فالوآن سے بچاؤ کے لیے 465 رن درکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوول میں انڈیا کے خلاف سیریز کے آخری ٹیسٹ کے دوسرے دن انڈیا کے 664 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے ایک کھلاڑی کے نقصان پر چوبیس رنز بنائے ہیں۔ انگلینڈ کو فالو آن سے بچنے کےلیے 465 رنز درکار ہیں۔ انگلینڈ کی اننگز کے آغاز پر اس کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سٹراس تھے جنہیں ظہیر خان کی گیند پر سری ناتھ نے کیچ کیا۔ اس سے قبل تیسرے ٹیسٹ میں انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ انڈین ٹیم نے انیل کمبلے کی سنچری کی بدولت دوسرے دن کے اختتام پر تمام کھلاڑیوں کے نقصان پر 664 رنز بنائے۔ سچن تندولکر کے 82 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد مہندر دھونی نے چار چھکوں کی مدد سے 92 رنز بنائے۔ وہ پیٹرسن کی گیند پر کک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے تاہم انیل کمبلے کی شاندار سنچری کی وجہ سے انگلینڈ کے خلاف انڈین ٹیم اس قدر انتہائی سکور بنانے میں کامیابی ہو سکی۔ آخری وکٹ کے لیے انیل کمبلے نے سری سانتھ کی شراکت سے سکور میں 73 رنز کا اضافہ کیا جو انگلینڈ کے خلاف ایک ریکارڈ ہے۔ انیل 110 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انڈیا کے آخری کھلاڑی سری سانتھ پینتیس رنز بنا کر پنیسر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن نے 182 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پنیسر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ سائیڈ بوٹم، کالنگ وڈ اور پیٹرسن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ انڈین بلے بازوں کے آگے انگلینڈ کے بالرز بے بس نظر آئے۔ انڈیا کے 664 رنز کے جواب میں جب انگلینڈ کی ٹیم میدان میں اتری تو ٹیم کے اووپنگ بیٹسمین سٹراس چھ رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ دوسرے دن جب کھیل ختم ہوا تو کک 12 جبکہ اینڈرسن 5 رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ اس سے قبل آخری ٹیسٹ کے پہلے دن کے اختتام پر انڈین ٹیم نے چار وکٹوں کے نقصان پر تین سو سولہ رن بنائے تھے۔ اس دن جب کھیل ختم ہوا تو سچن تندولکر 48 جبکہ لکشمن 20 رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔ انگلینڈ کی شروع سے یہی کوشش تھی کہ انڈین کھلاڑیوں کو جلد از جلد آؤٹ کرکے ہوم گراؤنڈ پر شکست سے بچا جا سکے تاہم پہلے دن ہی انڈین کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے باعث کھیل کا پلڑا انڈین ٹیم کی جانب جھکتا دکھائی دینے لگا۔
وسیم جعفر اور دنیش کارتک نے بھارتی اننگز کا آغاز کیا۔ ان دونوں بلے بازوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں باسٹھ رن بنائے۔جعفر انڈیا کے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے جو کھانے کے وقفے سے قبل پینتیس رن بنا کر اینڈرسن کی گیند پر پیٹرسن کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ ابتدائی نقصان کے بعد کپتان راہول ڈراوڈ اور دنیش کارتک نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور سکور کو ایک سو نواسی تک پہنچ دیا۔ اس موقع پر ڈراوڈ اپنی اڑتالیسویں ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد پچپن کے انفرادی سکور پر جیمز اینڈرسن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ کارتک اور ڈراوڈ کے درمیان 127 رن کی شراکت ہوئی۔ بھارت کی تیسری وکٹ 189 کے مجموعی سکور میں صرف دس رن کے اضافے کے بعد گری جب کارتک سائیڈ بوٹم کی گیند پر وکٹ کیپر پرائر کو کیچ دے بیٹھے۔ دنیش کارتک نو رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ سکے۔ کارتک کے آؤٹ ہونے کے بعد سورو گنگولی کریز پر آئے اور انہوں نے سچن تندولکر کے ساتھ مل کر انگلش بلے بازوں کے خلاف عمدہ سٹروک کھیلے۔ بھارت کی چوتھی وکٹ 276 کے مجموعی سکور پرگری جب گنگولی کو کالنگ وڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔ ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں تلخ کلامی اور انگلش کھلاڑیوں کے جیلی بین پھینکے جانے کے واقعات کے برعکس اوول میں برطانوی ٹیم کے کھلاڑی خاموش رہے اور انہوں نے محالف ٹیم کے بلے بازوں پر فقرے کسنے سے گریز کیا۔ |
اسی بارے میں بھارتی بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی09 August, 2007 | کھیل انگلینڈ : ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں05 August, 2007 | کھیل انڈیا سات وکٹوں سے جیت گیا31 July, 2007 | کھیل بھارت کو جیت کے لیے 73 رنز درکار30 July, 2007 | کھیل ٹرینٹ برج ٹیسٹ: بھارت کی برتری28 July, 2007 | کھیل دوسرا ٹیسٹ: بھارت کا پلڑا بھاری28 July, 2007 | کھیل موسم نے شکست سے بچایا: ڈراوڈ24 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||