BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 09:10 GMT 14:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلیم ملک پر تاحیات پابندی ختم

سلیم ملک
عدالت نے سلیم ملک کو کرکٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔
لاہور کی سول عدالت نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں عائد تاحیات پابندی ختم کردی ہے۔

سول عدالت کے جج ملک محمد الطاف نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں سلیم ملک کے دعوے کو منظور کرتے ہوئے انہیں کرکٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ مئی سنہ دو ہزار میں جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل عدالتی کمیشن نے میچ فکسنگ کی پاداش میں سلیم ملک پر تاحیات پابندی کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

ایک سو تین اور دو سو تیراسی ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پینتالیس سالہ سلیم ملک نے پابندی کے فیصلے کے خلاف سول کورٹ ۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اس سال مئی میں ان کا مقدمہ سول کورٹ کو یہ کہہ کر واپس کردیا تھا کہ وہی اسے سننے کی مجاز ہے اور اس نے جس بنیاد پر سلیم ملک کی اپیل مسترد کردی تھی وہ غلط تھی اور سول کورٹ کے اس فیصلے کو بنیاد بناکر ہائی کورٹ نے بھی سلیم ملک کی جو اپیل مسترد کی وہ بھی درست نہ تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ سلیم ملک پر عائد پابندی ختم کرنے کے فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج نہیں کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سلیم ملک پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے عدالتی فیصلے کے بارے میں آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا۔

سلیم ملک نے پابندی ختم کرنے کے عدالتی فیصلے پر جذباتی انداز میں کہا کہ گوکہ اب ان کا بین الاقوامی کریئر ختم ہوچکا ہے اور وہ اب نہیں کھیل سکتے لیکن اس فیصلے کے بعد وہ کرکٹ سے کسی نہ کسی طریقے سے رشتہ جوڑ سکیں گے۔

واضح رہے کہ سلیم ملک پہلے کرکٹر تھے جن پر میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔

سلیم ملک کے علاوہ فاسٹ بولر عطاء الرحمن بھی عدالتی کمیشن کے سامنے دروغ گوئی پر تاحیات پابندی کی زد میں آئے تھے تاہم ان پر عائد پابندی دوسال قبل اٹھا لی گئی تھی۔

سنہ دو ہزار ہی میں بھارت کے سابق کپتان اظہرالدین، اجے شرما اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونئے کو بھی میچ فکسنگ کے الزامات میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسال پہلے بھارتی کرکٹ بورڈ اظہر الدین پر عائد پابندی بھی اٹھاچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد