لندن سے پیرس تک الیکٹرک جہاز 'ایک عشرے میں'

،تصویر کا ذریعہWRIGHT ELECTRIC
ایک نئی کمپنی نے کہا ہے کہ وہ دس سال کے اندر اندر پیرس سے لندن تک الیکٹرک جہاز کی کمرشل پروازیں شروع کر دے گی۔
یہ جہاز ابھی تک نہیں بنا لیکن اس میں ڈیڑھ سو مسافروں کی گنجائش ہو گی اور یہ 480 کلومیٹر تک پرواز کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔
رائٹ الیکٹرک کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ جہاز بیٹری سے چلے گا اس لیے جیٹ ایندھن کا خرچ بچ جائے گا اور سفر کی لاگت کم ہو جائے گی۔
برطانوی ہوائی کمپنی ایزی جیٹ نے اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ایزی جیٹ نے بی بی سی کو بتایا: 'ایزی جیٹ کی رائٹ الیکٹرک کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور وہ اس زبردست نئی ٹیکنالوجی کی تیاری میں مشاورت فراہم کر رہی ہے۔'
تاہم الیکٹرک جہاز کی راہ میں خاصی رکاوٹیں حائل ہیں۔ کمپنی بیٹری ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر انحصار کر رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جہاز کو اڑانے کی درکار توانائی دستیاب نہیں ہو سکے گی۔
ماہرین کو کمپنی کے دعوے پر شکوک و شبہات ہیں۔ جریدے ایوی ایشن ویکلی کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر گریم وارک نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بیٹری ٹیکنالوجی ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی۔'
انھوں نے کہا: 'وہ وقت آئے گا لیکن اس کے لیے خاصی پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ابھی تک کسی کا خیال نہیں کہ ایسا مستقبل قریب میں ممکن ہے۔ اس کے علاوہ تحفظ کی سرٹیفیکیشن کا بھی مسئلہ ہے، ابھی اس ضمن میں قواعد و ضوابط ہی وضع نہیں کیے گئے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رائٹ الیکٹرک نے ابھی تک اپنا جہاز تیار نہیں کیا اور وہ امریکی موجد چپ ییٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے جن کے الیکٹرک جہاز نے تیز رفتار ترین الیکٹرک پرواز کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
بڑی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس بھی اپنا الیکٹرک جہاز تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔








