راشد کی شرٹ قیمتی تحفہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے لیے ڈربن کے کنگزمیڈ گراؤنڈ میں آنے والے شائقین میں مجھے ایک سفید فام نوجوان پاکستانی شرٹ پہنے نظر آیا تو میں اس کی طرف بڑھا پتہ چلا کہ شرٹ کی پشت پر راشد6 لکھا ہے۔ یہ جنوبی افریقی نوجوان بریٹ تھا جس نے انکشاف کیا کہ2003ء ورلڈ کپ کے موقع پر یہ شرٹ اسے راشد لطیف نے دی تھی جو اس کے لیے قیمتی تحفہ ہے۔ بریٹ پاکستانی ٹیم کا زبردست مداح ہے اور جب بھی جنوبی افریقہ میں پاکستانی ٹیم کھیلتی ہے وہ اپنی پسندیدہ ٹیم کوداد دینے میدانوں کا رخ کرتا ہے۔
میرے اس سوال پر کہ راشد نے اپنی شرٹ اسے دے دی تو وہ پاکستانی ٹیم کا حمایتی بن گیا اگر سچن یا دھونی کی شرٹ اسے مل جائے تو کیا اس کی وابستگی بھارت کے کنگزمیڈ کی پہاڑی والے اسٹینڈ پر بیٹھی ایک جنوبی افریقی لڑکی سے بات ہوئی جس نے پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے کہا ’ آئی لوو پاکستان‘ وہ پاکستانی ٹیم کو داد دینے آئی ہے۔ ساتھ ہوجائے گی؟ بریٹ نے ہنستے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ پاکستانی ٹیم زبردست ہے۔ اس کی بولنگ ہمیشہ سے اس کی توجہ حاصل کرتی رہی ہے جب وسیم اور وقار کھیلتے تھے جب بھی وہ انہیں دیکھتی تھی۔ پاکستانی بولرز کی ریورس سوئنگ کی خصوصیت کسی اور میں نہیں ہے۔
لوساکا سے آئے ہوئے کرن چوہان نے مجھے بتایا کہ الیکٹرانکس کا کام ہے چھٹی مل جائے تو وہ بھارتی ٹیم کو دیکھنے جنوبی افریقہ کا رخ کرتے ہیں۔ ڈربن میں مقیم چار دوستوں کے گروپ سے گفتگو بہت دلچسپ رہی یہ سب ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد جاوید نے بتایا کہ ہم ساتھ رہتے ہیں لیکن گراؤنڈ میں آتے ہی وہ پاکستانی پرچم لہرانا شروع کردیتے ہیں اور ان کے دوست بھارتی جھنڈا لہراتے ہوئے اپنی جگہ سنبھال لیتے ہیں۔اس سوال پر کہ کبھی گرما گرمی نہیں ہوئی جاوید نے کہا کہ کبھی کبھی بحث تکرار ہوجاتی ہے لیکن ہاتھا پائی کی نوبت نہیں آئی۔ کنگز میڈ کے پہاڑی اسٹینڈ پر تیز میوزک میں مجھے دو خواتین بھارتی پرچم کے ساتھ رقص کرتی نظرآئیں ایک خاتون نے سچن تندولکر کے نام والی شرٹ پہن رکھی تھی اور وہ ’یہ میرا انڈیا‘ گارہی تھیں۔
بڑوں کی اس دنیا میں مجھے ایک ننھا پرستار بھی دکھائی دیا جو ہیلمٹ پہنے اپنے والد کے کندھے پر اطمینان سے بیٹھا اسٹینڈ میں داخل ہوا لیکن میچ سے قبل اس نے والد کے ساتھ ٹینس بال سے اپنی کرکٹ شروع کردی۔ میں نے والد سے بچے کا نام پوچھا تو جواب آیا ’سچن‘۔ پاکستان اور بھارت کہیں بھی کھیلیں وہاں مقیم پاکستانی اور بھارتی شائقین بھرپور جوش کے ساتھ نہ صرف میدان میں آکر اپنی ٹیموں کے حوصلے بڑھاتے ہیں بلکہ ان کے انداز اور رنگوں سے پاک بھارت کرکٹ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا نے پاکستان کو بال آؤٹ میں ہرا دیا14 September, 2007 | کھیل راہول ڈراوِڈ کپتانی سے مستعفی14 September, 2007 | کھیل بنگلہ دیش فاتح، ویسٹ انڈیز باہر13 September, 2007 | کھیل انگلینڈ نے زمبابوے کو ہرا دیا14 September, 2007 | کھیل زمبابوے نے آسٹریلیا کو ہرا دیا12 September, 2007 | کھیل ورلڈ ٹوئنٹی 20: جنوبی افریقہ کی فتح11 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||