محمد یوسف : سماعت29 مارچ کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی ثالثی عدالت پاکستانی بلے باز محمد یوسف کے خلاف آئی سی ایل کے حکم امتناعی کی سماعت 29 مارچ کو کرے گی۔ اس حکم امتناعی کی وجہ سے محمد یوسف کا نام آئی پی ایل کی دونوں نیلامیوں میں شامل نہیں ہوسکا ہے کیونکہ آئی سی ایل نے آئی پی ایل کی بھاری معاوضوں پر کھلاڑی خریدنے والی فرنچائز کو قانونی نوٹسز جاری کررکھےہیں جس کے مطابق محمد یوسف کو خریدنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا۔ واضح رہے کہ محمد یوسف نے اپنے دیگر ساتھی کرکٹرز کے ساتھ آئی سی ایل سے معاہدہ کیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اصرار پر اسے ختم کرکے بھارتی کرکٹ بورڈ کی آئی پی ایل سے معاہدہ کرلیا جس پر آئی سی ایل نے ممبئی کی ثالثی عدالت سے رجوع کررکھا ہے جو محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی جاری کرچکی ہے۔ محمد یوسف ایک اخباری انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں کہ اس نے اس معاملے کو صحیح طور پر نہیں نمٹایا۔ آئی سی ایل کے ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ اشیش کول نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی سی ایل سے اس کے پہلے سیزن میں بالی ووڈ کے متعدد اداکاروں اور اداکاراؤں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی جن سے بات چیت جاری ہے اور جلد تفصیلات کا اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی ایل بالی ووڈ سے ایک مستقل تعلق بنانا چاہتی ہے۔بھارتی کرکٹ بورڈ کی شروع کردہ آئی پی ایل میں بھارتی فلمسٹار شاہ رخ خان جوہی چاؤلہ اور پریتی زنٹا خریدار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جوہی چاؤلہ اور شاہ رخ خان کولکتہ کی ٹیم کے مالک ہیں جبکہ پریتی زنٹا چندی گڑھ کی ٹیم کی فروخت میں نیس واڈیا کے ساتھ شریک ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||