BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 April, 2008, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان نے سیریز کلین سویپ کرلی

سب سے زیادہ رنز کاعالمی ریکارڈ
News image
 سلمان بٹ نے اس سیریز میں دو سنچریوں کے علاوہ دو نصف سنچریاں بھی بنائیں اور ان کے مجموعی رنز کی تعداد چار سو اکیاون رہی جو دو ملکوں کے درمیان کھیلی جانے والی پانچ میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڈ ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف پانچواں ون ڈے انٹرنیشنل میچ ایک سو پچاس رنز سے جیت لیا۔ اس طرح پاکستان کی ٹیم نے نہ صرف ایک روزہ میچز کی اس سیریز کو پانچ صفر کے ساتھ کلین سویپ کیا ہے بلکہ مسلسل گیارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز جیتنے کا نیا پاکستانی ریکارڈ بھی قائم کردیا۔

صدر جنرل ( ریٹائرڈ ) پرویز مشرف اس میچ کے مہمان خصوصی تھے جن کی آمد کے موقع پر اسٹیڈیم میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کا کنٹرول رینجرز اور دیگر ایجنسیوں نے جمعہ ہی سے سنبھال لیا تھا ۔ میچ سے گھنٹوں پہلے ہی نیشنل اسٹیڈیم آنے والے تمام لوگوں کی سخت تلاشی لی جارہی تھی۔

اس سے قبل انیس سو نوے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے عمران خان اور جاوید میاندا کی قیادت میں مسلسل دس ون ڈے انٹرنیشنل میچز جیتے تھے۔

بنگلہ دیشی ٹیم بولنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی بری طرح ڈگمگاگئی اور صرف ایک سو اناسی رنز بناسکی۔ اس سے قبل پاکستان نے سلمان بٹ کی سنچری اور یونس خان کی نصف سنچری کی بدولت ٹاس جیت کر نو وکٹوں پر تین سو انتیس رنز بنائے تھے۔

سلمان بٹ نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں چھٹی اور اس سیریز میں اپنی دوسری سنچری اسکور کی۔ انہوں نے ایک سو چوبیس گیندوں پر چودہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ایک سو چھتیس رنز بنائے جو ان کا کریئر بیسٹ اسکور بھی ہے۔

سلمان بٹ نے اس سیریز میں دو سنچریوں کے علاوہ دو نصف سنچریاں بھی بنائیں اور ان کے مجموعی رنز کی تعداد چار سو اکیاون رہی جو دو ملکوں کے درمیان کھیلی جانے والی پانچ میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل محمد یوسف نےسال دو ہزار تین میں زمبابوے کے خلاف سیریز میں چار سو پانچ رنز بنائے تھے۔

بنگلہ دیش کی پہلی چار وکٹیں صرف گیارہ گیندوں پر گرگئیں جس میں سے تین کو محمد آصف نے آؤٹ کیا تھا۔ پہلی وکٹ تمیم اقبال کی گری جوصرف نو رنز بناکر عمر گل کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

محمد آصف نے چھ گیندوں میں جنید صدیقی، آفتاب احمد اور شکیب الحسن کو آؤٹ کردیا لیکن آفتاب احمد اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ وہ اسٹیو بنکر کے غلط ایل بی ڈبلیو فیصلے کا شکار بنے۔

بنگلہ دیشی کپتان محمد اشرفل تیس اور وکٹ کیپر دھمن گھوش انتیس رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ گھوش اور محمود اللہ نے ساتویں وکٹ کے لئے ستاون رنز کا اضافہ کیا۔ محمود اللہ سینتیس رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔

آخری لمحات میں عبدالرزاق نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے تینتیس رنز بنائے۔ پاکستانی بولرز میں محمد آصف پینتیس رنز کے عوض تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب رہے۔ شاہد آفریدی نے بھی تین وکٹیں چالیس رنز دے کر حاصل کیں۔

اس سے قبل پاکستانی اننگز کی خاص بات سلمان بٹ اور یونس خان کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں بننے والے ایک سو اناسی رنز تھے جو پاکستان بنگلہ دیش ون ڈے میچوں میں دوسری وکٹ کی سب سے بڑی شراکت بھی ہے۔ سال انیس سو ستانوے میں کولمبو میں رمیز راجہ اور سعید انور نے دوسری وکٹ کے لئے ایک سو تئیس رنز کا اضافہ کیا تھا۔

مشرف کی حمایت
News image
 مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں سخت تنقید کی زد میں آنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں مدعو کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انہیں صدر کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

یونس خان نے جو دو میچوں کی غیر حاضری کے بعد دوبارہ ٹیم میں آئے اًسی گیندوں پر چار چو کے اور ایک چھکے کی مدد سےانہتر رنز سکور کئے۔ کامران اکمل صرف دس رنز بناکر مشرفی مرتضی کی گیند پر جنید صدیقی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور اٹھائیس رنز تھا۔

محمد یوسف سترہ گیندوں پر ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے بائیس رنز بناکر مشرفی مرتضی کی گیند پر عبدالرزاق کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ آؤٹ ہونے والے پانچویں بیٹسمین شاہد آفریدی تھے جو دو سو باسٹھ کے مجموعی اسکور پر شہادت حسین کی گیند پر مشرفی مرتضی کے خوبصورت کیچ پر پویلین واپس جانے پر مجبور ہوئے انہوں نے چار رنز بنائے۔

اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے نعمان اللہ کی بیٹنگ49 ویں اوور میں شعیب ملک کی وکٹ گرنے پر آئی جو27 رنز بناکر عبدالرزاق کی گیند پر گھوش کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئےتھے اسوقت پاکستان کا سکور 314 رنز تھا۔ اسی سکور پر مصباح الحق کی وکٹ گری جو35 رنز بناکر مشرفی مرتضی کی گیند پر عبدالرزاق کو کیچ دے گئے۔نعمان اللہ کو صرف پانچ رنز پر شہادت حسین نے بولڈ کیا۔

صدر جنرل ( ریٹائرڈ ) پرویز مشرف اس میچ کے مہمان خصوصی تھے جن کی آمد کے موقع پر سٹیڈیم میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔سٹیڈیم کا کنٹرول رینجرز اور دیگر ایجنسیوں نے جمعہ ہی سے سنبھال لیا تھا ۔ میچ سے گھنٹوں پہلے ہی سے نیشنل اسٹیڈیم آنے والے تمام لوگوں کی سخت تلاشی لی جارہی تھی۔

میچ کی کوریج کرنے والوں کے لیے عام میڈیا کارڈز کے ساتھ ساتھ سپیشل برانچ کی طرف سے خصوصی کارڈز جاری کئے گئے ہیں ۔ میڈیا کے سوا کسی کو بھی موبائل فون اسٹیڈیم کی مرکزی عمارت میں لانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں سخت تنقید کی زد میں آنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں مدعو کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انہیں صدر کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

یونس خانکھیلنے سے انکار؟
نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتا ہوں: یونس
’جج کی یقین دہانی‘
شعیب کو صفائی کا پورا موقع ملے گا: جسٹس فرخ
بریڈ میندراز عمر اور کرکٹ
’زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے طویل عمر پاتے ہیں‘
شعیب اختر کی امید
پہلی سماعت کے بعد شعیب اختر کی امید
ڈاکٹر نسیم اشرفتنخواہ پر تنازعہ
چیئرمین بورڈ کی تنخواہ پراسمبلی میں بحث
شعیب ملکشعیب کا ریکارڈ؟
مسلسل گیارہویں فتح پر نظریں
میچ کی جھلکیاں
کراچی میں پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد