شکست پر چئرمین کی ای میل تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ٹیم مینجر طلعت علی کو بھیجی جانے والی میل میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں 140 رنز کی شکست پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ای میل میں کوچ اور کپتان کی کارکردگی، ٹیم کے انتخاب، وکٹ کیپنگ کے معیار اور ٹیم کے مجموعی رویے پر سخت تنقید کی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کپتان شعیب ملک کی کپتانی اور فٹ نس کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے اور لکھا ہے کہ شعیب ملک جو کہ ایک سپنر ہیں انہوں نے میچ میں بالنگ کیوں نہ کروائی اور یہ کہ ایک باقاعدہ سپنر کو کیوں نہ کھلایا گیا جبکہ یہ وکٹ سپنرز کے لیے ساز گار تھی اور اس پر مزید یہ کہ شعیب ملک نے خود بالنگ بھی نہیں کروائی۔ انہوں نے وکٹ کیپر کامران اکمل کی کاکردگی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور لکھا ہے کہ کیچ ڈراپ کرنے کے بعد کامران اکمل کا کیچ لینے کا ایکشن بنانا کھیل کی روح کے منافی تھا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ بالرز نے بہت زیادہ فاضل رنز دیے اور غیر ضروری طور پر تیز بالنگ کروائی جس سے حکمت عملی کا فقدان نظر آیا۔ انہوں نے وکٹ کیپنگ اور فیلڈنگ کے معیار پر بھی تنقید کی ہے۔ پی سی بی کے چئرمین کھلاڑیوں کے عمومی رویے پر بھی ناخوش ہیں ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ ایک جونیر ٹیم ہے جو کسی مضبوط ٹیم کے ساتھ میچ کھیلنے پر مطمئن ہے۔ انہوں نے ٹیم مینجر کو ہدایت کی کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر ان کے خط کا جواب دیں تاکہ اگلے میچ سے پہلے کوئی لاحہ عمل بنایا جا سکے۔
پی سی بی کے چئرمین نے اس میل کی ایک کاپی ٹیم کے کوچ جیف لاسن اور ایک کپتان شعیب ملک کو بھی بھیجی ہے جبکہ ایک انگریزی روزنامے نے اس خفیہ خط کو شائع کر دیا۔ اس خط کے شائع ہونے کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ایسا خط ٹیم مینجمنٹ کو لکھا ہے جس کا مقصد اگلے میچ کے لیے ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانا ہے جبکہ مبصرین کرکٹ کی رائے مختلف ہے۔ کرکٹ مبصرین کہتے ہیں کہ سہ فریقی ٹورنامنٹ کے فائنل سے پہلے نام لے کر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تنقید سے کھلاڑی دباؤ میں آسکتے ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے خراب ہونے کا بھی امکان ہے۔ چئرمین پی سی بی فائنل دیکھنے کے لیے بنگلہ دیش جا رہے ہیں اور اس تنقیدی خط کے بعد ان کی موجودگی کھلاڑیوں کے لیے مزید دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ | اسی بارے میں کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر20 March, 2007 | کھیل ’ کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں‘23 March, 2007 | کھیل میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم30 March, 2007 | کھیل پاکستانی ٹیم کا ایک ’طویل ڈراؤنا خواب‘23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل ’پاکستان کو محتاط ہونا چاہیے تھا‘23 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل پاکستان کرکٹ: نئی قیادت کی تلاش22 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||