سلیم ملک اپیل: سماعت کل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ جمعرات کو کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کی اپیل کی سماعت کرے گا جس میں انہوں نے اپنے اوپر عائد کردہ تاحیات پابندی کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ تین رکنی بنچ جسٹس نواز عباسی۔ جسٹس حامد فاروق اور جسٹس فرخ محمود پر مشتمل ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے2000 ء میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی سفارشات پر سلیم ملک کو کرکٹ کی ہر قسم کی سرگرمی میں تاحیات شرکت سے روک دیا تھا۔ سلیم ملک نے تاحیات پابندی کے اس فیصلے کو پہلے سول کورٹ اور پھر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے وکیل راجہ جہانزیب کے توسط سے چار سال قبل سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سلیم ملک کے وکیل راجہ جہانزیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے سلیم ملک کوعدم ثبوت کی بنا پر میچ فکسنگ کے الزامات سے بری کردیا تھا لیکن یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کو دوبارہ کیوں اٹھایا اور جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل کمیشن کے سپرد یہ معاملہ کردیا جنہوں نے سلیم ملک کو سنے اور صفائی کا موقع دیئے بغیر تاحیات پابندی عائد کردی اور انہیں قربانی کا بکرا بنادیا۔ راجہ جہانزیب کا کہنا ہے کہ جب اس سلسلے میں سول کورٹ سے رجوع کیاگیا تو وہاں سے یہ جواب ملا کہ چونکہ ان پر پابندی ہائی کورٹ کے ایک جج نے عائد کی ہے لہذا ماتحت عدالت ان کا کیس سننے کی مجاز نہیں حالانکہ جسٹس قیوم نے سلیم ملک پر پابندی کی صرف سفارشات کی تھیں۔ سلیم ملک سپریم کورٹ سے فیصلہ اپنے حق میں ہونے کے بعد کرکٹ سے دوبارہ ناتا جوڑنا چاہتے ہیں اور ان کا ارادہ کوچنگ کرنے کا ہے۔ اگر سپریم کورٹ سلیم ملک پر عائد پابندی ختم کردیتی ہے تو اس صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے رجوع کرکے سابق کپتان کو کلیئرنس دلانی ہوگی۔ سلیم ملک کے علاوہ بھارت کے سابق کپتان اظہرالدین اور اجے شرما کو بھی میچ فکسنگ قضیے میں تاحیات پابندی کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں سلیم ملک: کرکٹ اکیڈمی کا منصوبہ 09 June, 2004 | کھیل اظہر کو اجازت ہے سلیم کو نہیں17 April, 2006 | کھیل کلب کے لیے کھیلنے دیا جائے:عطاالرحمٰن16 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||