کونکورڈ: آواز کی رفتار سے تیز سوویت طیارہ مغربی ساختہ کونکورڈ کا مقابلہ کیوں نہیں کر پایا؟

ٹی یو-144

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنآواز کی رفتار سے دوگنا تیز رفتار سے سفر کرنے والا دنیا کا پہلا طیارہ کونکورڈ نہیں بلکہ ’کونکورڈسکی‘ کہلانے والا ٹی یو-144 تھا جسے سوویت یونین نے مغرب پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے تیار کیا تھا
    • مصنف, سٹیفن ڈاؤلنگ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

یہ سنہ 1968 کا دسمبر کا مہینہ تھا اور واقعتاً ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی کا حامل نیا طیارہ اپنی پہلی پرواز شروع کرنے والا تھا۔

یہ ایک دیوقامت سفید رنگ کے نیزے سے مشابہت رکھتا تھا۔ سنہ 1960 کی دہائی میں انسان کی بنائی جانے والی جدید ترین اشیاء کی طرح مستقبل کی شکل پیش کرنے والا۔ یہ طیارہ خاص طور پر ڈیزائن ہی رائفل کی گولی کی رفتار سے پرواز کرنے کے لیے تھا۔ اس رفتار کے بارے میں کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ یہ مسافر طیاروں کے لیے ناقابلِ عمل ہے۔

اس طیارے کو ممتاز کرنے والا، اس کا سوئی کی نوک جیسا اگلا حصہ سائنس فِکشن ڈرامہ سیریل 'فلیش گورڈن' میں راکٹ کی طاقت سے چلنے والی کسی چیز کا کاروباری حصہ لگتا ہے۔

یہ نوکیلی ناک اس طرح بنائی گئی ہے کہ یہ نیچے کی جانب جھکتی ہے تاکہ پائلٹ کو اترتے ہوئے زمین کو دیکھنے میں زیادہ آسانی ہو۔ اس ڈیزائن کی وجہ سے جب یہ طیارہ زمین پر اتر رہا ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک دیوقامت پرندہ اتر رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں سے بننے والے طیارے کونکورڈ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بحرِ اوقیانوس کو تقریباً تین گھنٹوں میں عبور کر لے گا، لیکن نہیں، یہاں کسی اور طیارے کا ذکر ہے۔

خلائی جہاز کی مانند اس طیارے کی دم پر نصب عمودی پر کے اوپر روسی پرچم کے درانتی اور ہتھوڑے کا نشان بنا ہوا ہے۔ یہ 'ٹوپولیف ٹی یو-144' یعنی کمیونسٹ کونکورڈ ہے، آواز کی رفتار سے دگنی رفتار پر پرواز کرنے والا پہلا طیارہ۔

یہ بھی پڑھیے

یہ سوویت طیارہ برطانوی-فرانسیسی کونکورڈ سے تین ماہ قبل پہلی پرواز کرتا ہے۔ لیکن کونکورڈ کی جسامت اور اس کی سہولتوں سے ملنے جلنے کی وجہ سے 'کونکورڈسکی' کہلانے والے ٹی یو-144 کا نام کبھی بھی زبانِ زدِ عام نہیں ہوسکا۔

اس کی وجہ جزوی طور پر اس کے ڈیزائن میں موجود خامی تھی لیکن اس کی ایک اور وجہ سنہ 1973 کے پیرس ایئر شو میں ساری دنیا کے سامنے ہونے والے ایک حادثہ بھی تھی۔

سرد جنگ کے زمانے میں ٹیکنالوجی کی کئی ایک انقلابی کامیابیوں کے پیچھے اصل محرک سیاست ہوا کرتی تھی اور ٹی یو-144 کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔

سنہ 1960 میں سویت یونین کے سربراہ نیکیتا خروشیف کے علم میں لایا گیا کہ برطانیہ اور فرانس اپنی ہوا بازی کی صنعت میں نئی جان ڈالنے کے لیے ایک نئے طیارہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

کونکورڈ نامی اس مسافر طیارے کو سُپرسونِک یعنی آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرنے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ یورپ سے امریکہ تک کے سفر کا دورانیہ کم ہو کر صرف چند گھنٹے رہ جائے۔ دو برس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے اس طیارے کے مشترکہ ڈیزائن اور تیاری کے معاہدے پر دستخط کیے۔

تقریباً اُنہی دنوں میں طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ کو سپرسونِک ٹرانسپورٹ کے پراجیکٹ کے آغاز کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی گئی۔

سوویت یونین نے سوچا کہ ان کے پاس اب ضائع کرنے کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔

کونکورڈ کے سابق پائلٹ اور برٹش ایئرویز کے فلائٹ آپریشن مینیجر جوک لوو کہتے ہیں کہ 'کونکورڈ اور ٹی یو-144 کے درمیان مقابلے بازی اس دور کے بین الاقوامی حالات کا ایک عکس پیش کرتی ہے۔ خلائی دوڑ اور چاند پر پہلے قدم رکھنے کا مقابلہ بیک وقت جاری تھے۔‘

جہاز

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنسوویت انجینیئرز مِگ-21 جیسے لڑاکا طیاروں پر ڈیلٹا ونگ کنفیگیوریشن کو پہلے ہی سے استعمال کر چکے تھے

لوو کہتے ہیں کہ 'اُس وقت خیال یہ تھا کہ طیارہ جتنی زیادہ رفتار سے پرواز کرے گا وہ اتنا ہی کامیاب ہوگا۔' جن دنوں میں مِگ-21 اور امریکی طیارہ ایف-104 آواز کی رفتار سے دوگنا تیز پرواز کرسکتے تھے، تو اس وقت سپرسونک سفر مشکل سہی مگر ممکن ضرور معلوم ہوتا تھا۔

فلائٹ گلوبل جریدے کے پبلشر ڈیوڈ کامِنسکی-مورو کہتے ہیں کہ 'سوویت یونین کی خلائی سفر میں ابتدائی کامیابیوں نے ٹیکنوکریٹک سیاسی دور میں اعتماد کو مزید مضبوط کیا جس کی وجہ سے قیادت کو بھی یہ یقین ہوگیا کہ وہ مغربی کمپنیوں کے منصوبوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔'

سوویت یونین ٹی یو-104 جیٹ لائنر کی وجہ سے پہلے ہی ایک انقلابی کامیابی حاصل کر چکا تھا جس نے مغرب کو اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب اس نے 1950 کی دہائی میں سوویت وفود کو لانا لے جانا شروع کیا۔ ٹی یو-144 کی تاریخ پر سرد جنگ کے خاتمے سے پہلے ایک کتاب سوویت ایس ایس ٹی کے مصنف ہوورڈ مون کہتے ہیں ٹی یو-104 نے ہوا بازی کی صنعت میں اس سے بھی بڑے خواب کی تکمیل کا راستہ ہموار کر دیا تھا۔

سنہ 50 کی دہائی میں جتنی تیز رفتاری سے سوویت یونین کے صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی اس سے متاثر ہو کر اس ملک کے پالیسی سازوں نے بڑے بڑے منصوبوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

ہوورڈ مون لکھتے ہیں کہ 'سوویت یونین کے سر پر خلائی سفر اور فوجی ہوائی جہازوں کی کامیابی کے سہروں کے بعد وہاں کی قیادت اپنی کامیابی کے سحر میں اس حد تک آگئی کہ اُس نے اِس سے بھی زیادہ متاثر کُن منصوبوں پر کام کرنے پر سوچنا شروع کر دیا۔ سوویت یونین میں انجینئیرنگ اور اقتصادی حقائق کے درمیان اس کشمکش اور اس منصوبے کی منظوری دینے والی سوویت قیادت کی بلند توقعات کی وجہ سے اس طیارے کی پیچیدہ تاریخ نے جنم لیا۔‘

طیارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمغرب کے لیے ٹی یو-104 سوویت طیارے کا بننا ایک حیران کن واقعہ تھا

ٹی یو-144 کو ایسا منصوبہ مان لیا گیا جسے ہر حال میں کامیاب ہونا تھا چاہے اس کی کامیابی کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔ کامنسکی مورو کہتے ہیں کہ پھر سنہ 60 کی دہائی میں جب سوویت یونین کے بہت زیادہ وسائل خلائی دوڑ میں جھونک دیے گئے تھے، ایسی توقع رکھنا کوئی غلط خیال نہیں تھا۔

خلائی دوڑ نے ٹی یو-144 کے پروگرام کو کافی نقصان پہنچایا جب سوویت یونین نے اپنے وسائل سپرسونِک بمباروں سے ہٹا کر دور تک مار کرنے والے اور انتہائی بلندی تک پرواز کرنے والے میزائلوں کے منصوبوں کی جانب پھیر دیے، جس کی وجہ سے سوویت حکام ٹی یو-144 کو ایک سویلین طیارہ پروگرام کے طور پر چلانے کے لیے مجبور ہوئے۔'

'یہ سب کچھ مسافر طیارہ تیار کرنے کے حوالے سے سوویت ماہرین کے ماضی کے تجربات کے برعکس تھا۔ ڈیویلپرز کو ایک پیچیدہ سپرسونِک طیارہ بالکل صفر سے بنانا شروع کرنا تھا جو آرام اور اقتصادی کارکردگی کے تقاضے بھی پورے کرے۔ یہ تقاضے اس سے پہلے کبھی اہم تصور نہیں کیے گئے۔'

ٹو 144

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 کے لیے بہت زیادہ تحقیقی وسائل درکار تھے خاص کر جب خلا کے شعبے میں بھی مقابلہ جاری تھا

چنانچہ ٹی یو-144 منصوبے کی راہ میں جلد ہی کئی مسائل حائل ہوگئے۔ یہ منصوبہ سوویت یونین کی ہوابازی کی صنعت کی صلاحیتوں سے 10 سے 15 برس آگے کا تھا۔ دو شعبے جن میں ٹی یو-144 بہت پیچھے تھا، وہ اس کے بریکس اور انجن کو کنٹرول کرنے کی صلاحیتیں تھیں۔

کونکورڈ نے ٹیکنالوجی کے چند ایک میدانوں میں انتہائی جدید ایجادات کیں، اور ان میں صرف بریکس ہی نہیں تھے۔ یہ کاربن فائبر سے بنے بریکس استعمال کرنے والے دنیا کے اولین طیاروں میں سے تھا۔ یہ بریکس تیز رفتار سے اترنے والے جہاز کو روکنے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حدت کو برداشت کر سکتے تھے (کونکورڈ کی رفتار اترتے وقت بھی 296 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوا کرتی تھی) لیکن روسی اس ڈیزائن کی نقل نہ کر پائے۔

اور اس سے بڑا مسئلہ انجن کا تھا۔ کونکورڈ دنیا کا پہلا مسافر طیارہ تھا جس میں اس کی پرواز کے تمام اہم کام کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول ہوتے تھے۔ یہ انجن میں ہوا کے داخلے کے راستوں کی ساخت مسلسل تبدیل کرتا رہتا تاکہ انجن اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

اور کونکورڈ میں ایسا فلائٹ کنٹرول سسٹم موجود تھا جو سپرسونِک پرواز کے دوران اس کے پروں کی ساخت میں بھی معمولی سی تبدیلی کر دیتا تاکہ ان سے ٹکرانے والی ہوا کی رگڑ کم سے کم رہے۔ کونکورڈ سے پہلے اس قسم کے کمپیوٹر سے کنٹرول ہونے والے پروں کے بارے میں کبھی کسی نے سنا بھی نہیں تھا، اب تو آواز کی رفتار سے آہستہ سفر کرنے والے طیاروں میں بھی یہ سسٹم نصب ہوتا ہے۔

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنکونکورڈ میں کئی قسم کی ایسی ٹیکنالوجیز تھی جن کا مقابلہ سوویت انجینیئرز نہیں کر سکتے تھے

سوویت یونین اس بات سے آگاہ تھا کہ کونکورڈ کی تشکیل رفتہ رفتہ طے شدہ منصوبے کے تحت ہورہی ہے، چنانچہ اس نے ٹی یو-144 میں بے انتہا وسائل جھونکنے شروع کردیے۔

یہ ایک طرح سے ٹیوپولیف ڈیزائن بیورو (اور انجن تیار کرنے والے بیوروز کُزنیٹسوف اور کولیسوف کی انجینیئرنگ ٹیموں جنھوں نے ان نئے ہوائی جہازوں کی تیاری کی لیے بنائے گئے بجلی گھر تعمیر کیے) کا کارنامہ بھی ہے کہ وہ امریکہ کے خلائی پروگراموں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کے دوران بھی ایسا طیارہ کرنے میں کامیاب رہے۔

اگر کونکورڈ سے موازنہ کیا جائے تو ٹی یو-144 اس سے بہت بڑا تھا۔ یہ لمبائی میں 215 فٹ یا 67 میٹر تھا، اپنے مد مقابل کونکورڈ سے تقریباً 12 فٹ زیادہ لمبا۔ اسے 2158 کلومیٹر فی گھنٹہ (1340 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے پرواز کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور چاروں انجنوں میں سے ہر ایک آفٹربرن جلائے جانے کے بعد 44 ہزار پاؤنڈ کی طاقت سے طیارے کو دھکیلتا، جو کہ اس کے مدمقابل کونکورڈ میں نصب ہر انجن سے 6000 پاؤنڈ زیادہ طاقت تھی۔

کیونکہ ٹی یو-144 زیادہ طاقتور تھا اس لیے اُسے ٹیک آف کے لیے زیادہ طاقت درکار تھی۔ خالی حالت میں اس طیارے کا وزن 100 ٹن کے قریب تھا، جو کہ اس کے مدِمقابل خالی کونکورڈ سے 20 ٹن زیادہ تھا۔ اس کی ایک وجہ طیارے میں لگی بہت بھاری اشیا تھیں۔

کونکورڈ میں سامنے کی جانب صرف دو پہیے لگے ہوئے تھے اور چار چار پہیوں کے دو سیٹ اس کے پروں کے نیچے لگے ہوئے تھے۔ ٹی یو-144 میں دو پہیے سامنے کی جانب نصب تھے لیکن پروں کے نیچے بارہ بارہ پہیے تھے، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ روسی ٹائر مصنوعی ربر سے بنے ہوئے تھے جن کے ناکام ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے تھے (اس کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ اگر ایک یا دو ٹائر پھٹ بھی جائیں تب بھی اتنے ٹائر کام کر رہے ہوں گے اور طیارے کے وزن کو اٹھا سکیں گے۔)

اگرچہ ظاہری طور پر ٹی یو-144 طیارہ کونکورڈ طیارے سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا تھا، تاہم ان دونوں میں کئی ایک چیزیں ایک دوسرے سے مختلف بھی تھیں، ان میں کئی ایک ایسی تھیں جو کہ مسائل کے کم نفیس حل تھے جنھیں کونکورڈ نے زیادہ نفاست کے ساتھ حل کیا تھا۔

جوک لوو کہتے ہیں کہ ’سوویت طیارہ ٹی یو-144 کم ایروڈائینامک تھا۔ اگرچہ فرق بہت ہی معمولی سا تھا لیکن ایسی باتیں بہت اہم ہوتی ہیں۔‘

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 طیارہ کونکورڈ طیارے سے بہت زیادہ ملتا جلتا تھا، خاص طور پر سپرسونک پرواز کے لحاظ سے

'ہم نے اسے دیکھا اور جب یہ سروس میں شامل ہوا تو ہم جانتے تھے کہ یہ ہم سے مقابلہ نہیں کر پائے گا۔'

بہرحال سوویت یونین یہ دعویٰ کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ سب سے پہلے کس نے سپرسونک مسافر طیارہ اڑایا۔ ٹی یو-144 نے سنہ 1968 کے مہینے دسمبر میں سب سے پہلی اڑان بھری اور سپرسونک پرواز سنہ 1969 کے جون کے مہینے میں پہلی مرتبہ کی۔

کونکورڈ مارچ سنہ 1969 تک پرواز نہ کرسکا، اور اسی برس اکتوبر میں اس نے سپرسونک پرواز کی۔ سوویت یونین نے سفارتی سطح پر زبردست کامیابی حاصل کی لیکن جلد ہی ان کے سامنے سو ٹن کے طیارے کو سروس میں رکھنے کے لیے کئی مسائل آ کھڑے ہوئے۔

وہ مغربی مبصرین جو دیوارِ برلن کی دوسری جانب موجود ٹیکنالوجی کی بظاہر برتری کو بہتر سمجھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ سوویت یونین صرف صنعتی راز چرانے کی وجہ سے ٹی یو-144 جیسا طیارہ بنا پایا ہوگا۔ ٹی یو-144 کو 'کونکورڈسکی' کا نام دیا گیا، اور اسے کونکورڈ کی کاربن کاپی قرار دیا گیا، اگرچہ یہ نفاست سے محروم سوویت نقل تھا۔

کامِنسکی-مورو کہتے ہیں کہ سچ کبھی بھی بہت واضح نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین میں ٹو-144 کا خیال کونکورڈ سے متاثر ہو کر پیدا ہوا تھا۔ طیارے کی پرواز کو ہوا میں مستحکم رکھنے والے پچھلے متوازی پروں کا نہ ہونا، سوویت ڈیزائن میں ایک انقلابی تبدیلی تھی۔'

'لیکن دیگر پہلو مثلاً انجن کی ترتیب وغیرہ کافی مختلف تھی۔ ٹی یو-144 کو سخت حالات میں پرواز کرنے کے لیے کچھ زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اگرچہ جاسوسی کی وجہ سے ٹی یو-144 کو بنانے میں مدد ملی لیکن سوویت ماہرین پھر بھی یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ پراجیکٹ میں سامنے آنے والے کئی ایک تکنیکی مسائل کا حل خود تلاش کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے ایک ایسا طیارہ تیار کر لیا جو کونکورڈ سے بہت ملتا جلتا تھا، لیکن جو نفاست اور تفصیلات میں اس سے کافی مختلف تھا۔‘

سنہ 1973 میں سویت یونین نے پیرس ایئر شو میں ٹی یو-144 کی پرواز کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا۔ ٹیوپولیف ادارہ ان جہازوں کے نئے پراڈکشن ماڈل کو اڑا کر شو میں لایا اور اسے کونکورڈ کے پروٹوٹائپ کے برابر لا کر کھڑا کردیا گیا جو پرواز کا عملی مظاہرہ کر رہا تھا (اس وقت تک مغربی ڈیزائن پراڈکشن کے مرحلے تک نہیں پہنچا تھا)۔

ان دو سپرسونک طیاروں کے بنانے والوں میں مسابقت کا جذبہ بہت ہی زیادہ تھا۔ ٹائم میگزین کے مطابق ٹی یو-144 کے ایک پائلٹ میخائیل کوسلوف نے بظاہر طنز کرتے ہوئے کونکورڈ کی ٹیم سے کہا کہ ’ذرا انتظار کرو، تم ہمیں ابھی ہوا میں پرواز کرتے دیکھو گے۔ تب تم کچھ دیکھو گے۔'

جون کی تین تاریخ کو ٹی یو-144 نے ہوا میں اڑنا شروع کیا، بظاہر جس کے ذریعے کوسلوف کونکورڈ کے گذشتہ روز کی پرواز کے محتاط مظاہرے سے بہتر کارکردگی دکھانا چاہتے تھے۔

اُس وقت سانحہ ہوا۔

ٹی یو-144 نے ٹیک آف کیا، پھر وہ رن وے کی جانب نیچے آیا جیسے اترنے لگا ہو، اُس کی ناک جھکی ہوئی تھی اور اس کا لینڈنگ گیئر بھی کھلا ہوا تھا۔

وہ ایک مرتبہ پھر اپنے انجنوں کی پوری طاقت کے ساتھ تیزی سے بلند ہوا۔ چند سیکنڈوں کے بعد اس نے جھولا کھایا اور ہوا ہی میں پھٹ کر ایک قریبی گاؤں میں جا گرا۔ طیارے کے عملے کے چھ کے چھ ارکان اور گاؤں کے آٹھ رہائشی ہلاک ہوگئے۔

مزید پڑھیے

ٹی یو-144 کے اس حادثے کے بارے میں کئی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ کچھ کے مطابق پائلٹ نے طیارے کو کم رفتار پر پرواز کے دوران تیزی سے موڑا جس سے وہ بلند ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو گیا۔ کچھ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید بادلوں کی وجہ سے پائلٹ کنفیوز ہو گئے ہوں گے۔ ایک اور نظریہ یہ ہے کہ حادثے سے پہلے کے چند لمحوں میں ٹی یو-144 کو ایک دم سے رخ بدلنا پڑا تاکہ وہ ایک فرانسیسی میراج طیارے سے بچ سکے جو ٹیوپولیف کے فرنٹ کینارڈز کی قریبی تصاویر لے سکے جو اس وقت کافی جدید تصور کیے جاتے تھے۔

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 کو سنہ 1973 کے پیرس ایئر شو میں سوویت یونین کا بہت زبردست تشخص پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن وہاں بہت بڑا حادثہ ہو گیا

اس حادثے نے ٹیوپولیف کے اچھوتے ڈیزائن میں موجود مختلف مسائل پر روشنی ڈالی اور سوویت یونین کی سرکاری ایئرلائن 'ایروفلوٹ' اِس طیارے کو سروس میں شامل کرنے کے حوالے سے تذبذب کی شکار ہوگئی۔

ٹیوپولیف کو اس طیارے کو ایروفلوٹ کے حوالے کرنے سے پہلے اس میں بے شمار چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں متعارف کروانی پڑیں۔ اس کے باوجود سنہ 1975 میں اڑنے والی پہلی پروازیں ماسکو سے قزاقستان کے شہر الماتے تک ایک آزمائشی پرواز تھی، جس میں مسافروں کے بجائے ڈاک ہوا کرتی تھی۔

ٹی یو-144 نے مسافروں کے ساتھ پروازیں سنہ 1977 میں شروع کیں۔

سوویت یونین کے انجینیئر اس طیارے میں مسافر کیبن میں ہونے والے شور کو کم نہ کرسکے۔ طیارے کے انجن اور ایئر کنڈیشننگ نظام سے مجموعی طور پر بہت زیادہ شور پیدا ہوتا تھا۔ ایئر کنڈیشننگ بہت ضروری تھی ورنہ طیارے کی باڈی سے ہوا کی رگڑ کیبن کو خطرناک حد تک گرم کر سکتی تھی۔

کونکورڈ نے طیارے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے طیارے کے ایندھن کو بطور ’ہیٹ سنک‘ استعمال کیا۔ اس لیے اُسے طاقتور ایئرکنڈیشنرز کی ضرورت ہی نہیں تھی، اور اس وجہ سے طیارے کے اندر کا شور قابل قبول حد تک کم رہتا تھا۔

ٹی یو-144 اور کونکورڈ کے درمیان فرق ٹی یو-144 کی اُس پرواز کی تفصیلات کے بیان میں ہوورڈ مون نے اچھے طریقے سے پیش کیا ہے جس میں پہلی مرتبہ غیر ملکی مبصرین نے سفر کیا تھا:

'کیبن میں کافی مسائل تھے: چھت میں لگے پینلز میں کچھ کھلے اور کچھ بند تھے، کھانوں کی ٹرے پھنسی ہوئی تھیں، کھڑکیوں کے پردے خود سے ہی گرے ہوئے تھے۔ ایک ہی قطار میں پانچ نشستوں کے بارے میں تنقید کی گئی کہ یہ بہت زیادہ تنگ تھیں۔ سارے ٹوائلٹس کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ مسائل کسی نئے طیارے میں معمول سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مسئلہ ہے۔ طیارے میں سپیکروں پر 'لو سٹوری'، 'گلُومی سنڈے' اور 'رین ڈراپس کیِپ فالنگ آن مائی ہیڈ' کے میوزِک چل رہے تھے لیکن پرواز کے دوران شور کی وجہ سے شاید ہی کوئی انھیں سُن پا رہا تھا۔ اکثر مسافروں کا خیال تھا کہ اس کی وجہ طیارے کی رفتار نہیں تھی بلکہ اندر کا شور تھا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق، 'باہر کی تیز ہوا سے چلنے والے بڑے بڑے ائر کنڈیشنوں اور انجنوں کی وجہ سے کان کے پردے پھاڑ دینے والا ایسا شور پیدا ہو رہا تھا جو نیویارک کے مصروف ترین علاقے کوئینز میں سنائی دیتا ہے۔۔۔ مسافروں نے شکایت کی تھی کہ ہوا سے پیدا ہونے والی بلند آواز نے ہمارے لیے گفتگو کرنا ناممکن بنا دیا تھا اور ہم ایک دوسرے سے نوٹس لکھ کر بات چیت کر رہے تھے۔'

ٹیوپولیف ٹی یو-144 کو سروس میں لے آیا تھا لیکن جب یہ ایک مرتبہ سروس میں شامل ہوگیا تب ایسا لگا کہ یہ اتنا بہترین نہیں ہے جتنا کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے بننے والے اس منصوبے نے بہت زیادہ وسائل کھا لیے تھے۔ سنہ 1977 میں ٹیوپولیف نے وہ کمپیوٹر خریدنے کی کوشش کی جو کہ کونکورڈ میں استعمال ہوتے تھے۔ لیکن برطانیہ نے اس خدشہ کی وجہ سے انھیں فروخت کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ انجن کہیں سوویت جیٹ بمبار طیاروں میں استعمال نہ ہوں۔

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 طیاروں کی اس آخری نسل سے تعلق رکھتا ہے جو رکنے کے لیے پیراشوٹ استعمال کرتے تھے

جو منصوبہ کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں سوویت یونین کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا تھا وہ اب ایک سیاسی جھمیلا بن چکا تھا۔ ایروفلوٹ نے سنہ 1976 سے لے کر سنہ 1982 تک کے اپنے پانچ سالہ منصوبے میں اس جہاز کا ذکر بھی نہیں کیا۔

سنہ 1978 میں کچھ معمولی سے تبدیلیوں کے بعد جہاز کی حوالگی سے پہلے جب ٹی یو-144 آزمائشی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تو ایروفلوٹ نے اس طیارے کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔

اس جہاز نے کُل 102 کمرشل پروازیں اڑیں، اور ان میں سے 55 میں مسافروں نے اس میں سفر کیا۔ اس کے برعکس کونکورڈ 25 برس تک فضا میں اڑتا رہا، ہزاروں کی تعداد میں پروازیں بھریں اور 20 ویں صدی کے سب سے جانے مانے ڈیزائنز میں سے ایک بن گیا۔

سنہ 1982 میں ٹی یو-144 کی پیداوار سرکاری طور پر بند کردی گئی۔ ٹی یو-144 کے باقی 14 طیاروں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا گیا جن میں سوویت یونین کی مجوزہ خلائی شٹل 'بوران' کے عملے کو تربیت دی گئی۔ جب سنہ 1989 میں دیوارِ برلن منہدم ہوئی تو اس وقت تک ان میں سے زیادہ تر کا استعمال بند ہوگیا تھا اگرچہ ان کی دیکھ بھال ہوتی تھی۔ ان میں سے کچھ کو ماسکو کے قریب زوکووسکی میں طیاروں کی آزمائش کے اڈّے میں رکھا گیا تھا۔

اس کے بعد ٹی یو-144 کی کہانی ختم ہوجانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نوے کی دہائی میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہائی سپیڈ ریسرچ (ایچ ایس آر) پروگرام کے تحت اگلی اور جدید نسل کے سپرسونِک ٹرانسپورٹ طیارے بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا۔ بوئنگ اور لاک ہِیڈ نے کونکورڈ جیسے طیارے سنہ 60 کی دہائی سے بنانے شروع کر دیے تھے، لیکن پھر ان منصوبوں کو مختلف وجوہات کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا جن میں ایندھن کی قیمت اور زیادہ شور جیسی وجوہات بھی شامل تھیں۔ اب، 30 برس کے بعد، ناسا کو امید تھی کہ وہ وہیں سے اپنے منصوبے کو دوبارہ شروع کرے گا جہاں وہ رک گیا تھا۔

اس منصوبے کے ایک رکن ناسا کے ٹیسٹ پائلٹ راب ریورز تھے۔ انھوں نے جلد ہی وہ اعزاز حاصل کر لینا تھا جو ان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا، یعنی ایسا پائلٹ بننا جس نے کونکورڈ اور ٹی یو-144 دونوں قسم کے طیارے اڑائے ہوں۔

میں ایچ ایس آر کے لیے ایک پروگرام پائلٹ تھا اور بوئنگ اور ان کے پارٹنرز کے لیے کام کر رہا تھا۔ اور وہ ایک بڑا پراجیکٹ تھا۔ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالیت کا جو 80 کی دہائی سے لے کر 2000 کی دہائی تک جاری رہا۔

'جب میں ایچ ایس آر کے لیے کام کر رہا تھا تو برٹش ایئرویز کے ایک پائلٹ میرے پاس لینگلے آئے تاکہ مجھ سے کونکورڈ اور تیز رفتار پروازوں کے بارے میں بات کریں۔'

'میں نے سوچا کہ کونکورڈ اڑانا زبردست ہوگا اور میں نے ایچ ایس آر میں اپنے ساتھیوں کو اس بات پر قائل بھی کر لیا کہ کونکورڈ اڑانے کی بہت اہمیت ہے۔ لہٰذا میں 1997 میں جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پہنچا اور کونکورڈ کی جمپ سیٹ میں بیٹھا اور اِسے اڑایا۔ میرے پاس ایک سٹاپ واچ تھی، ایک نوٹ بک اور پیمائش کے لیے ایک ٹیپ تھی۔ اور میں نے بحرِ اوقیانوس کے اوپر سپرسونِک طیارے کی پرواز کی ایک ایک تفصیل ریکارڈ کی۔' راب ریورز نے بعد میں برطانوی شہر برسٹل میں کونکورڈ سیمیولیٹر پر کئی اڑانیں بھریں اور پھر ایک اور کونکورڈ طیارے کے کاک پِٹ میں بیٹھ کر واپس امریکہ پرواز کیں۔

امریکہ نے اس سے پہلے سپرسونِک طیارے نہیں بنائے تھے۔ اس کا بیسویں صدی میں ایسے طیارے بنانے کا اپنا منصوبہ مکمل ہوئے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا چنانچہ، ناسا کو آزمائشی پروازیں کرنے کے لیے کہیں اور سے مدد کی ضرورت تھی۔

تاہم اس میں مسئلہ تھا۔ ریورز نے بتایا کہ ’نہ برٹش ایئرویز کے پاس اور نہ ہی ایئر فرانس کے پاس کوئی فالتو کونکورڈ تھا جس پر ہم تجربات کرتے۔‘

سوویت یونین کے چند برس پہلے ہی حصے بخرے ہو گئے تھے۔ روس کی اقتصادی حالت میں شدید گراوٹ کی وجہ سے اس کی حالت بہت خراب تھی۔ راب ریورز کہتے ہیں کہ 'صدر بِل کلنٹن اور روسی رہنماؤں نے روس کی ہوا بازی کی صنعت کو بحال کرنے کے لیے ایک بہت بڑے منصوبے پر مذاکرات کیے تھے تاکہ اِن کے انجینیئرز کہیں ایران جیسے ملکوں کا رُخ نہ کرلیں۔'

اور اس وقت روس کے پاس کم از کم ایک سپرسونِک طیارہ ضرور موجود تھا۔ اگرچہ اس کی تاریخ میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ تھا اور وہ اب پرواز نہیں کر رہا تھا۔

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 نے ناسا کو مستقبل کے سپر سونک طیارے بنانے کے لیے درکار مہارت فراہم کی

راب ریورز کہتے ہیں کہ 'سنہ 1993 میں ٹی یو-144 کو کرائے پر لینے کا ایک معاہدہ ہوا تاکہ کئی ایک نازک تکنیکی قسم کے تجربات کیے جا سکیں۔'

