آئی پی ایل: آصف پر سال کی پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مشہور انڈین پریمیئر کرکٹ لیگ کے ٹرائبیونل نے پاکستانی گیند باز محمد آصف کو ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے معاملے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے ان پر ایک برس کی پابندی عائد کر دی ہے۔ انڈئین پریمئر لیگ یعنی آئی پی ایل کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ہے کہ ٹرائبیونل نے محمد آصف کے پیشاب کے نمونے میں نین ڈرولون نامی منشیات کا مادہ پایا ہے۔ اس ٹرائیبونل میں سابق کرکٹر سونیل گواسکر، وکیل شریش گپتا اور ڈاکٹر روی باپٹا شامل ہیں۔ ٹیسٹ کے لیے یہ نمونے تیس مئی دو ہزار آٹھ کو ڈیلی ڈئر ڈیولز اور راجستھان رائلز کے درمیان ممبئی میں کھیلے گئے میچ کے دوران لیے گئے گئے تھے۔ آئی پی ایل ٹرائبیونل کے اس فیصلے کے بعد محمد آصف پر بائس ستمبر دو ہزار آٹھ سے پابندی عائد کی گئی ہے لہٰذا وہ ستمبر دو ہزار نو تک کے لیے آپی ایل میں کھیل نہیں سکیں گے۔ محمد آصف آّئي پی ایل کی دلی ڈئیر ڈیول کی ٹیم میں شامل تھے اور اس برس آئی پی ایل مقابلوں سے قبل ایک باہمی مفاہمت کے بعد انہیں دلی ڈئیر ڈیول سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔ آئی پی ایل سے اپنا معاہدہ ختم کرتے وقت محمد آصف نے کہا تھا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں اور اپنی ساری توجہ ٹیم کے لیے کھیلنے پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ آئی پی ایل کے پہلے ٹورنا منٹ کے دوران کھلاڑیوں کا ڈوپنگ ٹیسٹ ہوا تھا جس میں محمد آصف کا ٹیسٹ پوزیٹیو نکلا تھا۔ اطلاعات کے مطابق محمد آصف نے ٹرائیبونل کو بتایا ہے کہ جب ان کا ٹیسٹ ہوا تھا اس دوران کھیل کے وقت ان کی آنکھ میں شدید تکلیف تھی اور بائیں آنکھ سے دیکھنے میں بہت مشکل ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے ایک خاص دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بعد استعمال کی تھی۔ | اسی بارے میں آصف کو دلی ہوائی اڈے پر روک لیاگیا 18 January, 2009 | کھیل آصف کی بھارت روانگی میں تاخیر15 January, 2009 | کھیل محمد آصف، نئی کمیٹی تشکیل15 January, 2009 | کھیل ڈوپنگ کیس ممبئی سماعت ملتوی27 November, 2008 | کھیل آصف، انتیس نومبر کو سماعت11 November, 2008 | کھیل محمد آصف کو پیش ہونے کا حکم28 August, 2008 | کھیل ڈوپنگ کیس: آصف کے لیے گنجائش 20 August, 2008 | کھیل آصف کی دوسری رپورٹ بھی پازیٹو 19 August, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||