پاکستان:خواتین کے پہلے فٹبال مقابلے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی لڑکیاں اب فٹبال کی کھلاڑی کے روپ میں میدان میں اترچکی ہیں اور آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاکستان کی پہلی قومی خواتین فٹبال چیمپئن شپ میں شرکت کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے رکن ممالک کے لیے خواتین فٹبال کو ضروری قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت کردی ہے کہ انہیں ملنے والے فنڈز کا کچھ حصہ خواتین فٹبال کے فروغ پر خرچ کرنا ہوگا۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا کی اس ہدایت کی روشنی میں خواتین فٹبال کو منظم کرنے کی کوشش شروع کردی ہے اور پہلی خواتین فٹبال چیمپئن شپ میں حصہ لینے والی صوبائی ٹیموں کے انتخاب کے لیے مختلف شہروں میں کیمپ جاری ہیں۔
کیمپ میں موجود گول کیپر سعدیہ شیخ کے لیےفٹبال نیا تجربہ نہیں ہے وہ خود دوسال سے اپنی ذاتی فٹبال اکیڈمی بناکر لڑکیوں کو اس کھیل کی تربیت دے رہی ہیں اور ان کے خیال میں فٹبال سیکھنا اور کھیلنا مشکل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے صرف اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کیمپ میں شامل دیگر کھلاڑی بھی فٹبال میں موجود جوش وخروش اور مہارت سے متاثر ہوکر اس میں اپنے لئے بہتر مقام حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں لیکن فزیکل ایجوکیشن ٹیچرز جو اس کیمپ میں اپنی طالبات کھلاڑیوں کے ساتھ آئی ہوئی ہیں تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ رہی ہیں۔ فزیکل ایجوکیشن سے وابستہ گل رخ کہتی ہیں کہ پاکستان میں عورت کا کسی بھی شعبے میں کام کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ ہاکی اور کرکٹ کی مثالیں سامنے ہیں جن میں ہم جہاں تھے وہیں ہیں اب فٹبال کی باتیں ہورہی ہیں خواتین فٹبال کا حال ہاکی اور کرکٹ جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ فزیکل ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والی دانشمند فاروقی کے خیال میں ملک میں خواتین فٹبال کا آغاز بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا لیکن قومی کوچ طارق لطفی خواتین فٹبال کو قبل ازوقت قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی جھجک ختم کرنے کے لیے خواتین ریفریز اور آفیشلز تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے ساتھ ہی خواتین فٹبال کے معاملات مرد نہیں خواتین نمٹائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||