کینیڈا کی ہاکی ٹیم کے جنوبی ایشیائی ستارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپکس مقابلوں میں شرکت کے لیے جانے والی کینیڈین ٹیم میں شامل چھ کھلاڑی بھارتی نژاد ہیں۔ کینیڈین ہاکی ٹیم کے کوچ لوئس مینڈوکا کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کے کھیل کے معیار اور ان کی ضرورت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کینیڈین کھلاڑیوں سے پوچھا گیا کہ وہ اولمپکس میں کس ٹیم کے خلاف کھیلنے کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں تو سب کا ایک ہی جواب تھا۔۔۔۔ پاکستان- وینکوور شہر میں رھائش پذیر بھارتی شہر بٹالہ سے تعلق رکھنے والےانتیس سالہ سکھویندر سنگھ گھبر سن دو ہزار چار سے کینیڈین ٹیم کے ممبرہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں انڈیا میں سفارش نہ ہونے کی بناء پر قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔وہ پنجاب پولیس میں ملازم تھے اور آجکل کینیڈا میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ ان کو فخر ہے کہ ان کا بحیثیت بھارتی اولمپکس کھیلنے کا خواب پورا ہو رہا ہے۔ گھبر کا کہنا ہے کہ بھارت میں ان کا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے کافی وقت ضائع ہوا ہے۔
بزنس کی ڈگری کے حامل اکتیسس سالہ رنجیو دیول کا کہنا ہے کے وہ پندرہ سال کی عمر میں کینیڈا آئے تھے۔ دیول کے والد دو دفعہ اولمپکس میں شرکت کر چکے ہیں۔والد سے ہاکی سیکھنے کے بعد دس سال سے کینیڈا کی قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں اور اولمپکس میں جانے کا خواب پورا ہونے پر خوش ہیں۔ وہ کلب لیول پر دو سال برطانیہ اور پانچ سال ہالینڈ میں کھیل چکے ہیں۔ آج کل سپورٹس فرم میں ملازم ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی وجہ سے کینیڈا دنیا میں پندرھویں نمبر پر ہے مگر فنڈنگ کی شکایت ان کھلاڑیوں کو بھی ہے۔ انیس سو ننانوے میں ہونے والے پین امریکن کھیلوں میں ان بھارتی کینیڈین کھلاڑیوں نےبہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انتیس سالہ سینٹر فارورڈ کھلاڑی روی کاہلوں وکٹوریا یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور بنک میں ملازمت کے ساتھ ساتھ ہاکی پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ کاہلوں کے والدین کا تعلق گورداسپور کے قریب گاؤں سے ہے۔ دو دفعہ اولمپکس میں کینیڈا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ کاہلوں کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں جنوبی ایشیائی کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھ کر بہت خوشی ھوتی ہے۔ اس وقت کینیڈا میں سات سو سے زائد جنوبی ایشیائی کھلاڑی ہاکی کھیل رہے ہیں اور ان میں سے تیس کے لگ بھگ قومی و صوبائی سطح پر کھیلتے ھیں۔ ان کھلاڑیوں کو حکومت مفت تعلیم اور پندرہ سو ڈالر ماہانہ وظیفہ دیتی ہے۔
بندی سنگھ کلار کا کہنا ہے کہ وہ سیلز مین ہیں اور ان کے والد بھارت اور کینیڈا میں کھیل چکے ہیں۔ کلار کی تربیت میں ان کے والد کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کینیڈین حکومت کی ہاکی کے کھیل کی جانب عدم توجہ کی شکایت ہے۔ اولمپکس کے بعد وہ بھارت میں میچ کھیلنے میں دلچسپی لیں گے۔ بندی انیس سو چھیانوے سے قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں۔ کوچ لوئس مینڈوکا بھارت اور پاکستان سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی ٹیم کو اچھی کارکردگی کا موقع ملا تو وہ کچھ عرصہ میں کینیڈا کا نام دنیا میں روشن کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ کراچی سے تعلیم یافتہ لوئس مینڈوکا نے کہا کے ہاکی انھوں نے کراچی کی گلیوں میں سیکھی ہے اور ان کو پاک بھارت ہاکی بہت پسند ہے۔ چین روانگی سے قبل کینیڈین ٹیم کے کوچ نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتایا کہ کینیڈین ٹیم میں زیادہ کھلاڑیوں کا تعلق ان ممالک سے ہے جہاں ہاکی کا کھیل بہت مقبول ہے اور یہی وجہ ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی اور بھارتی نژاد شہریوں نے اپنی بھرپور محنت کے بل بوتے پر ہاکی کے نظرانداز کیے جانے والے کھیل کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ کینیڈین ٹیم بیجنگ میں اپنا پہلا میچ آسٹریلیا اور دوسرا پاکستان کے خلاف کھیلے گی۔ | اسی بارے میں کینیڈا: ہر پانچواں شہری تارکِ وطن05 December, 2007 | آس پاس امریکہ کے بعد کینیڈا میں مظاہرے10 November, 2007 | آس پاس امریکہ اور کینیڈا میں پاکستانیوں کا ردِ عمل04 November, 2007 | آس پاس کینیڈا: پاکستانی ڈریسز کی پذیرائی01 November, 2007 | آس پاس کینیڈا میں حجاب کا قومی دن27 October, 2007 | آس پاس کینیڈا: پاکستانی کی ہلاکت پر سزا30 May, 2007 | آس پاس کینیڈا کے اصول، مسلمان برہم31 January, 2007 | آس پاس کینیڈا: ’مشتبہ القاعدہ رکن‘ بری20 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||