لارا کا ریکارڈ محفوظ، یونس آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی اننگز کے عالمی ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کی خواہش پوری نہیں کرسکے ہیں۔ انہیں دلہارا فرنانڈو نے تین سو تیرہ کے سکور پر بولڈ کر دیا۔ منگل کو اپنی پہلی ٹرپل سینچری بنانے کےبعد یونس نے کہا تھا کہ وہ مزید چالیس اوورز کھیل کر برائن لارا کا چار سو رن کا ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں جو انہوں نے 2004ء میں انگلینڈ کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں قائم کیا تھا۔ یونس خان چوتھے دن کے اختتام پر تین سو چھ رنز پر ناٹ آؤٹ تھے اور برائن لارا کا ریکارڈ توڑنے کے لئے انہیں مزید پچانوے رنز درکار تھے۔ منگل کو یونس خان نے اپنی ٹرپل سنچری کو اپنی فیملی اور دوستوں سے منسوب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ حنیف محمد اور انضمام الحق جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کی صف میں شامل ہوئے ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیسٹ میں کھیلے تھے جس میں انضمام الحق نے سنچری بنائی تھی۔ ان کی329 رنز کی اننگز کو وہ اپنی ٹرپل سنچری سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے سخت گرمی میں بیٹنگ کی تھی ۔ اس وقت وہ آؤٹ آف فارم تھے اور فٹنس کا مسئلہ بھی انہیں درپیش تھا اس صورتحال میں انہوں نے انتہائی جارحانہ بیٹنگ کی تھی۔ یونس خان نے کہا کہ حنیف محمد کی اننگز انہوں نے نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں جس سے بھی سنا یہی سنا کہ وہ ایک باکمال اننگز تھی جس نے پاکستان کو یقینی شکست سے بچایا تھا۔ یونس خان نے کہا کہ ٹرپل سنچری چاہے کسی بھی بولنگ اٹیک اور کنڈیشن میں بنے وہ ٹرپل سنچری ہوتی ہے۔ یونس خان سے پوچھا گیا کہ وہ اس اننگز کا موازنہ اپنی بنگلور ٹیسٹ کی267 رنز کی اننگز سے کس طرح کریں گے جس پر ان کا کہنا تھا کہ بنگلور ٹیسٹ کی اننگز کو وہ اس لئے اس ٹرپل سنچری پر فوقیت دیتے ہیں کہ بھارت کے خلاف وہ ٹیسٹ پاکستان نے جیتا تھا اور اس میں انہوں نے ڈبل سنچری سکور کی تھی۔ | اسی بارے میں یونس خان کی ٹرپل سینچری مکمل24 February, 2009 | کھیل 499 کی اننگز کے پچاس سال 11 January, 2009 | کھیل حنیف،عمران،میانداد’ہال آف فیم‘ میں03 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||