BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 17:50 GMT 22:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاکی کو پیشہ ور کھیل ہونا چاہیئے

پاکستان ہاکی
پاکستان میں ہاکی کے ڈھانچے کو بہتر کرنا ہے اور سکولوں اور کلبز میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی نئی قائم کردہ سلیکشن کمیٹی کے چئرمین حسن سردار کا کہنا ہے کہ ہاکی کی بہتری کے لیے اس کھیل کو بھی پیشہ ور کھیل ہونا چاہیئے۔

بطور چئرمین سلیکشن کمیٹی اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں حسن سردار کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے پہلی ترجیح پاکستان میں ہاکی کے ڈھانچے کو بہتر کرنا ہے اور سکولوں اور کلبز میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پروفیشنل لیگ بھی ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت ہاکی کھیلنے والے دوسرے ممالک میں ہاکی کا کھیل بھی پیشہ ور کھیل بن چکا ہے اور اب پاکستان میں بھی ایسی پروفیشنل لیگ کروانے کی ضرورت ہے۔

حسن سردار کے بقول ہاکی فیڈریشن کی نئی انتظامیہ بھی انہی خطوط پر سوچ رہی ہے کہ ایسی پروفیشنل لیگ کروائی جائے جس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شرکت کریں اور کھلاڑیوں کو پیسے ملیں تاکہ بچے کرکٹ کی طرح ہاکی کی طرف بھی راغب ہوں۔

حسن سردار کا کہنا تھا کہ نئی سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری محض کسی ٹورنامنٹ سے پہلے سئنیر یا جونیر ٹیم کا انتخاب ہی نہیں بلکہ یہ گراس روٹ کی سطح پر سولہ سال سے کم عمر سکول اور کلبز کے بچوں میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو تلاش کرنے میں بھی فیڈریشن کی مدد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کا پول بہت محدود ہو چکا ہے اور ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اس کھیل کی طرف لا کر ان کی سائنسی بنیادوں پر کوالیفائیڈ کوچز سے تربیت کروائی جائے جس سے سولہ سال سے کم عمر لڑکوں اور جونیئر کھلاڑیوں کا ایک وسیع پول تیار ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم کام بہترین جونیئر ٹیم کی تشکیل ہے۔

اپنے دور کے بہترین فارورڈ اور مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو جل دینے میں مہارت رکھنے والے حسن سردار کا کہنا تھا کہ تمام سینیئر کھلاڑیوں کے لیے سینیئر ٹیم کے دروازے کھلے ہیں اور اسوقت جو بھی کھلاڑی باہر لیگ کھیل رہے ہیں وہ ٹیم میں آ سکتے ہیں لیکن انہیں اس معیار کی فٹنس ثابت کرنا ہو گی جس کی آج کل کی ہاکی کو ضرورت ہے۔

حسن سردار کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی ایسٹرو ٹرف یعنی مصنوعی گھاس پر ہی ہاکی کھیلی ہے اور ان کے دور میں بھی جیت میں فٹنس کا کردار اہم تھا گو کہ اب فٹنس کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ گراؤنڈ سو گز کا ہے اور آف سائیڈ کا قانون ختم ہونے سے کھلاڑی کو پورے گراؤنڈ میں مسلسل ستر منٹ کے لیےدوڑنا ہوتا ہے۔

حسن سردار کے بقول ان کے دور میں کھلاڑی ایک سسٹم کے تحت ٹیم میں آتے تھے اور ٹیم میں آنے کے لیے انہیں گراس روٹ کی سطح سے ہی بہت محنت کرنا پڑتی تھی اس لیے ان کی فٹنس کا معیاراور سٹیمنا ٹیم میں آنے تک کافی اوپر ہوچکا ہوتا تھا لیکن اب کھلاڑی شارٹ کٹ کے ذریعے ٹیم میں آتے ہیں اور جو سٹیمنا اور فٹنس ٹیم میں آنے سے پہلے ہی کھلاڑی میں ہونی چاہیئے وہ ٹیم میں آنے کے بعد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو ممکن نہیں۔

غیر ملکی کوچ کی بابت حسن سردار کا مؤقف تھا کہ پہلے ہمیں اپنے ڈھانچے کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہاکی فیڈریشن نیا سلیبس بھی بنا رہی ہے اور اس کے لیے غیر ملکی کوچ کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ وہ اپنا نظام یہاں متعارف کروائے اور پھر ٹیم کی بجائے غیر ملکی کوچ کو پاکستان میں کوچز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کوالیفائیڈ کوچ تیار کیے جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد