چین کے ہائپرسونک طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا سے بھی زیادہ

،تصویر کا ذریعہChina Science Press
- مصنف, اینڈریاز المور
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سنگاپور
بیجنگ سے نئی دہلی کے ہوائی سفر میں ابھی تقریبا آٹھ گھنٹے لگتے ہیں لیکن چین اس فاصلے کو بہت کم وقت میں طے کرنے کے لیے ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔
چین نے ایک ہائپر سونک طیارے کا ڈیزائن پیش کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا قدم ہے۔
اس کی تیز رفتار پر کوئی شک نہیں ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ بیجنگ سے نئی دہلی کے سفر میں اتنا ہی وقت لگے جتنا اسلام آباد سے لاہور جانے میں لگتا ہے، یعنی نصف گھنٹے کے قریب۔
ہائپرسونک پروازوں کے متعلق تحقیق نئی نہیں ہے، لیکن عام طور پر اس کے پس پشت فوجی ضرورتیں ہوتی ہیں جہاں پیسے زیادہ اور دباؤ کم ہوتا ہے۔
کیا کوئی مسافر بردار طیارہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیزی سے پرواز ک رسکتا ہے اور دو گھنٹوں میں بحرالکاہل کا چکر لگا کر لوٹ سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیز، تیزتر اور تیز ترین
سپرسونک طیاروں کی رفتار کی پیمائش کا پیمانہ عام طور پر آواز کی رفتار کے برابر یا ماک ون رکھا جاتا ہے جو تقریباً 1235 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
سب سونک: یہ رفتار آواز کی رفتار سے کم ہے اور عام مسافر بردار طیاروں کی رفتار ہے۔
سوپر سونک: یہ رفتار ماک ون سے ماک فائیو (آواز کی رفتار سے پانچ گنا) تک ہوتی ہے جیسے کہ کنکورڈ طیارے جو سنہ 1976 سے 2003 تک یورپ اور امریکہ کے درمیان پرواز کیا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائپرسونک: وہ رفتار جو ماک فائیو سے زیادہ ہو۔ فی الحال بعض طیاروں پر اس کا تجربہ جاری ہے۔
چین کی توجہ فی الحال اسی قسم کے ہائپرسونک طیارے ہے۔ چینی اکادمی آف سائنسز کی ایک ٹیم اس پر کام کر رہی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اس وقت دو چیلنجز ہیں۔ پہلے اس کی ایئرو ڈائنامکس اور دوسرے اس کا انجن۔ اور انجن بڑا چیلنج ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہائپرسونک پرواز
ڈیزائن کے لحاظ سے ہائپرسونک طیارے کو ایسے ڈیزائن کی ضرورت پڑتی ہے جس سے اس کی راہ میں میں آنے والی ہوا کی مزاحمت کو دور کیا جا سکے۔
طیارہ جس قدر تیز رفتار ہو گا ہوا کی مزاحمت اتنا ہی بڑا مسئلہ ہوگا۔
میلبرن یونیورسٹی کے نکولس ہچنس کہتے ہیں کہ 'جس قدر رفتار میں اضافہ ہو گا اسی کے تناسب میں رکاوٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر آپ رفتار دگنی کریں گے تو رکاوٹ چارگنی ہو جائے گی۔‘
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین نے جو ڈیزائن پیش کیا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ در حقیقت، چین نے اس ڈیزائن میں پروں کی ایک اضافی پرت شامل کی ہے۔ یہ پروں عام طور پر لگنے والے پروں کے اوپر لگیں گے۔ اس کا مقصد رکاوٹ کو کم کرنا ہے۔ بظاہر یہ دو پروں والے طیارے جیسا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNASA
چیلنجز برقرار ہیں
فی الحال چین نے اپنے ماڈل کا چھوٹے پیمانے پرتجربہ کیا ہے۔اس کا تجربہ ایک ایک ہوائی سرنگ میں کیا گیا ہے۔
اس لیے چین کے اس خواب کو حقیقت بننے میں ابھی وقت لگے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین اپنے ڈیزائن سے رکاوٹ کا مسئلہ حل کر بھی لے تاہم دوسرے چیلنج پھر بھی برقرار رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہUSAF
آواز کی رفتار
مثال کے طور پر، گرمی سے تحفظ ان چیلنجز میں سے ایک ہے۔
دوسرا مسئلہ اس کی رفتار سے پیدا ہونے والی تیز آواز بھی ہے جس پر ابھی تک غور نہیں کیا گیا ہے۔
اگر کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے زیادہ رفتار حاصل کر لے تو اس سے شاک ویوز پیدا ہوتی ہیں۔
مختصرا یہ کہ ہائپرسونک طیارے سے بہت زیادہ شور برپا ہو گا اور وہ اس قدر تیز ہو گی کہ اس سے شیشے اور کانچ ٹوٹ سکتے ہیں۔
مستقبل کے ہائپرسونک طیاروں کے لیے انجن بڑا مسئلہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہDarpa
روایتی جیٹ انجن
جب کوئی طیارہ ماک فائیو کی رفتار حاصل کر لیتا ہے تو اسے سکریم انجن سے چلایا جاتا ہے۔
سکریم جیٹ انجن ایسا جیٹ انجن ہے جو ہوا کو جذب کرتا ہے اور اس کا استعمال ایندھن کو جلانے میں کرتا ہے۔
ایسے انجن کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ اسے صرف ماک فائیو سے زیادہ کی رفتار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے کو ایک اور انجن کی ضرورت ہو گی جو اسے ماک فائیو کی رفتار میں لے جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت طاقتور اور روایتی جیٹ انجن ہو سکتا ہے اور بالآخر دونوں انجنوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونا ہو گا۔
یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں ہائپرسونک سٹڈیز کے پروفیسر مائیکل سمارٹ کہتے ہیں: 'چین میں اس انجن کو تیار کرنے کی سمت میں گذشتہ چندد سالوں سے ایک بڑے پروگرام پر کام جاری ہے۔ اگر وہ کامیاب رہے تو یہ بڑی کامیابی ہو گی۔'

،تصویر کا ذریعہBoom
کیا یہ منافع بخش ہو گا؟
تکنیکی صلاحیت اور ممکنہ کامیابی سے قطع نظر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہائپر سونک طیارے تجارتی لحاظ سے منفعت بخش ہوں گے؟
اگر آپ کونکورڈ کے ڈیزائن کو دیکھیں تو آپ کے ذہن میں یہ سوالات اٹھیں گے۔
سنہ 1969 میں جب کنکورڈ کی پہلی پرواز ہوئی تھی تو اسے ایوی ایشن کی صنعت کا مستقبل کہا گیا تھا۔
لیکن یہ بہت کم تعداد میں بنایا گیا اور بالآخر سنہ 2003 میں اس کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ اور اس کے جانشین کے بارے میں بھی کوئی بات بھی نہیں کی گئی۔
پہلی چیز یہ تھی کہ اس کا سفر مسافروں کے لیے بہت مہنگا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAerion
اس کے ساتھ ہمیں بلند شور کا مسئلہ بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ کنکورڈ کو صرف سمندر کے اوپر سے آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پرواز کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ پابندی تمام تر بحر اوقیانوس کے علاقے کے لیے تھی، اور اس نے اس کے کاروباری امکانات کو متاثر کیا تھا۔
چند کمپنیوں نے حالیہ برسوں میں سپرسونک طیارے کی تعمیر میں دلچسپی دکھائی ہے لیکن ابھی سب تعمیراتی مراحل میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSpike
مزید 15 سے 20 سال لگیں گے
ہائپر سونک پروازوں کی راہ میں ابھی مزید چیلنجز ہیں۔ یہ بہت مہنگا ہو سکتا ہے اور بلند شور کا مسئلہ تو ہے ہی۔
ہائپر سونک طیارے کے چینی ڈیزائن کے بارے میں فزکس، میکینکس اور ایسٹرونومی نامی جریدے کے فروری کے شمارے میں تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے، جس میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ مستقبل میں ہائپرسونک طیارے زیادہ آسان اور موثر ہوں گے۔
تاہم 'فلائٹ گلوبل' کے ایلس ٹیلر کہتے ہیں: 'کاروباری لحاظ سے ان کے حقیقت میں تبدیل ہونے میں ابھی 15 سے 20 سال اور لگیں گے۔ اس وقت اس کے لیے کوئی بازار نہیں ہے۔ تاریخی طور پر ہوائی سفر کا کرایہ نیچے آیا ہے اور ہائپرسونک فلائٹ کی سواری تلاش کرنا مشکل ہو گا۔'

،تصویر کا ذریعہReaction Engines
فوجی مقابلہ
چین کی میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ہائپرسونک طیارے کے منصوبے سے منسلک سائنسداں فوجی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
ان ہائپر سونک طیاروں کے حوصلہ مند منصوبے پس پشت چین کے فوجی ارادے بھی کارفرما ہیں۔
ایسے میں ہوائی نگرانی کے اس پہلو کے بارے میں غور کیا جا سکتا ہے جس میں ایسے ہائپرسونك طیاروں کو فوراً تعینات کیا جا سکے اور اس کا انٹرسیپٹ کیا جانا انتہائی مشکل ہو۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہائپرسونك طیاروں کے لیے کی جانے والی تحقیق ہائپرسونك میزائل کی طرف جا سکتی ہے۔
اس میدان میں امریکہ اور چین کے علاوہ روس بھی ایک اہم کھلاڑی ہو سکتا ہے۔
یہ بات قابل غور رہے کہ ایسی تحقیق کو اس قدر راز میں رکھا جاتا ہے کہ یہ جان پانا مشکل ہو گا کہ کسے کس پر سبقت حاصل ہے۔
پروفیسر سمارٹ کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر امریکہ ہمیشہ آگے رہا ہے لیکن چین بھی اس سمت میں رفتار حاصل کر رہا ہے۔
۔