روس کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں تھا۔ ٹیوپولیف کو ایک برطانوی کمپنی آئی بی پی ایروسپیس نے کرائے پر لینا تھا جس نے دونوں کے درمیان ایک سہولت کار کا کردار ادا کرنا تھا۔

راب ریورز کہتے ہیں کہ 'اس لیے یہ معاہدہ اس طرح کا ہوا: ناسا کو بوئنگ کو ادائیگی کرنی تھی جو کہ آئی بی پی کو رقم کی ادائیگی کرتی تاکہ وہ ٹیوپولیف کو ادائیگی کرسکے۔ جہاز کے ایندھن کے لیے کچھ ایسی ادائیگیاں تھیں جو رات کی تاریکی میں ڈالروں میں ادا کی جاتیں۔ اُس وقت ڈالر میں ادائیگی روسی قانون کے تحت غیر قانونی تھیں لیکن زیادہ تر کمپنیاں صرف امریکی ڈالروں میں ہی رقم وصول کرتیں۔'

'جس ٹیوپولیف طیارے کو ہم نے اڑایا اس نے اب تک صرف 83 گھنٹوں تک پرواز کی تھی اور پھر اُسے 1990 میں ریٹائر کردیا گیا تھا، لیکن وہ دیومالائی پرندے فینِکس کی طرح دوبارہ سے ہوا میں بلند ہوا۔

ناسا نے جو ٹی یو-144 کرائے پر حاصل کیا تھا اُس میں زیادہ قابلِ بھروسہ اور جدید انجن، اور طرح طرح کے آلات نصب تھے۔ اس میں ایک خصوصی ڈیٹا بس بھی شامل تھی جن میں پرواز کے دوران کیے جانے والے تمام تجربات کے ڈیٹا کو سٹور کرنے کی مکمل صلاحیت موجود تھیں۔

تاہم اس طیارے کی اولین پروازیں ڈیٹا سٹور کرنے کے لحاظ سے نہایت بے کار رہیں۔ 'ڈیٹا بس نے ناممکن قسم کی خصوصیات ریکارڈ کی تھیں۔ ٹیوپولیف کے لیے طیارہ کو اڑانے والے روسی پائلٹوں سے ناسا کبھی کوئی انٹرویو نہیں کرسکا۔ 'پائلٹوں سے انٹرویو کرنے کی بات کا معاہدے میں ذکر نہیں تھا۔ اور ٹیوپولیف مالیاتی طور پر اتنی بری حالت میں تھا کہ وہ صرف وہی کام کرتے تھے جو معاہدے میں درج تھے۔ اگر آپ ایک پرواز اُڑاتے تو وہ پرواز کے بعد ادائیگیاں کرتے۔'

اس پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ناسا کو اپنے پائلٹ ٹیوپولیف کو ٹیسٹ کرنے کے لیے بھیجنے ہوں گے۔

کونکورڈ جہاز

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنناسا نے ٹی یو-144 کو ریٹائر ہوجانے کے بعد دوبارہ سے حاصل کر کے استعمال کیا

راب ریورز کو اس کے لیے چن لیا گیا اور ان کے روس جانے کا پروگرام ستمبر سنہ 1998 میں طے پاگیا۔ روانگی سے چند ہفتے قبل انھوں نے مختصر عرصے کے لیے دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے ایک رخصت لی۔

ریورز کہتے ہیں کہ 'میں وایومنگ میں ٹراؤٹ مچھلی پکڑنے کے لیے گیا۔ وہاں گاؤں میں ایک جگہ ہائیکنگ کرتے ہوئے میں کہیں بری طرح گرا۔ میری پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ میری ٹیبیا اور فائیبولا کی دونوں ہڈیوں میں سپائرل فریکچر ہوا اور میرے ٹخنے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔'

'جب میں زخمی تھا تو میں نے وایومنگ میں ڈاکٹر کو بتایا کہ مجھے دو ہفتوں میں روس جانا ہے۔ آپ مجھے جلدی سے ٹھیک کردیں۔ ڈاکٹر نے کہا ایسا ممکن نہیں ہے، آپ کو علاج کے لیے چھ سے آٹھ ماہ تک لوہے کے اس سانچے میں بند رہنا ہوگا۔' بہرحال آخر میں ڈاکٹر ان کی بات مان گیا اور ریورز کی ٹانگ میں ایک دھاتی سلاخ ڈال دی تاکہ وہ روس کا سفر کرسکے۔

تاہم ناسا نہیں چاہتا تھا کہ وہ زخمی حالت میں روس جائیں۔ ریورز کہتے ہیں کہ 'انھیں لگتا تھا کہ یہ بدنامی ہوگی اگر ناسا کا پائلٹ بیساکھیوں پر طیارے تک جائے۔' لیکن اب کسی نئے پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے کافی دیر ہو چکی تھی۔

اپنی ماسکو کے لیے طویل پرواز کے دوران ریورز کافی غمگین رہے اور پھر انھیں ایئر پورٹ سے ٹیوپولیف کے ڈیزائن ڈائریکٹر الیگزینڈر پوخوو بذاتِ خود لینے آئے تھے۔ الیگزینڈر نے ٹی یو-144 کے منصوبے پر 1960 کی دہائی میں کام کیا تھا۔ وہاں پہلی رات کو ہی انھیں ٹیوپولیف کے فلائیٹ سرجن کے پاس لے جایا گیا۔ وہاں غیر متزلزل ساکھ کے حامل پوخوو نے ریورز کے ساتھ ایک ڈیل کی۔

'پوخوو نے مجھ سے کہا کہ تم تب تک طیارہ اڑا سکتے ہو جب تک تم پریس کے سامنے بیساکھیوں پر نہیں آتے اور جب تک تم طیارے کی جانب بیساکھیوں پر نہیں جاتے۔'

'ٹانگ کی شدید تکلیف مجھے مار رہی تھی لیکن میں کسی بھی صورت میں اس موقع کو چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا۔ یہ پائلٹ کی حیثیت سے میرے کیریئر کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا۔ میں مغرب کے ان دو تنہا پائلٹس میں سے ایک ہوں گا جنھوں نے اِسے اُڑایا ہوگا۔'

ریورز اور ان کے ساتھی پائلٹ گورڈن فُلرٹن کو ناسا کے انجینیئروں بروس جیکسن اور ٹِم کوکس کے ساتھ زوکووسکی کے قریب کے جی بی کے ایک سینیٹوریم میں رکھا گیا تھا۔

زوکووسکی سابق سوویت یونین کے زمانے کا ایک فوجی اڈہ تھا جہاں پر تجرباتی ڈیزائنز اور نمونوں کے ٹیسٹ کیے جاتے تھے۔

'جب میں نے پہلی مرتبہ طیارے کو دیکھا (تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ) یہ کتنا بڑا تھا اور یہ زمین سے کتنا بلند تھا۔ یہ سب کچھ انتہائی حیران کن تھا۔'

ریورز اپنے وعدے پر قائم رہے کہ وہ اپنی اِس پہلی پرواز کے لیے بیساکھیوں کے سہارے طیارے تک چلتے ہوئے نہیں جائیں گے لیکن اپنے زخمی ٹخنے پر چلنا ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ 'میں نے کئی گھنٹے تک ایک چھڑی کے سہارے چلنے کی مشق کی۔ میں اپنے دوست بروس جیکسن کی مدد کے بغیر یہ مشق نہیں کرسکتا تھا۔ اپنے ٹخنے پر زور ڈالنا انتہائی اذیت ناک تھا۔'

ٹی یو-144

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنٹی یو-144 میں وہ سہولتیں نہیں تھیں جو کونکورڈ میں تھیں، لیکن یہ زیادہ طاقتور طیارہ تھا

'اس پہلی پرواز سے ایک روز پہلے ہونے والی پارٹی کے موقع پر میں نے بیساکھیاں پھینک دیں۔ میں اپنی چھڑی کے سہارے پوخوو کی جانب چل کر گیا، اور پوخوو نے ایک زور دار ٹھٹھہ لگایا اور ہر طرف سے تالیاں بجنے لگیں۔ یہ سب کچھ ایک فلم کے منظر کی طرح لگ رہا تھا۔'

ریورز اور فُلرٹن (جن کا سنہ 2013 میں انتقال ہوا) نے ٹی یو-144 کو پروازوں کے ایک سلسلے کے تحت سنہ 1998 کے اختتام تک اڑایا۔

اور پھر اس سلسلے کے اختتام پر اس کرّہِ ارض پر ریورز وہ واحد شخِص تھے جو یہ دعویٰ کرسکتے تھے کہ انھوں نے ٹی یو-144 اور اس کے مدمقابل مغربی طیارے کونکورڈ دونوں کو اڑانے کا تجربہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی پائلٹ سرگئی بوریسوف، نیویگیٹر وکٹر پیڈوس اور فلائیٹ انجینیئر اناتولی کریولین کی مدد کے بغیر اُن کے لیے یہ کمال دکھانا ناممکن تھا، جن کی مہارت کی وجہ سے پروازوں کا یہ سلسلہ کامیاب ہوا۔

ناسا کی ان پروازوں کے بعد ٹی یو-144 طیاروں کا کیریئر اپنے انجام تک پہنچا۔ مغربی مدد سے لائی گئی کئی بہتریوں کے باوجود یہ طیارہ دوبارہ سروس میں لانے کے لیے بہت مہنگا اور ناقابلِ بھروسہ تھا۔

باقی 'کونکورڈسکی' اب میوزیم میں یا پھر ہینگروں میں محفوظ کر دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک جرمنی کے ایک ٹیکنیکل میوزیم کے باہر نصب ہے، اپنے مدمقابل کونکورڈ کے بالکل ساتھ۔

راب ریورز کہتے ہیں کہ 'کونکورڈ زیادہ نفیس طیارہ تھا۔ لیکن ٹی یو-144 میں بھی کئی نفیس ٹیکنالوجیز موجود تھیں۔

'وہ مختلف تھے۔ ٹی یو-144 میں زیادہ مسافر بٹھائے جا سکتے تھے اور یہ انھیں زیادہ رفتار اور زیادہ بلندی پر لے جا سکتا تھا۔ ٹیوپولیف نے ایسا زبردست قسم کا طیارہ بنایا جو وہ کر سکتا تھا جو تاریخ میں صرف ایک اور طیارہ کر سکا ہے۔‘

'کونکورڈ طیارہ کینٹکی نسل کے ریس کے گھوڑے کی طرح تھا، ایک نفیس مگر نہایت تیز دوڑنے والا گھوڑا۔ اور ٹی یو-144 ایک کلائیڈسڈیل نسل کے گھوڑے کی طرح تھا جس میں ناقابلِ یقین قوت تھی لیکن یہ اتنا مؤثر نہیں تھا۔‘