عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کیسے بدلتی ہے؟

بڑھاپا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, زاریہ گورورٹ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

ہماری شخصیات کے بارے میں ایک روایتی خیال ہے کہ جب ہم تیس برس کے ہوجاتے ہیں تو ہم میں تبدیلی ممکن نہیں رہتی، لیکن تازہ ریسرچ کے مطابق ہماری شخصیات تمام عمر بدلتی رہتی ہے، اور اس کے حیران کن فائدے ہوتے ہیں۔

'جنابِ صدر، میں ایک موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جو میرے خیال میں یہاں خفیہ طور پر دو تین ہفتوں سے پنپ رہا ہے اور قومی سلامتی پر اس کے برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔' یہ بات ایک صحافی ہینری ٹریوہِٹ نے امریکی صدر رونلڈ ریگن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے سنجیدہ انداز میں کہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اکتوبر سنہ 1984 میں صدر رونلڈ ریگن دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے صدارتی مباحثوں میں مصروف تھے۔ گذشتہ ہفتے کے مباحثے میں ان کی کارکردگی اپنے مد مقابل کے سامنے بہت خراب تھی۔ سب یہاں کانا پُھوسی کر رہے تھے کہ 77 برس کی عمر والے شخص کے لیے یہ ذمہ داری کافی بھاری ہوتی ہے۔

آخر اس وقت بھی ریگن امریکہ کی تاریخ کے سب سے عمر رسیدہ صدر بننے کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔ ان کے ایک پیش رو کیوبن میزائل کے بحران کے دوران کئی دنوں تک بغیر سوئے مسلسل کام کرتے رہے تھے۔ ٹریوہِٹ یہ جاننے چاہتے تھے کہ کیا ریگن کو یقین ہے کہ وہ ایسے حالات میں صدارتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں گے؟

ریگن نے اہنی مسکراہٹ دباتے ہوئے سٹیج سے جواب دیا 'مسٹر ٹریوہِٹ، ایسا بالکل نہیں ہے۔ اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ میں اپنی زیادہ عمر کو اس انتخابی مہم کا موضوع نہیں بناؤں گا۔ میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے مدمقابل کی کم عمری اور نا تجربہ کاری کا استحصال نہیں کروں گا۔' ریگن کے اس جواب پر وہاں ایک ٹھٹھے دار قہقہہ لگا اور خوب تالیاں بجیں، اور صدارتی انتخاب کے لیے ایک زبردست فتح کی راہ ہموار ہو گئی۔

رونلڈ ریگن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1984 میں جب رونلڈ ریگن دوسری میعاد کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے تو وہ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ عمر رسیدہ صدر تھے

ریگن کا اس طرح مذاق اڑا دینا بہرحال ان کے اپنے علم سے زیادہ ایک سچ تھا۔ ان کے پاس نہ صرف تجربہ تھا، بلکہ ان کے پاس ایک 'پختہ شخصیت' بھی تھی۔

ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ عمر کے بڑھنے سے کس قسم کی جسمانی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں: جلد ڈھلکنے لگتی ہے، مسوڑھے کمزور ہونے لگتے ہیں، ہماری ناک بڑی ہو جاتی ہے، چند مخصوص جگہوں پر بال اُگنا شروع ہو جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ چند اور جگہوں سے بالکل ہی غائب ہوجاتے ہیں، اور ہمارے قد کے چند ایک نہایت قیمتی انچ جن سے ہم وجیہہ نظر آتے ہیں، وہ غائب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اب عمر بڑھنے کے اثرات کے بارے میں کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد سائنس دان اس پُر اسرار تبدیلی کے نئے پہلو دریافت کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈِنبرا کے ماہرِ نفسیات رینی موٹس کہتے ہیں کہ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے: کہ ہم تمام عمر ایک ہی طرح کی شخصیت نہیں رہتے ہیں۔'

ہم میں سے اکثر یہ سوچنا پسند کریں گے کہ ہماری شخصیات تمام عمر نسبتاً مستحکم رہتی ہیں یا ایک ہی ڈگر جیسی ہوتی ہیں۔ لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔

ہماری شخصیت کی خصوصیات بدلتی رہتی ہیں، اور جب ہم 70 یا 80 کی دہائی میں آتے ہیں تو اس وقت تک ہم میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں۔ اور جس دوران ہم اپنے آپ کو بڑھتی ہوئی عمر کے جسمانی زوال اور بگاڑ سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں، اُسی دوران ہماری شخصیت میں بتدریج تبدیلیوں کے بہت حیران کن فائدے بھی پہنچتے ہیں۔

ہم زیادہ مخلص اور متفق مزاج ہو جاتے ہیں جبکہ اعصابی بد نظمی کا کم شکار ہوتے ہیں۔ 'سیاہ تثلیث' والے شخصیاتی اوصاف، میکیاولیئت، نرگسیت پسندی کی شدت میں بھی کمی آئے گی، اور ان کی شدت کےکم ہونے سے ہمارے رویے میں سماج دشمنی یعنی جرم کرنے یا منشیات کے استعمال کرنے کا خطرہ بھی کم ہوگا۔

ریسرچ بتاتی ہے کہ ہم میں ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور ہم قابل بھروسہ شخصیتیں بن جاتے ہیں۔ ہماری قوتِ ارادی بڑھ جاتی ہے اور ہمارے اندر ایک بہتر حسِّ مزاح پیدا ہو جاتی ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے زیادہ عمر کے لوگ اپنے جذبات پر بہتر طور پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔ کسی بھی طور سے یہ کئی چیزوں کو جیتنے والا ایک مجوعہ ہے، اور یہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ہم بوڑھے لوگوں کے بارے میں جو ایک روایتی تاثر رکھتے ہیں کہ یہ بد مزاج اور چڑ چڑے ہوتے ہیں، اس تاثر پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

اس خیال کے بالکل ہی برعکس، جسے ماہرین کئی سالوں سے تسلیم کرتے آرہے تھے کہ یہ بچپن میں یا 30 برس کے لگ بھگ مکمل ہو جاتی ہے، اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ہماری شخصیت ایک سیال مادے کی طرح ہے اور یہ لچکدار بھی ہے۔ پروفیسر موٹس کہتے ہیں کہ 'لوگ زیادہ خوش مزاج ہو جاتے ہیں سماجی طور پر زیادہ لچکدار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی توقعات اور معاشرتی تقاضوں کے مابین توازن پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔

سوئمنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہماری شخصیت میں مسلسل تبدیلی ہمارے ارد گرد کے ماحول کی مناسبت سے آتی ہے

ماہرین نفسیات اس تبدیلی کو جو کہ ہم میں عمر کے بڑھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے 'شخصیت کی پختگی' کہتے ہیں۔ یہ تبدیلی بتدریج آتی ہے، غیر مرئی طور پر آتی ہے، کم سنی سے شروع ہوتی ہے اور اس کرّہِ ارض پر ہمارے 80 کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی آفاقی لگتی ہے: اس طرح کی تبدیلی گوئیٹے مالا سے لے کر انڈیا تک تمام بنی نوع انسان کی ثقافتوں میں نظر آتی ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کی سماجی نفسیات کی ماہر ڈاکٹر روڈیکا دامیان کہتی ہیں کہ 'شخصیت میں تبدیلی کے بارے میں مخصوص رائے قائم کرنے کو کہ یہ اچھی ہے یا بری ہے، عموماً متنازع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں کہ یہ فائدہ مند ہوتی ہے۔' مثال کے طور پر جذبات میں عدم استحکام کا تعلق ذہنی مسائل سے براہ راست ہوتا ہے، جن میں شرح اموات میں اضافہ، طلاقوں کا بڑھنا وغیرہ۔

ڈاکٹر دامیان اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان حالات کے دوران کسی کے اخلاص کے اعلیٰ اوصاف کے حامل شریکِ سفر کے زیادہ خوش ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ اس کے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے ہوئے برتن وقت پر دھونے کے امکانات زیادہ اور اپنے شریک سفر کو دھوکہ دینے کے کم امکانات ہیں۔

اسی طرح یہ سوچنا بہت ہی منطقی ہوگا کہ تبدیلی کے اس مسلسل عمل کی وجہ سے 'شخصیت' کا روایتی تصور بے معنی ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شخصیت میں تبدیلی کے دو قسم کے پہلو ہوتے ہیں: ایک اوسط تبدیلی اور دوسری نسبتاً تبدیلی۔ ریسرچ کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے ہماری شخصیت میں جو تبدیلی آتی ہے یعنی ہم دوسروں سے اپنے تعلق میں اُتنی ہی عمر کے لوگوں کے لحاظ سے کتنے بدلے ہیں، تو ہماری شخصیت میں مستحکم رہنے کے کافی امکانات نظر آئیں گے۔

مثال کے طور پر ایک شخص کے اعصابی نظام کے درجے کے مجموعی طور پر کم ہونے کے امکانات ہوتے ہیں، جو بچہ گیارہ برس کی عمر میں اعصابی بیماری کا شکار ہوگا اُس کے 81 برس کی عمر میں بھی اعصابی بیماری کے شکار ہونے کے اتنے ہی امکانات ہوں گے۔ اس طرح کی درجہ بندی ہماری شخصیت کی سب سے زیادہ پائیدار خصوصیت ہے اور یہ ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

ڈاکٹر روڈیکا دامیان کہتی ہیں کہ 'جاننے کا کلیدی حصہ ہے کہ ہم کون ہیں، اس لحاظ سے کہ ہم دوسروں سے موازنہ کرتے ہوئے ان کی نسبت سے اپنی درجہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن اپنی ذات کی نسبت کے لحاظ سے ہماری شخصیت کوئی حرفِ آخر نہیں ہے۔ ہم میں تبدیلی آسکتی ہے۔'

جاپان کے سو سو برس کی عمر کے افراد پر کی گئی تحقیق سے دریافت ہوا کہ ان کے اخلاص، بیرون بین ہونے اور کھلے پن کے سکور اچھے آنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

شخصیت میں تبدیلیاں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ موٹس کہتے ہیں کہ 'اس وقت اس موضوع پر کافی بحث ہو رہی ہے۔'

کیونکہ شخصیت میں پختگی کا پیدا ہونا ایک آفاقی حقیقت ہے، اس لیے کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہمیں عمر بڑھنے کے باوجود بھی نت نئے اصول و ضوابط سیکھنے ہوتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری شخصیات ایک مسلط کردہ جینیاتی عوامل کی وجہ سے بدلتی ہیں جنھیں پھر ہماری زندگی کے سفر کے دوران سماجی دباؤ نے تراشا ہے۔ مثال کے طور پر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے شخصیاتی نفسیات کے ماہر وائیبکے بلائیڈورن کی ریسرچ کے مطابق، ان ثقافتوں میں جہاں لوگوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تیزی سے بڑے ہوکر شادی کریں، کام کاج شروع کریں، بڑوں والی ذمہ داریاں اٹھائیں، ان کی شخصیت میں کم عمری ہی میں پختگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر دامیان کہتی ہیں کہ 'لوگ ایک طرح سے اپنے رویے میں وقت کے گزرنے کے ساتھ تبدیلی کو بزورِ قوت پیدا کرتے ہیں تاکہ زیادہ ذمہ دار بن جائیں۔ ہماری شخصیات ہمیں ہماری زندگی کے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لیے تبدیلی میں ہماری مدد کرتی ہیں۔'

