BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 December, 2007, 04:23 GMT 09:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا: ہر پانچواں شہری تارکِ وطن
تارکِ وطن
کینیڈا آنے والے ساٹھ فیصد تارکینِ وطن کا تعلق ایشیا اور مشرقِ وسطٰی سے ہے
کینیڈا میں مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے بیس فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی پیدائش بیرونِ ملک ہوئی ہے۔

یہ شرح دنیا میں آسٹریلیا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

سنہ 2006 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق کینیڈا کی تین کروڑ بارہ لاکھ آبادی میں سے ساٹھ لاکھ سے زائد لوگ غیر ممالک میں پیدا ہوئے ہیں اور اس وقت کینیڈا میں ہر پانچواں فرد ایسا ہے جس کی مادری زبان نہ تو انگریزی ہے نہ فرانسیسی۔

چینی اس وقت کینیڈا میں سمجھی اور بولی جانے والی تیسری بڑی زبان ہے جس کے بعد اطالوی، جرمن، پنجابی، ہسپانوی، عربی اور پرتگالی کا نمبر آتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں سنہ 2001 سے 2006 کے دوران تارکینِ وطن کی آبادی میں ملک کی عام آبادی سے چارگنا تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور کینیڈا آنے والے ساٹھ فیصد تارکینِ وطن کا تعلق ایشیا اور مشرقِ وسطٰی سے ہے۔

نئے اعداد وشمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کینیڈا میں تارکینِ وطن کی آبادی میں اضافے کی لہر میں تیزی بھی متوقع ہے۔ کینیڈین ادارۂ شماریات کے مطابق جی ایٹ کے رکن ممالک میں سب سے زیادہ تیزی سے کینیڈا کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اس مرتبہ بیسویں صدی کے اوائل کے برعکس تارکین میں برطانوی اور دیگر یورپی شہریوں کی جگہ غیر یورپی اقوام نے لے لی ہے۔سنہ 1971 میں یورپی کینیڈا کے تارکینِ وطن کے اکسٹھ فیصد کے قریب تھے تاہم 2006 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف سولہ فیصد رہ گئی ہے۔

اداۂ شماریات کے مطابق کینیڈا میں کم ہوتے شرح پیدائش کی وجہ سے خدشہ ہے کہ سنہ 2030 تک کینیڈا کی آبادی میں اضافے کا دارومدار تارکینِ وطن کی آمد پر ہی رہ جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد