ڈاکٹر نسیم اشرف کی تنخواہ کتنی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کی جانب سے تعینات کیے گئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف جمعے کو ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی میں گرما گرم بحث کا موضوع بنے۔ ان کی جانب سے صحیع تنخواہ نہ بتانے پر اب توقع ہے کہ انہیں ایوان کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن حنیف عباسی کے ایک سوال پر ایوان کو بتایا گیا کہ چیئرمین پی سی بی اڑتیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ لیتے ہیں۔ لیکن حنیف عباسی نے جو تیز بالر شعیب اختر کو پانچ برس کے لیے نااہل کیے جانے کے بعد سے نسیم اشرف کو خصوصی طور پر تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں اسے غلط قرار دیا۔ وزارت کھیل کا اضافی چارج رکھنے والے وفاقی وزیر پیٹرولیم خواجہ محمد آصف نے اعتراف کیا کہ پی سی بی نے چیرمین کی صرف بنیادی تنخواہ بتا کر غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی سے انہوں نے صبح جو وضاحت حاصل کی تو انہیں بتایا گیا کہ چیئرمین کو ماہانہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے تک تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ اس پر حنیف عباسی نے غلط معلومات کی فراہمی کو اپنا استحقاق مجروح ہونے کا دعویٰ کیا جس سے وزیر نے بھی اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کے اراکین کو محض اکتالیس ہزار پانچ سو روپے دیے جاتے ہیں لیکن اس کی ان کے خلاف بار بار تقریر کی جاتی ہے۔ حنیف عباسی کے اصرار پر یہ معاملہ ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے استحقاق سے متعلق قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ یہ کمیٹی ابھی قائم نہیں ہوئی ہے لیکن جب ہوگی تو یہ معاملہ اٹھائے گی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کو صدر پرویز مشرف نے پی سی بی کا چیئرمین اکتوبر دو ہزار چھ میں تعینات کیا تھا۔ لیکن اب حکومت کی تبدیلی کی بعد سے ان پر کچھ زیادہ ہی تنقید دیکھی جا رہی ہے۔ حنیف عباسی کے ہی ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ پی سی بی چیئرمین کے تریسٹھ روز کے اب تک کے غیر ملکی دوروں میں صرف یومیہ الاونس کی مد میں انہیں ایک لاکھ انیتیس ہزار ڈالر سے زائد رقم ادا کی گئی۔ بعض صورتوں میں ایئر ٹکٹ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضمنی اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ چیئرمین کے تمام غیرملکی دوروں، ٹکٹ پر خرچ رقم اور اس دورے کے مقصد جیسی تفصیل بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ ان میں سے دبئی کے دو دورے ایسے تھے جن کا مقصد نو سو امریکی ڈالر ٹکٹوں پر خرچ کر کے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام ’نادیہ خان شو‘ میں شرکت کرنا اور ابو ظہبی حکام یا کرکٹ کلب کے ساتھ ملاقاتیں کرنا تھا۔ خواجہ آصف نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ وزارت کھیل کو ماضی کی حکومتوں نے کھیلوں کے فروغ کے لیے کم اور اپنی پسند کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے زیادہ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کھیلوں سے متعلق کمیٹی بن جانے کے بعد اس کی کارروائی براہ راست دکھائی جائے تاکہ عوام کو اس وزارت کے غلط استعمال سے آگاہ کیا جاسکے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف اس عہدے پر تعیناتی سے قبل صدر کی انسانی ترقی کی ٹاسک فورس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں موجودہ حکومت خصوصاً مسلم لیگ (ن) صدر کی حامی شخصیات پر اتنا دباؤ بڑھانا چاہتی ہے کہ وہ خود عہدہ چھوڑ دیں۔ لیکن ڈاکٹر نسیم اشرف کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں کھلاڑی اعصابی طور پر کمزور: نسیم15 December, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ میں نئی روح: اشرف24 September, 2007 | کھیل نسیم اشرف: کرکٹر کی تنقید کا جواب07 May, 2007 | کھیل نسیم اشرف کا استعفی نامنظور30 March, 2007 | کھیل پی سی بی کا نیا آئین مکمل21 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||