مناء رانا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | محمد آصف کے سلسلے میں مقدار کے فرق کو چیلنج تو کیا جا سکتا ہے |
ورلڈ ڈوپنگ ایجینسی واڈا سے وابستہ ڈوپنگ کے معاملات میں ماہر سمجھے جانے والے ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ فاسٹ بالر محمد آصف کے اے اور بی نمونوں میں ممنوعہ دوا نیندرولون کی مقدار میں فرق کے سبب محمد آصف اپنے ڈوپنگ کیس میں فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ برونائی دارالسلام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر دانش ظہیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2002 کے ایشین گیمز میں بھارت کی ایک خاتون اتھلیٹ کے بھی اے اور بی نمونوں میں ممنوعہ دوا کی مقدار مختلف آئی تھی اس فرق کے سبب وہ ثالثی کی عالمی عدالت میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں کہ یہ نمونے ان کے نہیں تھے اور اس طرح ان کو ان کا میڈل بھی واپس مل گیا تھا۔ ڈاکٹردانش ظہیر کے مطابق نمونے کے اجزا میں وقت کے ساتھ کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ کیوں ہوتی ہے اس کی وجہ اگر لیبارٹری والے نہیں بتا سکتے تو اس فرق کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف کے سلسلے میں مقدار کے فرق کو چیلنج تو کیا جا سکتا ہے لیکن سنہ 2002 گزرے چھ سال گزر چکے ہیں اور اب تو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے بھی پتا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نمونے محمد آصف کے ہیں یا نہیں۔ دانش ظہیر کا کہنا تھا کہ اب یہ محمد آصف کے وکیل پر منحصر ہے کہ وہ مقدار کے اس فرق کو اپنے حق میں کس طرح استعمال کرتے ہیں اور کس طرح سے اپنا کیس تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
 | الزام ثابت ہوا تو مزید چار سال  پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات سامنے نہیں آئیں لیکن واڈا کی نظر اس معاملے پر بھی ہے اور اگریہ الزام بھی محمد آصف پر ثابت ہوتا ہے تو انہیں مزید چار سال کی پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے  ڈاکٹر دانش ظہیر |
ڈاکٹر دانش ظہیر کے مطابق چونکہ سنہ 2006 میں محمد آصف ڈوپ ٹیسٹ کے مقدمے سے باعزت بری کر دیے گئے تھے اس لیے اگر اس بار ان پر یہ جرم ثابت ہوتا ہے تو یہ ان کا پہلا جرم سمجھا جائے گا اور اس جرم میں توان پر دو سال کی پابندی لگائی جائے گی تاہم ڈاکٹر دانش ظہیر نے محمد آصف پر ایک اور الزام کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واڈا کے قوانین کے مطابق اگر کوئی اتھلیٹ ممنوعہ دوا کے ساتھ کسی ائر پورٹ پر پکڑا جاتا ہے تو وہ اس ممنوعہ دوا کی ٹریفکنگ کے زمرے میں آتا ہے اور محمد آصف کے پاس سے دبئی ائر پورٹ پر افیون برآمد ہوئی تھی جو کہ ممنوعہ ادویات میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات سامنے نہیں آئیں لیکن واڈا کی نظر اس معاملے پر بھی ہے اور اگریہ الزام بھی محمد آصف پر ثابت ہوتا ہے تو انہیں مزید چار سال کی پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے یعنی اس وقت واڈا قوانین کے مطابق محمد آصف چھ سال کی پابندی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ محمد آصف کہ جن کی قسمت کا ستارہ کچھ عرصے سے گردش میں ہے پہلے وہ دبئی ائرپورٹ پر کسی ممنوعہ شے کی برآمدگی پر حراست میں لیے گئے اور انہیں پی سی بی کی کوششوں کے بعد انیس دن بعد رہائی ملی۔اس معاملے پر تحقیق جاری تھی کہ وہ بھارت میں ہونے والی انڈین پریمیر لیگ کے دوران لیے گئے ڈوب ٹیسٹ میں پازیٹو پائے گئے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں معطل کر دیا اور اسی بناء پروہ چمپئنز ٹرافی کی ٹیم میں بھی جگہ حاصل نہ کر سکے۔ |