انڈیا میں فضائی آلودگی سے ٹائلیں بنانے کا منصوبہ تیار کرنے والا نوجوان

انگد

،تصویر کا ذریعہCourtesy Angad Daryani

،تصویر کا کیپشندمے کے مرض کی تکلیف برداشت کرنے والے انڈیا کے انگد دریانی نے طے کیا تھا کہ وہ ہوا کو آلودگی سے پاک کرنے کا کوئی آلہ ایجاد کریں گے
    • مصنف, آئیزابیل گیریسٹن
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

دنیا بھر میں فضائی آلودگی انسان کے لیے مضرِ صحت ہے لیکن انڈیا میں ایک سائنس دان کا خیال ہے کہ وہ ہوا کو دھوئیں، گرد و غبار سے پاک کر کے اسے دوبارہ سے قابلِ استعمال بنا سکتے ہیں۔

جب انگد دریانی دس برس کی عمر میں ممبئی میں رہتے تھے تو اُنھیں فٹبال کے میچز کے دوران سانس لینے میں کافی دشواری ہوتی تھی کیونکہ انڈیا کے اس بڑے شہر کی فضا دھوئیں اور گرد سے آلودہ تھی۔ شدید آلودہ ہوا کی وجہ سے ان کے دمے کا عارضہ شدید ہو جاتا تھا۔

دریانی جن کی عمر اب 23 برس ہے کہتے ہیں کہ ’میں جب ممبئی کی فضا میں باہر جا کر کھیلتا تھا تو فضائی آلودگی کی وجہ سے مجھے کھانسی شروع ہو جاتی تھی۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا تو اُس وقت مجھے دمہ تھا۔ اس کی وجہ سے فٹ بال میں میری تیز دوڑ کی رفتار کم ہوتی گئی۔‘

انڈیا کا شمار دنیا کے بدترین آلودہ ممالک میں کیا جاتا ہے۔ دنیا کے تیس بدترین آلودہ شہروں میں سے بائیس اس ملک میں ہیں، جہاں ہر برس فضائی آلودگی سے دس لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

ان شہروں پر چھائی ہوئی فضائی آلودگی میں بہت ہی خطرناک قسم کے ایسے ذرات موجود ہوتے ہیں جنھیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے۔ ان آلودہ ذرات کو پھیھڑوں اور امراض قلب کا ایک بڑا سبب کہا جاتا ہے اور ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے متاثرین کی ذہانت اور ان کا قدرتی مدافعاتی نظام بھی خراب ہوتا ہے۔

گرین پیس ساؤتھ ایشیا نامی غیر سرکاری تنظیم کے تجزیے کے مطابق،پی ایم 2.5 کی فضائی آلودگی کی وجہ سے سنہ 2020 میں صرف نئی دہلی میں 54000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دریانی کہتے ہیں کہ ’آپ امریکی شہروں کی نبست انڈیا میں توانائی کی سطح میں بہت زیادہ فرق دیکھیں گے۔ آپ جیسے ہی کچھ پیدل چلیں گے آپ تھکان محسوس کریں گے، اس کی وجہ آلودگی ہے۔‘

فضائی آلودگی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے اضافے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک کاربن جیسی آلودگی کو کم کرنے سے گلوبل وارمنگ کو کم کرنے اور صاف ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپنی صحت پر فضائی آلودگی کے برے اثرات پڑنے کے ذاتی تجربے کی وجہ سے دریانی کا انڈیا میں ان چند موجدین میں شمار ہو رہا ہے جن سے یہ امید لگائی جا رہی ہے کہ وہ انڈیا کی فضا کو آلودگی سے پاک کریں گے۔ ان کے خیال میں اس کا حل یہ ہے کہ فضا میں موجود کاربن سے بھرے دھوئیں اور دیگر آلودہ کرنے والے ذرات کو کنٹینروں میں جمع کیا جائے تاکہ انھیں ٹائلیں بنانے جیسی مفید چیز میں تبدیل کیا جا سکے۔

دریانی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ فضائی آلودگی کو صحت عامہ کے لیے خطرے کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کے لیے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی کس طرح اس پر فوری طور پر قابو پایا جائے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

وہ کہتے ہیں کہ ’فضائی آلودگی سے ہر برس دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں لیکن ہم اسے کووڈ 19 کی طرح سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘

پچھلے برس انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پی ایم 2.5 ذرات کا سب سے زیادہ ارتکاز ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی ادارہ صحت کی بیان کردہ محفوظ حد سے 14 گنا زیادہ ہے۔

نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے اس وقت کورونا وائرس میں اضافے کے لیے فضائی آلودگی کو ذمہ دار قرار دیا۔ کئی ایک تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ فضائی آلودگی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کووڈ 19 سے اموات کی تعداد میں کافی زیادہ اضافہ کر سکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 میں صرف 1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کا اضافہ امریکی شہروں میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات میں 15 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار کلائمیٹ، ہیلتھ اینڈ گلوبل انوائرمنٹ کے ڈائریکٹر آرون برن سٹائن کا کہنا ہے کہ ’فضائی آلودگی میں ہر چھوٹے اضافے سے ہلاکتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔‘

دریانی کے پاس اب زیادہ وقت نہیں، انڈیا کو لوگوں کی صحت کی حفاظت کے لیے آلودگی کو فوری طور پر کم کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تمام گاڑیوں کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے میں کم از کم 30 برس لگیں گے۔ اس عرصے کے دوران شہروں میں فضائی آلودگی سے لوگوں کے دم گُھٹ جائیں گے۔ ہمیں اب مقامی سطح پر ہوا کو صاف کرنا ہے۔‘

اس کے پاس اس مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے۔۔۔ ایک کم لاگت والا نظام تیار کریں جو آلودگی کو جمع کر سکے تاکہ اسے کسی اور چیز میں تبدیل کیا جا سکے۔

امریکہ میں جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے دریانی نے ایک آؤٹ ڈور پیوریفیکیشن سسٹم تیار کیا جو ہوا کو ذرات اور دیگر آلودگیوں سے پاک کر دیتا ہے۔ ان کا بنایا ہوا سسٹم فضا کو آلودہ کرنے والے ذرات کو جذب لیتا ہے اور انھیں کنٹینر میں جمع کرتا ہے اور پھر صاف ہوا کو واپس فضا میں چھوڑ دیتا ہے۔

اپنے پہلے آلے کو ڈیزائن کرنے کے بعد دریانی نے سنہ 2017 میں سٹارٹ اپ کمپنی ’پران‘ کے ساتھ مل کر اس کا آغاز کیا جس کا مقصد ایک سستی اور ورسٹائل آؤٹ ڈور ایئر پیوریفائر بنانا تھا۔

’پران‘ کا مقصد دنیا کا پہلا فلٹر لیس پیوریفائیر ڈیزائن کرنا ہے جو انفراسٹرکچر کی حدود میں ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ہوا کو صاف کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے

AFP

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے کئی شہروں میں بدترین آلودہ فضا ہے جو سانس کی بیماریوں کی بہت بڑی وجہ ہے

تاہم دریانی کا کہنا ہے کہ ’اسے کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے؟ یہ کوئی حل نہیں۔ ’پران‘ کا تیار کردہ آلہ 176 سینٹی میٹر اونچا ہے اور اسے گلیوں میں لگے کھمبوں پر، فلیٹوں یا سکولوں کی عمارتوں پر باآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔‘ دریانی کہتے ہی کہ ایسے دو آلوں کی قیمت انڈیا میں فروخت ہونے والے ایک نئے ’آئی فون پرو‘ کی قیمت سے کم ہے، جس کی قیمت ایک لاکھ پینتیس ہزار انڈین روپے (1830 امریکی ڈالر) بنتی ہے۔

دریانی کا کہنا ہے کہ فلٹرز کے استعمال کی صورت میں جیسے عام گھروں میں فلٹر استعمال کیے جاتے ہیں، انھی کی طرح آلودہ شہروں میں نصب کیا جانے والے آلات کے فلٹروں کو روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوٹلوں میں اندرونی فضا کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والے پیورفائرز کے فلٹروں پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ اس لیے ’اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے میرے خیال میں اسے فلٹروں کے بغیر ہونا چاہیے۔‘

ان کنٹینروں میں جمع کی جانے والی کاربن کو ’کاربن کرافٹ ڈیزائن‘ نامی ایک اور کمپنی کے حوالے کیا جاتا ہے جو ان مہین ذرات والی آلودگی سے فرش کی تزئین کے لیے خوبصورت اور آرائشی ٹائلیں ہاتھوں سے تیار کرتی ہے۔

دریانی کا تیار کیا گیا آلہ 300 کیوبک فٹ ہوا فی منٹ صاف کر سکتا اور 11540 کیوبک سینٹی میٹر آلودگی جمع کر سکتا ہے۔ بیرونی ہوا کتنی آلودہ ہے اس پر انحصار کرتے ہوئے کلیکشن چیمبر کو ہر دو سے چھ ماہ بعد خالی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جمع کی گئی آلودگی کو پھینکنے کے بجائے، دریانی اور اس کی ٹیم نے اس کا دوبارہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

ٹائل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کنٹینرز میں جمع کیے گئے کاربن کو پھینکنے کے بجائے ایک اور انڈین کمپنی کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کا نام ’کاربن کرافٹ ڈیزائن‘ ہے، جو مہین پاؤڈر والے آلودہ ذرات کا استعمال ہاتھ سے تیار کردہ فرش کی آرائشی ٹائلیں بنانے کے لیے کرتی ہے۔

کاربن آلودگی والے عناصر ایک روغن کی طرح کام کرتے ہیں جسے پتھروں کے فضلے اور مٹی یا سیمنٹ جیسے بائنڈنگ ایجنٹ کے ساتھ ملا کر تیار کیا جاتا ہے اور پھر انھیں ٹائلوں کے خوبصورت نمونے (پیٹرنز) بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر ان ٹائلوں کا استعمال ریستورانوں، دکانوں اور ہوٹلوں میں فرش پر ڈیزائین بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

’پران‘ نے حال ہی میں اپنا پہلا سرمایہ کاری کا دور مکمل کیا۔ اس نے امریکی اور انڈین سرمایہ کاروں سے پندرہ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ دریانی اس فنڈنگ کو پائلٹ پروگرام چلانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس موسم خزاں میں پورے انڈیا میں سکولوں، ہوٹلوں اور صنعتی منصوبوں میں اُس کے تیار کردہ آلات نصب کیے جائیں گے لیکن وہ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اگلے چند برسوں میں یہ ٹیکنالوجی انڈیا سے باہر بھی دستیاب ہو جائے گی اور اس دوران ’پران‘ کو جنوبی کوریا اور میکسیکو سے پہلے ہی اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی کے اشارے مل چکے ہیں۔

تاہم اس آلے کی قیمت کم رکھنا بھی ان کی ترجیح ہے۔ درانی کا کہنا ہے کہ ’دنیا کے بہت سے آلودہ ممالک غریب ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔‘

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انڈیا میں کم آمدنی والے گھروں میں فضائی آلودگی سے مرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

انگد

،تصویر کا ذریعہCourtesy Angad Daryani

،تصویر کا کیپشنانگد دریانی کے ایجاد کردہ آلے سے فلٹر کے بغیر ہوا میں موجود باریک ذرات کو علحیدہ کر کے جمع کیا جا سکتا ہے

امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں ییل سکول آف انوائرمنٹ سے وابستہ انرجی سسٹمز کے بارے میں ایک تحقیق کے مرکزی مصنف، اسوسی ایٹ پروفیسر نرسمہا راؤ کا کہنا ہے کہ ’کم آمدنی والے طبقے، بالواسطہ طور پر بہت زیادہ فضائی آلودگی پیدا نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ انرجی استعمال ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ دوسرے ذرائع سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے غیر متناسب اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔‘

مرکاٹس سینٹر میں ایمرجنٹ وینچرز پروگرام کی سربراہ، ماہرِ معاشیات شروتی راجا گوپلان کہتی ہیں کہ ’کچی آبادیوں کے بچے، خاندان جو صنعتی علاقوں کے قریب رہنے پر مجبور ہیں یا شاہراہوں کو ہمیشہ نئی سے نئی تبدیلیوں اور بہتری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ صحت کے نقصان کو کم کیا جا سکے۔‘

ایمرجنٹ وینچرز نے ’پران‘ کو ان کے ترقیاتی عمل کے آغاز میں یکے بعد دیگرے مالی امداد فراہم کیں۔ راجاگوپلان کہتی ہیں کہ ’یہ ان علاقوں میں بھی ایک اہم پیشرفت ہے جہاں آلودگی کا بہتر انتظام کیا جاتا ہے۔‘

دریانی نے ایک نیا آلہ بھی ڈیزائن کرنا شروع کر دیا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو حاصل کر سکتا ہے تاکہ یہ ہوا کو گرین ہاؤس گیس سے پاک کرے۔ اسے امید ہے کہ ایک ایسا آلہ ہے جو سال کے آخر تک انڈیا میں تیار ہو جائے گا اس سے ایک ٹن CO2 ہوا سے علحیدہ کر سکے گا اور اسے پارکوں یا صنعتی علاقوں میں نصب کیا جا سکے گا۔

ان کے منصوبوں میں امریکہ اور یورپ کے صارفین پہلے سے ہی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ اور یورپ دونوں نے سنہ 2050 تک اپنی کاربن آلودگی کے اخراج کو صفر تک کم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آنے والی نسلوں کو یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ایک اچھا مستقبل ہے۔‘