فرانس: تارکین وطن کیخلاف کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو اگست کو ایک نابالغ بچے نے فرانس کے شمالی شہر ’آئینین‘ میں چوتھی منزل سے چھلانگ لگادی کیونکہ فرانسیسی پولیس اس کے والدین کو ملک سے بےدخل کرنے کے لیےگرفتار کرنا چاہتی تھی۔ بچہ اس کوشش میں شدید زخمی ہوا اور آخری اطلاعات کے مطابق ’ایوان‘ ابھی تک زیر علاج ہے۔ پھر اس کے بعد اگست کے آخر میں کانگو سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون نے پیرس کے بعد چوتھے بڑے شہر یان میں ڈیپورٹیشن سے بچنے کے لیے اپنی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔ گزشتہ ہفتے اسی طرح پیرس کے پرہجوم علاقے میں ایک ’چینی غیرقانونی تارک وطن‘ خاتون نے پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ یہ خاتون بھی ڈیپورٹیشن سے بچنا چاہتی تھی۔ ان واقعات سے ان مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے جو فرانس کی حکومت کو غیرقانونی تارکین وطن کو بیدخل کرنے میں درپیش ہیں۔ اس سال حکومت نے 25000 غیرقانونی تارکین وطن کو بیدخل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ فرانس کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے دورِ وزارت داخلہ میں پریفیکٹ کے اجلاس بلاتے رہے اور شرح بیدخلی کو دگنا کرنے پر زور دیتے رہے۔ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں یو ایم پی کے امیدوار کے طور پر سرکوزی نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ’زیادہ سے زیادہ بیدخلی‘ کو تارکین وطن کی فرانس آمد میں روک کے لیے ایک بہتر اوزار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فرانس کے وزیر برائے امیگریشن کا کہنا ہے کہ 25000 کا ہدف صدارتی محل کی خواہش کے باوجود حاصل کرنا مشکل ہوگا کیونکہ اس کی وجہ رومانیہ اور بلغاریہ کا یورپی یونین میں شامل ہونا ہے۔ کیونکہ 2005 تک شرح بیدخلی برائے غیرقانونی تارکین وطن میں تیس فیصد تعداد ان دونوں ممالک کے شہریوں کی بھی تھی۔ ساتھ ہی امیگریشن کے وزیر نے حکم دیا ہے کہ تمام میونسپل اور یونین کونسلرز کے میئر کو خط لکھیں کہ اگر انہوں نے کسی طور پر بھی بےدخلی میں مداخلت کی تو ان کو عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا اشارہ باالخصوص بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی میونسپل کارپوریشنز کی طرف تھا جو اس قسم کی کارروائیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ دوسری جانب ٹریڈ یونینز کی سطح پر ایئر فرانس کی ٹریڈ یونین نے اپنی فضائی کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے جہازوں کو غیرقانونی تارکینِ وطن کو جبری بیدخلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ حتٰی کہ پولیس ٹریڈ یونین نے بھی کہا ہے کہ’ ہم قانون توڑنے والوں، ڈاکوؤں، چوروں اور بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں کو گرفتار کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کو جو کہ کام کرنے والے ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کام کرتے ہیں۔‘ ایک اعلٰی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ’میڈیا کے دباؤ کے باعث ہم سارا دباؤ برداشت کرتے ہیں جو ہمارے کام کو زیادہ مشکل بنا رہا ہے کیونکہ ہم (پولیس) فرنٹ لائن پر موجود ہوتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا کام صرف مفلسی اورغربت کے مناظر کو غائب کرنا نہیں ہے۔ ہمیں یہ کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ قومی اور بین الاقوامی تناظر میں ہماری توہین ہوتی ہے۔‘ اس کا مظاہرہ سولہ اگست کی صبح چار بج کر تیس منٹ پر کوناکری کے ہوائی اڈے پر دیکھنے میں آیا جب سات فرنچ پولیس آفیسر دو غیرقانونی تارکینِ وطن کو لے کر کوناکری ہوائی اڈے پہنچے۔ ایئر پورٹ پر ہجوم نے جس میں ککوناکری کے وردی میں ملبوس پولیس افسران شامل تھے فرانسیسی پولیس افسران کو شدید ہزیمت کا نشانہ بنایا اور ان کو کسی قسم کی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعہ پر فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے مداخلت کی اور فرانسیسی ٹیم کو کوناکری سے نکالنے کی درخواست کی جس کے بعد فرنچ پولیس ٹیم کو کوناکری سے براہِ راست پیرس بھیجنے کی بجائے کاسابلانکا بھیج دیا گیا۔ اس واقعے پر’نیشنل پولیس الائنس آف فرانس‘ نے اپنی حکومت سے شدید احتجاج کیا کیونکہ بیدخلی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ فرانس کی ایئر پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ایسے واقعات اکثر پیش آتے ہیں۔ |
اسی بارے میں کوکونٹ اور ایشیائی تارکین وطن30 July, 2007 | آس پاس فرانس: سرکوزی کی جماعت جیت گئی18 June, 2007 | آس پاس ’تارکین وطن کے بِل پر اتفاق خوش آئند‘18 May, 2007 | آس پاس تارکینِ وطن، کشتی موریطانیہ پہنچ گئی12 February, 2007 | آس پاس سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے05 February, 2007 | آس پاس تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||