنہ ان کا حال جکارتہ کی طرح ہو جائے گا۔ یعنی اس دارلحکومت کی طرح جہاں ابھرنے والی ہر بڑی لہر کے ساتھ سیلاب آ جاتا ہے۔ ہم تلچھٹ کے حوالے سے کام کر سکتے ہیں لیکن ساحلوں پر بڑا مسئلہ مٹی کا سرکنا ہے۔'
'آپ سخت ڈھانچے کے ساتھ اونچی اور اونچی تعمیر جاری نہیں رکھ سکتے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ برقرار نہیں رہ سکتے۔ اور اس طرح کے قدرتی حل میں وقت لگتا ہے۔ آپ چٹانوں کو جلد شروع کرنا چاہتے ہیں۔'
آج ایسا لگتا ہے کہ جزیرے کٹوبدیا میں سیپ کی چٹان نے عمارت کے 'قدرتی' حصے کو فطرت کے سودے کے طور پر سنبھال رکھا ہے، لیکن انسانوں کی طرف سے ضروری دیکھ بھال کو کسی حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ چٹانیں بڑھ گئی ہے، لیکن ان کے کچھ حصے تیز لہروں میں کشتیوں کے ٹکرانے سے ٹوٹ گئے ہیں۔
چودھری کہتے ہیں، 'سائٹ نے وہ سائن پول کھو دیا ہے جو ہم نے اس سے بچنے کے لیے لگایا تھا۔ہمارے پاس اسے واپس رکھنے اور مزید نگرانی کرنے کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔' وہ چٹان کی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے کم از کم ایک کلومیٹر لمبائی کی ایک بڑی ٹیسٹنگ سائٹ قائم کرنے کی امید کرتے ہے۔
بہر حال، سمال پر امید ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'ہم زندہ چٹانوں کی کمزوریوں سے واقف ہیں، جیسے کہ بیماری کے لیے حساسیت۔ پھر بھی سیپ مضبوط ہیں۔' میں امید کرتا ہوں کہ سیپ ساحلی دفاع کو دیکھنے کے انداز میں ایک پیراڈائم شفٹ کا حصہ ہوں گے۔ وہ کہتے ہے کہ 'یہ نظریہ قدرتی وسائل کو استعمال کرنا اور فطرت کے ساتھ تعمیر کرنا ہے۔کیونکہ اس کے خلاف کام کرنا اب ممکن نہیں رہا۔'












