شارجہ کے بعد ابوظہبی میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان کی جیت نے شائقین کو بڑے عرصے بعد خوشی کا موقع فراہم کیا۔ بدھ کو شیخ زید سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کی چار وکٹوں سے ڈرامائی کامیابی ہمت اور حوصلے کی ایک بڑی مثال کہی جاسکتی ہے۔ پاکستانی کپتان شعیب ملک کہتے ہیں کہ اپنے آؤٹ ہونے کے بعد بھی وہ مایوس نہیں تھے اور انہیں کامران اکمل سے پوری امید تھی کہ جیت کی ہرممکن کوشش کرینگے جو انہوں نے کر دکھایا۔ واضح رہے کہ جب شعیب ملک آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لئے سترہ گیندوں پر تنتیس رنز درکار تھے اور جیروم ٹیلر آخری اوور کرانے آئے تو پاکستان اور جیت کے درمیان سترہ رنز کا فاصلہ تھا۔ یہ کام کامران اکمل کے دوچھکوں نے آسان کردیا۔ پاکستانی ٹیم کی اس جیت نے شارجہ میلے کی یاد بھی تازہ کردی جب پاکستان اسی انداز میں میچ جیت کر شائقین کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتی تھی۔ شارجہ کو ہمیشہ پاکستانی ٹیم کی شاندار فتوحات کی علامت کے طور پر دیکھا گیا جہاں کبھی میانداد کے آخری گیند پر چھکے نے جیت دلائی تو کبھی باسط علی، سعید انور اور انضمام الحق کی جارحانہ بیٹنگ نے اپنی جھلک دکھائی دی اور جب بالرز پر آزمائش آئی تو وقار۔ وسیم ۔ عاقب اور شعیب اختر اس پر پورے اترے۔ پاکستانی کرکٹرز کی یہ شاندار کارکردگی اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے کیونکہ شارجہ کا روایتی کرکٹ میلہ پانچ سال ہوئے ختم ہوچکا ہے۔
لوگوں کو ابوظہبی کی شکل میں اب کرکٹ کا ایک نیا میلہ دکھائی دینے لگا ہے اور وہ اس میں غیرمعمولی دلچسپی لینے لگے ہیں۔ ابوظہبی میں دو سال قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان دو ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے گئے تھے اور گزشتہ سال یہاں پاکستان اور سری لنکا نے ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی تھی۔ گوکہ شیخ زید سٹیڈیم شارجہ کے برعکس شہر سے دور تقریباً تیس میل کے فاصلے پر ہے لیکن شائقین کی بڑی تعداد یہاں ہونے والے میچوں کو دیکھنے آتی ہے۔ اس خوبصورت سٹیڈیم میں تماشائیوں کی گنجائش اٹھارہ ہزار ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ون ڈے سیریز کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ ابوظہبی پاک بھارت کرکٹ سیریز کے میزبان کے طور پر بھی سامنے آئے۔ ابوظہبی کرکٹ کے کرتا دھرتا دلاور مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ بھارت کے خلاف ہوم سیریز پاکستان میں نہ کرانے کی صورت میں انہیں میزبانی کی پیشکش کرے گا تو وہ اس کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی سیکیورٹی خدشات کے سبب غیرملکی ٹیموں کے پاکستان نہ آنے کی وجہ سے ملک سے باہر سیریز کھیلنے کے پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ پیشکش کرچکا ہے کہ وہ اپنے میچز انگلینڈ میں کراسکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ملک سے باہر اپنی سیریز کرانے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کا اثر براہ راست چیمپئنز ٹرافی پر پڑے گا جو پہلے ہی ملتوی کی جاچکی ہے اور آئندہ بھی اس کے پاکستان میں انعقاد کا دارومدآر آئی سی سی کی سکیورٹی کلیئرنس پر ہے ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اگر ’ آف شور وینیو‘ پر کھیلنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں تو وہ اپنے اس موقف کی بھی نفی کرتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ کو دہشت گردی کو خطرہ نہیں اور غیرملکی ٹیموں کو یہاں آنا چاہئے۔ | اسی بارے میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ ٹیسٹ متوقع23 October, 2008 | کھیل کراچی:پاکستان نے بھارت کو ہرا دیا02 July, 2008 | کھیل پاکستان نے سیریز کلین سویپ کرلی19 April, 2008 | کھیل مسلسل گیارہویں فتح پر نظریں18 April, 2008 | کھیل ’بنگلہ دیش کو کمزورٹیم نہ سمجھیں‘10 April, 2008 | کھیل سلیم ملک پر تاحیات پابندی ختم23 October, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||