آواز سے چھ گنا تیز سفر کا تجربہ ناکام

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 19:38 GMT 00:38 PST

پرواز کے بعد یہ جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں گر جائے گا

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’ویو رائیڈر‘ نامی ہائپرسونک جیٹ کے آواز کی رفتار سے چھ گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کا تجربہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگیا ہے۔

میک کسی شے کی رفتار کے آواز کی رفتار سے تناسب کا نام ہے اور درجۂ حرارت اور بلندی جیسے عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک میک اندازاً سات سو اڑسٹھ میل فی گھنٹہ کے برابر ہوتا ہے۔

’میک چھ‘ یا تین ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے لندن سے نیویارک کا سفر ایک گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ویو رائیڈر کے تازہ تجربے کے دوران اسے ایک بی باون بمبار طیارے کی مدد سے بحرالکاہل کے اوپر پچاس ہزار فٹ کی بلندی سے چھوڑا گیا لیکن تکینکی خرابی کی وجہ سے اس کا سپرسانک انجن چل ہی نہیں سکا اور جہاز بحرالکاہل میں گر کر لاپتہ ہوگیا۔

امریکی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق جیٹ کی پرواز کے سولہویں سیکنڈ میں ہی خرابی کا پتہ چل گیا تھا۔ امریکی فضائیہ کی تحقیقاتی تجربہ گاہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’بدقسمتی سے ثانوی نظام میں خرابی کی وجہ سے اس سے قبل کہ ہم سکریم جیٹ انجن چلا پاتے مشن ناکام ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام ڈیٹا کے مطابق ہم نے انجن چلانے کے لیے بہترین حالات پیدا کر لیے تھے اور ہم اپنے تجربے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرامید تھے‘۔

یہ لگاتار دوسرا موقع ہے کہ اس جیٹ کا انجن چلنے میں ناکام رہا ہے۔ دو ہزار گیارہ کیے گئے ایک اور تجربے میں بھی جیٹ کا انجن چل نہیں سکا تھا تاہم جون دو ہزار دس میں کیے گئے ایک تجربے میں ویو رائیڈر نے آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے سفر کیا تھا لیکن وہ اپنی مطلوبہ رفتار تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔

اب امریکی فضائیہ کے پاس صرف ایک ایکس اکیاون اے تجرباتی جیٹ باقی بچا ہے اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا فضائیہ چوتھی مرتبہ تجربہ کرے گی یا نہیں۔

"بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب سپر سانک سے ہائپر سونک پرواز تک کے سفر کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔ تاہم اس قسم کا جہاز نہایت مہنگا ہوگا کیونکہ اس قسم کی رفتار کے حصول کے لیے بےپناہ توانائی درکار ہوتی ہے۔"

پیٹر روبی

یہ منصوبہ ایک ہائپرسونک طیارے کی تیاری کے لیے جاری کئی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے کے لیے امریکی محکمۂ دفاع اور امریکی خلائی ادارے ناسا نے رقم فراہم کی ہے اور یہ تیز رفتار میزائلوں کی تیاری کے منصوبے کا حصہ ہے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق کو ایسے مسافر طیاروں کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو موجودہ زمانے کے جیٹ طیاروں سے کہیں تیز اڑ سکیں۔

ماضی میں کنکارڈ طیارے آواز سے دگنی رفتار سے سفر کرتے رہے ہیں اور وہ لندن سے نیویارک کا سفر تین گھنٹے میں طے کیا کرتے تھے۔ تاہم سنہ انیس سو ترانوے کے بعد سے ان کا استعمال ترک کر دیا گیا تھا۔

یورپی ایروسپیس کمپنی اِیڈز کے نائب صدر پیٹر روبی کا کہنا ہے کہ ہائپرسونک مسافر طیارے مستقبل قریب میں سامنے آنے لگیں گے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب سپر سانک سے ہائپر سونک پرواز تک کے سفر کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس قسم کا جہاز نہایت مہنگا ہوگا کیونکہ اس قسم کی رفتار کے حصول کے لیے بےپناہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ لیکن کاروباری اور سیاسی شخصیات کے لیے ڈھائی گھنٹے میں ٹوکیو سے پیرس پہنچنے کا خیال ہی بہت پرکشش ہے۔ میرے خیال میں دو ہزار پچاس تک مارکیٹ میں قابلِ عمل ہائپرسونک مسافر طیارہ آ جائے گا‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>