مناء رانا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | شعیب اختر پر پانچ سال نہ کھیل سکنے پر پابندی کو ایپلیٹ ٹریبونل نے ڈیڑھ سال کی پابندی اور ستر لاکھ روپے جرمانے میں بدل دیا تھا |
شعیب اختر نے اپنے وکیل عابد حسن منٹو کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں ایپلیٹ ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔ اس اپیل کی ابتدائی سماعت کل یعنی یکم جولائی کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید زاہد حسین کی عدالت میں ہوگی۔ عام طور پر چیف جسٹس مقدمات کو دوسرے ججز کے پاس بھیج دیتے ہیں لیکن اس مقدمے کی سماعت وہ خود کریں گے۔ عابد حسن منٹو کے دفتر کے ایک اور وکیل نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ جب شعیب اختر سمیت پیر کو نئے دائر ہونے والے مقدمات کی فہرست چیف جسٹس تک پہنچی تاکہ وہ حسب معمول ان مقدمات کو مختلف جج صاحبان کو بھجوائیں تو انہوں نے شعیب اختر کا مقدمہ اپنے پاس رکھ لیا۔ شعیب اختر کہ جنہیں نظم وضبط کی خلاف ورزی کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے پانچ سال کی پابندی کی سزا دی تھی اسے ایپلیٹ ٹریبیونل نے ڈیڑھ سال کی پابندی اور ستر لاکھ روپے جرمانے میں بدل دیا تھا۔ ایپلیٹ ٹریبونل کے سامنے بھی ایڈوکیٹ عابد حسن نے شعیب اختر کی پیروی کی تھی۔ عابد حسن منٹو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں رٹ انہی بنیادوں پر دائر کی ہے جو انہوں نے ایپلیٹ ٹریبیونل کے سامنے رکھیں تھیں۔ عابد حسن منٹو کا موقف ہے کہ ڈسپلنری کمیٹی کی کارروائی کسی قانون کے مطابق نہیں تھی اور شعیب اختر کو جن الزامات پر سزا سنائی گئی ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن پر انہیں کوئی نوٹس بھی نہیں بھجوایا گیا تھا۔ عابد حسن منٹو نے امید ظاہر کی کہ ہائی کورٹ ایپلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کو ختم کر دے گی۔ قابل ذکر بات یہ کہ یکم جولائی سے ہائی کورٹ میں موسم گرما کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں لیکن شعیب اختر کے کیس کی سماعت جاری رہتی ہے یا نہیں اس کی بابت کچھ کہنا ممکن نہیں۔ |