سٹیڈیم میں بیٹے کی بیٹنگ نہیں دیکھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق کی زندگی پر ان کے والد پیر انتظام الحق کا گہرا اثر رہا ہے جو اچھے برے دنوں میں اپنے بیٹے کی بھرپور رہنمائی کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی سٹیڈیم جاکر اپنے بیٹے کو بیٹنگ کرتے نہیں دیکھا۔ پیر انتظام الحق نے بی بی سی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جو مزہ ٹی وی پر میچ دیکھنے میں آتا ہے وہ سٹیڈیم میں کہاں؟ وہ شور ہنگامے سے دور رہنے والے شخص ہیں۔
پیر انتظام الحق کہتے ہیں کہ وہ خود اوکاڑہ میں ملازمت کے دوران کرکٹ کھیلتے تھے۔اس وقت فضل محمود اوکاڑہ کے ڈی ایس پی تھے جو وہاں آکر کھیلا کرتے تھے۔ انضمام کے والد نے کہا کہ انہوں نے اپنے کسی بیٹے کے کرکٹ کھیلنے پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ گھر میں بھی کرکٹ پر گفتگو رہتی ہے۔ پیر انتظام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں وہ وقت یاد ہے جب انضمام الحق ملتان میں کلب کرکٹ کھیلتا تھا تو اس کے انچارج نے ان سے کہا کہ پیر جی یہ بہت اچھی کرکٹ کھیلتا ہے لیکن یہاں یہ ضائع ہوجائے گا لہذا اسے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ دلوادیں جس پر انہوں نے انضمام الحق کو وہاں بھجوادیا جہاں اس نے اچھی بیٹنگ کی اور پھر وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔
انضمام الحق کے بیٹے ابتسام الحق کی کرکٹ سے دلچسپی کے بارے میں دادا کا کہنا ہےکہ وہ ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اسے کرکٹ کا بہت شوق ہے تاہم انضمام الحق نے اس کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے اس کے شوق کے مطابق کھیلنے دیں جب وقت آئے گا وہ اس کی کوچنگ کے بارے میں سوچیں گے۔ انضمام الحق کے والد کو وہ لمحہ آج بھی یاد ہے جب 1992 کے عالمی کپ کی جیت کے بعد ان کا بیٹا ملتان آیا تو اس کے استقبال کے لیے پورا شہر امڈ آیا تھا اور وہ اس وقت کو بھی نہیں بھولے جب اس سال ویسٹ انڈیز میں ٹیم کی شکست پر ان کے بیٹے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انضمام الحق کپتان تھا لہذا زیادہ نزلہ بھی اسی پرگرا۔ پیر انتظام الحق اپنے بیٹے کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ باہمی مشورے کے بعد بادل نخواستہ اور مجبوراً یہی بہتر سمجھا گیا کہ انضمام ریٹائرمنٹ لے لیں تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں غیرمعمولی مذہبی رجحان کے بارے میں پیر انتظام الحق کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے کبھی زبردستی نمازیں نہیں پڑھوائیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ٹیم کی شکل ہی بدل گئی، البتہ کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی جن کے بارے میں وہ کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ آج انضمام الحق کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ سب اسی وجہ سے ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے12 October, 2007 | کھیل ’انضمام کیلیےخاص حکمتِ عملی‘09 October, 2007 | کھیل انضمام ! ہم خوش قسمت ہیں05 October, 2007 | کھیل انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر05 October, 2007 | کھیل انضمام، یوسف انڈین لیگ میں20 August, 2007 | کھیل انضمام کا یارکشائر کاؤنٹی سے معاہدہ 15 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||