لیکن اُس وقت کیا ہوتا ہے جب ہم بہت زیادہ بوڑھے ہو جاتے ہیں؟

بڑھاپا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوہ لوگ جن کو اپنے اوپر زیادہ قابو ہوتا ہے وہ زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔

یہ جاننے کے دو ممکنہ طریقے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں کیسے تبدیل ہوتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ مختلف عمروں والے لوگوں کے ایک بڑے سے گروپ کو لیں اور پھر یہ دیکھیں کہ ان کی شخصیات مختلف کس طرح ہیں۔

اس طریقے کا متبادل یہ ہے کہ اسی گروپ کے لوگوں کو لیا جائے اور پھر ان کے بڑا ہونے تک مطالعہ جاری رکھا جائے۔

'لوتھیان برتھ کنٹرول' کے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا گیا تھا۔ یہ لوگوں کا وہ گروپ تھا جن کا مطالعہ اور ان کی ذہانت کا ٹیسٹ جون سنہ 1932 یا جون سنہ 1947 میں کیا گیا تھا جب وہ ابھی سکول کے طلبا تھے۔ اس وقت یہ گیارہ گیارہ برس کی عمر کے تھے۔ موٹس نے یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے ان میں سے سینکڑوں کو اس وقت تلاش کیا جب وہ ستر ستر برس یا اسی اسی برس تک پہنچ چکے تھے۔ اور پھر انھیں ان پچھلے ٹیسٹوں سے ملتے جلے ویسے ہی ٹیسٹ کئی برس کے بعد دوبارہ کروائے۔

موٹس نے بتایا کہ 'کیونکہ اب ہمارے پاس یہ دو طرح کے گروپ تھے، اور ان دونوں کے ٹیسٹ دو مختلف اوقات میں لیے گئے تھے، اس لیے اب ہم اس قابل تھے کہ ان پر دو مختلف اوقات میں لیے گئے ٹیسٹ کے دو طریقوں کو ایک ہی وقت میں استعمال کرسکیں۔' یہ بڑی خوش قسمتی تھی کیونکہ ان دو گروہوں کے ٹیسٹوں کے نتیجے واضح طور پر مختلف تھے۔

اگرچہ چھوٹی عمر کے گروہ کی شخصیات کم و بیش پہلےجیسی ہی رہیں، بڑی عمر کے گروہ کی شخصیات میں تبدیلی کا آغاز ہونا شروع ہو گیا تھا، اس لحاظ سے اوسطاً ان کے کھلے پن اور ان کی بیرون بینی میں کمی واقع ہوگئی تھی اور ساتھ ساتھ ان کا اخلاص بھی کم ہو گیا اور ان میں متفق ہونے کی صلاحیت بھی کم ہو گئی۔ اور جو فائدہ مند تبدیلیاں ان میں تمام عمر ہوئیں وہ بھی واپس ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

'میرے خیال میں یہ قبالِ فہم بھی ہے۔ کیونکہ بڑھاپے میں لوگوں کے لیے واقعات کے ہونے کے عمل کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔' یہ سمجھاتے ہوئے موٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شاید ان لوگوں کی صحت زوال پذیر ہو اور یہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے محروم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 'اس کا ان کی عام لوگوں کی زندگی سے رابطے رکھنے کے عمل پر گہرا اثر ہوتا ہے۔'

ابھی تک کسی نے یہ مطالعہ نہیں کیا ہے کہ کیا یہ رجحان سو برس سے زیادہ کی عمر میں بھی پہنچنے کے دوران رہتا ہے۔ جاپان کے سو سو برس کی عمر کے افراد پر کی گئی تحقیق سے دریافت ہوا کہ ان کے اخلاص، بیرون بین ہونے اور کھلے پن کے سکور بہتر آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ لیکن ان میں اس قسم کی کئی خصوصیات کے موجود ہونے کے پہلے سے امکانات موجود تھے۔ شاید اس نے ان کی لمبی عمر میں کردار ادا کیا ہو۔‘