BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 April, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوسف کیس:’دیر پاکستانی بورڈ سے‘

محمد یوسف(فائل فوٹو)
آئی سی ایل کا کہنا ہے کہ بات پیسوں کی نہیں معاہدے کی پاسداری کی ہے
انڈین کرکٹ لیگ ( آئی سی ایل ) کے قانونی مشیر ہتیش جین نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ ممبئی کی ثالثی عدالت کا پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف کے معاملے میں رویہ معتصبانہ رہا ہے اور ان کے خلاف حکم امتناعی یکطرفہ کارروائی کا نتیجہ ہے۔

ذمہ دار کون؟
 جتنی بھی تاخیر ہوئی ہے اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ذمہ دار ہے کیونکہ آئی سی ایل نے ثالثی عدالت میں اپنی درخواست دسمبر میں داخل کی تھی اور عدالت نے چوبیس جنوری اور بارہ فروری کو اس معاملے کی سماعت کی تھی۔ محمد یوسف اور پاکستانی بورڈ کے پاس اچھا خاصا وقت تھا کہ وہ ممبئی آئیں اور میرٹ کی بنیاد پر اس کیس کو لڑیں لیکن انہوں نے یہ وقت ضائع کردیا اور دو غیرضروری درخواستیں دائر کردیں
ہتیش جین
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ممبئی کی ثالثی عدالت کی کارروائی کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ ’یہ یکطرفہ ہے اور ان کے خیال میں ایک کے بجائے تین ثالث ہونے چاہیے تھے‘۔

بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ممبئی کی ثالثی عدالت کی کارروائی کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ چونکہ محمد یوسف آئی سی ایل سے معاہدہ اس کی رقم واپس کرتے ہوئے ختم کرچکے ہیں لہذا ثالثی عدالت کی کارروائی بلاجواز ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ثالثی عدالت آئی سی ایل کی مقرر کردہ ہے اور کارروائی کے دوران انہیں ان کے معتصبانہ رویئے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوسف کےخلاف حکم امتناعی ان کا موقف سنے بغیر ان کی غیرموجودگی میں جاری کیا گیا۔

اس معاملے میں آئی سی ایل کی پیروی کرنے والے وکیل ہتیش جین نے ممبئی سے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ یہ کیس کھلی کتاب کی طرح ہے اور وہ اس طرح کے بیانات دے کر محمد یوسف کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کیس پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی ایل کے درمیان نہیں ہے بلکہ آئی سی ایل اور محمد یوسف کے درمیان ہے۔

ہتیش جین نے کہا کہ محمد یوسف اور آئی سی ایل کے درمیان معاہدے میں واحد ثالث پر اتفاق ہوا تھا جس کے تقرر کا اختیار آئی سی ایل بورڈ کو دیا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ثالث کے رول کو چیلنج کرنے کی جو درخواست دی تھی وہ مسترد کردی گئی۔

ہتیش جین کا کہنا ہے کہ

’کارروائی یکطرفہ تھی‘
ثالثی عدالت آئی سی ایل کی مقرر کردہ ہے اور کارروائی کے دوران انہیں ان کے معتصبانہ رویئے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوسف کےخلاف حکم امتناعی ان کا موقف سنے بغیر ان کی غیرموجودگی میں جاری کیا گیا۔
تفضل رضوی
اس معاملے میں جتنی بھی تاخیر ہوئی ہے اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ذمہ دار ہے کیونکہ آئی سی ایل نے ثالثی عدالت میں اپنی درخواست دسمبر میں داخل کی تھی اور ثالثی عدالت نے چوبیس جنوری اور بارہ فروری کو اس معاملے کی سماعت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ محمد یوسف اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اچھا خاصا وقت تھا کہ وہ ممبئی آئیں اور میرٹ کی بنیاد پر اس کیس کو لڑیں لیکن انہوں نے یہ وقت ضائع کردیا اور اصل معاملے کے بجائے دو غیرضروری درخواستیں دائر کردیں جن میں ثالثی عدالت اور اس کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنا شامل ہے۔

آئی سی ایل کے قانونی مشیر نے کورٹ سے باہر معاملہ طے ہونے کو خارج ازامکان قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کا موقف سننے کے بعد اب صرف فیصلہ آنا باقی رہ گیا ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی ایل کے کرتا دھرتا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اعتراض کا پہلے ہی جواب دے چکے ہیں کہ محمد یوسف آئی سی ایل کو معاہدے کی رقم واپس کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بات پیسوں کی نہیں معاہدے کی پاسداری کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو وہ ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد