انضمام الحق نئی اننگز کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انڈین کرکٹ لیگ کی مخالفت بلاجواز ہے۔ انضمام الحق جنہیں انڈین کرکٹ لیگ میں حصہ لینے والی ٹیم حیدرآباد ہیروز کا کپتان مقرر کیا گیا ہے اس وقت اپنی ٹیم کے تربیتی کیمپ کے سلسلے میں حیدرآباد دکن میں ہیں۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئی سی ایل کے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی دلچسپی صرف اس نکتے پر مرکوز ہونی چاہیے تھی کہ انڈین لیگ کے ہوتے ہوئے ضرورت پڑنے پر پاکستانی کرکٹرز ملک کے لیے کھیلنے کو دستیاب ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ’پاکستان کرکٹ بورڈ بلاوجہ اس معاملے میں کیوں کودا جبکہ یہ ایونٹ بھارت میں ہورہا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے‘۔ انضمام الحق نے کہا کہ وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی ایل کی مخالفت کیوں کر رہا ہے جبکہ اس کرکٹ کا سب سے زیادہ فائدہ بھارتی نوجوانوں کو ہوگا جو ورلڈ کلاس تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں گے اور انہیں نہ صرف تجربہ حاصل ہوگا بلکہ پرکشش معاوضہ بھی ملےگا۔ انضمام الحق نے کہا کہ آئی سی ایل کی شدید مخالفت میں انڈین کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے یہاں اپنی کرکٹ لیگ کا اعلان کرنا پڑا۔ انضمام کا کہنا ہے کہ آئی سی ایل کی وجہ سے کرکٹ میں پیسہ آیا ہے شاید بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی یہ سوچ رہے ہوں کہ آئی سی ایل کرکٹرز کو اچھا پیسہ دے رہے ہیں لہذا انہیں بھی کرکٹرز کے معاوضوں میں بہت زیادہ اضافہ کرنا پڑےگا حالانکہ معاوضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس میں جہاں بڑے کھلاڑی ہوں کرکٹ سے عام شوق بڑھتا ہے اور نوجوان اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ آئی سی ایل میں شائقین کی دلچسپی کے بارے میں سوال پر انضمام الحق نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر ہے لیکن اس کے باوجود لوگ آئی سی ایل میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دلچسپی پاکستان اور بھارت کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کےسبب بھی بڑھی ہے اور آئی سی ایل کے شیڈول کے اعلان اور کھلاڑیوں کے بھارت پہنچ جانے کے بعد یہ بے یقینی بھی اب ختم ہوچکی ہے کہ آئی سی ایل ہوگی بھی یا نہیں؟ پاکستانی سابق کپتان نے کہا کہ حیدرآباد دکن میں وہ جس جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں اسی میں گراؤنڈ بھی ہے۔ پریکٹس کی سہولتیں بہت اچھی ہیں۔ چنئی کی ٹیم بھی یہیں ٹھہری ہوئی ہے۔ مقامی چینلز پریکٹس میچز میں بھی دلچپسی رکھے ہوئے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ جب آئی سی ایل شروع ہوگی تو شائقین کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ تیس نومبر سے پنچکولا میں شروع ہونے والی آئی سی ایل میں چھ ٹیمیں شریک ہیں۔ انضمام الحق کے ساتھ حیدرآباد ہیروز میں کرس ہیرس، نکی بوئے، عبدالرزاق اور اظہرمحمود بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان کے سابق کپتان معین خان اس ٹیم کے کوچ ہیں۔ دیگر ٹیموں میں ممبئی چیمپس میں برائن لارا، نیتھن ایسٹل اور وکرم سولنکی ہیں۔ چندی گڑھ لائنز میں کرس کینز،عمران فرحت، اینڈریو ہال اور ہمیش مارشل ہیں جبکہ چنئی سپراسٹارز میں شبیر احمد کے علاوہ کرس ریڈ، این ہاروے، اسٹورٹ لاء اور رسل آرنلڈ شامل ہیں۔ کولکتہ ٹائیگرز میں شامل غیرملکی کھلاڑیوں میں کریگ مکمیلن، لانس کلوزنر، ڈیرن میڈی اور اپل چندانا شامل ہیں جبکہ دہلی جیٹسن کی جانب سے توفیق عمر، نیل اوبرائن، ڈیل بیکنسٹین اور پال نکسن لیگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں انضمام، یوسف انڈین لیگ میں20 August, 2007 | کھیل انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر؟03 October, 2007 | کھیل انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر05 October, 2007 | کھیل انضمام ! ہم خوش قسمت ہیں05 October, 2007 | کھیل سٹیڈیم میں بیٹے کی بیٹنگ نہیں دیکھی13 October, 2007 | کھیل آج میں سٹمپ ہوگیا: انضی12 October, 2007 | کھیل انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے12 October, 2007 | کھیل ’یوسف کیخلاف کارروائی کرینگے‘20 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||