BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2009, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہماری ٹیم ناتجربہ کار ہے: یونس

یونس خان
توجہ جیت سے زیادہ ٹیم کا اعتماد بحال کرنے اور متحد رکھنے پر ہو گی
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو فاتح ٹیم بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچوں کا تجربہ دینا ضروری ہے۔

سری لنکا اور پاکستان کے درمیان اتوار سے لاہور میں شروع ہونے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ سے پہلے سنیچر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس میں یونس خان نے کہا کہ ان کی توجہ جیت سے زیادہ ٹیم کا اعتماد بحال کرنے اور متحد رکھنے پر ہو گی۔

خود کو جارحانہ کپتان کہنے والے یونس خان نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں ایسے کسی عزم کا اظہار نہیں کیا کہ وہ یہ ٹیسٹ میچ جیتیں گے اگرچہ جب شعیب ملک کو ہٹا کر ان کو کپتان بنایا گیا تھا تو انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ لاہور میں ایک روزہ میچ میں ہونے والی عبرت ناک شکست کا بدلہ وہ ٹیسٹ میچ جیت کر لیں گے۔

یونس خان نے کہا کہ ان کے اور دانش کنیریا کے علاوہ ان کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے مل کر جتنے ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اتنے شاید صرف مرلی دھرن نے کھیل رکھے ہیں اور چونکہ ہماری ٹیم ناتجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اس لیے ہم ان سے یہ توقع تو نہیں کر سکتے کہ یہ میچ جیتیں لیکن اس میچ میں اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

یونس خان کے بقول دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم کو لڑاتے ہیں اس لیے ان کا حق ہے کہ وہ سلیکٹرز کو اپنا مؤقف بتائیں لیکن ٹیم بناتے وقت ان کی اپنی ذاتی پسند یا نا پسند نہیں ہوتی کہ وہ انہی کو ٹیم میں لانا چاہتے ہیں جو ان کے خیال میں بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کی وکٹ کراچی کی وکٹ کی نسبت بہتر نظر آ رہی ہے اور اب ٹاس جیتنے کے بعد ہی فیصلہ ہو گا کہ پہلے بیٹنگ کرنی ہے یا بالنگ۔

یونس خان نے کہا کہ پاکستان میں ٹیسٹ میچ کو مقبول بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ میچز نتیجہ خیز ہوں۔ میچ کا نتیجہ نکلے گا تو لوگ ٹیسٹ میچز دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں آئیں۔

یونس خان نے دعوی کیا کہ کراچی ٹیسٹ میچ میں ان کی اس نوجوان ٹیم کا پلہ سری لنکا سے کچھ بھاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ جے وردھنے کا چونکہ بطور کپتان یہ آخری میچ ہے اس لیے انہیں توقع ہے کہ سری لنکا کی ٹیم کافی جارحانہ انداز اپنا سکتی ہے لیکن چونکہ میرا انداز بھی جارحانہ ہے اس لیے ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔

یونس خان نے تسلیم کیا کہ محمد آصف، شعیب اختر اور شبیر احمد کی غیر موجودگی میں ان کا فاسٹ بالنگ اٹیک کمزور ہے اور کہا کہ محمد آصف سمیت جو کھلاڑی بھی فٹ ہو کر ٹیم میں آئیں گے اس کا ٹیم کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی ایل میں پاکستان کی نوجوان کھلاڑیوں کے جانے سے پاکستان کی ٹیم کو نقصان ہوا ہے۔

ہماری کوشش ہو گی کہ ہم کراچی کی طرح کیچز نہ گرائیں
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دیے گئے سنٹرل کنٹریکٹ پر ان کے سمیت آٹھ کھلاڑیوں کے ابھی تک دستخط نہ کرنے کے سوال پر یونس خان نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں دستخط کر دیں گے اور اب تک دستخط نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے حقوق پر خاموش احتجاج کر رہے تھے اور پی سی بی نے ان کی بات مان لی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی کرکٹرز کی ایسوسی ایشن ہونی چاہیے جس سے کھلاڑیوں کے حقوق کے سلسلے میں ایسے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بحثیت کپتان اپنا آخری میچ کھیلنے والے سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے کا کہنا تھا کہ اہم یہ نہیں کہ یہ بحثیت کپتان ان کا آخری میچ ہے بلکہ اس میچ کو جیتنا ان کی ٹیم کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک روزہ سیریز میں بھی شکست دی تھی اور اب وہ ٹیسٹ سیریز بھی جیتنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ وکٹ کے ماہر تو نہیں لیکن جب ہم نے اس پر ایک روزہ میچ کھیلا تو یہ کافی اچھی تھی اور اب بھی ظاہری طور پر تو لگتا ہے کہ اس میں فاسٹ بالرز کے لیے مدد ملےگی لیکن اصل حالت کا اندازہ تو کھیل کر ہی ہو گا۔
جے وردھنے نے کہا کہ اگرچہ لاہور میں ان کی ٹیم کا ریکارڈ بہتر ہے لیکن وہ ماضی کی بات ہے اور ہم نے یہاں ٹیسٹ میچز زیادہ نہیں کھیلے اس لیے ہم اسے نیا مقابلہ ہی سمجھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یونس خان کو روکنے کے لیے ہماری کوشش ہو گی کہ ہم کراچی کی طرح ان کے کیچز نہ گرائیں اور انہیں آؤٹ کرنے کے مواقع ضائع نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان نے اچھی بیٹنگ کی لیکن ان کے بالرز نے بھی اچھی بالنگ کی اور وہ اپنے بالرز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد