ٹیسٹ برابر ہونے کی جانب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے خلاف ناگپور میں کھیلے جانے والے آخری ٹیسٹ میچ میں بھارت کی کرکٹ ٹیم نے میچ کے تیسرے روز آسٹریلیا کی ٹیم پر چھیاسی رن کی برتری حاصل کر لی ہے۔ تیسرے دن کھیل شروع ہونے پر آسٹریلیا کےسائمن کیٹچ اپنی اننگز پوری کرنے کے لیے آئے۔ جب ان کی ٹیم کا سکور دو وکٹ کے نقصان پر ایک نواسی رنز تھا اس موقع پر سائمن کیٹچ کا ایک کیچ سلپ میں گرا دیا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنی دوسری سنچری مکمل کی۔ آخر کار کھانے کے وقفے سے تھوڑی دیر پہلے وہ ایک سو بیس کے ذاتی سکور پر ظہیر خان کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔ مائیکل ہسی نوے کے رن پر رن آؤٹ ہوئے اور کیمرون وائٹ نے چھیالیس رن بنائے۔ میچ کے تیسرے دن یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ میچ بھی بے نتیجہ رہے گا اور یوں بھارت جسے پہلے ہی سیریز میں ایک میچ کی برتری حاصل ہے اس سیریز کو اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بھارت تو دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز میں برتری حاصل کرچکا ہے لیکن آسٹریلیا کی حکمت عملی جسے یہ میچ جیتنے کی اشد ضرورت ہے نہ قابل فہم تھی اور ایسا لگتا تھا وہ بھی میچ کو برابر کرنے کے لیے کھیل رہے ہوں۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے دونوں کھلاڑیوں کیٹچ اور ہسی دونوں کو رن بنانے میں کافی مشکل پیش آ رہی تھی کیونکہ بھارت نے دونوں تیز رفتار بالروں ایشانت شرما اور ظہیر خان کی بالنگ کے دوران ایک کے سوا تمام فیلڈر ایک سائڈ پر رکھے ہوئے تھے۔ مائیکل کلارک کی وکٹ شرما نے حاصل کی۔ شرما کی طرف سے کرائی گئی ایک خوبصورت گیند کلارک کے بلے کا کنارا لیتے ہوئے وکٹ کے پیچھے دھونی کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ ہسی اپنی سنچری سے دس رنز پہلے رن آؤٹ ہو گئے۔ ہربجن کی ایک گیند پر ہسی کا خیال تھا کہ وہ آسانی سے رن بنا لیں گے لیکن مرلی وجے سلی پوائنٹ پر فیلڈ کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک ہاتھ سے گیند پکڑی اور چشم زدن میں وکٹ کیپر دھونی کی طرف اچھال دی جنہوں نے بغیر کوئی وقت ضائع کیئے ہسی کی کلیاں اڑا دیں۔ ان دنوں کھلاڑیوں کے علاوہ آسٹریلیا کا کوئی کھلاڑی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا اور پوری ٹیم تین سو پچپن کے رن پر آؤٹ ہو گئی۔ بھارت کی ٹیم نے اپنی اننگز کا آغاز کر دیا لیکن کھیل کے اختتام تک نہ کوئی رن بنا اور نہ ہی کوئی وکٹ گری۔ ٹیسٹ کے تیسرے دن ویدربھ کرکٹ ایسوسی ایشن کے شاندار سٹیڈیم میں جس میں پینتالیس ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے بہت کم لوگ موجود تھے۔ جس کی ایک وجہ ناگپور شہر سے اس کی دوری اور ذرائع آمدورفت کی عدم دستیابی ہے۔ بھارت کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں چار سو اکتالیس رن بنائے تھے۔ | اسی بارے میں دِلی ٹیسٹ، انڈیا کی پوزیشن مضبوط30 October, 2008 | کھیل گوتم گمبھیر،ایک ٹیسٹ کی پابندی 31 October, 2008 | کھیل تیسرا ٹیسٹ ڈرا کی طرف گامزن01 November, 2008 | کھیل انیل کمبلے ریٹائر، دھونی کپتان02 November, 2008 | کھیل انڈیا 208 رنز پر ڈکلیئر، میچ ڈرا02 November, 2008 | کھیل تندولکر کی چالیسویں سنچری06 November, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||