BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 May, 2008, 02:12 GMT 07:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نائجیرین فٹبالر سات ماہ بعد ملک روانہ

نائجیرین فٹبالر عقیم عباس
عقیم عباس کو پاکستانی کلب کی طرف سے گیارہ میچ کھیلنے کا معاوضہ صرف ستائیس سو پاکستانی روپے ملا
نائجیریا سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سالہ فٹبالر عقیم عباس سات ماہ تک پاکستان میں سخت ذہنی اذیت کا شکار رہنے کے بعد بالآخر جمعہ کو اپنے وطن روانہ ہوگئے۔

عقیم عباس روشن مستقبل کی خواہش کے ساتھ پاکستان کے ایک فٹبال کلب کی نمائندگی کرنے گزشتہ سال نومبر میں پاکستان آئے تھے لیکن یہاں حالات ان کے لیے بہت مشکل رہے اور وہ چند افراد کی کوشش کے نتیجے میں وطن واپس جانے میں کامیاب ہوسکے۔

عقیم عباس نے وطن واپسی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کے توسط سے جرمنی میں مقیم فٹبال کے ایک پاکستانی ایجنٹ کے ذریعے پاکستان کے وہیب کلب سے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس پر انہیں ائر ٹکٹ اور تین ہزار ڈالرز دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ اپنے خرچ پر پاکستان آئے لیکن ان سے جو بھی وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔وہ وہیب کلب کی طرف سے پاکستان کی پریمیئر لیگ میں گیارہ میچز کھیلے اور جب باقاعدہ کنٹریکٹ دینے کے ان کے مطالبے میں شدت آئی تو کلب نے انہیں صرف ستائیس سو پاکستانی روپے دے کر فارغ کر دیا۔

عقیم عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کلب کے صدر حافظ سلمان بٹ سے بھی ملنے کی بہت کوشش کی لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا اور یہی کہا جاتا تھا کہ وہ بہت مصروف ہیں۔ انہوں نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے حکام سے بھی رابطہ کیا لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

عقیم عباس مڈ فیلڈر ہیں اور نائجیریا کی بی لیگ میں کھیلتے ہیں۔ وہ گھانا اور آئیوری کوسٹ میں بھی نمائشی میچز کھیل چکے ہیں لیکن ملک سے باہر اپنی مہارت بھرپور انداز میں دکھانے کے لیے انہوں پاکستان کا انتخاب کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بھی خواب دیکھ رکھے تھے وہ بکھر کر رہ گئے۔

عقیم عباس
پاکستان میں دوبارہ فٹبال کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: عقیم عباس

عقیم عباس کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ سب سے خراب صورتحال یہ رہی کہ ان کے ویزے کی مدت بھی ختم ہوگئی اور ٹکٹ بھی قابل استعمال نہ رہا۔ ویزے کے سلسلے میں نائجیرین سفارتخانہ ان کی مدد کو آیا جبکہ وطن واپسی کے ٹکٹ کے لیے سابق انٹرنیشنل کھلاڑی عابد حسین نےان کی مالی مدد کی۔

عقیم عباس سابق انٹرنیشنل ریفری احمد جان اور مقامی کونسلر عبدالاحد کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے کراچی میں قیام کے دوران ان کا بہت خیال رکھا۔

کراچی میں قیام کے دوران عقیم عباس نے کافی دوست بنا لیے اور اب تو وہ اردو کے چند لفظ بھی سیکھ گئے تھے اور بھارتی گانا ’موجاں ہی موجاں‘ بھی گنگنانے لگے تھے۔

عقیم عباس نے کہا کہ پاکستان میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ان کی حالت پر جب رپورٹیں میڈیا میں آئیں تو ان کی والدہ، بہنیں اور بھائی پریشان ہوگئے لیکن انہوں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ بہت جلد ان کے درمیان ہونگے۔

نوجوان عقیم عباس کو وطن واپس جانے کی بہت خوشی تھی لیکن اس بات کا افسوس بھی تھا کہ کراچی میں ان سے محبت کرنے والے ساتھیوں کا ساتھ چھوٹ جائے گا تاہم وہ یہ کہہ کر وطن واپس گئے ہیں کہ پاکستان میں دوبارہ فٹبال کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن موقع ملا تو وہ ان لوگوں سے ملنے کراچی ضرور آئیں گے کیونکہ یہاں ’موجاں ہی موجاں‘ ہے۔

انٹرنیشنل ریفری احمد جان عقیم عباس کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذمہ دار پاکستان فٹبال فیڈریشن کو ٹھہراتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن فیفا سے ملنے والے کروڑوں روپے خوب خرچ کر رہی ہے کیا چند ہزار کا ٹکٹ بنواکر عقیم عباس کی وطن واپسی کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات کو پہلے تو اس معاملے کا پتہ ہی نہیں تھا جب انہیں پتہ چلا تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر دامن بچالیا کہ عقیم ایک ’امیچر‘ کھلاڑی تھا۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے سیکریٹری احمد یار لودھی نے اس صورتحال پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ وہیب کلب نے عقیم عباس کو پاکستانی کھلاڑی ظاہر کرکے کھلا دیا لیکن چونکہ عقیم کے پاس کوئی تحریری معاہدہ نہیں تھا لہذا وہیب کلب کے خلاف سخت کارروائی ممکن نہ تھی اس کے باوجود وہیب کلب کے ان میچوں کے پوائنٹس منہا کردیئے گئے جن میں عقیم کھیلا تھا۔ ’اگر اس کے پاس باقاعدہ کنٹریکٹ ہوتا تو وہیب کلب سے اس کے تمام مالی نقصان کی تلافی کرانے کی کوشش کی جاتی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد