BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 May, 2008, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوسف آئی پی ایل نہیں کھیل سکتے

محمد یوسف
محمد یوسف آئی پی ایل سے ناامیدی کے بعد کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں
ممبئی کی ثالثی عدالت نے پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈین پریمیئر لیگ میں نہیں کھیل سکتے۔

واضح رہے کہ محمد یوسف نے باغی لیگ آئی سی ایل سے کیا گیا معاہدہ ختم کر کے آئی پی ایل سے معاہدہ کر لیا تھا جس پر آئی سی ایل نے ممبئی کی ثالثی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے محمد یوسف کے خلاف عبوری حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔

جسٹس ( ریٹائرڈ) بی پی سراف پر مشتمل ممبئی کی ثالثی عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں عبوری حکم امتناعی کی تصدیق کردی ہے۔ آئی سی ایل کے قانونی مشیر ہتیش جین نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی سی ایل نے محمد یوسف کو کبھی بھی اپنے ملک کی نمائندگی سے نہیں روکا تھا اور نہ ہی وہ ایسا کر سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ محمد یوسف نے آئی سی ایل سے کیا گیا معاہدہ اس لیے ختم کیا کہ وہ آئی سی ایل کے میچز ہونے کی صورت میں پاکستان کی طرف سے نہیں کھیل سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگست ہی میں محمد یوسف کو بتا دیا گیا تھا کہ اگر آئی سی ایل اور پاکستان کے میچز ایک ہی تاریخوں میں ہوتے ہیں تو ملک کے لیے کھیلنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔

 فیصلے کے خلاف جو بھی اپیل ہوگی وہ محمد یوسف کی طرف سے ہوسکتی ہے اس کیس کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے
ہتیش جین

ہتیش جین نے کہا کہ چونکہ محمد یوسف کو کنٹریکٹ ختم کرنا تھا اس لیے وہ کوئی نہ کوئی بہانہ تو تلاش کرتے لہذا انہوں نے یہ بہانہ کیا کہ آئی سی ایل سے کھیلنے کی صورت میں انہیں ملک سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ممبئی کی ثالثی عدالت کو معتصبانہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں ابھی تک ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے سے باضابطہ طور پی آگاہ نہیں کیا ہے اور وہ اس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سلسلے میں ممبئی کے ایک وکیل اقبال چھاگلہ کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔

آئی سی ایل کے وکیل ہتیش جین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف جو بھی اپیل ہوگی وہ محمد یوسف کی طرف سے ہوسکتی ہے اس کیس کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد یوسف کے اس کیس کے بارے میں ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات تو ابتدا ہی میں واضح ہوگئی تھی کہ آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز اپنے ملک کی نمائندگی کے اہل نہیں ہونگے کیونکہ آئی سی ایل کو آئی سی سی کی منظوری حاصل نہیں لہذا جس کرکٹر نے بھی اس سے معاہدہ کیا اس نے سوچ سمجھ کر قدم اٹھایا تھا اور اس کے بعد محمد یوسف کا یہ کہنا عجیب سا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی نہیں کرسکتے تھے اس لیے انہوں نے معاہدہ ختم کیا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد